ا نصار العلم سکول تقریب میں پر مسرت لمحے
17 مارچ 2018 2018-03-17

اسمٰعیل صاحب نے انصار العلم فاؤنڈیشن سکول کی تقریب تقسیم انعامات میں شرکت کی دعوت دی تو میں نے فوراً آمادگی ظاہر کردی۔ اس ہاں کی وجہ صرف اتوار کی چھٹی اور فراغت نہ تھی بلکہ اس کی وجہ سکول کے بچوں کی جدا گانہ کارکردگی اور منتظمین کی لگن تھی۔ اس سکول میں ہر مذہبی اور قومی تہوار کے حوالے سے ہمیشہ تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہر تقریب بھرپور اور دلچسپ ہوتی ہے۔ دیگر سکولوں میں بچے سکول کا ذریعہ آمدنی اور تعلیم کے خریدار ہوتے ہیں ۔ جبکہ اس سکول میں بچے تنظیم کا سرمایہ اور اثاثہ اور ذمہ داری ہوتے ہیں۔ ان بچوں کا انتخاب ان جھگیوں سے کیا جاتا ہے جو جدید آبادیوں میں قائم ہوتی ہیں ۔ ان بچوں کا بچپن ماں باپ کے ساتھ کچرے سے رزق تلاش کرنے میں گزر جاتا ہے۔ جب یہ بچے انگریزی میں تقریر کرتے ہیں ،عالامہ اقبال یا قائد اعظم کا روپ دھار کے نصیحت کرتے ہیں، معاشرے کے کسی بد نما رویے کو خاکے کی صورت پیش کرتے ہیں یا پھر قومی ترانے پہ اپنی پرفارمنس دیتے ہیں تو وہ منظر اور انتظامیہ کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ تقریب کے سارے شرکاء کے لئے بھی یہ لمحات پر مسرت ہوتے ہیں۔ مجھے جب بھی سکول انتظامیہ کی جانب سے کسی پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی میں نے اپنے وقت کو ان بچوں کے ساتھ قیمتی بنانے کی نیت اور ارادے سے اس میں شرکت کی۔

علاقہ ٹاؤن شپ میں واقع اس سکول میں 160بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ سب بچے ارد گرد کے چار کلو میٹر علاقے میں پھیلی جھگیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سکول میں داخل بچوں کا کاپی پنسل کتاب یونیفارم سب ادارہ کے ذمہ ہے۔ سکول انتظامیہ تعلیم و تربیت کے ساتھ صحت کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ ان بچوں کو ایک جذبۂ تعمیر سے سرشار ڈاکٹر صاحب مفت علاج کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں علاج ومشورے کی سہولت بچوں کے والدین کو بھی فراہم کی جاتی ہے۔ بچے کے حوالے سے تقریباً تمام اور والدین کے حوالے بعض ذمہ داریاں اس احساس کے تحت قبول کی جاتی ہیں کہ بعض والدین اخراجات کے ڈر سے یا تو بچوں کو سکول میں داخل ہی نہیں کراتے یا پھرجلد سکول سے ا ُٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ ان بچوں کو گلیوں سے کچرا سمیٹنے میں اپنا مددگار بنا لیتے ہیں۔ جب یہ طلباء اپنی پرفارمنس کے لئے سٹیج پر آتے یا دوستوں کو ان کی کارکرگی پر داد دیتے تو موجود لوگ اس تبصرے پر مجبور ہو جاتے کہ اگر اللہ تعالیٰ انصار العلم کو ان کا مددگار نہ بناتا تو یہ بھی کوڑے کے ڈھیروں، ورکشاپوں اور درزی کی دکان اورچائے خانوں پر اپنے ننھے ہاتھوں سے۔۔۔ تقریب کے اختتام پر ایک شخص اپنی تین بیٹیوں کو موٹر سائیکل پر بٹھا رہا تھا۔ بچوں کے ہاتھوں میں کپ اور اسناد تھیں جبکہ باپ کی آنکھوں میں امید اور احساس تشکر!

انصار العلم تعارف اورمشن: اس ادارے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ممتاز دانشور ،استاد اور کالم نگار ڈاکٹر اللہ بخش عاصم نے کہا کہ انصار العلم فاؤنڈیشن ایک تحریک ، ایک سوچ اور مقصد کانام ہے۔ لہٰذا لگن ،اور مسلسل محنت اس کے لازمی تقاضے ہیں۔ اگر یہ سفر جاری رہا تواس سے وہ چشمہ پھوٹے گا جس سے کئی نسلیں فائدہ اٹھا سکیں گی۔ اس ادارے کی بنیاد جناب شاہد جاوید اور جناب اسمٰعیل صاحب نے 1911 ء میں رکھی ۔ محترم شاہد جاوید تیس سال بعد سعودی عرب سے واپس آئے تھے۔ جبکہ اسمٰعیل صاحب اعلٰی ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ا ُنہوں نے اپنا وقت، توانائیِ اور صلاحیت علاقہ ٹاؤن شپ میں بالکل معاشی اور معاشرتی زندگی میں بالکل نظر انداز کئے گئے (marginlised) لوگوں اور کوڑے کچرے کے ڈھیروں پر جھگیوں میں رہنے والے بچوں پر لگانے کا پروگرام بنایا۔ ا ُن کا نعرہ سٹریٹ چلڈرن کو سٹیٹ چلڈرن بنانا تھا۔ اس دفعہ سامنے لگے بینر میں تعلیم برابر کا اضافہ بھی نظر آیا۔ تنظیم نے اس عزم سے آغاز کیا کہ مالی وسائل کی کمی کسی کے لئے تعلیم وترقی کا راستہ بندنہ کرے۔ طے کیا گیا کہ تنظیم اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم کے لئے بنیاد فراہم کرنے میں کردار ادا کرے گی۔ تعلیم کے ساتھ طلباء کی کیرئیر کونسلنگ کی جائے گی۔ تنظیم طلباء میں معاشرتی، اخلاقی ، معاشی اور جمہوری شعور کی بیداری کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔ تقریب میں یہ بات فخر سے بتائی گئی کہ سکول کے طلباء ا ُن کے سفیر بھی ہیں۔ جب بچوں کو کھانے کے وقت بسم اللہ اور ہاتھ دھونے کی بات کہی گئی تو انہوں نے یہ بات گھر تک پہنچائی۔ اسی طرح پاکی ناپاکی اور دیگر آداب معاشرت جب بچوں کو سکھائے جاتے ہیں۔ تو کہا جاتا ہے یہ بات گھر والوں کو بھی بتانا ! ان ساری باتوں کا اچھا ردعمل سامنے آیا ہے۔

شمع اور چراغ کا ایک اصول ہے۔یہ اس وقت تک جلتے ہیں جب تک انہیں جلنے کا ماحول اور اسباب میسر رہیں۔ میری خواہش اورتمنا ہے کہ ایسے چراغ نہ صرف جلتے رہیں بلکہ ہر گلی ہر کوچہ ان چراغوں سے منور ہو۔اس کے لئے دو ہی راستے ہو سکتے ہیں،اپنا چراغ روشن کیا جائے یا پھرپہلے سے ر وشن چراغوں کو جلنے کا ماحول اور اسباب مہیا کئے جائیں۔ بہت سے لوگوں کے دل میں بھلائی کے کام میں شریک ہونے کی خواہش موجود ہوتی ہے لیکن وہ بوجوہ اسے عملی شکل نہیں دے پاتے۔ ایسے تمام احباب کے لئے سنہری موقع ہے کہ وہ ایسی تنظیم کے مددگار بن کر اپنے حصے کی شمع جلائیں۔جس کے پاس تجر بہ ، جذبہ ، فعال ٹیم اورحوصلہ افزا نتائج سب کچھ ہے وہ اس ٹیم کی مدد سے اپنے مقام پر ایسی ہی تنظیم اور سکول قائم کریں ۔ تمام احباب اس کار خیر میں ا پنی زکوٰۃ ، خیرات اور عطیات سے شریک ہو سکتے ہیں ۔ ادارے کی طرف سے ایک بچے کے تمام سالانہ اخراجات جو اٹھارہ ہزار روپے ہیں ایک بار یا بالاقساط ادا کر کے ایک بچے کی ذمہ داری لینے کی سہولت بھی موجود ہے۔ دو دوست مل کر بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔ ادارے کے تمام معاملات شفاف ہیں، ان کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ پوری ٹیم بلا منافع فی سبیل اللہ اپنا کام کرتی ہے۔ اس احساس کے ساتھ تعاون کریں کہ ہمارا تعاو ن کئی بچوں کو کچرے کے ڈھیر سے دور اور کتاب ، کاپی ، پنسل اور اچھے مستقبل کی امید سے آشنا کرے گا۔ آگے بڑھیں اور انصار العلم بنیں!

Website www.AIFschool.org

برائے عطیہ: سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک پیکو روڈ لاہور اکاؤنٹ نمبر : 10292120001 -


ای پیپر