آج کا بدلا ہوا کراچی!!
17 مارچ 2018


سلطان محمود غزنوی کی سپاہ سومنات کا محاصرہ کیے ہوئے تھی۔ یہ محمود کی تمام مہمات میں سب سے اہم مہم تھی۔ سومنات ہندوؤں کا اہم ترین مندر تھا۔ جس کی دولت کی دھاک دور دور تک بیٹھی ہوئی تھی۔ پروہتوں اور پجاریوں نے اس کے بارے میں فرضی داستانیں مشہور کر رکھی تھیں۔ جن کے مطابق مندر کی حفاظت خود شوجی کرتے ہیں۔ اور جو کوئی بھی مندر پر حملے کا سوچے گا، شو جی کے قہر کا نشانہ بن جائے گا۔ سومنات نہ صرف مندر بلکہ ایک بہت بڑا قلعہ بھی تھا۔ یہاں شو جی کی پوجا ہوتی تھی۔ شو جی کا بہت بڑا بت تھا، جس کے سامنے پانچ سو دیو داسیاں دن رات رقص کرتی رہتی تھیں۔ مندر کی گھنٹیاں بیس من وزنی سونے کی زنجیروں سے بندھی تھیں۔ مندر میں ایک ہزار برہمن ملازم تھے۔ سومنات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے دس ہزار گاؤں وقف تھے۔ مندر کی دیواروں میں بھی جواہرات لگے ہوئے تھے۔ سلطان نے تیس ہزار سپاہ کے ساتھ سومنات پر حملہ کیا۔ راجپوت راجاؤں کی بڑی تعداد نے اپنی افواج مندر کی حفاظت کے لیے بھیج رکھی تھیں۔ محمود غزنوی کی آمد پر آس پاس کے علاقوں کے لوگ جوق در جوق اس منظر کو دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق سومنات کے بت نے سلطان کو سزا دینے کے لیے یہاں بلایا ہے۔ سلطان جسے تاریخ بت شکن کے نام سے جانتی ہے، اس نے مندر پر حملہ کر دیا، اس جنگ میں دشمن کے پچاس ہزار سپاہی مارے گئے۔ سخت مزاحمت کے بعد سلطان نے سومنات پر قبضہ کر لیا۔ بت کے بارے میں چونکہ عام ہندوؤں کا عقیدہ تھا کہ اسے کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اگر کوئی ایسا کرنے کی سوچے گا تو بت اسے تباہ و برباد کر دے گا۔ چنانچہ جب سلطان بت توڑنے کے ارادے سے مندر میں آیا تو پجاری اور پروہت ہاتھ باندھے آ گئے۔ اور انہوں نے سلطان کو پہلے تو بت کی کرشماتی طاقت اور اس سے منسوب فرضی کہانیوں سے ڈرانے کی کوشش کی، جب سلطان متاثر نہ ہوا تو پجاریوں نے سلطان کو بھاری رقم کی پیشکش کی۔۔۔ مگر سلطان نے ان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا اور سومنات کو پاش پاش کر دیا۔ اس بت کے ٹکڑے ہوئے تو وہ بے پناہ خزانہ اور زر و جواہر سامنے آئے، دراصل پجاری جنہیں بچانے کے لیے بت کی قیمت لگا رہے تھے۔ بت ٹوٹ گیا اور اس سے وابستہ فرضی داستانوں اور عقائد کا بھی خاتمہ ہو گیا۔
کراچی کو اگر چند منٹوں کے لیے سومنات کا قلعہ فرض کر لیا جائے اور الطاف حسین کو سومنات کے قلعے میں نصب بت۔ (جس کی پوجا سومنات کے بت کی طرح ہی ہوتی تھی) تو پھر سومنات کے بت کا تاریخی واقعہ ، کافی حد تک اس سے ملتا جلتا دکھائی دیتا ہے۔ جس کے بعض نفسیاتی اور واقعاتی پہلو ایسے ہیں، جو سومنات سے گہری مشابہت رکھتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں، کراچی جب اس بت کے قبضے سے آزاد تھا، تو عروس البلاد کہلاتا تھا۔ روشنیوں کا شہر مانا جاتا تھا۔ یہ روشنیوں کا شہر اتنا فراخ دل اور کشادہ تھا کہ جو بھی آتا تھا، اسے ہنس کر گلے لگاتا تھا۔ اس کی فضاؤں میں امن تھا، زندگی تھی، حرارت تھی۔ یہ لبالب کشادگی سے بھرا تھا۔ پھر اس میں بت نصب ہو گیا۔ آہستہ آہستہ بت کا قد دراز ہونے لگا۔۔۔ اس کے گرد پجاری جمع ہونے لگے۔ اس کا مندر بننے لگا۔ اس کی پوجا شرو ع ہو گئی اور پھر ایک دن ایسا آیا، بت سارے شہر پر چھا گیا۔ جس کے نیچے شہر دھندلا گیا۔ اس میں رہنے والے بونے نظر آنے لگے۔ بت کی ہیبت، طاقت، افسانوی قوت کے چرچے زبان زد عام ہو گئے اور پھر اس کے بعد بت کی ’’کرامات‘‘ شروع ہو گئیں۔ بت نے طاقت دکھانا شروع کر دی۔ بھائی جب لندن مقیم ہو گئے تو انہوں نے بت کا قد بڑھانے، اس کی ہیبت اور اندھی طاقت میں اضافے کے لیے خصوصی کوششیں شروع کر دیں۔
جس کے بعد کراچی پر موت کے سائے گہرے ہو گئے۔ کراچی کی روشنیاں مدھم ہوتے ہوتے ایک وقت آیا کہ مکمل طور پر بجھ گئیں۔ وہاں ایک دوسرے سے شیرو شکر ہو کر رہنے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ کراچی علاقائی، گروہی اور لسانی تفریق کا مرکز بن کر رہ گیا، جہاں روزانہ پرانی اساطیری داستانوں والی بلانازل ہو کر، انسانوں کا لہو مانگتی تھی۔ جو کراچی اسے ہنس کر مہیا کر دیتا تھا۔ بت پر لہو کے چڑھاو ے بھی چڑھائے جاتے تھے اور زرو جواہر بھی بت کی خوراک تھے۔ بت کی ’’ماورائی‘‘ طاقت کے قصے اس قدر پھیل گئے، پھیلتے گئے کہ وہ قہر کی علامت بن گیا۔ اس کی ناراضی سومنات کے مندر میں نصب بت کی ناراضی جیسی سمجھی جانے لگی۔ لوگ اس کے قہر سے ڈرنے لگے۔ اس کی ’’بے محابا طاقت‘‘ کے سامنے خود کو چوہے سے بھی کمتر ماننے لگے۔ اس خوف کے بت نے پچھلے تین عشرے کراچی پر بلا شرکت غیرے قبضہ قائم رکھا۔ اس سے خوف کا عالم یہ تھا، کہ جب یہ بولتا تھا، تو وفاق بھی سہم جاتا تھا۔ جب یہ ناراضی کا اعلان کرتا تھا، تو اس ناراضی کو خدانخواستہ خدا کی ناراضی سے بڑھ کر تصور کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے حکمران، سیاست دان کانپتی ہوئی ٹانگوں اور لرزتے لہجوں سے بت کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔ اور بصد عجز و نیاز، بت کا ہر مطالبہ پورا کر دیتے تھے، چاہے وہ جتنا بھی ناجائز ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے بت کا دبدبہ اور اندھی طاقت کا چرچا ، پاکستان کی گلی گلی میں اسی طرح عام تھا جس طرح ’’سومنات‘‘ میں۔ جہاں یہ ’’عظیم الشان‘‘ بت نصب تھا۔ بت پر انگلی اٹھانا تو دور، اس کا نام بھی اس ضمن میں زبان پر لانا ’’کفر‘‘ سے بھی بدتر گناہ مانا جاتا تھا۔ پچھلے تین عشروں کی تاریخ گواہ ہے جس نے یہ ’’گستاخی‘‘ کی وہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ یہی وجہ ہے اس بارے میں بڑے بڑے جید لکھاری، سیاست دان، میڈیا پر سن، ایکٹیوسٹ، رپورٹر اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سمیت ہر وہ شخص گونگا تھا، جسے اونچی آواز میں بولنا چاہیے تھا۔ ایک آدھ نے یہ ’’بے وقوفی‘‘کر دی تو وہ دنیا سے یوں گیا جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا۔ ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری نے شہر کو ہی نہیں، اس سلسلے میں پورے ملک کو نفسیاتی مریض بنا دیا۔ جبر اتنا کہ کوئی اونچی سانس بھی نہ لے سکتا تھا۔
یعنی خوف کا یہ بت، ہر جانب قابض تھا۔ جس کے گرد پجاریوں کے ڈیرے لگے رہتے تھے۔ لندن سے بھائی کا خطاب عقیدت سے زیادہ خوف کی کیفیت میں دم سادھے سنا جاتا تھا۔ جس میں کبھی وہ حکومت کو دھمکاتے تھے، کبھی سیاست دانوں کو اور کبھی سارے پاکستانیوں کو۔ کراچی کی جان بت کے قبضے میں تھی۔ کراچی جو پاکستان کی معیشت کی بیک بون ہے۔ کراچی کو چشم زدن میں بند کر کے بت، ہر پاکستانی کو حیران کرنے کا عادی تھا۔ قارئین ’’سومنات کے اس عظیم الشان جادوئی بت‘‘ کی کہانی طویل ہے اور کالم مختصر چنانچہ قصہ مختصر، کرتے ہوئے آج کے حالات پر آتے ہیں جن کی شروعات چند برس پیشتر ہو چکی تھیں۔ عمران خان نے پہلی بار اس بت کی پوجا سے انکار کیا تھا۔ اس بت شکن شخص نے اس کے بعد بار بار اس کا سرعام انکار کیا۔ قومی انتخابات میں اس انکار میں کراچی کے ووٹر بھی شامل ہو گئے۔ آہستہ آہستہ یہ حلقہ وسیع ہوتا چلا گیا۔ اس کے بعد بت پر کئی چھوٹی موٹی ضربات پڑنے لگیں۔ خوف کا بت گہری خراشوں سے بھرنے لگا، مگر ٹوٹا پھر بھی نہیں۔
توڑا اسے رینجرز نے۔ یوں کہ یہ پاش پاش ہو گیا اور اس کے ٹوٹتے ہی شہر کی نبضیں چل پڑیں۔ شہر جی اٹھا۔ میں اس زندہ شہر میں پورا ایک ہفتہ گزار کر، ایک روز قبل واپس آئی ہوں۔ میں نے اس ایک ہفتے کے دوران، شہر کے مختلف حصے دیکھے، وہ حصے جو نو گو ایریا تھے۔ وہ حصے جہاں گینگ وار برپا رہی۔ وہ حصے جہاں مخصوص جماعت کے علاوہ، دوسرے شہریوں کا داخلہ منع تھا، مگر اب وہاں ہرکوئی آجا رہا تھا۔ کوئی خوف کوئی وحشت کسی چہرے پر دکھائی نہ دیتی تھی۔ فائرنگ کی آوازیں جو اس شہر میں تواتر سے گونجا کرتی تھیں، اب وہ ختم ہو چکی ہیں۔ کراچی ایک لمبے عرسے کی قید سے آزاد ہو چکا ہے۔ اور یہ آزادی اسے کسی سندھی قوم پرست جماعت، برسراقتدار پارٹی، کسی لسانی اور گروہی جماعت نے نہیں، فوج نے دلائی ہے۔ فوج جسے سندھی پسند نہیں کرتے تھے، اور اسے جمہوریت اور جمہوریت پسندوں کا دشمن مانتے تھے، آج اسی فوج کو دل ہی دل میں وہ دعائیں دیتے ہیں۔ کراچی جہاں ایک طویل عرصے سے چودہ اگست صرف سرکاری سطح پر منایا جاتا تھا، سندھ خاموشی سے اس عظیم قومی دن کی خوشیوں سے دستبردار ہو چکا تھا، وہاں گزشتہ تین برسوں سے چودہ اگست بہت دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، یہ ایک خاموش تبدیلی ہے جو سندھ میں آ چکی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نفرت پالنے والا سندھ کا پڑھا لکھا طبقہ، اور سندھی دانش ور، اب اس نفرت سے بہت حد تک دور ہو چکا ہے۔ کہ سیاسی، گروہی اور لسانی سیاست کرنے والوں نے کراچی اور سندھ کا جو حشر ماضی میں کیا ہے، اس نے، اسے بہت کچھ سکھایا اور دکھایا ہے۔ یہی وجہ بھٹو کی پھانسی کے بعد فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے متنفر ہونے والا سندھ، اب خاموشی سے اس کے پیچھے آن کر کھڑا ہو چکا ہے۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو آنے والے انتخابات میں دکھائی دے گی۔ میاں نواز شریف کا یہ دعویٰ کہ کراچی کا امن، انہوں نے قائم کیا ہے، اس کی حیثیت بھی شاید اسی وقت کھل کر سامنے آئے گی۔ مگر اس وقت دیر ہو چکی ہو گی!!


ای پیپر