داعش ، حماس کی مخالف کیوں؟
17 مارچ 2018 2018-03-17

کراچی میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ہاتھوں کچھ عرصہ قبل گرفتار ہونے والے داعش کے مبینہ دہشت گردنے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر سے رابطوں کیلئے داعش واٹس ایپ گروپ استعمال کرتی ہے۔ داعش نے ٹیلی گرام پر اپنا گروپ بنا رکھا ہے۔ ٹیلی گرام پر آڈیو پیغامات کے تبادلے کیے جاتے ہیں۔ داعش کے چیٹنگ گروپ کا نام کدو ہے ۔ جس کا ایڈمن بابا جانی نامی دہشت گرد ہے۔

یہ تکفیری گروہ قوانین اسلام اور قرآن کی پیروی کا دعویدار ہے کہ اس کے بہت سارے اقدام جیسے لوگوں پر حملہ ،بم رکھنا ،اغوا کر کے ذبح کرنا اسلامی اور انسانی ابتدائی اصول کے خلاف ہیں۔حتی کہ یہ دعوے موصل کے سنی علماء کے قتل ،سنیوں کی مسجدوں کو نذر آتش کرنے ،اہل سنت کی تاریخی شخصیتوں کی قبروں جیسے عراق میں عمر ابن خطاب کے پوتے کی قبر کو مسمار کرنے ،عیسائیوں کی حق تلفی کرنے ، ان کو سولی پر لٹکانے ،اور ان کی عورتوں کی عزت لوٹنے ، اور مذہبی اختلاف پیدا کرنے کے بالکل خلاف ہیں۔

بہت سارے اسلامی مفکرین نے یہ سوال پوچھا ہے کہ یہ مسلح گروہ جو شام اور عراق میں جہاد کا دعوی کر رہے ہیں فلسطین کے عوام کی مدد کے لیے کیوں نہیں جاتے اور صہیونی حکومت کے ساتھ لڑنے کے لیے کیوں تیار نہیں ہیں۔اس کے جواب میں تکفیری دہشت گرد گروہ دولت اسلامی عراق وشامات " داعش " نے اعلان کیا ہے کہ اس کا اسرائیل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ،اور ہم ان سے جنگ نہیں کریں گے اور اس کی دلیل بھی یہ بتائی ہے کہ قرآن میں ان سے لڑنے کا کوئی حکم نہیں آیا ہے۔اس دہشت گرد گروہ کا کہنا ہے کہ اصلی جواب قرآن کریم میں ہے۔ایک مقام پر خدا وند متعال نزدیکی دشمنوں یعنی منافقوں کے بارے میں فرماتا ہے اور یہ قرآن کی بیشتر آیات میں ملتا ہے اس لیے کہ وہ کافروں سے زیادہ خطر ناک ہیں اس سوال کا جواب بھی ابو بکر صدیقؓ کے پاس ہے کہ جنہوں نے مرتدوں کے خلاف جنگ کو بیت المقدس کی فتح پر کہ جو بعد میں عمر ابن خطاب کے ہاتھوں ہوئی، ترجیح دی تھی۔ داعش نے تاکید کی ہے کہ بیت المقدس کو آزاد نہیں کریں گے جب تک کہ آل نفت (تیل) کے ان بتوں اور ان تمام لوگوں سے نہ نمٹ لیں کہ جو استعمار کے آلہء کار ہیں اور دنیائے اسلام پر حکومت کر رہے ہیں۔

یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ اسرائیل کی مدد کرنے والے ایک کے بعد ایک کرکے شکست سے دوچار ہو رہے ہیں حالانکہ اسی داعش کو دیکھ لیجیے کہ جس نے تقریباً چھ برس تک پورے خطے کو آگ و خون میں غرق کیے رکھا اور اسرائیل کیلئے امن و امان فراہم کیا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ داعش اور النصرہ نامی دہشت گرد گروہ اسلام کا نام لے کر، پیغمبر اسلام ؐ کے نام کا جھنڈا لے کر نکلے اور ایسی بد ترین سفاکیت کی سیاہ تاریخ رقم کی کہ زبان بیان کرنے سے عاجز ہے۔

ان دہشت گرد گروہوں نے نہ صرف مسلم دنیا کو تہس نہس کیا بلکہ اپنے آقا اسرائیل کو امان دیئے رکھی اور اس کیلئے مواقع اور وقت فراہم کیا کہ اسرائیل اپنے ناپاک عزائم کو آسانی سے پھیلاتا رہے۔ بہرحال، خدا کا کرم یہ ہے کہ ان امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کو شکست کھانی پڑی اور ذلت و رسوائی ان کے مقدر کا حصہ بنی۔

حماس نے داعش کے خلاف اعلان جنگ کرکے شہید فلسطینیوں کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ عراق اور شام میں سرگرم دہشتگرد گروہ داعش نے شام میں گزشتہ دنوں میں فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپ پر حملہ کیا تھا۔ فسلطینی پناہ گزین کیمپ یرموک پر حملے کے دوران داعش کے دہشتگردوں نے ایک سو سے زائد فلسطینی پناہ گزینوں کو شہید کیا تھا۔ اس حملے میں حماس کے دو رہنما بھی شہید ہوگئے تھے۔ حماس نے داعش کے اس حملے کے جواب میں داعش کے خلاف اعلان جنگ کرکے شہید فلسطینیوں کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

بھارت کے ایک ہزار سے زائد مسلمان مذہبی علماء نے دہشت گرد گروپ داعش اور اس کے پیروکاروں کے خلاف فتویٰ دیتے ہوئے انہیں غیر اسلامی قرار دیا ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ مدارس، مساجد اور اسلامی گروپوں سے تعلق رکھنے والے علماء کی اتنی بڑی تعداد نے مشرق وْسطیٰ میں قتل وغارت کرنے والی مسلح تحریک کی عوامی سطح پر مذمت کی ہے۔ یہ فتویٰ ممبئی سے تعلق رکھنے والے عالم دین منظر حسن خان اشرفی مصباحی کی طرف سے کمیونٹی رہنماؤں کی طرف سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں جاری کیا گیا کہ کیا اسلامک اسٹیٹ کے اقدامات اسلامی طریقہ کار سے مطابقت رکھتے ہیں۔اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے اقدامات غیر انسانی اور غیر اسلامی ہیں، کیونکہ یہ معصوم لوگوں، خواتین اور بچوں کو قتل کرتے ہیں اور یہ کہ اسلامی ریاست کے قانون کے نفاذ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

یہ بات درست ہے کہ جہاد، بمعنی قتال کے لیے امام اور امیر کی اجازت اور نگرانی ضروری ہے اور جہاد کا اجتماعی نظم قائم کیے بغیر، انفرادی طور پر جنگ چھیڑنا اور جنگی کارروائیاں کرنا جائز بھی نہیں اور مفید بھی نہیں ہے، صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل ہوا ہے کہ ’’بلاشبہ حکمران سپر اور ڈھال ہے، جس کے پیچھے (نگرانی میں) لڑائی لڑی جاتی ہے۔‘‘بخاری ہی کی دوسری حدیث میں آیا ہے کہ ’’جب تم سے نکلنے اور جہاد پر جانے کا مطالبہ کیا جائے، تو نکلو اور جاؤ۔‘‘ تمام شارحین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ’استنفار‘ سے مراد ہے امیر کی جانب سے نکلنے کا حکم دینا۔ ابوداؤد کی ایک حدیث میں آیا ہے کہ ’یعنی ’’جہاد واجب ہے ہر امیر کی نگرانی میں، خواہ وہ نیکوکار ہو یا بدکار۔‘‘انھی احادیث کی روشنی میں فقہائے اسلام نے تصریح کی ہے کہ ’’جہاد کا کام امام کے فیصلے اور اس کی رائے کے سپرد ہے۔‘‘

مذکورہ دلائل اور اس قسم کی دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ جس ملک میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو، خواہ عادل ہو یا غیر عادل، اس ملک کے شہریوں کے لیے اپنی حکومت کی اجازت اور نگرانی کے بغیر از خود جہاد شروع کرنا جائز نہیں۔‘‘اس سلسلے میں وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اسلامی ملک میں جہاد کا اعلان ریاست کا حق ہے لہذا ہر محلے اور مسجد سے جہاد کا اعلان نہیں کیا جا سکتا جب کہ کسی کو حق نہیں کہ کسی دوسرے کے قتل کا فتویٰ جاری کرے۔

سعودی عرب کے مفتی اعظم اور علماء کونسل کے چیئرمین الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے شام اور عراق میں سرگرم عسکریت تنظیم" داعش " کو ایک مرتبہ پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک بیان میں سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اسلام امن وآشتی کا دین ہے، جس میں کسی بے گناہ انسان کے قتل کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن داعش ایک ایسا گروپ ہے جو معصوم لوگوں کا خون بہاتا اور ہر طرف تباہی اور بربادی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ان کی گمراہی کے بارے میں عوام الناس کو آگاہ کرنا اہل علم کی ذمہ داری ہے ورنہ وہ سادہ لوح شہریوں کو اپنے چنگل میں پھنساتے رہیں گے۔


ای پیپر