پاکستان کی 73 سالہ اقتدار کی جنگ ،نہ کوئی جیتا نہ کوئی ہارا
17 جون 2020 (18:12) 2020-06-17

رضا مغل

قیام پاکستان سے لیکر تاحال ملک سازشوں کا شکارچلا آرہا ہے کبھی سیاست کے نام پر کبھی آمریت کے نام پر،کبھی کالا باغ ڈیم کے نام پرکبھی،نظام مصطفٰے کے نام پرکبھی ایم آر ڈی کے نام پر کبھی اے آر ڈی کے نام پرکبھی نوستاروں کے نام پراس پاک وطن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا،کبھی ادھر تم کبھی ادھر ہم کے نام پرملک دو لخت ہوا،کسی کو مارا گیا اور کوئی مر گیا نہ مارنے والے کو پتہ چلا نہ مرنے والے کو کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا، لیاقت علی خان سے لیکر بے نظیر بھٹو کے ناحق قتل کے آج تک انکوائری کمیشن ہی بنے نتیجہ ہمیشہ صفر ہی نکلا ،یہ کھیل اب بھی رکا نہیں ہم سب ان حالات کے ذمہ دار ہیں جو سچ کہنے سے بھی کنی کتراتے ہیں، آئیے سکرین سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم کو کس بے دردی سے قتل کیا گیا،لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 1922ء میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی۔ 1923ء میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1936ء میں آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے۔ آپ قائد اعظم محمد علی جناح ؒکے دست راست تھے۔

نواب زادہ لیاقت علی خان، نواب رستم علی خان کے دوسرے بیٹے تھے، آپ 2 اکتوبر، 1896ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ محمودہ بیگم نے گھر پر آپ کے لیے قرآن اور احادیث کی تعلیم کا انتظام کروایا، 1918ء میں آپ نے ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کیا۔ 1918ء میں ہی آپ نے جہانگیر بیگم سے شادی کی، شادی کے بعد آپ برطانیہ چلے گئے جہاں سے آپ نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی،1923ء میں برطانیہ سے واپس آنے کے بعد آپ نے اپنے ملک کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کروانے کے لیے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی، 1924ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں ہوا، اس اجلاس کا مقصد مسلم لیگ کو دربارہ منظم کرنا تھا، اس اجلاس میں لیاقت علی خان نے بھی شرکت کی،1926ء میں آپ اتر پردیش سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے تک آپ یو پی اسمبلی کے رکن رہے،1932ء میں آپ نے دوسری شادی کی۔ آپ کی دوسری بیگم بیگم رعنا لیاقت علی ایک ماہر تعلیم اور معیشت دان تھیں،16 اکتوبر 1951ء کی اس شام کمپنی باغ راولپنڈی میں پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں لیاقت علی خاں کے قتل کو ایک انفرادی جرم قرار دینا مشکل ہے،

وزیر اعظم کے جلسے میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اور آئی جی پولیس تو موجود تھے مگر پنجاب کے وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ، آئی جی پولیس قربان علی خاں اور ڈی آئی جی، سی آئی ڈی انور علی غائب تھے۔ درحقیقت جلسہ گاہ میں فرائضِ منصبی پر مامور پولیس کا اعلی ترین عہدیدار راولپنڈی کا ایس پی نجف خاں تھا، پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل یوسف خٹک پنڈی میں تھے مگر جلسہ گاہ میں موجود نہیں تھے،گولی کی آواز سنتے ہی نجف خاں نے پشتو میں چلا کر کہا، اسے مارو ۔ نجف خاں نے پنڈی کے جلسے میں پنجابی کی بجائے پشتو کیوں استعمال کی؟ کیا انہیں معلوم تھا کہ قاتل افغانی ہے؟ ان کے حکم پر سید اکبر کو ہلاک کرنے والا انسپکٹر محمد شاہ بھی پشتو بولنے والا تھا، کیا پولیس کا ضلعی سربراہ اضطراری حالت میں یاد رکھ سکتا ہے کہ اس کے درجنوں ماتحت تھانیدار کون کون سی زبان بولتے ہیں؟ کیا تجربہ کار پولیس افسر نجف خاں کو معلوم نہیں تھا کہ وزیر اعظم پر حملہ کرنے والے کو زندہ گرفتار کرنا ضروری ہے؟ جب انسپکٹر شاہ محمد نے سید اکبر پر ایک دو نہیں، پانچ گولیاں چلائیں، اس وقت سفید پوش انسپکٹر ابرار احمد نے حاضرینِ جلسہ سے مل کر قاتل سے پستول چھین لیا تھا اور اسے قابو کر رکھا تھا۔ کیا انسپکٹر شاہ محمد قاتل پر قابو پانے کی بجائے اسے ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے؟ لیاقت علی کے صاحبزادے اکبر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ سید اکبر کو تو خواہ مخواہ نشانہ بنایا گیا، اصل قاتل کوئی اور تھا، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ لیاقت علی خاں کو گولی سامنے سے نہیں، عقب سے ماری گئی تھی، نجف خاں کے حکم پر حفاظتی گارڈ نے ہوا میں فائرنگ شروع کر دی جس سے جلسہ گاہ میں افراتفری پھیل گئی اور زخمی وزیر اعظم کو طبی امداد پہنچانے میں رکاوٹ پیدا ہوئی، اس ہوائی فائرنگ کا مقصد آج تک واضح نہیں ہو سکا،ایس پی نجف خاں نے انکوائری کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے اپنے ماتحتوں کو ہوائی فائرنگ کا حکم نہیں دیا بلکہ ایس پی نے اپنے ماتحتوں سے جواب طلبی کر لی، انکوائری کمیشن کے سامنے اس ضمن میں پیش کیا جانے والا حکم 29 اکتوبر کا تھا۔ تاہم عدالت نے رائے دی کہ ریکارڈ میں تحریف کی گئی تھی۔ اصل تاریخ 20 نومبر کو بدل کر 29 اکتوبر بنایا گیا مگر اس کے نیچے اصل تاریخ 20 نومبر صاف دکھائی دیتی تھی۔ ظاہر ہے کہ نجف خاں نے فائرنگ کا حکم دینے کے الزام کی تردید کا فیصلہ 20 نومبر کو کیا،سرکاری کاغذات میں ردوبدل ایس پی نجف خاں کے سازش میں ملوث ہونے یا کم از کم پیشہ وارانہ بددیانتی کا پختہ ثبوت تھا،انکوائری کمیشن کے مطابق نجف خاں نے ایک ذمہ دار پولیس افسر کے طور پر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کی تھی، اس عدالتی رائے کی روشنی میں نجف خان کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوئی لیکن انہیں باعزت بحال کر دیا گیا۔ وزیر اعظم کے جلسے میں ممکنہ ہنگامی صورت حال کے لیے طبی امداد کا کوئی انتظام نہیں تھا حتٰی کہ کسی زخمی کو ہسپتال لے جانے کے لیے ایمبولنس تک موجود نہیں تھی،چاروں طرف اندھا دھند گولیاں چل رہی تھیں اور چند افراد اس بھگڈر میں سید اکبر کو ختم کرنے میں مصروف تھے، کچھ لوگ ایک وزنی آرائشی گملا اٹھا لائے اور اسے سید اکبر پر دے مارا جس سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں،اس افراتفری میں سید اکبر پر حملہ کرنے والوں کا اطمینان حیران کن تھا،سید اکبر نے زرد رنگ کی شلوار قمیص پر اچکن پہن رکھی تھی، یہ خاکسار تحریک کی وردی نہیں تھی۔ واردات کے فوراً بعد یہ افواہ کیسے پھیلی کہ قاتل خاکسار تھا بلکہ صوبہ بھر میں خاکساروں کی گرفتاریاں بھی شروع ہو گئیں، کیا یہ عوام کے اشتعال کو کسی خاص سمت موڑنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی؟ خواجہ ناظم الدین نتھیا گلی میں تھے جب کہ غلام محمد پنڈی ہی میں تھے،دونوں نے جلسے میں شرکت کی زحمت نہیں کی۔ البتہ وزیر اعظم کے قتل کی خبر پاتے ہی یہ اصحاب صلاح مشورے کے لیے جمع ہو گئے، مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں اس وقت پہنچی جب نیم مردہ وزیر اعظم کو جلسہ گاہ سے باہر لایا جا رہا تھا، وزیر اعظم کی موت کی تصدیق ہوتے ہی گورمانی ان کے جسد خاکی کو ہسپتال چھوڑ کر اپنے گھر چلے گئے اور اگلے روز کراچی میں تدفین تک منظرِ عام پر نہیں آئے،اس سازش کے ڈانڈوں پر غور و فکر کرنے والوں نے تین اہم کرداروں کی راولپنڈی سے بیک وقت دُوری کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سیکرٹری دفاع سکندر مرزا کراچی میں ٹینس کھیل رہے تھے، فوج کے سربراہ ایوب خان لندن کے ہسپتال میں تھے اور سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ ایک خاص مشن پر ہالینڈ میں بیٹھے اگلے احکامات کے منتظر تھے،غلام نبی پٹھان (تب جوائنٹ سیکرٹری مسلم لیگ)کے مطابق لیاقت علی کے قتل کی نہ تو ایف آئی آر درج ہوئی اور نہ تفتیش کی گئی، چالان پیش کیا گیا اور نہ مقدمہ چلایا گیا،جسٹس منیر اور اختر حسین پر مشتمل ایک جوڈیشل انکوائری ہوئی مگر اس انکوائری کا مقصد لیاقت علی خان کے قاتلوں کا تعین کرنے کی بجائے قتل سے متعلقہ انتظامی غفلت کا جائزہ لینا تھا، بیگم لیاقت علی کے مطابق کمیشن کا تقرر حکومت کی دانستہ یا نا دانستہ غلطی تھی، اس کے نتیجے میں پنجاب اور سرحد کے پولیس افسر قتل کی تفتیش پر توجہ دینے کی بجائے غفلت کے الزامات کی صفائی پیش کرنے میں مصروف ہو گئے،اگر سید اکبر زندہ مل جاتا تو ہمیں یقین تھا کہ ہم ایسے بھیانک جرم کے سازشیوں کا اتا پتا معلوم کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔

خواجہ ناظم الدین

خواجہ ناظم الدین پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل تھے،لیاقت علی خان کی وفات کے بعد آپ نے پاکستان کے دوسرے وزیر اعظم کے طور پر خدمات سر انجام دیں،آپ ڈھاکہ بنگال موجودہ بنگلہ دیش میں نواب آف ڈھاکہ کے خاندان میں پیدا ہوئے آپ نے ابتدائی تعلیم برطانیہ سے حاصل کی آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل بھی ہیں آپ نے بنگال کی سیاست میں حصہ لیا آپ بنگال میں وزیر تعلیم اور پھر وزیر اعلیٰ بھی رہے آپ نے تحریک پاکستان میں بھی بے شمار قربانیاں دیں۔

محمدعلی بوگرہ

محمدعلی بوگرہ پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم تھے، آپ نے 1953 سے 1955 تک وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا، آپ نے یونیورسٹی آف کلکتہ سے تعلیم حاصل کی۔ 1937 میں آپ بنگال کی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور خواجہ ناظم الدین کی وزارت میں وزیر صحت کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں، پاکستان بننے کے بعد آپ فارن سروس میں چلے گئے اور برما، کینیڈا اور امریکہ میں سفیر مقرر ہوئے۔ 1953 میں اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے آپ کو پاکستان کا وزیر اعظم مقرر کیا، وزیر اعظم کے طور پر آپ نے پاکستان کا آئین بنانا شروع کیا،محمد علی 19 اکتوبر 1909 کو ہندوستان کے مشرقی بنگال کے شہر بارسل میں پیدا ہوئے تھے، وہ ایک اشرافیہ اور مالدار کے گھرانے میں پیدا ہوئے تھے ، جو روایتی طور پر انگریز بادشاہت کے بہت قریب تھے ،محمد علی بوگرا نے دو شادیاں کیں پہلی بیوی بیگم حمیدہ محمد علی تھی ، جن سے دو بیٹے تھے،بعد میں انہوں نے 1955 میں عالیہ سیڈی سے شادی کی، اس شادی کی وجہ سے ملک میں خواتین تنظیموں نے ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاج کیا،1953 میں اقلیتی احمدیہ کے خلاف لاہور میں ہونے والے پرتشدد ہنگامہ ، متعین عوامل تھے جس کی وجہ سے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی برطرفی ہوئی،مزید صلاح مشورے کے لیے بوگرا کو واشنگٹن ڈی سی سے کراچی اس وقت کے وفاقی دار الحکومت واپس بلایا گیا تھا لیکن گورنر جنرل غلام محمد انہیں نیا وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے صدر کے عہدے پر مقرر کرنے پر مجبور ہو گئے ، جسے پارٹی نے قبول کر لیا، وزیر اعظم بوگرا نے ایک نئی کابینہ مقرر کی جسے "وزارت ہنر" کے نام سے جانا جاتا تھا جس میں جنرل ایوب خان وزیر دفاع کے طور پر اور میجر جنرل ریٹائرڈسکندر علی مرزا وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز تھے،وزیر اعظم بوگرا نے 1955 میں انڈونیشیا میں بینڈنگ کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان کی قیادت کی ، جس میں چین اور پاکستان کے مابین پہلا اعلی سطح کا رابطہ دیکھنے کو ملا،امریکا کے دباؤ میں ، بوگرا نے بالآخر پہلے مسئلہ کشمیر کو بھارت کے ساتھ حل کرکے بھارت سے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ 1953 میں ، وزیر اعظم بوگرا نے برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی کے موقع پر وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے ملاقات کی، وزیر اعظم نہرو نے جب کراچی کا سرکاری دورہ کیا تو ان کی خوب پزیرائی ہوئی اور اس کے فورا بعد ہی وزیر اعظم بوگرا نے نئی دہلی میں اس دورے کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم بوگرا نے وزیر اعظم نہرو کے ساتھ گرما گرم تعلقات استوار کیے ، بالآخر دونوں نے ہندوستانی زیر قبضہ کشمیر میں ہونے والی رائے شماری پر اتفاق کیا ، لیکن یہ حاصل نہیں ہو سکا کیونکہ وزیر اعظم بوگرا ملک کی بائیں بازو کی حمایت سے محروم ہو رہے تھے۔

چودھری محمد علی

چودھری محمد علی پاکستانی سیاست دان تھے جو 1955ء سے 1956ء تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ آپ جالندھر کے آرائیں خاندان میں پیدا ہوئے اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ برطانوی حکومت کے دوران میں آپ کا شمار اعلیٰ مسلمان سول سرونٹس میں ہوتا تھا۔ پاکستان کے قیام کے بعد آپ کو نئی مملکت کا جنرل سیکریٹری بنایا گیا اور بعد میں وزیر خزانہ۔ 1955ء میں اس وقت کے گورنر جنرل سکندر مرزا نے آپ کو محمد علی بوگرہ کی جگہ پاکستان کا وزیر اعظم نامزد کیا، آپ کی سب سے بڑی کامیابی پاکستان کے لیے پہلا آئین بنانا تھے جو 1956ء میں نافذ ہوا،انہوں نے تحریک پاکستان کے موضوع پر Emergence of Pakistan کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جس کا ترجمہ ظہور پاکستان کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی نے کراچی میں وفات پائی۔

حسین شہید سہروردی

حسین شہید سہروردی پاکستان کے سیاست دان تھے۔ آپ 1956ء سے 1957ء تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ آپ قائد اعظم کے پسندیدہ افراد میں سے تھے۔ 16 اگست، 1946ء کے راست اقدام کے موقع پر آپ نے شہرت حاصل کی،حسین شہید سہروردی 8 ستمبر1892 کومغربی بنگال اس وقت کے مدنا پور میں بنگالی مسلم خاندان میں پیدا ہوئے، آپ جسٹس سر زاہد سہروردی کے چھوٹے صاحبزادے تھے جو کلکتہ ہائی کورٹ کے معروف جج تھے، آپ کی والدہ خجستہ اختر بانو اردو ادب کا مایہ ناز نام اور فارسی کی اسکالر تھیں، خجستہ اختر بانو کے والد عبید اللہ العبادی سہروردی تھے، برطانوی آرمی آفیسر لفٹیننٹ کرنل حسن سہرودری اور سر عبد اللہ المنان سہروردی کی بہن تھیں

1920 میں حسین سہروردی نے بنگال کے اس وقت کے وزیر داخلہ سر عبد الرحیم کی بیٹی بیگم نیاز فاطمہ سے شادی کر لی۔ اس شادی سے حسین سہروردی کا ایک بیٹا احمد شہاب سہروردی اور ایک بیٹی بیگم اختر سیلمان تھے۔ احمد سہروردی 1940 میں لندن میں نمونیا کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ جبکہ بیگم اختر سلیمان کی شادی جسٹس سر شاہ سیلمان کے صاحبزادے شاہ احمد سلیمان سے ہوئی۔

1922 میں حسین سہروردی کی پہلی زوجہ بیگم نیاز فاطمہ کا انتقال ہو گیا۔ 1940 میں حسین سہروردی نے روس کے ماسکو آرٹ تھیٹر کی اداکارہ ویرہ الیگزینڈروینا سے شادی کی جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام بیگم نورجہاں رکھا۔ 1951 میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔ اس شادی سے حسین سہروردی کا ایک بیٹا راشد سہروردی ہوا جو لندن میں اداکاری کرتا ہے۔

حسین شہید سہروردی 1921 میں انڈیا واپس آئے۔ اور بنگال سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدا میں آپ انڈین نیشنل کانگرس کی سوراج پارٹی سے منسلک ہوئے اور چترنجن داس کے پرجوش حامی تھے۔ انہوں نے 1923 میں بنگال معاہدے میں اہم کردار ادا کیا،1946 میں حسین سہروردی بنگال میں پہلے مسلم لیگی وزیر اعظم بنے،پاک چین تعلقات کے معمار بھی حسین شہید سہروردی ہی تھے۔ انہوں مغربی بلاک کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے 1956 میں چین کا دورہ کیا ،بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانہ قائم کیا گیا،حسین شہید سہروردی اپنی جماعت عوامی لیگ کے منشور کے برعکس سوویت یونین کی بجائے امریکا کی جانب شدید جھکاؤ رکھتے تھے۔

ابراہیم اسماعیل چندریگر

ابراہیم اسماعیل چندریگر پاکستانی سیاست دان 1897ء میں احمد آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ممبئی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور احمد آباد میں وکالت شروع کی، 1924ء میں احمد آباد میونسپل کارپوریشن کے ارکان ہوئے اور 1937ء میں بمبئی اسمبلی کے رکن چنے گئے، اگلے سال بمبئی اسمبلی میں مسلم لیگ پارٹی کے ڈپٹی لیڈر منتخب ہوئے۔ 1940ء سے 1945ء تک بمبئی مسلم لیگ کے صدر بھی رہے۔ 1947ء میں جب مسلم لیگ ہندوستان کی عارضی حکومت میں شامل ہوئی تو لیگ کے نمائندے کی حیثیت سے وزارت تجارت کا قلمدان ان کے سپرد کیا گیا۔ اسی سال جینوا میں اتحادی قوموں کی تجارتی کانفرنس میں برصغیر کی نمائندگی بھی کی۔ آزادی کے بعد پاکستان کی مرکزی کابینہ میں اگست 1947ء تا مئی 1948ء اور اگست 1955ء تا اگست 1956ء وزیر رہے،انکی وفات26 دسمبر 1960ء کو وفات پائی۔

ملک فیروز خان نون

ملک فیروز خان نون 7 مئی 1893ء کو ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے گاؤں ہموکہ میں یپدا ہوئے، وہ سر محمد حیات نون کے صاحبزادے تھے،ابتدائی تعلیم پبلک اسکول بھیرہ ضلع سرگودھا سے حاصل کی۔ 1905ء میں ایچی سن کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ 1912ء میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان چلے گئے۔ 1916ء میں ویڈہم کالج آکسفورڈ سے ہسٹری میں بی اے کیا۔ 1917ء میں بیرسٹر بن کر واپس ہندوستان چلے آئے۔ جنوری 1918ء میں سرگودھا سے اپنی پریکٹس کا آغاز کیا۔ جنوری 1921ء تا جنوری 1927ء ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے رہے، 1920ء کے انتخابات میں تحصیل بھلوال سے لاہور لیجسلیٹو کونسل کے ارکان منتخب ہوئے۔ 1925ء کو ہندوستان کابینہ میں دیہی آبادی کے وزیر بنے۔ اس وقت وہ سب سے کم عمر وزیر تھے اور اس عہدے پر دس سال سے زیادہ عرصہ تک فائز رہے اور تقریباً سولہ صوبائی اسمبلی کے رکن رہے۔ اکتوبر 1931ء کے انتخابات میں وہ بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ جون 1936ء تا ستمبر1941ء لندن میں ہائی کمشنر کے عہدہ پر خدمات سرنجام دیں۔ پہلی بار1938ء اور دوسری بار1939ء میں بین الاقوامی ادارہ کے اجلاسوں میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ ستمبر 1941ء تا ستمبر 1945ء وائسرائے کی کابینہ کے رکن رہے۔ ستمبر 1945ء میں وزیر دفاع کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ نومبر 1946ء کو راولپنڈی سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ نومبر 1947ء میں آئین ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1947 میں قائد اعظم محمد علی جناح نے آپ کو اپنے خصوصی نمائندہ کے طور پر مسلم دنیا میں بھیجا،اپریل 1950ء تا اکتوبر1952ء مشرقی پاکستان کے دوسرے گورنر رہے۔ 13 اپریل 1953ء تا 21 مئی 1955ء مغربی پنجاب کے تیسرے وزیراعلیٰ رہے۔ 1955ء میں مسلم لیگ چھوڑ کر ری پبلکن پارٹی میں شامل ہو گئے اور اس طرح اپوزیشن میں گئے۔ 12 ستمبر 1956ء کو وزیراعظم پاکستان حسین شہید سہروردی کی کابینہ میں خارجہ امور اور دولت مشترکہ کے محکمے ان کے پاس رہے۔ 1956ء میں ان کی جدوجہد سے سلامتی کونسل میں کشمیر اسمبلی کے لیے انتخابات کی تجویز دس ووٹوں سے منظور ہوئی۔ 18 اکتوبر 1957ء کو آئی آئی چندریگر کی کابینہ میں ری پبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر وزیر امور خارجہ کے عہدہ پر فائز ہوئے 11 دسمبر 1957ء کو ابراہیم اسماعیل چندریگر وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہو گئے اسی روز ملک فیروز خان نون نے بطور وزیراعظم پاکستان حلف اٹھایا۔ملک فیروز خان نون کا انتقال 1970ء میں ہوا،ملک فریوز خان نون کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے جن میں کینیڈا، احمقوں سے حصولِ عقل، چشمِ دید، ہندوستان اور آپ بیتی (سوانح عمری )قابل ذکر ہیں۔ (جاری ہے)

نورالآمین

7 دسمبر 1971 کو عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے رہنما نورالآمین کو اس وقت کے صدر یحییٰ خان نے ملک کا آٹھواں وزیراعظم نامزد کیا تاہم وہ صرف 13 دن تک ہی اس عہدے پر براجمان رہے اور 20 دسمبر 1971 کو عہدے کو خیرباد کہہ دیا جبکہ وہ اس سے قبل 1970 سے 1972 تک پاک بھارت جنگ کے دوران ملک کے نائب صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے چکے تھے،نورالآمین کے بعد 20 دسمبر 1971 سے 14 اگست 1973 تک وزیراعظم کی نسشت خالی رہی نور الامین پاکستان مسلم لیگ مشرقی پاکستان کے رہنما تھے۔بنگلہ دیش بننے کے بعد نور الامین مغربی پاکستان ہی میں رہے اور 1974ء میں وفات پائی۔

ذوالفقار علی بھٹو

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے، ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور جوناگڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے، پاکستان میں آپ کو قائدِعوام یعنی عوام کا رہبر اور بابائے آئینِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین وزیر اعظم تھے ۔ذو الفقار علی بھٹو نے 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ پہلے ایشیائی تھے جنھیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ مسلم لا کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔

ذو الفقار علی بھٹو1958ء تا 1960ء صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت، 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، 1962ء تا 1965ء وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رہے، دسمبر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی حکومت مسٹر بھٹو کو سونپ دی،وہ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا،1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی، 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

بے نظیر بھٹو

1988ء میں ضیاء الحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا، سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا، 16 نومبر، 1988ء میں ملک میں عام انتخابات ہوئے جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں اور بے نظیر بھٹو نے دو دسمبر1988ء میں 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست، 1990ء میں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا،2 اکتوبر، 1990ء کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993ء میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا جس کے بعد اکتوبر، 1993ء میں عام انتخابات ہوئے جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں، پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے 1996ء میں بے امنی اور بد عنوانی، کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا،بے نظیر اپنے پہلے دور میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکا کے کہنے پر رول بیک کرنے کے لیے تیار ہوگئیں تھیں لیکن آرمی کے دباؤ کی وجہ سے نہ کر سکیں ،بینظیر نے فوجی آمر پرویز مشرف کی طرف سے 3 نومبر 2007ء کو ہنگامی حالات کے نفاذ اور منصف اعظم افتخار محمد چودھری کو ہٹانے کی درپردہ حمایت کی ،27 دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آ رہی تھیں کہ لیاقت باغ میں دھماکے میں بینظیر بھٹو جاں بحق ہو گئیں۔

نواز شریف

نواز شریف 25 دسمبر 1949ء کو لاہور میں پیدا ہوئے اور پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ بنے، نواز شریف تین بار 1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور آخری بار ء2013 تا 2017ء وزیر اعظم پاکستان پر رہے۔ اس سے پہلے 1985 تا 1990 وزیر اعلیٰ پنجاب رہے،نواز شریف ایک درمیانی امیر گھرانے شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ اتفاق گروپ اور شریف گروپ کے بانی میاں محمد شریف ان کے والد اور تین بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے والے شہباز شریف ان کے بھائی ہیں۔ نواز شریف نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تجارت کی تعلیم اور 1970ء کی دہائی کے آخر میں سیاست میں داخل ہونے سے پہلے پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1981ء میں محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے دوران میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے۔ پھروزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، 6 نومبر 1990ء کو نواز شریف نے اس وقت بطور منتخِب وزیرِاعظم کا حلف اُٹھایا جب ان کی انتخابی جماعت،اسلامی جمہوری اتحاد نے اکتوبر 1990ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی، تاہم وہ اپنی پانچ سال کی مدت پوری نہ کر سکے اور 12 اکتوبر 1999ء میں نواز شریف نے اس وقت کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف کو ہٹا کر نئے فوجی سربراہ کے کی تعیناتی کی کوشش کی،جس پر فوج نے ان کی حکومت کو ختم کر دی،2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس بنا پر وہ تیسری بار وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔

ظفر اللہ جمالی

میر ظفر اللہ خان جمالی یکم جنوری 1944ء کو بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی۔ بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچیسن کالج لاہور اور 1965ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، ظفر اللہ جمالی صوبہ بلوچستان کی طرف سے اب تک پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں،ظفر اللہ جمالی انگریزی، اردو، سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو زبان پر عبور رکھتے ہیں،جمالی کی پہچان ایک سنجیدہ اور منجھے ہوئے سیاست دان کی رہی ہے، وہ روایات کے پابند ہیں جن میں دوستی اور تعلقات نبھانا اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا شامل ہے،جمالی خاندان قیام پاکستان سے ہی ملکی سیاست میں سرگرم رہا ہے۔ ظفر اللہ جمالی کے تایا جعفر خان جمالی قائداعظم کے قریبی ساتھی تھے۔ جب محترمہ فاطمہ جناح ایوب خان کے خلاف اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ان کے علاقے میں آئیں تو ظفراللہ جمالی محافظ کے طور پر ان کے ساتھ تھے،انتخابات 2002اکتوبر کے نتیجے میں ان کو پارلیمنٹ نے 21 نومبر 2002 میں وزیر اعظم منتخب کیا،وہ 26 جون 2004ء کو وزیر اعظم کے عہدہ سے مستعفی ہو گئے

شجاعت حسین

چودھری شجاعت حسین 1946میں گجرات میں پیدا ہوئے ، ان کا شمار چند اہم ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے، پاکستان کے وزیر داخلہ اور نگران وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور اس وقت مسلم لیگ ق کے صدر ہیں،چودھری شجاعت حسین کا تعلق گجرات کے جاٹ خاندان سے ہے جو تقریباً پچیس سال قومی سیاست میں سرگرم ہیں،جمالی صاحب کے استعفی کے بعد چودھری شجاعت حسین کو2 مہینے کے وزیر اعظم بنا دیا گیا، اپنے دور اقتدار میں انہوں نے بہت سے سیاسی کام کیے ۔

شوکت عزیز

شوکت عزیز پاکستان کے سابق وزیر اعظم، وزیر خزانہ، سیاست دان اور ماہر مالیات ہیں۔ ان کے والد کا نام عزیز احمد ہے جو پاکستان کے سابق وزیر اور معزز بیوروکریٹ تھے۔ 1999 ء میں یہ وزیر خزانہ تھے جبکہ 6 جون 2004ء میں جب سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے استعفٰی دیا تو 28 اگست 2004 میں وزارتِ عظمٰی کا قلم دان ان کے حصے میں آیا۔

یوسف رضا گیلانی

مخدوم یوسف رضا گیلانی 9 جون 1952 کو ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے، وہ پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم ہیں 2012ء تک مسلسل چار سال وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کے بعد وہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے لمبی مدت کیلئے وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا، 19 جون 2012ء کو توہین عدالت کے مقدمہ میں سزا کی وجہ سے پارلیمان رکنیت اور وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

راجہ پرویز اشرف

راجا پرویز اشرف نے 22 جون 2012 کو قلمدان وزارت عظمیٰ سنبھالا،اس سے قبل صدر آصف علی زرداری کی کابینہ میں مارچ 2008 سے فروری 2011 تک وفاقی وزیر آب و بجلی بھی رہ چکے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی

شاہد خاقان عباسی 27 دسمبر 1958 کوپیدا ہوئے، 2013ء تا 2017ء تک وزیر پٹرولیم رہے جب کہ اس سے پہلے گیلانی وزارت میں 2008ء میں وزیر تجارت رہے، یکم اگست 2017ء سے لے کر 31 مئی 2018 تک وزیر اعظم رہے، ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ سے ہے۔

عمران خان

عمران احمد خان نیازی پاکستان کے بائیسویں وزیر اعظم ہیں ، اس سے پہلے وہ 2002ء تا 2007ء اور2013ء تا2018ء تک پاکستان قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں،17 اگست 2018ء کو عمران خان 176 سیٹیں حاصل کر کے وزیر اعظم پاکستان بن گئے ۔

٭٭٭

ذوالفقار علی بھٹو کوپاکستان میں قائدِعوام یعنی عوام کا رہبر اور بابائے آئینِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین وزیر اعظم تھے


ای پیپر