مستقیم!
17 مارچ 2018 2018-03-17

ہماری زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں جنہیں بعض اوقات مشیت ایزدی جان کر ہم برداشت کرلیتے ہیں اور کبھی اللہ کی جانب سے امتحان جان کر ا±س وقت کے کٹنے کا انتظار کرتے ہیں۔ کچھ حیرانگی تو تب بھی ہوتی ہے جب عام حالات میں پیش آنے والے واقعات کو بھی ہم امتحانِ الٰہی سمجھ لیتے ہیں جیسا کہ کسی کام کا وقت پر نہ ہونا، روزگار کی فراہمی میں دقت یا اقربا میں سے کسی کی صحت کے معاملات وغیرہ وغیرہ۔ لیکن دراصل یہ درج بالا تمام مثالیں زندگی اور زندہ ہونے کی نشانیوں میں سے ہیں۔ کام کے وقت پر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس وقت کا تعین غلط کیا۔ اسی طرح روزگار کا معاملہ منجانب اللہ ہے جو روزِ ازل سے لکھ دیا گیا اور ملنا ہی ملنا ہے۔ اور ہاں حلال یا حرام کرکے پانے کا تعلق ہماری اپنی ذات سے ہے پر ایسے ہی ہم اس کی جستجو میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ اسی طرح زندہ ہیں تو صحت ہے تو بیماری بھی ہوگی اور شفا بھی حاصل ہوجائے گی لیکن شاید مجھ سمیت کوئی بھی اصل امتحان سے واقف نہیں ہے جس سے گزرنے والا قرب الٰہی سے مالا مال ہو جاتا ہے۔ اوراگر اللہ کے امتحانات پر کچھ غور کیا جائے تو میری عقل کے مطابق اولاد کا امتحان سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔
ہماری زندگی میں ہمارے بزرگوں، حلقہ احباب اور دوستوں کی شکل میں کئی ایسی شخصیات داخل ہوتی ہیں جو زندہ رہنے کے پیرائے کو ہی یکسر بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ اور اس شخصیت کی زیادہ پہچان تب ہوتی ہے کہ ہمارے کسی عمل کی تعریف ہو یا تنقید سہنی پڑے تو آپ کا ذہن فوراً اس شخص کی جانب چلا جاتا ہے جس کی بنا پر وہ خوبی یا خامی آپ کی ذات کا حصہ بنی ہو۔ ایسی ہی ایک شخصیت میری زندگی میں یاسین کی شکل میں داخل ہوئی جس سے میں نے دنیا داری اور اخلاقیات کے بہت سے اسلوب سیکھے۔ اور یقین جانیے بے پناہ پذیرائی بھی پائی۔
لیکن غم اس بات کا ہوا جب یاسین کا غم بانٹنے کا وقت آیا تو ایسا لگا کہ لغت میں الفاظ کی کمی ہوگئی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ پچھلے ہفتے صبح صبح مجھے فون پر اطلاع پہنچی کہ یاسین کا 23 سالہ بیٹا مستقیم اچانک حرکتِ قلب بند ہوجانے سے انتقال کر گیا ہے۔
خبر تو جیسے بجلی بن کر گری۔ مستقیم آنکھوں کے سامنے رک سا گیا۔ وہ چلبلا سا، جذباتی، ذہین لڑکا، اس کا بچپن میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ مصروفیات کی بنا پر یاسین اور ان کے دونوں بیٹوں سے گفتگو کم رہتی تھی۔ لیکن ہاں رابطے میں ضرور رہتے تھے۔ لیکن کیا ایسی خبر بھی میں کبھی سن پاو¿ں گا اس کا گمان نہیں تھا۔ فوراً ایئرپورٹ بھاگا لاکھ جتن کیے کسی فلائٹ میں جگہ نہیں ملی۔ فلائٹ یا تو مکمل پیک چل رہی تھی یا موسم کی وجہ سے کینسل ہورہی تھی۔ اور میں ایئرپورٹ پر کھڑا بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا۔ جیسے تیسے یاسین سے فون پر بات ہوئی مگر وہ کچھ بولا نہیں۔ میں بس اتنا بتا پایا کہ ہر ممکن جلدی آنے کی کوشش کرتا ہوں۔
3 سال بعد میں کراچی ایئرپورٹ سے سیدھا یاسین کے گھر کی طرف روانہ ہوا لیکن راستے میں ہی معلوم پڑا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں قبرستان میں ہیں۔ جب ملا تو وہ کراچی کے میوہ شاہ قبرستان میں اپنے جواں سالہ بیٹے کی گلاب کی پتیوں سے سجی ہوئی قبر کے ساتھ ٹیک لگائے رو رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی زاروقطار روتے ہوئے اس کا کہنا تھا سلمان میرا 23 سالہ جوان بیٹا اچانک سے چلا گیا۔ کچھ کر مجھے میرا بیٹا واپس دلا دے۔ دنیا میں تو سارے کام اثرورسوخ سے ہوجاتے ہیں خدا کے آگے کوئی سفارش لڑا تاکہ میرا بیٹا مستقیم مجھے واپس مل جائے۔ بھرائے ہوئے لہجے اور آنکھوں سے مجھ سے الفاظ کا چناو¿ ہو نہیں پا رہا تھا۔ میں بس یہی کہے جارہا تھا یاسین بھائی صبر کریں یہ اللہ کا فیصلہ ہے، اسے قبول کریں۔ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ مگر کہاں جناب میرا کوئی بھی لفظ باپ کے دل کی تسلی کا سامان بن نہیں پارہا تھا۔
کیونکہ صرف چند گھنٹے کے لیے ہی کراچی آنا ہوا تھا اور بس واپسی کی فلائٹ بھی تھی مگر یاسین کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوگیا تھا کہ شاید دنیا کا سب سے بڑا امتحان اس باپ کے لیے ہوتا ہے جس نے جوان بیٹے کا غم سہا ہو۔ تبھی تو اس امتحان کا ممتحن جانتا ہے کہ اسے برداشت کرنے والا کوئی عام شخص تو ہو نہیں سکتا۔ یہ امتحانات تو ہمیشہ پیغمبروں اور ولیوں کے حصے میں ہی آئے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت آدمؑ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا امتحان اپنے بیٹے ہابیل کے مرنے کو ہی جانا۔ حضرت ابراہیمؑ کے واقعے سے کون واقف نہیں۔ حکم الٰہی جانتے ہوئے بھی آنکھوں میں پٹی باندھ لی کہ کچھ بھی ہو اسماعیلؑ ہے تو میرا بیٹا ہی، قربان کرنا مشکل ہوگا۔
حضرت یعقوبؑ یہ جانتے ہوئے بھی کہ حضرت یوسفؑ زندہ نہیں مگر ان کی جدائی کا غم انہیں زندگی بھر رلاتا رہا۔ یہاں تک کے آنکھیں سفید ہوگئیں۔ خود پیغمبر اسلام حضرت محمد کو بھی بیٹے کے امتحان سے گزارا گیا۔ اسی طرح واقعہ کربلا بھی باپ کے سامنے بیٹوں کی قربانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ تو طے یہ پایا کہ اولاد کے امتحان سے گزرنا اللہ کے قرب کا ذریعہ دکھائی دیا۔ پھر کیا تھا، اچانک سے یہ سب مثالیں مجھے یاد آئیں تو یاسین کو بتانے کے لیے اب مجھے الفاظ ڈھونڈنا مشکل نہ رہے اور یاسین کو بھی کسی حد تک تسلی ہوچلی کے اچانک سے بیٹے کی موت دراصل اصل حقیقی امتحان ہے۔ جسے اللہ نے اس کے لیے چنا ہے۔ اور اسے کم از کم صابرین میں سے ہونا ہے تاکہ اس امتحان کے عوض جو جزاءاور انعام ہے اس سے وہ محروم نہ ہوجائے۔
اس غم کو محسوس کرتے صراطِ مستقیم پر چلتے ان تمام والدین کو سلام پیش کرنے کو دل کرتا ہے جن کے بیٹوں نے کسی نہ کسی شکل میں ملک ِ خدادادِ پاکستان کے لیے اپنی جان کے نذرانے دیے لیکن غمگین لہجوں میں بھی متانت کا عنصر کبھی زائل نہیں ہونے دیا۔


ای پیپر