پولیس کی قربانیاں اور قصائی!
17 مارچ 2018

گزشتہ روز لاہور کو ایک بارپھر لہولہان کردیا گیا ۔رائے ونڈ اجتماع کے باہر خودکش دھماکے میں 9افراد شہید اور تیس سے زائد زخمی ہوگئے۔شہیدوں میں پانچ پولیس اہل کار بھی شامل ہیں۔ ایس ایچ او سندر محمد عاصم اور اے ایس پی رائے ونڈ زبیر نذیر بھی زخمی ہیں۔ زبیر نذیر کی کچھ روز بعد شادی ہے۔ دعا ہے اللہ اُنہیں سلامتی عطا فرمائے اور وہ جلد ازجلد صحت یاب ہوکرزندگی کا ایک نیا اور خوبصورت سفر شروع کرسکیں۔ لاہور کا امن ملک دشمنوں کی نظروں میں مسلسل کھٹک رہا ہے۔ وہ اس امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جسے لاہور پولیس مسلسل ناکام بنارہی ہے۔ پولیس کو ٹارگٹ بھی شاید اسی لیے کیا جارہا ہے کہ پولیس دہشت گردوں کے مذموم مقاصد کی بڑی کامیابی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ پولیس کے حوالے سے چند برس قبل ایک مزاحیہ نعرہ ہم سنتے تھے ” جاگدے رہنا، ساہڈے تے نہ رہنا “ ....یعنی یہ تاثر عام تھاپولیس لوگوں کے جان اور مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور لوگوں کو اپنے طرزعمل سے یہ پیغام دے رہی ہے کہ اپنے جان ومال کی حفاظت وہ خود کریں، پولیس اس سلسلے میں ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتی، .... لاہور پولیس نے پولیس کے اس برے امیج کو زبردست زد پہنچائی ہے۔ اب کم ازکم لاہور پولیس کے حوالے سے یہ کوئی نہیں کہتا، یا بہت مدت ہوئی کم ازکم میں نے کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ ”جاگدے رہنا، ساہڈے تے نہ رہنا “ .... ایک سال قبل مال روڈ لاہور میں ہونے والے ایک خودکش دھماکے میں کئی پولیس افسران شہید ہوئے۔ ہمارے دوست کیپٹن مبین اور زاہد سلیم گوندل بھی ان میں شامل ہیں۔ اُن کے زخم ابھی تک تازہ ہیں اور کبھی نہیں بھر سکتے۔ پچھلے مہینے ان شہیدوں کی یاد میں لاہور پولیس نے الحمراءہال میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا۔ مجھے بھی اس میں شرکت اور خطاب کا موقع ملا۔ آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز ، سی سی پی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ امین وینس اور ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدراشرف نے یہاں بہت خوبصورت گفتگو کی۔ شہیدوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس کو درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ پولیس کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ اُن کا یہ مو¿قف بالکل درست تھا کہ پولیس اپنی تمام تر کمیوں کوتاہیوں، خرابیوں کے باوجود لوگوں کے جان ومال کے تحفظ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس تقریب کے انعقاد کے دوبڑے مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ لاہور پولیس اپنے شہیدوں کے لواحقین کو پیغام دینا چاہتی تھی ہم انہیں اور اُن کے اُن پیاروں کو بھولے نہیں جو اللہ کے پاس چلے گئے۔ دوسرے اِس تقریب کے ذریعے دہشت گردوں کو بتانا چاہتی تھی اُن کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے میں پولیس آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ اسی جذبے کا مظاہرہ گزشتہ روز رائے ونڈ میں اجتماع گاہ کے باہر کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی پولیس اہل کار شہید وزخمی ہوگئے ....ایک طرف ہمیں ان شہیدوں کا دُکھ ہے، دوسری طرف اس بات پر اطمینان بھی ہے کم ازکم پنجاب میں اب ایسے افسران تعینات ہیں جو شہیدوں کے لواحقین کو کسی موقع کسی مقام پر تنہا چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ خصوصاً لاہور پولیس کے افسران اپنے شہیدوں کے لواحقین کو جتنی اہمیت اور عزت دیتے ہیں اُس سے اُن کے پیارے تو ظاہر ہے واپس نہیں آسکتے، مگر ان کے دکھوں خصوصاً اُن کے مسائل کا بہت حدتک مداوہ ضرور ہوجاتا ہے۔ لاہور پولیس کا جذبہ اور ضمیر اب تھوڑا تھوڑا جاگاجاگا محسوس ہوتا ہے اور اِس کی کارکردگی پہلے جیسی مایوس کن نہیں رہی تو میرے نزدیک اِس کی ایک بڑی وجہ لاہور پولیس کے وہ افسران ہیں جن کے بارے میں پولیس فورس اب دل سے یہ محسوس کرتی ہے کہ وہ ان کے سچے خیرخواہ ہیں اور دہشت گردی میں اُن کی جان چلی گئی تو اُن کے لواحقین کو دربدر کی ٹھوکریں نہیں کھانا پڑیں گی، جیسے پہلے ہوتا تھا۔ اِس کے لیے ایس ایس پی ایڈمن لاہور رانا ایاز سلیم کی کاوشیں اتنی قابلِ قدر ہیں میری دعا ہے ایک ایک ایاز سلیم اللہ ہرصوبے کی پولیس کو عطا فرمادے، جس کے بعد پولیس فورس میں قربانی کا جذبہ مزید بڑھ جائے گا، کیونکہ وہ اس احساس میں مبتلا ہو جائے گی کہ ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اور ان کے بعد اُن کے لواحقین خودکوتنہا یا بے بس محسوس نہیں کریں گے۔.... ویلفیئر آئی کے نام سے اُنہوں نے ایسا چراغ روشن دیا ہے جس سے پولیس کے ہر شہید کا گھرمنور ہوگیا ہے۔ اب اس کی روشنی دوسرے صوبے بھی محسوس کرنے لگے ہیں۔ ....پولیس ویلفیئر کے لیے آئی جی پنجاب اور ان کے بہت سے ماتحت افسران رات دن ایک کیے ہوئے ہیں۔ پولیس افسران کے اس جذبے کی قدر پولیس فورس صرف اس صورت میں کرسکتی ہے عام لوگوں اور مظلوموں کے ساتھ اپنے رویے میں بہتری لائے، ورنہ یہ تاثر خود پولیس فورس کے لیے بڑا نقصان دہ ہے کہ افسران اپنی فورس کے لیے تو بہت کچھ کررہے ہیں ، عوام کے لیے کچھ نہیں کررہے ۔ اس سے پہلے آئی جی مشتاق سکھیرے نے پولیس فورس کو جتنا ذلیل اور اپنے جیسا بے توقیر کرنے کی کوشش کی اُس کی مثال نہیں ملتی۔ ایسا انسان دشمن پولیس افسر بھی تاریخ میں شاید ہی کوئی آیا ہوگا ۔ وہ اتفاقاًیا غیردانستہ طورپر کسی کا بھلا کردیتا ہے رات کواُسے نیند نہیں آتی تھی آج اُس سے کسی کا بھلا کیسے ہوگیا؟۔ اُس کی ریٹائرمنٹ پر محکمہ پولیس میں باقاعدہ جشن منایا گیا ۔ انتقام پسندی کی جو مثالیں اُس نے قائم کیں ہرگز اُس کے منصب کے شایان شان نہیں تھیں۔ البتہ اُس کی فطرت کے عین مطابق تھیں۔ کئی ماتحت پولیس افسران کی اے سی آر ز اُس نے صرف اس لیے خراب کیں وہ اُس کے غیرقانونی اور غیراخلاقی احکامات وخواہشات من وعن تسلیم کرنے سے ہچکچاتے تھے۔ ایس ایس پی مجاہد اکبر بھی اُن میں شامل ہیں۔ اُن کی ترقی صرف اِس لیے نہیں ہوسکی اُن کی اے سی آرز مشتاق سکھیرے نے اپنے جیسی خراب کردی تھیں۔ ترقی کا اختیار میرے پاس ہوتا میں مجاہد اکبر کو ڈائریکٹ بائیسویں گریڈ میں صرف اس لیے ترقی دے دیتا کہ انہوں نے گھناﺅنے پولیس افسر سے اپنی اے سی آرز خراب کروانے کا ”اعزاز“ حاصل کیا ہے۔ کئی اور بہت اچھے اور اہل افسران ہیں جن بے چاروں کی ترقی میں مشتاق سپیرے کی انتقام پسندی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ صرف اپنے جیسی فطرت کے مالک ایک پولیس افسر حسین حبیب امتیاز کی اے سی ار اس نے ”آﺅٹ کلاس “ لکھی وہ اُس کا اے آئی جی فنانس تھا۔ سنا ہے اپنے اس ”اکاﺅنٹنٹ “ کے ذریعے بہت سے مالی مفادات اُس نے حاصل کیے۔ اب یہ بدفطرت پولیس افسر بلوچستان میں کہیں تعینات ہے۔ مشتاق سکھیرے نے اُسے پنجاب میں روکنے کی پوری کوشش کی جس میں بری طرح وہ ناکام ہوگیا۔ آئی جی آفس کی ہرخرابی کا کھرا حسین حبیب امتیاز سے جاکر ملتا ہے۔ پنجاب پولیس فورس دعا گو ہے اللہ پنجاب سے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ فرمادے۔ کسی شخص کی اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوسکتی ہے کوئی ایک شخص اس کے لیے کلمہ خیر نہ کہے۔ ایسے لوگوں کو میں نے ہمیشہ بڑی تکلیف دہ موت مرتے دیکھا ہے۔ .... جہاں تک گزشتہ روز لاہور میں ہونے والے خودکش دھماکے کا تعلق ہے میری خواہش اور گزارش ہے عوام کے شہیدوں کو بھی وہی اہمیت ملے اور اُن کے لواحقین کو بھی وہی مراعات ملیں جو پولیس کے شہیدوں کو ملتی ہیں۔ دعا ہے اِس مقصد کے لیے اللہ ہمارے حکمرانوں کی سوچ رانا ایاز سلیم جیسی کردے۔ !


ای پیپر