موسم گرما اور ہماری صحت
17 جون 2020 (17:40) 2020-06-17

جانیتا بتول

دْنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی موسم گرما اپنے عروج کو پہنچ رہا ہے اور ایسے میں ماہرین کہتے ہیں کہ گرمی کی شدت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں اپنی غذا اور طرزِ زندگی میں کچھ تبدیلیاں لانی چاہیے تاکہ ہم موسم گرما میں صحت مند رہ سکیں۔ موسم گرما میں تمام افراد خصوصاًخواتین کے جسم کا سب سے بنیادی مسئلہ پانی کی کمی ہے کیونکہ پسینہ بہنے کی وجہ سے ہمارے جسم میں موجود پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہماری جِلد اور بالوں کی نشونما پر بھی اِس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس موسم گرما آپ کو اپنی صحت سے متعلق پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ 5 اقدامات ایسے ہیں جن کو کرنے سے آپ گرمی میں خود کو فٹ رکھ سکتے ہیں۔

زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال

ہمارے جسم کو بہتر طریقے سے کام کرنے کے لیے زیادہ مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے اور گرمیوں کے موسم میں تو پانی ہمارے جسم کی سب سے اہم اور بنیادی ضرورت ہوتی ہے، اِسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ گرمیوں میں ہر وقت اپنے ساتھ پانی کی بوتل رکھیں تاکہ ہمارا جسم ہائیڈریٹ رہے۔اِس کے علاوہ ہم ’ڈٹاکس ڈرنک‘ بھی استعمال کرسکتے ہیں، جس میں ہم ٹھنڈا پانی لے کر اْس میں پودینے کے پتے، کھیرے، لیموں اور اپنی پسند کے پھل یا سبزیاں شامل کر سکتے ہیں۔

مشروبات کا استعمال

اگر آپ پھل کھانا پسند نہیں کرتے اور پھر بھی اْن پھلوں کی غذائی اجزاء سے مفید ہونا چاہتے ہیں تو اِس کے لیے ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی پسند کے پھلوں کا تازہ جوس نکال کر پی لیں، اِس طرح آپ فٹ بھی رہیں گے اور بہت سے فوائد بھی حاصل کرلیں گے۔

پھلوں کا استعمال

موسم گرما اپنے ساتھ بہت سے مزیدار پھل لے کر آتا ہے جو ناصر ف ذائقہ دار ہوتے ہیں بلکہ غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں، اِن میں زیادہ تر پھلوں میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو ہمارے جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔لہٰذا اگر آپ موسم گرما میں خود کو فٹ رکھنا چاہتے ہیں تو تربوز، خربوزہ ، آم، آڑو اور چیکو سمیت اپنی پسند کے پھل ایک کٹورے میں کاٹیں اور مزے سے کھائیں۔

تربوز موسم گرما کے بہترین پھلوں میں سے ایک ہے اور پانی سے بھرے اِس گول پھل کو ’واٹر بال‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اِس میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے کھانے سے ہم گرمیوں میں پانی کی کمی، ہیضہ، اْلٹی اور متلی جیسے مسائل سے دور رہتے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ تربوز دِل کے مریضوں کے لیے مفید ہوتا ہے، یہ ہمارا بڑھتا ہوا ہائی بلڈ پریشر کنٹرول کرتا ہے، سوزش جیسے مسائل کو کم کرتا ہے اور اِس کے علاوہ تربوز میں متعدد غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں جو ہماری صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہوتے ہیں۔ اسی طرح پپیتا بھی گرمیوں کا ایک مزیدار پھل ہوتا ہے جس میں پاپین نامی ایک مرکب ہوتا ہے جو ہمیں صحت سے متعلق بہت سے فوائد فراہم کرتا ہے، پپیتا ہماری اچھی جِلد کے لیے بہت مفید ہوتا ہے، یہ ہمارے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے، پپیتا ہمارے نظام ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے، ہماری آنتوں کو صاف کرتا ہے اور ہمیں قبض جیسے مسائل سے بچا کر رکھتا ہے۔ اِس کے علاوہ پپیتا شوگر کے مریضوں کے لیے بھی بہت مفید ہوتا ہے۔لیچی کے ذائقے کی بات کریں تو موسم گرما کے اِس پھل کا ذائقہ بہت اچھا ہوتا ہے، اِس پھل میں وافر مقدار میں اینٹی آکسیڈینٹس، پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں جو ہمیں بہت سے فائدے پہنچاتے ہیں، اِس کے علاوہ لیچی میں فائبر کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے اور گرمیوں کا یہ پھل ہمارے جسم میں پانی کی کمی کو بھی دور کرتا ہے۔انناس بھی گرمیوں کا ایک ایسا پھل ہے جس میں پانی کثرت سے پایا جاتا ہے، انناس میں بیماریوں سے لڑنے والے اینٹی آکسینڈینٹ موجود ہوتے ہیں جو سوزش جیسے مسائل سے لڑنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، انناس ہمارے نظام ہاضمہ کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، ہمارا قوت مدافعت بڑھاتا ہے اور انناس کا رس کھانسی کے لیے موثر علاج ہے۔

بار بار اپنے بالوں کو دھوئیں

موسم گرما میں ہمارے سر کی جلد پر نمی پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے بالوں کو بہت سے بڑے نقصانات سے دوچار ہونا پڑتا ہے لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بال ہلکے نہ ہوں اور نہ ہی آپ کو بالوں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو آپ گرمیوں کے موسم میں کثرت سے اپنے بالوں کو اچھی طرح دھوئیں تاکہ آپ کے بال جراثیم سے پاک رہ سکیں۔

جِلد کی حفاظت کریں

موسم گرما میں آگ برسانے والا سورج ہماری جِلد کو بہت نقصان پہنچاتا ہے، ہماری جِلد ناصرف سیاہ ہوجاتی ہے بلکہ ہمیں ایکنی جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسے میں اگر آپ باقاعدگی سے بار بار اپناچہرہ دھوئیں، اسکرب کریں اور کلینزنگ کریں تو آپ کی جِلد اِن مسائل سے بچ سکتی ہے اور اِس کے ساتھ ہی غذائیت سے بھرپور خوراک بھی لیں۔

٭٭٭


ای پیپر