اسٹیفن ہاکنگ کا ’خدا‘۔۔۔ !
17 مارچ 2018


کہاں تصورِ وجود کائنات کی کشمکش۔۔۔کہاں وجہِ وجودِ کائنات پر اعتماد۔۔۔ کہاں نظامِ ماسواء کا یقین اور کہاں ملحدین کے مولویوں کا اعتقاد۔۔۔کہاں رب کی ربوبیت اور تصوف کی باتیں اور کہاں اعتقادسے عاری اذہان کی ایجاد، الحاد۔۔۔ خدا کے وجود کے انکاری۔۔۔انسان کے وجود کے پجاری۔۔۔خود اپنے نفس پر بھاری۔۔۔ دلیل کے نام پر دعوے۔۔۔ ہر دعوے کے اوپر دلائل۔۔۔ پھر بھی رب کی ربوبیت سے انکارکے قائل۔۔۔ جو علوم تخلیقِ کائنات اور سائنس کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے رہے۔۔۔ جو خدا خدا کرتے۔۔۔ ’خودآ ‘ کے آگے جا جھکے۔۔۔ جو’ وحدہٗ لاشریک‘کے وجود سے انکاری اور اپنی ذات کی پوجا پر بھاری رہے۔۔۔جو مالکِ کون و مکاں کے نشاں کو ڈھیر کرنے میں سر بکفن رہے۔۔۔ جومقام کبریائی کو سائنس کے ذریعے ’زیر‘ کرنے کی لگن میں مگن رہے۔۔۔ انہیں کسی کے جنبش ابرو یا نوکِ قلم نے نہیں۔۔۔انہیں کسی کے غزوے یا کسی کی جنگ نے نہیں۔۔۔انہیں امام حسینؓ کی تلوار یاعباسؓ کے عَلم نے نہیں۔۔۔انہیں کسی پیر۔۔۔ یا۔۔۔ بابا۔۔۔ کے پانی پر دم نے نہیں۔۔۔ انہیں اپنے ہونے کی خوشی یا کسی کے ہونے کے غم نے نہیں۔۔۔ انہیں جنات یا خلائی مخلوق کے سائے نے نہیں۔۔۔انہیں خدا کے ہونے یا نہ ہونے کی رائے نے نہیں۔۔۔ انہیں تسخیر کائنات کے رازوں سے جڑی سائنس نے نہیں۔۔۔ بس۔۔۔محض ایک ’سانس‘۔۔۔ کے ’چانس ‘نے لمحے میں ڈھیر کر کے رکھ دیا۔۔۔وہ ایک ’سا نس‘ جس پراسٹیفن ہاکنگ کے خودساختہ دعوں کی سوئی پچاس سال سے بھی طویل عرصے تک اٹکی رہی۔۔۔ وہ ایک سانس۔۔۔جوشاید۔۔۔ رب کی ربوبیت کا قائل ہونے کے لئے ہی لٹکی رہی۔۔۔ افسوس وہ ایک سانس۔۔۔سائنس کے سہارے اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی مزید نہ بڑھا سکی۔۔۔۔۔۔انسان۔۔۔ کم علم اور کم فہم کو کیا معلوم کہ وہ ایک سانس جس کے لئے قل ہو واللہ احد۔۔۔اللہ الصمد۔۔۔ لم یلد۔۔۔ ولم یولد۔۔۔کی قسمیں کھائی جاتی رہیں۔۔۔ وہ ایک سانس جس پر اللہ ہُو کی تفسیریں لکھی گئیں۔۔۔ وہ ایک سانس جسے جسم کی امانت کہا گیا۔۔۔وہ ایک سانس جسے ’کن فیکن‘ کے اعتماد نے جِلا بخشی تو وجود تخلیق ہوئے۔۔۔اور جسم سے روح ملی تو نظامِ جودوسخا کی بنیاد رکھی گئی۔۔۔وہ ایک سانس جس کے بعد انسان نے کرۂ ارض پر قدم رکھا تو آسمان پر بجلیاں دوڑ گئیں۔۔۔ اپنے نفس کی سربلندی میں مگن۔۔۔ انسان نے اپنے ہی حلقوں میں اپنے ہی جھوٹے دعووں کی سائنس سے بجلیاں دوڑا دیں۔۔۔ لیکن ایک سانس۔۔۔ محض ایک سانس کے پیچھے چھپے رازوں کی برقی رو کو تسخیر نہ کر سکی۔۔۔تذکرۂ انتقالِ پُرملالِ اسٹیفن ہاکنگ زبان زد عام ہے۔۔۔اور کیوں نہ ہو۔۔۔ بائیس سال عمر کی متوقع حد اور جسم اور روح کے درمیان حائل سرحد۔۔۔ سانس۔۔۔ کو نصف صدی تک کھینچے رکھنا اور بلا کی پُھرتی سے ایسے کھینچے رکھنا کہ زمانہ دنگ رہ جائے۔۔۔بھلا سانس کا کمال کہاں۔۔۔ کسی سائنس کا کارنامہ ہی لگتا ہے۔۔۔ ہاں شاید ملحدین اسے کارنامہ۔۔۔ لیکن ہم اسے لم یلد ولم یولد کامعجزہ تصور کرتے ہیں۔۔۔ اس رب کا معجزہ کہ جس پر اعتقاد پتھر میں کیڑے کو رزق اور مچھلی کے پیٹ میں سانس دینے کا یقین دلاتا ہے۔۔۔ دنیا اسٹیفن ہاکنگ کو دورِ حاضر کا آئن سٹائن (Eienstein)مانتی ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ وہ آئن سٹائن جیسا کچھ نہیں کر پائے۔۔۔وہ معجزہ جس نے انہیں مغرب کے دورِ حاضر کے دیگر سائنسدانوں سے ممتاز کیا ، وہ ان کا معذوری کے باوجود اپنی ریسرچ کو جاری رکھنا تھا۔۔۔ لوگوں کو ان سے ہمدردی ہونے لگی اور ہونی بھی چاہئے تھی۔۔۔یقینی طور پر یہ ایک جرأت مندانہ قدم تھا جو قدم نہ اٹھانے کی سکت کے باوجود اسٹیفن ہاکنگ کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا ، دوسرا ان کی محرومی نے انہیں خدا کے قریب کرنے کی بجائے خدا کے تصور سے ہی دور کر دیا ، خدا کے وجود سے ٹکراؤ نے سائنس دان کو بطور راہب اور سائنس کو بطور مذہب پروان چڑھایا جو حلقہ اہلِ علم کے لئے تحفے سے کم نہیں تھا ، بیچنے والوں کو ایک نیا چورن مل گیا کہ دنیا کو کسی ماورائی طاقت یعنی خدا نے تخلیق نہیں کیا بلکہ یہ خود بخود تخلیق ہو گئی ۔ اسٹیفن ہاکنگ نے اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں چھپنے والی کتاب ’دی گرینڈ ڈیزائن‘ (The Grand Design)میں اپنے نظریے کی دلالت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
’آفاق میں موجود کشش ثقل کے قانون کے مطابق دنیا بغیر کسی مصمم ارداے یا منصوبے کے وجود میں آسکتی ہے ، خدا کے کردار کے بارے میں انہوں نے اپنا نظریہ تبدیل کر لیا ہے اور اب وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بگ بینگ (Big Bang)محض ایک حادثہ یا پہلے سے پائے جانے والے سائنسی یا مذہبی عقائد کے مطابق خدا کے حکم کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ کائنات میں موجود طبعی قوانین کا ناگزیر نتیجہ تھا ‘۔۔۔
اسٹیفن ہاکنگ کا یہ نظریہ نہ صرف ان کے اپنے ماضی کے نظریات سے متصادم ہے بلکہ دنیائے طبیعیات کے عظیم سائنسدان سر آئزک نیوٹن کے اس نظریے کی بھی نفی کرتا ہے کہ کائنات لازمی طور پر خدا کی تخلیق تھی کیونکہ یہ بے ترتیب اور منتشر مادے سے وجود میں نہیں آسکتی ،اس کے برعکس اسٹیفن ہاکنگ نے 1988ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’بریف ہسٹری آف ٹائم‘ (Brief History Of Time)میں خدا کے وجود کو مسترد نہیں کیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ان کی اس کتاب نے اس برس میں سیل کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ، دوہزار دس میں ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ہاکنگ نے کہا کہ دنیا کے وجود میں آنے کے بارے میں ان کا نظریہ تبدیل ہوا ہے تاہم وہ خدا کے وجود کے انکاری نہیں بلکہ خدا کے خالقِ کائنات ہونے کے تصور کو مسترد کرتے ہیں۔۔۔ ہاکنگ کے وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے دعووں نے دنیائے طبیعیات کے افق پر کھلبلی تو ضرور مچائی لیکن وہ کچھ ثابت نہ کر سکے ۔ جنہیں ہم آئن سٹائن سے ملا رہے ہیں وہ آئن سٹائن جیسا کچھ نہیں کر پائے ، یہ ان کے سائنسی دعوے ہی تھے جنہوں نے انہیں اشتہاری بنائے رکھا ۔ بلیک ہول کا جہاں بھی نام آتا ہے ہاکنگ کو یاد کیا جاتا ہے لیکن ہاکنگ ۔۔۔ بلیک ہولز پر مختلف ادوارمیں لگائی جانے والی شرطیں بڑی بری طرح سے ہارچکے ہیں ۔1975ء میں اسٹیفن ہاکنگ نے کپ تھورن کے ساتھ شرط لگائی کہ سیگ نیس ایکس ونSegnus X1بلیک ہولز میں بدلے گا یا نہیں ، کپ تھورن کا دعویٰ تھا کہ بلیک ہول بن جائے گا جبکہ ہاکنگ کا دعویٰ تھا کہ بلیک ہول نہیں بنے گا اوربلیک ہول بننے پر ہاکنگ 1990ء میں شرط ہار گئے ، پھر 1997 ء میں ہاکنگ نے کپ تھورن کو اپنے ساتھ ملایا اور دونوں نے مشترکہ طور پر جان پریکسل سے اس بات پر شرط لگائی کہ بلیک ہولز میں گریوی ٹیشنل کولیپس(Gravitational Collapse)کی وجہ سے انفارمیشن ضائع ہوجاتی ہے یا نہیں ، ہاکنگ کا دعویٰ تھا کہ انفارمیشن ضائع ہوجاتی ہے جبکہ پریکسل کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوتا ، یہ دعویٰ بھی محض دعویٰ ثابت ہوا اور 2004 ء میں وہ اپنی ہی شہرہ آفاق ریسرچ یعنی ہاکنگ ریڈی ایشنز پر شرط ہار گئے ، جن سائنس دانوں سے ہاکنگ شرط ہارے انہیں کوئی نہیں جانتا لیکن ہاکنگ کو سب جانتے ہیں ، جن سائنسدانوں کو پچھلی نصف صدی میں نوبل پرائز ملا انہیں کوئی نہیں جانتا لیکن ہاکنگ کو سب جانتے ہیں، یہ بات ماننے کی ہے کہ ہاکنگ کی طبیعیات پر معذوری کے باوجود بے پناہ خدمات ہیں لیکن ان کے کریڈٹس پر ایسا کوئی کام نہیں جس کی بنیاد پر انہیں آئن سٹائن یا سر آئزک نیوٹن سے ملایا جائے ، خدا کے نہ ہونے کے دعوے محض ایک خاص مکتب فکر کے مؤقف کی تائید اور اپنی محرومیوں کا بدلہ خدا سے لینے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ، خدا کو سمجھنا معرفت کی بات ہے اور یہ بات سمجھنا اپنی عقل کی تہوں سے الجھے کسی ادھ مغز انسان کے بس کی بات نہیں ،ابو جہل سے بڑا شاعر اور ادیب عرب میں نہیں تھا لیکن نہ ماننے کے سبب ہی ابو جہل کہلایا ، ہاکنگ کمال کے سائنسدان تھے لیکن آئن سٹائن سے ملانے والوں کو انہیں ابو جہل سے ملانا چاہیے۔۔۔ یوں کہیے کہ ہاکنگ دور حاضر کے ابو جہل تھے۔۔۔جنہیں اپنے جسم سے الجھی ہوئی سانسیں تو نظر آتی رہیں لیکن شہ رگ کے اس پاربیٹھی ذات اقدس نظر نہ آئی۔۔۔ ہاکنگ کی زندگی بلا شبہ ایک معجزاتی زندگی ہے ، ان کی تحقیق بھی بلا شبہ کمال کی جہتیں رکھتی ہے لیکن انہیں سائنس کے احسان اور سانس کے وجدان کا مرکب بنانے سے گزیز کیا جائے تو اسی میں عافیت ہے ، کچھ عاقبت نا اندیش علامہ خادم حسین رضوی اور اسٹیفن ہاکنگ کا تقابلی جائزہ لینے میں لگے ہوئے ہیں ، گو موازنہ بنتا نہیں لیکن سچ تو یہی ہے کہ ایک معذور چہرے پہ ڈاڑھی اور ماتھے پر محراب سجائے اپنی سرحد پر مورچہ زن ہے تو دوسری جانب الحاد کا مولوی اسٹیفن ہاکنگ ۔۔۔ سائنس اور سانس کی سرحد پر اپنی مولویت کی کمک لے کر کھڑا ہوا ہے۔۔۔ ایک کے پاس دین کی دلیل ہے جو یقین کو عقیدے کی بنیاد سمجھتی ہے اور ایک سائنس کی دلیل کے اپنے ہی دعووں کو بار بار جھٹلا رہا ہے۔۔۔ اور جو یہ سب دکھا رہا ہے۔۔۔ وہی ہمارا خدا ہے۔۔۔ اور۔۔۔ وہی اسٹیفن ہاکنگ کا خدا ہے۔۔۔


ای پیپر