’سیاسی شکست‘
17 مارچ 2018 2018-03-17


ہاؤس آف فیڈریشن یعنی ایوان بالا کے انتخا بات کی تکمیل کے بعد وہ تمام افواہیں دم توڑ گئی جو سیاسی حلقوں میں زیر گردش تھیں۔ پارلیمانی نظام اور جمہوریت کی مضبوطی کی جانب یہ اک اہم قدم ہے لیکن اس ایوان کے ایک معروف اور معززرکن اسے جمہوریت کی فتح قرار دینے کی بجائے اک بالا دست ادارے کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ انتخابات کے نتائج کے بعد ایوان میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے جن کی ہم تاب نہیں لا سکتے۔ ان سے ملتے جلتے تحفظات کا اظہار دیگر اراکین بھی کرتے رہے۔ زیادہ چرچا تو سو شل میڈیا پر رہا۔ اشاریوں کنایوں میں سماج کے سب سے زیادہ طاقتور ادارہ کی جانب انگلیاں اٹھائی جا تی رہیں۔ اس افسانہ میں کتنی حقیقت ہے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔ لیکن اچانک ’’کپتان جی‘‘ اور ’’مرد حر‘‘ کا بلا مشروط اکٹھے ہو کر ایوان بالا کے چیئر مین کی کامیابی کے لیے’’ اجتماعی کاوش‘‘ اپنے اندر ضرور کچھ خبر رکھتی ہے۔
حاصل بزنجو ہماری پارلیمانی سیاسی تا ریخ کے اک زیرک سیاستدان ہیں جنہیں ملکی اور عالمی کانفرنسوں میں شرکت کرنے اور اظہار خیال کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ بلوچستان کی سیاست میں کلیدی کردار کے حامل یہ سینیٹر جس بالا دست ادارے کا انتخابات کے تناظر میں ’’ ذکر خیر‘‘ فر ما رہے تھے، اسے اس مقام تک لانے میں انہی کے ’’پیٹی بھائیوں‘‘ کا بڑا کردار ہے۔ہماری قومی سیاسی تاریخ کا ماضی زیادہ درخشاں نہیں ہے بانی پاکستان کے وہ جذبات اور حکم جن کا اظہار انہوں نے اس وقت کے سپہ سالار کے سامنے کیا تھا، اسے نہ تو رہنما اصول کے طور پر اپنایا گیا نہ ہی وقار کے ساتھ اس ادارہ سے فاصلہ رکھنے کو قومی پالیسی سمجھا گیا۔ یکے بعد دیگرے حکومتوں کی تبدیلی اور سیاسی ابتری نے مداخلت کی وہ کھلی راہ ہموار کی کہ اسے ’’ نظریہ ضرورت‘‘ کے طور پر سر خم تسلیم کر لیا گیا۔ہماری سیاسی تاریخ کے سب سے غیر مقبول وزیر اعظم فیروز خان نون کی رٹ اس حد تک کمزور تھی کہ خان آف قلات نے بلوچستان کے علاقہ سے پاکستانی جھنڈا ہی اتار پھینکا۔ حالات اس مقام پے آن پہنچے کہ اس وقت کے سپہ سالار کو امن و امان کے قیام اور خان آف قلات کی گرفتاری کے لیے مسلح دستے روانہ کرنا پڑے۔ سرکاری طور پر یہ پہلی فوجی مداخلت تھی۔
کون نہیں جانتا کہ پہلے مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر سیاسی شخصیات اور قوتوں کے کندھوں پے سوار ہو کر صدارت کے منصب تک جا پہنچے۔ یہ حضرات وفاداری میں اتنے آگے نکل گئے کہ بانی پاکستانؒ کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دینے کی سازش میں شریک رہے۔ حالات نے اک بار پھر انگرائی لی اور قائد عوام کو سیاسی خدمت کا نادر موقع میسر آگیا۔ عوامی جمہوریت کی گردان کرنے کے باوجود وہ اپوزیشن کے لیے دل بڑا نہ کر سکے۔ بلا مقابلہ منتخب ہونے کے زعم میں وہ مخالفین کو افسر شاہی کے ذریعہ غائب کروانے کے بھی مرتکب ہوئے۔ اپنے عہد اقتدار میں بھرپور ذہانت اوروژن رکھنے کے باوجود وہ دوستوں کی بجائے مخالفین کی تعداد میں اضافہ کرتے رہے اور گھیرا اُن کے گرد تنگ ہوتا رہا انکی سیاسی تنگ نظری نے دوسرے مارشل لاء کی راہ ہموار کی اور اس ’’اسلامی عہد‘‘ کو گیارہ سال تک بھگتنے کا اعزاز قو م نے حاصل کیا۔ وہ چہرے مہرے جو اس وقت قومی سیاسی منظر نامہ پر نمایاں ہیں۔تاریخ کے آئینہ میں میں یہی چہرے دوسرے غیر آئینی صدر کے دائیں بائیں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ’’ قائد عوام‘‘ کا دم بھی بھرتے تھے، بعض کے وعدہ معاف گواہ بننے کی شہادتیں بھی ملتی ہیں۔
اک بڑے فضائی حادثہ نے جمہوری پرندہ اک بار پھر آزاد کردیا۔ اک عوامی جمہوری شخصیت کے لئے وہ اقتدار کا ہما ثابت ہوا۔ جمہوری مزاج کی حامل قیادت نے غیر جمہوری اقتدار کے اقدامات ہی کو حرف تنقید بنایا لیکن اس کو بد عنوانی کے الزام کی پاداش میں رخصت ہونا پڑا۔ باوردی عہد کے تراشے ہوئے دوسرے سیاسی رہنما مسند اقتدار پر براجمان ہوئے اپنی پاک دامنی بر قرار نہ رکھ سکے۔ سیاسی دامن بد عنوانی کے الزام سے آلودہ ہوا۔ یکے بعد دیگرے’’ میثاق جمہوریت‘‘ کے فریقین کو ’’عوامی خدمت‘‘ کا موقع نصیب ہوا مگر آئینی مدت پوری کرنے کی حسر ت دل میں لیے ایوان سے گھر کو رخصت ہوئے۔ اگرچہ ہر بار الزام بالا دست ادارے پر ہی دھر اگیا لیکن اپنی اصلاح کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی۔ تا وقتکیہ چوتھا باوردی شخص مسیحائی روپ میں جاہ وجلال کے ساتھ ایوان میں داخل ہوا سیاست دانوں میں کیڑے نکالنے کے ساتھ ساتھ قوم کو ریلیف فراہم کرنے کا مژدہ بھی سناتا رہا۔ اس دعویٰ میں انہیں کتنی کامیابی ملی اس کا فیصلہ تو تاریخ کرے گی لیکن مورخ کا اس پر کلی اتفاق ہے کہ ہر باوردی حکومت کے مابعد اثرات کسی نہ کسی طرح قوم پر مرتب ہوتے رہے۔
دوسری جانب غیر سیاسی قوتوں کے ہاتھوں ستائی قیادت لندن میں سر جوڑ کر بیٹھی کہ کس طرح ’’ عزیز ہم وطنو‘‘ کے جملہ سے نجات حاصل کی جائے اک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے دست تعاون بڑھایا جائے جمہوری اقدار کو فروغ دیا جائے۔ اپوزیشن کو تو اس کا جائز مقام دیا جائے تاکہ ’’ عوامی خدمت‘‘ کے نعرہ کو عملی شکل دی جاسکے۔ چشم فلک نے دیکھا اس سر زمین کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بنانے اور آئین کا حلیہ بگاڑنے والوں کو ریڈ کارپٹ سے اعزاز کے ساتھ رخصت کیا گیا۔ میثاق جمہوریت کے دعوے داروں پے جب قسمت نے یاوری کی اور حادثاتی طورپر اقتدار ان کی جھولی میں آگرا تو انہوں نے اپنی داغدار شہرت کو کس طرح عملی جامہ پہنایا۔ ریلوے جیسے قدیم قومی و دیگر اداروں کی زبوں حالی جمہوری خدمت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ اس عوامی، جمہوری اور سیاسی شہادت کے عہد میں کیسے کیسے مالیاتی سکینڈل پروان چڑھے لیکن اس کے باوجود توپوں کا رخ آمریت کے عہد کی طرف تھا۔ اس سرزمین پر ایسے وضع دار جمہوری حکمران بھی گذرے ہیں جو سپہ سالار کو دس بار وردی میں صدر منتخب کرانے کیلئے نہ صرف بے تاب تھے بلکہ عوامی اجتماعات میں اسکا قصد بھی کرتے پائے گئے۔
تاریخ نے اس مذکورہ صدر کو خود ساختہ جلا وطنی کا سنہری موقع فراہم کیا۔ متوالے اک بار پھر عوامی حمایت سے اقتدار کے ایوان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے لیکن جذبات کو قابو میں نہ رکھ سکے آکے بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکالے گئے کہ مصداق ثابت ہوے اب وہ عوام سے و جہ تسمیہ پوچھتے نظر آتے ہیں البتہ اس بار تبدیلی یہ ضرور واقع ہوئی کہ بدعنوانی کا الزام بڑے گھر کی بجائے منصف اعلیٰ کی طرف سے عائد کیا گیاتھا۔
موجودہ پارلیمانی عہد میں بڑے تو اتر کے ساتھ ’’ تبدیلی ‘‘ کی باز گشت سنائی دیتی رہی اسکے روح رواں پر بھی الزام ہے کہ وہ اقتدار تک رسائی کیلئے ’’ بڑے اشارے ‘‘ کے منتظر ہیں اس کے انتظار میں انہوں نے شب و روز سرمائی دارالحکومت کی بڑی شاہراہ پر گذار دیئے اب تلک کامیابی ان کا مقدر نہیں ٹھہری لیکن پھر بھی وہ امید سے ہیں۔تاہم جزو وقتی ’’ تبدیلی ‘‘ کیلئے وہ ایسے سیاسی راہنماء کی جانب دست شفقت بڑھانے پر مجبور ہوئے جن کے بارے میں اکثر وہ غیر پارلیمانی زبان استعمال کیا کرتے تھے۔
اس گٹھ جوڑ پر سیاسی اور سماجی حلقے ورطہ حیرت میں گم ہیں چھوٹے صوبے کے نام پر ایوان بالا کے انتخابات کی کوکھ سے برآمد ہونے والی کامیابی کو جس ’’ جمہوریت ‘‘ کی فتح قرار دیا جارہا ہے حاصل بزنجو اس کو بالا دست ادارے کی کامیابی اور جمہوریت کی شکست ضرور قرار دے رہے ہیں
ہم بزنجو محترم صاحب کی خدمت میں عر ض کیے دیتے ہیں کہ جس پارلیمانی نظام کو کمزور کرنے میں سیاسی قیادتیں خود پیش پیش ہو ں۔ جہاں موروثی طرز حکومت کو پذیرائی حاصل ہو۔ سیاسی جماعتوں میں جمہوری روایات اور اقدار عنقا ہوں۔ پارٹی سربراہ کا انتخاب خاندان سے باہر گناہ سمجھا جائے۔ سیاسی جھگڑے سیاسی انداز میں حل کرنے کی بجائے بڑی شخصیت کی طر ف دیکھا جائے ۔سیاست کو عبادت سمجھنے کی بجائے کاروبار خیال کیا جائے۔ اس پارلیمانی نظام کو کسی بالا دست ادارہ سے نہیں خود سیاستدانوں سے خطرہ ہوسکتا ہے بالادست سمجھے جانے والے ادارہ کے سامنے جب خود یہ ہاتھ باندھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اس فعل کو سیاسی شکست کے علاوہ دوسرا کیا نام دیا جاسکتا ہے؟


ای پیپر