جوتا کلچر
17 مارچ 2018 2018-03-17


آج کل جس طرح بہت سی چیزیں ٹو ان ون اور تھری ان ون ہیں جیسے کوک کی بوتل میں پودے اُگا لو ،جیم کی ڈبی میں مسالہ اور انورٹر اے سی ٹھنڈا بھی، کرو گرم بھی اسی طرح جوتا بھی اب بہت سے کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔ پہلے جوتے کا ایک ہی استعمال تھا کہ پاؤں میں پہنا جاتا ہے۔ کام کی چیز ہے، چوری ہو جاتا تھا کبھی مسجد سے کبھی سالیوں کے ہاتھوں، کام چوری سے ایک جیسا لیا جاتا تھا کہ نیا جوتا اور جوتے کی مہنگائی۔۔۔ کیونکہ چائنا مال سے پہلے جوتے کافی مہنگی چیز شمارہوتے تھے ویسے بھی ایک فرق تو ہے اس چوری کے باعث اللہ کے گھر تو لوگ اب ٹوٹی جوتی پہن کر جاتے ہیں مگردلہن کے گھر تو بہرحال نئی جوتی ہی پہن کر جانی پڑتی ہے۔ آخر سالیوں کے حسین ہاتھوں کا بھی خیال ہوتا ہے۔
مگر کیا کیا جائے اب جوتوں کا ایک اور مصرف نظر آگیا ہے کہ جو برا لگے اسے جوتا مارو۔ پہلے تو 31مارچ کو ہی ابا کا جوتا پڑا کرتا تھا کہ پاکستان میں یہ دن رزلٹ ڈے کے طور پرمنایا جاتا تھا۔ تمام سرکاری سکولوں میں اسی دن سکول کا رزلٹ سنایا جاتا تھا اور بچے سکول جانے سے پہلے ابا جان کا جوتا چھپا کر جاتے تھے مگر اس بارتو مارچ کے شروع میں ہی جوتا پڑوائی کی رسم شروع ہو گئی ہے۔ پہلے ہمارے ایک محترم لیڈرکو جوتا پڑاپھر جواب آں غزل کے طور پردوسرے لیڈر کو ، اور پھر رسم ہے۔ آگے دیکھئے باہر کے ممالک میں بھی اس طرح کی جو تا پیزاری کی رسم ہوتی ہے مگر میرا خیال ہے جو مقام ہمارے معاشرے میں جوتے کو حاصل ہے کہیں نہیں۔ جوتا چرائی جوتا گموائی اور اب جوتا پڑوائی۔ یہی بات تو بہت بری ہے مگر کیا کیا جا ئے۔ اگر لیڈر آپ کی تالیاں، نعرے اور بھنگڑے انجوائے کر سکتے ہیں تو غصہ نکالنے کی بھی کوئی شکل ہونی چاہئے۔ جیسے لنڈن کا ہائیڈ پارک جہاں ایک ایسا کونا ہے جہاں جس کو جس پر غصہ ہے آکرنکال سکتا ہے۔ ہمارا ملک تو ویسے ہی گرم ملک ہے غصہ بہت آتا ہے بتی نہیں غصہ کرو، پانی نہیں غصہ کرو،اور اگر گیس نہیں تواور غصہ کرو، حیرت ہے جن ملکوں میں یہ سب چیزیں ہوتی ہیں وہاں بھی لوگ غصہ کرتے ہیں ۔ہائیڈ پارک میں روز کوئی نہ کوئی گورا تقریر کر رہا ہوتا ہے۔ شاید بیوی پہ غصہ تو نکالتے ہونگے مگر اور بھی بہت سے موضوعات ہونگے مثلاً ہمسائے کا کتا کیوں بھونکا یا کل بیگم کی والدہ نے لال سکیرٹ کیوں پہن لیا۔ ہمارے ہاںیہ والا غصہ نکالنے کا فرض میڈیا نے ادا کر لیا ہے۔ شام آٹھ بجتے ہیں اور ان کا رنڈی رونا شروع ہو جاتا ہے۔ تمام غصہ بیوی سے لڑائی بتی کی وجہ سے نیند کی کمی اورگیس کی وجہ سے ناشتے کا نہ بننا ہمسائے کی نئی ہونڈا سالے کے بیٹے کے میڈیکل کے نمبر تمام حسر تیں اور غصہ اینکر حضرات نکال لیتے ہیں اور سب کا ولن حکومت عوام کو بھی لگتا ہے۔ کہاں سب کے دکھوں کا ذمہ دار ایک ہی ہستی ہے اور وہ ہیں ارباب اختیار۔ یہ لوگ گالیاں دیے جاتے ہیں وہ سر دھنتے جاتے ہیں کیونکہ محروم تو دونوں ہی ہیں۔ وہ دن گئے جب ٹی وی پر سب اچھا اچھا ہوتا تھا۔ سرکاری ٹی وی اور سرکار کی مدحت، اب تو لفافہ دے کر تعریفیں کروانا پڑتی ہیں۔ کام مشکل ہے مگر مسئلہ تو پھر بھی وہی کہ فضل دین، کرم داد یا جاوید صاحب کو غصہ آئے تو وہ کہاں جائیں۔ ایک حل ہے کیوں نا لارنس گارڈن میں ایک گوشہ بنا دیناچاہیے کہ جہاں جس کا دل چاہے غصہ نکالے۔ فضلوکی ریڑھی پولیس لے گئی تو فضلو بولے، کرم داد کا بیٹا نالائق نکل آئے تو ماسٹر کو گالیاں براہ راست لارنس گارڈن سے ڈلیور ہوں اور جاوید صاحب کی دکان پر انکم ٹیکس کا ریڈ پڑ گیا تو لارنس آکر اپنی صفائی دے سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ کوئی گوشہ خواتین کے لئے بھی رکھ دینا چاہیے۔ غصہ تو ان بے چاریوں کو بھی آتا ہے۔ ساس کو دشنام دینا بہو کو انجام دینا سب اس کونے میں ہو سکتا ہے۔ دیورانی کی لگائی بجھائی ہمسائی سے لڑائی اس کونے میں کی جا سکتی ہے۔ نہ میاں کے ڈنڈے کا ڈرنہ پولیس کی پکڑن پکڑائی۔ آرام سے گالیاں دیں گول گپے کھائیں اور گھر واپس سیر کی۔ سیر صحت کی صحت۔ گھر کا مزاج بھی خوشگوار۔ ہاں کونے کا تعین بھی ہو سکتا ہے۔ بابا ترت مراد کا مزار ہے لازنس میں، آس پاس کی جگہ متعین کر لی جائے۔ سب کی بددعائیں جلدی جلدی قبول ہوں گی۔ دشمن کا ستیا ناس اور باقی سب کی خیر مگر پلیز بچوں کو اس سے دور ہی رکھیں کیونکہ بچوں کی سیکھی ہوئی گالیاں ہم سب کو ہی پڑیں گی۔ بچے کو گالی تو یاد ہو جاتی ہے مگر یہ نہیں یاد رہتا کہ کس کو دینی ہے کس کو نہیں ویسے بھی جوتا کلچر کی ایک بہت خرابی ہے ڈندے بھی پڑتے ہیں اور بے بہا پڑتے ہیں۔ اگر حکومت کے بندے کو جوتی پڑ گئی تو اندر خیر نہیں اور اگر مخالف کو پڑ گئی تو باہر خیر نہیں۔ ویسے بھی جوتیاں مہنگی ہیں اور ایمان سے ایک جوتی کسی کام نہیں آتی مگر اگر کسی بہت ہی پیارے کو جوتی مار دی آپ نے توشاید پھر ساری زندگی ایک ہی پاؤں میں جوتی پہنیں۔ اس لئے قوم کو اس بری عادت سے بچنا چاہیے۔ سر دوسرے کا ہے تو جسم اور جسم پہ پہننے والی جوتی تو اپنی ہے نا اور اہل پاکستان آپ کے لئے اللہ کا خاص حکم ہے۔ صبر سے کام لو خدا آپ کا حامی و ناصر ہو ۔


ای پیپر