بابائے صحافت مولانا ظفر علی خاںؒ
17 جون 2020 (16:23) 2020-06-17

مجیب الرحمن شامی

مولانا ظفر علی خاںؒ کے اشعار کے مجموعے ان کی زندگی ہی میں شائع ہو گئے تھے، انہیں قبول عام بھی حاصل ہوا لیکن ان میں سے کئی اب دستیاب نہیں تھے۔ مولانا مرحوم کے خاندان کے ایک روشن چراغ زاہد علی خان نے انہیں ڈھونڈ نکالا اور اب مولانا ظفر علی خاں ٹرسٹ کے تعاون سے الفیصل ناشران کتب نے انہیں نئی آب وتاب کے ساتھ شائع کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ بہارستان، نگارستان، چمنستان، ارمغان قادیاں اور حبسیات۔ الگ الگ بھی اور کلیات کی شکل میں بھی۔ مولانا ظفر علی خاںؒ کے بارے میں یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ ان جیسا قادر الکلام شاعر اُردو تو کیا (شاید) کسی اور زبان نے بھی پیدا نہیں کیا، وہ فی البدیہہ اشعار کہنے پر بے مثال قدرت رکھتے تھے اور مشکل سے مشکل زمین ان کے سامنے کھلا میدان بن جاتی تھی۔ ان کے قافیے، ندرت اور مہارت کی ایسی مثالیں ہیں جن کو کہیں اور ڈھونڈا نہیں جاسکتا۔ مولانا کی شاعری برصغیر پاک وہند کی عظیم الشان تحریک آزادی کی تاریخ ہے۔ حالات حاضرہ پر ان کی نظمیں ’’زمیندار‘‘ کے صفحہ اول پر شائع ہوتیں اور زبان زدخاص وعام ہو جاتیں۔ انہیں منظوم اداریے کہا جاتا اور اس فن کے مولانا موجد بھی ہیں اور خاتم بھی۔ نعت گوئی میں بھی انہیں ملکہ حاصل تھا، ان کی نعمتیں آج بھی دلوں کو گرماتی ہیں۔ غزل کی طرف بھی توجہ کرتے تو وہاں بھی نقش جما کر رہتے۔

مولانا ظفر علی خاںؒ کو خدا نے بے شمار خوبیوں سے نوازہ تھا۔ صحافت میں بھی بام عروج حاصل کیا اور بابائے صحافت کہلائے۔ وہ بیک وقت بہترین مترجم، شعلہ بیان مقرر، جادو بیان شاعر اور تحریک پاکستان کے انتھک رہنما تھے۔ انہیں اُردو، فارسی، عربی، انگریزی زبانوں پر بے پناہ قدرت حاصل تھی۔ مقام مسرت ہے کہ ’’مکتبہ الفیصل‘‘ کے مالک جناب محمد فیصل نے مولانا کے کلام کو ازسرنو شائع کرنے کا عہد کیا ہے اور راقم کو اس کی تدوین سونپی ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے ہاتھ مولانا حامد علی خانؒ (برادر کوچک مولانا ظفر علی خاں) کی ’’بہارستان‘‘ کا نسخہ آگیا جس پر انہوں نے مختلف کتابت کی اغلاط کی نشاندہی کررکھی تھی۔ میں نے بہارستان کی تدوین نو میں اس سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی دیگر کتابت کی غلطیاں بھی دور کر دی گئی ہیں جو راقم الحروف کی نظر میں تھیں۔ مولانا ظفر علی خاںؒ کی نظمیں بے شمار خوبیوں سے مزین ہیں۔ وہ الفاظ اور بحور پر بہت قدرت رکھتے ہیں۔ وہ شاعری کو ایوان شاہی سے نکال کر عوامی دربار میں لے آئے اور اسے نگر نگر پھراتے رہے۔ ان کی نظموں میں قافیے تخلیق کے درجے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ ایسے ایسے لفظ کو قافیہ بنایا ہے جو ان سے پہلے کسی شاعر کے خیال میں نہیں آیا تھا۔ الفاظ مولانا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے رہتے ہیں۔ انہوں نے بعض مردہ اور متروک الفاظ کو حیات دوام بخشی۔ ان کی بعض نظمیں کسی عوامی جلسے کا خطاب معلوم ہوتی ہیں۔ انہوں نے نئے انداز کی شاعری کی اور نظموں کا قدیم ڈھانچہ بدل ڈالا۔ یہ ان کا اپنا انداز تھا جو ان پر ہی ختم ہوا۔ نظم کہنا ان کے روزمرہ کے معمولات کی طرح تھا۔ وہ ہر موضوع پر شاعری کرنے کے اہل تھے۔ بہت مشکل الفاظ مولانا نے شاعری میں سموئے ہوئے ہیں۔ ان کے اکثر اشعار میں باورچی خانے میں استعمال ہونے والی اشیاء کا ذکر ملتا ہے۔

اگر ہندوستاں کو نعمت آزادی کی حاصل ہو

تو مکھن توس کا برطانیہ میں کال ہو جائے

کہیں گے حضرت طرزی یہ اچھی میزبانی ہے

کہ چمچہ بدتمیزی ہے تو کانٹا بدگمانی ہے

کیوں اینٹھتے ہیں ماش کے آٹے کی طرح آپ

دھوتی سے آپ کی نہیں ہلدی کی بو گئی

کبھی بھی سیدھی اُنگلی سے نہ نکلا ہے نہ نکلے گا

چپڑنا چاہتے ہیں آپ اپنے پھلکے جس گھی سے

صبح کو پالک کے ڈنٹھل شام کو اُبلے مسور

ہم رہے اس شان سے برسوں ہی مہمان فرنگ

مولانا شاعری کے بہت عظیم الشان دیوتا ہیں۔ ان کے بغیر اُردو شاعری ادھوری ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی نظمیں پڑھنے سے ’’شاعر‘‘ اچھا شاعر اور ’’غیرشاعر‘‘ شاعر بن سکتا ہے۔ مولانا نے بہت سی کہاوتوں کو اپنے شعروں میں اس خوبصورتی سے پرویا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ان کے لیے شعر کہنا نثر لکھنے سے بھی آسان نظر آتا ہے۔ وہ زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے مزدوروں، کسانوں اور دہقانوں اور عام لوگوں کے لیے شاعری ان کی سطح پر اُتر کر کی۔ وہ شاعر بڑا خوش قسمت ہوتا ہے جس کا کوئی شعر ضرب المثل بن گیا ہو۔ مولانا کے بہت سے اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کرچکے ہیں۔

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

تہذیب نو کے منہ پہ وہ تھپڑ رسید کر

جو اس حرامزادی کا حلیہ بگاڑ دے

نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں

فقیہہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا

سلیقہ مے کشی کا ہو تو کر سکتی ہے محفل میں

نگاہِ لطفِ ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی

ضرورت اس امر کی ہے کوئی شاعر، نقاد مولانا کے شعری محاسن کو اُجاگر کرے۔ بدقسمتی سے وہ غیرشاعر نقادوں کے نرغے میں آئے رہے ہیں۔ ان کا مقام حضرت علامہ اقبالؒ کے بعد سب سے بلند ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مولانا کی ہر نظم کی شان نزول بھی حاشیے میں لکھی جائے اور عربی اور فارسی کے ایسے الفاظ، اب جن کا استعمال عام نہیں ہورہا ان کے معانی بھی بیان کر دیئے جائیں تاکہ آج کا قاری ان سے اچھی طرح لطف اندوز ہوسکے۔

مولانا ظفر علی خاںؒ خطیب بھی بلا کے تھے اور ادیب بھی بے پناہ تھے۔ زمیندار کے چیف ایڈیٹر کے طور پر بھی ان کا زمانہ معترف ہے۔ مترجم بھی بے مثال تھے، اُردو سے انگریزی اور انگریزی سے اُردو ترجمے پر قادر۔ نثر میں بھی جوہر دکھائے ہیں اور نظم میں بھی دریا بہائے ہیں۔ تحریک آزادی کا وہ ایک ناقابل فراموش کردار ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وہ مجسم تحریک آزادی تھے۔ انہوں نے آزادی کا نعرہ اس وقت لگایا جب اس لفظ سے کان آشنا نہیں تھے اور اس کا نام لینا جان جوکھوں میں ڈالنا تھا۔ انہوں نے برسوں جیل میں گزارے، مالی نقصان اُٹھایا، لاکھوں (آج کے کروڑوں) روپے کی ضمانتیں ضبط کروائیں۔ کانگرس میں رہے، اپنی تنظیم بھی بنائی، مسلم لیگ کے تو وہ اولین اجلاس 30دسمبر 1906ء کلکتہ وڈھاکہ میں شرکت کا اعزاز رکھتے تھے۔ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے بعد ان کا نام ہماری قومی زندگی کے بلندترین ناموں میں ہے۔

ان کی کلیات صحافت، سیاست، تاریخ اور اُردو ادب کے طالب علموں کے لیے یقینا ایک تحفہ خاص ہے اور ہاں، اس کے لیے راجہ اسد علی خان ہم سب کے خصوصی شکریے کے خصوصی مستحق ہیں کہ جن کی کوشش سے مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ اور جناب محمد فیصل میں رابطہ اور تعاون ممکن ہوا۔

٭…٭…٭

مسلمان کی دُعا

نگاہ لطف ہے یارب تری اگر ہم پر

شراب کہنہ سے بھر دے پیالۂ اسلام

صنم کدوں میں جھلکنے لگے فروغِ حرم

تہتمنی کا وقار اس سے گھٹ نہیں جاتا

تُو بخش ہم کو وہ دولت کہ دل غنی ہو جائے

ترے کرم سے پیالہ یہ وہ منی ہو جائے

ہمارے قلب میں پیدا وہ روشنی ہو جائے

اگر شعار ہمارا فروتنی ہو جائے

محمدؐ عربی کے غلام کو کیا ڈر

زمانہ بھر کو اگر اُس سے دُشمنی ہو جائے

(7اکتوبر 1932ء)

٭…٭…٭

سعادت ازلی

اللہ کے جوارِ رضا سے کبھی جدا

رکھتی نہیں شقی کی معیت سعید کو

شیطان ساتھ ساتھ بشکلِ یزید تھا

لیکن یزید کر نہ سکا بایزید کو!

٭…٭…٭

نماز

پڑھتے نہیں ہیں قوم کے لیڈر نماز کیوں

کھویا گیا ہے قوم سے یہ امتیاز کیوں

ہوتی نہیں ہے سجدہ فشاں صبح اور شام

درگاہِ کبریا پہ جبینِ نیاز کیوں

ارشادِ ایزدی سے یہ اعتراض کس لیے

فرمودۂ رسولؐ سے یوں احتراز کیوں

آقا سے کیوں غلام نے کی ہے یہ سرکشی

محمود سے ہوا ہے عناں تاب ایاز کیوں

ہم کو خبر سلف کی روایات کی نہیں

ناآشنا ہے شانہ سے زُلفِ دراز کیوں

قرآن پہ جب عمل ہی مسلمان کا نہ ہو

ہو طاقت آزمائے حقیقت مجاز کیوں

٭…٭…٭

مومن کی ہمت بلند

بندہ نواز ہم سے نہیں ہے چھپی ہوئی

مانا کہ آسمان سے شمس و قمر کی فوج

مانا کہ اُن کو جو نظر آتے ہیں سربلند

لیکن نہ قول سعدی شیراز بھولیے

پیر فلک کی شعبدہ بازی کی بُود و ہست

پیہم اُتر رہی ہے کہ ظلمت کو دے شکست

چرخ ستیزہ کار کرے گا زبون و پست

چھوٹا نہیں جو ہاتھ سے سر رشتۂ الست

رفتن بہ پائے مردی ہمسایہ در بہشت

حقا کہ باعقوبتِ دوزخ برابر است

(21مئی 1920ء)

٭…٭…٭

خلافت کی بنیاد

نئی اک قبا کو سلاتے ہوئے

تو اچھی طرح سے سمجھو لو یہ بات

عرب اور عجم سے الگ ہی رہو

نہ دیں گے تمہیں چین لینے کبھی

خلافت کی بنیاد اکھیڑو گے تم

خود اپنے ہی بخئے ادھیڑو گے تم

کہاں تک یہ جھگڑے نبیڑو گے تم

ستائے ہوئوں کو جو چھیڑو گے تم

بچا لو گے ہندوستاں کو اگر

ذرا پائوں اپنے سکیڑو گے تم

(7جولائی 1920ء)

٭…٭…٭

قندھار چلو قندھار چلو

چلتی ہے جدھر تلوار چلو

بے مایہ ہو یا زر دار چلو

چلتے ہیں جدھر سب یار چلو

دریائے اٹک کے پار چلو

قندھار چلو قندھار چلو

تقدیرِ عرب کہتی ہے جہاں

بل کھاتی ہوئی بہتی ہے جہاں

تدبیر عجم رہتی ہے جہاں

دُنیا کے لہو کی دھار چلو

قندھار چلو قندھار چلو

پھر فطرت شور مچاتی ہے

ہلمند سے کان میں آتی ہے

اور سوئے ہوئوں کو جگاتی ہے

تلواروں کی جھنکار چلو!

قندھار چلو قندھار چلو

٭٭٭

مولانا ظفر علی خاںؒ کو خدا نے بے شمار خوبیوں سے نوازہ تھا۔ صحافت میں بھی بام عروج حاصل کیا اور بابائے صحافت کہلائے۔ وہ بیک وقت بہترین مترجم، شعلہ بیان مقرر، جادو بیان شاعر اور تحریک پاکستان کے انتھک رہنما تھے۔

۔


ای پیپر