لبوں کی شان۔۔۔پان تھری۔۔۔
17 مارچ 2018 2018-03-17

دوستو، گزشتہ دو کالموں میں پان کی تاریخ، ثقافت، گانوں اور شاعری کے حوالے سے بہت کچھ آپ سے شیئرکیا۔۔۔ چلیں پان کی مزید جان نکالتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اس موضوع کو آج ختم کریں تاکہ اگلے کالم سے پھر آپ کے ساتھ وہی روایتی انداز میں اوٹ پٹانگ اور غیرسیاسی باتوں کے ہمراہ ملاقات ہوسکے۔۔۔

برصغیرپاک و ہند میں پان کے شوقین افراد کی بڑی تعداد آباد ہے، بچے،جوان، خواتین اور بزرگ شوق سے پان نوش فرماتے ہیں۔۔۔بوڑھے پان چبا نہ سکنے پرپان کُوٹ کرکھاتے جس کے لیے ضعیف لوگوں کے لئے ایک چھوٹی سی ’’ پان کوٹنی‘‘ بھی رکھی جاتی۔۔۔کہاجاتا ہے، پان کے پتے ہزار سال سے طبی ضروریات میں استعمال کیے جاتے رہے۔اس میں ڈالے جانے والے اجزاء لونگ ،الائچی ،سونف،سکھ مکھ،گلقند،نرملی ،سپاری ، چھالیہ ،چونا (جس کی تیزی کو کم کرنے کے لیے) کتھا اور خود پان کی تعریف کرتے سب ہی نہیں تھکتے۔ یہاں تک کہ اس کے چبانے تک کو ہاضمہ کے لئے بہترماناجاتا، اب پان کی جگہ کولڈڈرنکس نے لے لی ہے۔پرانے وقتوں میں پان بنانے کا پیشہ ’’تنبولن ‘‘ کہلاتا تھا پھر آہستہ آہستہ سڑکوں پر پان کی دکانیں کھلنے لگیں۔ لوگ تنبول کا لفظ ہی بھول گئے بس پان اور پان والا یاد رہ گیا۔ تنبولن نام اس لئے پڑا کہ پان کو فارسی میں برگ تنبول کہا جاتا ہے۔

عام طور پر کراچی میں پان کی قیمت فروری تک پانچ روپے تھی، جو بڑھ کر اب دس،پندرہ اور بیس روپے ہوگئی ہے،لاہور میں فروری تک دس روپے کا پان اب بیس، تیس اور چالیس روپے میں فروخت ہورہا ہے۔۔۔ شہر قائد کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کے پان مشہور تو ہیں ہی، ان کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان علاقوں کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتے۔ مثلاً وی آئی پی پان ، وی وی آئی پی پان ، سہاگ پوڑا، پان بیڑا اور ڈسکو گلوری۔۔۔۔ اورسنیے ان پانوں کی قسمیں۔۔۔ سانچی پان ، گولٹا پان ، سیلون پان ، بنگلا پان ، بنارسی پان ۔۔۔ شاید آپ کے لئے بھی یہ نام نئے ہوں کیوں کہ جو پان کھانے کے حددرجہ شوقین ہیں وہ بھی ان قسموں سے کم ہی آشنا ہیں۔ پان کی اقسام سے زیادہ ان کی قیمتیں حیران کن ہیں۔ مثلاً وی آئی پی پان کی قیمت تین سو روپے ہے۔ اس میں چاندی کے اصلی ورق، تازہ گلاب کے پھولوں کی تیار کردہ گلقند ڈالی جاتی ہے۔ وی وی آئی پی پان کا اندازہ آپ خود لگالیجئے کیوں کہ اس میں اصل شہداور پھولوں کی گلقند ڈالی جاتی ہے۔ سہاگ پوڑا چار سو روپے میں ملتا ہے اور اسے ایک بار میں کوئی بھی نہیں کھاسکتا ،لہٰذا تھوڑا تھوڑا اور رکھ رکھ کر کھایا جاتا ہے۔ ایک پان کا وزن ایک پاؤ ہوتا ہے۔ اس میں چھوٹی الائچی اور میوے ڈالے جاتے ہیں۔ پستا خاص کر ڈالا جاتا ہے اور چونکہ الائچی کی قیمت اس وقت تین ہزار روپے اور پستہ 2400 روپے کلو ہے لہٰذا بقول دکاندار پان پوڑا اگر چار سوروپے میں مل رہا ہے توبھی سستا ہے۔ آخری قسم بچتی ہے ' پان بیڑے' کی تو اس کی قیمت ایک سو روپے ہے۔ اس میں رنگ برنگی پھول پتیاں اور رنگ دار کھوپرا ڈالا جاتا ہے۔کراچی کے علاقے بہادرآباد میں پان کی ایسی دکان بھی حال ہی میں کھلی ہے جہاں ایک پان کی قیمت ایک ہزار روپے ہے، لوگ اسے بھی شوق سے کھاتے ہیں، بھارت میں تو آگ والے پان کی مشہوری ہے، پان والا اپنے ہاتھوں سے آگ کے شعلے بلند ہوتے پان کی گلوری آپ کی منہ میں ڈالتا ہے۔۔۔

پان کی پیک وہی لوگ تھوکتے ہیں جو پان میں تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے ذوق اور شوق کے مطابق مختلف اقسام کے تمباکو پان میں ڈلواتا ہے۔ پتی تمباکو، تیز پتی مراد آبادی، 120 نمبر، انڈین پتی، شہزادی پتی، عزیزی پتی ، ظہور زعفرانی، راجہ جانی، پیلی پتی نامی اقسام موجود ہیں۔ اس کے علاوہ قوام بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پان کے عادی لوگ کسی ایک مخصوص دکان سے ہی پان خریدتے ہیں۔ تمباکووالے پان کے رسیا لوگ کہتے ہیں کہ پان کا سارا نشہ اصل میں کتھا چونا لگانے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ وہی تمام لوازمات والا پان اگر کسی دوسری پان کی دکان سے لیا جائے تو ، سرور نہیں آتا۔ پان کے نشے والا بھی ہر حال میں اپنا نشہ ضرور پورا کرتا ہے۔۔۔۔ پان کے شوقین افراد کے لئے یہ محاورہ بھی بہت مشہور ہے۔۔۔تن پہ نہیں لتہ، پان کھاؤں البتہ۔۔۔

کہاجاتا ہے کہ کچھ پان والے مخصوص نشہ آور سفوف بھی تمباکو والے پان میں شامل کرتے ہیں، ایسا کراچی کے کچھ علاقوں کے بارے میں کہاجاتا ہے، پان والے بتاتے بھی نہیں کہ وہ کیا ڈالتے ہیں ،بس یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ کاروباری سیکرٹ ہے۔۔۔میٹھے پان میں میٹھی چھالیہ، سونف، گل قند، پسا کھوپرا، سبز الائچی، مختلف رنگ برنگے مصالحے اور چاندی کا ورق بھی لگایا جاتا ہے۔ اکثر خواتین اور بچے شوقیہ طور پر میٹھا پان بھی کھاتے ہیں۔ بہت سے نفاست پسند لوگ جو اپنے منہ اور دانتوں پر کتھے کا رنگ نہیں چاہتے وہ سلیمانی پان کھاتے ہیں۔ سلیمانی پان میں کتھا اور چونا نہیں لگایا جاتا۔کراچی میں کریم آباد پر واقع دکان پر یہ قسمیں موجود ہیں۔ رنچھوڑلائن، پان منڈی، کھارادر، میٹھادر اور لسبیلہ پر بھی مخصوص دکانوں پر یہ پان دستیاب ہیں۔ گارڈن کے علاقے کی سب سے مشہور اور پرانی دکان گولڈن پان شاپ ہے۔ یہ دکان اس قدر مشہور و معروف ہے کہ کہا جاتا ہے جس نے گولڈن پان شاپ نہیں دیکھی اس نے پان کھانا ہی نہیں سیکھا۔ اس کی کئی شاخیں ہیں جو گارڈن، گلستان جوہر، طارق روڈ، کلفٹن اور ڈیفنس میں واقع ہیں۔ یہاں پانوں کی کچھ قسمیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگر دیوار پر کھینچ کر مار دیا جائے تو شیشے کی طرح کرچی کرچی ہوکر بکھر جاتا ہے۔

بھارت کے شہر کلکتہ میں ایک پان کی دکان پر دلہا دلہن کے لئے سپیشل تیار کردہ پان کی قیمت پانچ ہزار روپے ہے۔ اس پان میں خالص مشک، عنبر، زعفران، سونے کا ورق اور کچھ خاص جڑی بوٹیاں ڈالی جاتی ہیں۔ یہ پان جوان کو پہلوان اور پہلوان کو’’ بلوان ‘‘بنا دیتا ہے،اور بوڑھے میں جوانی کی بجلی دوڑا دیتا ہے۔۔۔ دولہا اور دلہن کے پان کے لوازمات الگ الگ ہوتے ہیں۔ دلہن کے پان میں ایک بوٹی سفید موصلی بھی ڈالی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سات لاکھ روپے کلو والی ایک خاص خوشبو جو صرف بنگلہ دیش میں دستیاب ہے وہ بھی شامل کی جاتی ہے۔۔۔ پان کی ایک قسم ’’چھوئی موئی‘‘ پان کی بھی ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ منہ میں رکھتے ہی چھوئی موئی کے پھول کی طرح سکڑتا اور منہ میں گھلتا چلا جاتا ہے۔کراچی میں خود پان کھانے کا تو رواج ہے ہی، مہمان نوازی بھی پان کے بغیر بعض جگہ ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ اکثر گلہ بھی کیا جاتا ہے کہ،فلاں کے گھر گئے تھے اس نے تو چائے پانی چھوڑو۔۔۔ پان کو بھی نہیں پوچھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر شادیوں میں میزبان کی جانب سے شادی ہالوں پر پان کے باقاعدہ سٹال لگائے جاتے ہیں جہاں ہر مہمان جی بھر کر مفت پان کھاتا اور گھر لے جاتا ہے۔

اسلام آباد سیکٹر F8 میں ایک پان کی دکان ہے جہاں مالک دکان مغل شہنشاہوں جیسا لباس زیب تن کئے سنہری کرسی پر براجمان ہوتے ہیں۔ وہ اپنے گاہکوں کو خالص مغل سٹائل میں پان پیش کرتے ہیں۔ گاہے بگاہے گلاب پاش سے گاہکوں پر عرق گلاب بھی چھڑکا جاتا ہے۔ اسی طرح بھارتی ریاست گجرات میں ایک پان کی دکان پر پان میں آگ لگا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس شعلہ زدہ پان کو منہ میں رکھتے ہی جلدی سے منہ بند کرلیا جاتا ہے جس سے آگ بجھ جاتی ہے لیکن ناک سے دھواں خارج ہوتا ہے۔ یہ پان خود مالک دکان اپنے ہاتھ سے گاہک کے منہ میں رکھتے ہیں۔ اب ایسا ہی آگ والا پان کراچی میں بھی متعارف کروادیا گیا ہے۔ لاہور کا انارکلی بازار، پان گلی بھی پان کی دکانوں کے لئے مشہور ہے۔ اسی طرح ڈیفنس لاہور کی جیدی پان شاپ بہت مشہور ہے جہاں لوگ دور دور سے پان کھانے آتے ہیں۔ جیدی کی خاص بات مختلف فلیور والے میٹھے پان ہیں جن میں ڈرائی فروٹس بھی شامل ہوتے ہیں۔ جیدی کے میٹھے پان کی قیمت پچاس روپے ہے۔ جب سے پان میں تمباکو کا استعمال شروع ہوا تب ہی سے پان میں خرابیاں نظر آنے لگی ہیں اور اسے مضر صحت ماننے لگے ہیں اوراسی کی بنا پان کا عروج زوال کی طرف آنے لگا۔ تمباکو یعنی زردہ جب پان میں ڈالتے ہیں تو تھوکنا ضروری ہو جاتا ہے اور لوگ بازار میں جب سے کھانے لگے ہیں سڑک پرجہاں جی چاہے تھوکنے لگے ہیں جس کی وجہ سے گندگی ہوتی ہے۔۔۔

پان پر لکھے گئے ان تین کالموں کی تیاری میں مختلف ویب سائیٹس اور کتب سے مدد لی گئی ہے۔۔۔کوشش تھی کہ پان کے حوالے سے جامع تحریر آپ تک پہنچائی جائے۔۔۔ پان کا مستقبل اب ملک میں تاریک نظر آرہا ہے۔۔۔ اس لئے تمام پان خوردوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اس سے جان چھڑائیں۔۔۔


ای پیپر