ٹڈی دَل۔۔۔قحط کی طرف بڑھتا قدم
17 جون 2020 (16:14) 2020-06-17

منصور مہدی:

ٹڈی دَل کا نام آتے ہی سب سے پہلا خیال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہی ہے کہ یہ وہی ٹڈی ہوگی جو کپڑے ٹک دیتی ہے، خراب کردیتی ہے۔ شاید یہ بھی اسی ٹڈی کی قسم ہو لیکن جس ٹڈی نے کا آج کل ایران، افغانستان، بھارت اور ہمارے سندھ بلوچستان اور پنجاب میں حملہ کیا ہے یہ کپڑوں والی ٹڈی سے جسامت میں بھی بڑی ہے اور اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے ۔عالمی اور قومی سطح پر اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے فوری طور پر مربوط اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل قریب میں کئی ممالک میں غذائی اجناس کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے اور صورتحال قحط سالی کی جانب بھی جاسکتی ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے لیکن ہمارا المیہ ہے کہ سب سے زیادہ اسی شعبے کو نظر اندازکیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملکی زراعت کا شعبہ انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔ ٹڈی دل کے حملے گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہیں لیکن ماسوائے خوش کن دعوؤں اور بیانات کے عملی طورپر ٹڈی دل کے حملوں سے بچاؤکے لیے کسی بھی قسم کے حکومتی اقدامات سامنے نہیں آئے۔ ٹڈی دل سولہ ملین مربع کلومیٹر پر موجود ہے، پندرہ فیصد پنجاب اور 35 فیصد سندھ میں ہے، پی سی ایس آئی آر میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے عملہ ہے نہ ادویات 35 ہزار ادویات اور چار جہازوں سے اسپرے ہوتا تھا جو اب نہیں، ان اعداد و شمارکو ہی درست مان لیا جائے تو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ٹڈی دل بھارت اور پاکستان میں پیدا ہوتا اور جگہ بدلتا رہتا ہے۔

ٹڈی دل رات کو درختوں پر بسیرا کرتے ہیں اور سورج نکلنے کے بعد درختوں سے فصلوں پر لشکر کی صورت میں حملہ آور ہوتے ہیں ، تو یہ شدید نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ کسان ڈھول اور ٹین کے ڈبے پیٹ پیٹ کر ان کو بھگانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ناکام رہتے ہیں۔ پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ نئی بات نہیں لیکن اس بار ٹڈی دل کے لشکروں کی تعداد اور فصلوں پر حملوں میں اضافے نے ماہر ینِ حشرات کو پریشان کر دیا ہے ،بڑھتے ہوئے ٹڈی دل کے حملوں کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ٹڈی دل پر تحقیق کے لیے ملک کا پہلا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر قائم کیا گیا۔ ٹڈی دل کی بازگشت چند دن پیشتر قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنی گئی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے صوبہ سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں پر وفاقی حکومت کی ’لاپروائی‘ کی مذمت کی گئی۔ قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے اپوزیشن ارکان نے سندھ میں تباہ کن صورتحال سے نمٹنے کے لیے درکار اور منظور کردہ فنڈز فراہم نہ کرنے پرحکومت پر تنقید کی اور تنبیہ کی کہ اگر بروقت علاج کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو صورتحال بے قابو ہوسکتی ہے اور دوسرے صوبوں کو بھی اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ حقیقت میں ہوا بھی یہ ہے کہ اس وقت پنجاب ٹڈی دل کے شدید حملوں کی زد میں ہے۔سرکاری حکام کہتے ہیں کہ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے تیس کروڑ روپے کا فنڈز مانگا گیا تھا تاہم اب تک چودہ کروڑ روپے ہی ملے ہیں۔ وہی بیوروکریسی کی پالیسیاں جو عوام دشمنی پر مبنی اب بھی نئے پاکستان میں بھی جاری وساری ہیں۔ فنڈزکی کمی کا رونا ،حکومتی نااہلی کی نشاندہی کرتا نظر آرہا ہے۔ ٹڈی دل کے حملوں کے نتیجے میں ہونے والی گندم ، سبزیاں ، تیلی بیج اور دیگر فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔

ہماری حکومت نے اس مسئلے کو انتہائی غیرسنجیدگی سے لیا ہے، جب کہ زمینی حقائق کے مطابق ٹڈی دل کے مسلسل کئی ماہ سے جاری سندھ، بلوچستان اور اب پنجاب میں جاری حملوں کے نتیجے میں ملک میں غذائی قلت اور خاکم بدہن قحط پیدا ہونے کے امکانات واضح نظر آرہے ہیں۔ غذائی قلت اور قحط کے شکار ممالک میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ہمارے لیے چشم کشا تو ہے ہی بلکہ عبرت انگیز بھی ہے۔ پاکستان کی آبادی کی شرح بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے پہلے ہی ہماری ضروریات پوری نہیں ہورہی ہیں۔ ہمیں اپنی فصلوں کے لیے پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے، چہ جائیکہ ہم ٹڈی دل کے حملوں کے نتیجے میں قحط کا شکار ہوجائیں تو تباہی وبربادی ہمارا مقدر ٹھہرے گی۔ المیہ تو یہ ہے کہ ہمارے منتخب نمایندے اور وزراء ہنسی مذاق اور ٹڈی دل کی بریانی اور دیگر ڈشوں کی تراکیب بتاکر انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے عالمی سطح پرکنٹرول پروگرام اور ہر ملک کی جانب سے علیحدہ وارننگ نظام کئی عشروں سے جاری ہے لیکن دیگر آمور کی طرح بحیثیت ریاست اس معاملے سے بھی نمٹنے میں ہم ناکام نظر آرہے ہیں۔ ان سطورکے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔ صحرائی ٹڈی زیادہ خطرناک ہوتی ہے صحرائی ٹڈی ایک انگلی کے برابر لمبی اور موٹی ہوتی ہے اور یہ اپنے وزن سے چار گنا زیادہ کھا سکتی ہے اور ٹڈی کو دل اس لیے کہتے ہیں کہ وہ گروہ یا جھنڈ کی صورت میں حملہ آور ہوتی ہے اسی لیے اسے ٹڈی دل یعنی ٹڈیوں کی فوج کہتے ہیں۔ اور اس کا جھنڈ یا گروہ ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں ہوتا ہے اور کم ازکم ایک آدھ کلومیٹر کا ایریا کور کرتا ہے اور اس ایریا میں آنے والی فصلیں حتیٰ کہ درختوں کے پتے تک کھا جاتے ہیں ہری بھری فصلیں منٹوں میں چٹیل میدان نظر آنے لگتے ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ ٹڈی حلال ہے اسے کھایا بھی جاتا ہے، عرب ممالک، افغانستان، بلوچستان اور مظفر گڑھ والی سائیڈ پر لوگ بڑے شوق سے تل کر کھاتے ہیں، جسے مہنگے داموں فروخت بھی کیا جاتا ہے۔ ادھرملک بھر میں ٹڈی دل کے فصلوں پر حملے کے بعد محکمہ زراعت، فوڈ سیکیورٹی اور پاک آرمی نے مشترکہ طور پر ٹڈیوں کے خاتمے کیلئے کنٹرولڑ آپریشن شروع کردیا ہے۔نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر کے مطابق ملک کے مختلف اضلاع میں ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے بھرپور سروے اور کنٹرولڑ آپریشن جاری ہے۔ ملک کے 58 متاثرہ اضلاع میں محکمہ زراعت اور پاک فوج کی 1124 مشترکہ ٹیمیں مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر کے مطابق اب تک 221561 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر سروے کیا جاچکا ہے۔ 4728 مربع کلومیٹررقبے پرکنٹرولڑ آپریشن کیاجاچکاہے۔لوکسٹ کنٹرول سنٹر کے مطابق ایک دن میں 3247 مربع کلومیٹر رقبے پر سروے اور 36 مربع کلومیٹررقبے پرآپریشن کیا گیا۔ کنٹرول آپریشن میں تقریباً 2330 لیٹر پیسٹی سائڈز (کیڑے مار دوا) کا استعمال کیا گیا۔نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر کے مطابق بلوچستان میں2650، پنجاب میں 1465، خیبرپختونخوا میں 351، سندھ میں 254 مربع کلومیٹر رقبے پرآپریشن کیاجاچکاہے۔کنٹرولڑ آپریشن کے دوران ٹڈی دل کیمثرتدارک کیلئے ہوائی جہازوں اورہیلی کاپٹرز سے اسپرے کیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ ملک کے 61 اضلاع میں ٹڈی دل نے حملے کرکے فصلوں کو شدید نصان پہنچایا پے۔ صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ناکافی اقدامات کے باعث کسان شدید گرمی کے باوجود ہاتھوں میں تھال اور پلاسٹک کی بوتلیں لیے اپنی مدد آپ کے تحت ٹڈیاں بھگانے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔پنجاب اور سندھ میں ٹڈیاں بے قابو ہوگئی ہیں، دنیا پور، کوٹ مٹھن، کہروڑ پکا اور میلسی میں گندم اور کپاس کی فصلیں شدید متاثر ہوگئیں۔ترجمان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق بلوچسستان میں 31، خیبر پختونخواہ میں 11، پنجاب میں 12 اور سندھ میں 7 اضلاع ٹڈیوں کے حملے سے متاثر ہوئے ہیں۔ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے ک ٹڈیوں کے خاتمے کے لیے مختلف اضلاع کے 3 ہزار 600 ہیکٹر رقبے پر اسپرے کیا گیا ہے۔

ٹڈی دل ایک دن میں150 سے دو سو کیلو میٹر کا سفر طے کرتاہے۔ ٹڈیوں کا ایک لشکر ایک دن2500 لوگوں کے برابر کھانا کھاجاتاہے۔ اس کے ایک لشکر میں کروڑوں ٹڈیاں ہوتی ہیں، ٹڈیوں کا ایک جھنڈ اتنا بڑاہوتا ہے یہ کئی کیلومیٹر کی جگہ کو گھیر لیتاہے

ٹڈی دل نے افریقہ کے کئی ممالک سمیت ایران، اور پاکستان میں قہر برپا کرنے کے بعد اب ہندوستان کا رخ کر لیا ہے راجستھان، گجرات، مہاراشٹر کے کسانوں کی فصلوں کو ٹڈی دل نے ایسا برباد کیا ہے کہ وہاں کے کسانوں کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیا ہے۔ ٹڈی دل کے حملے کے آگے کوئی نسخہ کام نہیں کررہا ہے نہ ہی کوئی دوا سودمند ثابت ہو رہی ہے۔ انڈیا میں اس ٹڈی اٹیک کو پچھلے72 سالوں میں سب سے خطرناک اٹیک بتایا جارہا ہے، جس علاقے میں یہ دل حملہ آور ہوتا ہے کچھ ہی دیر میں پورے علاقے کی فصلوں کا صفایا کر ڈالتا ہے۔ ٹڈی دل کا قہر اب مدھیہ پردیش کے کچھ شہروں میں بھی پہنچ گیا ہے۔ اور اتر پردیش، دہلی، ہریانہ، اور دوسرے صوبوں میں بھی اس کی آہٹ کو محسوس کیا جارہا ہے۔ کسانوں میں خاصی بے چینی دیکھائی دے رہی ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے کیا کیا جائے۔ اگر ہیلی کپٹر سے اسپرے کر کے انہیں ختم کرتے ہیں تو اس کے دوسرے سائڈ ایفیکٹ ہیں، اور ان ٹڈیوں مار نے کیلئے زمین پر دوا چھڑکتے ہیں تو اس کے بھی بہت نقصان ہیں، بچارے کسان تالی، تھالی، ڈھپلی،اور گھنٹی بجاکر ہی انہیں بھگارہے ہیں۔ ٹڈی دل نے کسان اور انتظامیہ دونوں ہی کی ناک میں دم کر کے رکھدیا ہے۔ ٹڈی کا چھوٹا سا جسم ہوتا ہے، ایک سے ڈیڑھ انچ برابر اس کا حجم ہو تا ہے، اس کی چھے ٹانگیں ہوتی ہیں، زیادہ تر یہ ٹڈیاں ریگستانی علاقے میں رہتی ہیں، ٹڈیاں تمام پھل، پھول، پتے، سبزیاں، ہر طرح کا غلہ اور لکڑیوں تک کو چٹ کر جاتی ہیں۔ ٹڈی اپنے وزن سے زیادہ کھانا کھاتی ہے۔ ٹڈی دل ایک دن میں150 سے دو سو کیلو میٹر کا سفر طے کرتاہے۔ ٹڈیوں کا ایک لشکر ایک دن2500 لوگوں کے برابر کھانا کھاجاتاہے۔ اس کے ایک لشکر میں کروڑوں ٹڈیاں ہوتی ہیں، ٹڈیوں کا ایک جھنڈ اتنا بڑا ہوتا ہے یہ کئی کیلومیٹر کی جگہ کو گھیر لیتاہے، موسم کے بدلنے سے ان کا رنگ بھی بدل جاتاہے۔ ٹڈیاں دن میں اڑتی ہیں رات میں نہیں اڑتی، اور ان ٹڈیوں کا ایک حاکم بھی ہوتا ہے، جس کے ماتحت باقی ٹڈیاں رہتی ہیں۔ علامہ کمال الدین دمیری نے اپنی کتاب حیات الحیوان میں لکھا ہے۔ ٹڈی کے چھوٹے سے جسم میں ہمیں کئی جانوروں کی جھلک نظر آتی ہے۔ ٹڈی کا چہرہ گھوڑے کی طرح دکھتا ہے، آنکھ ہاتھی کی آنکھ کی طرح، گردن بیل کی گردن طرح نظر آتی ہے، سینگ بارہ سنگھا کے سینگ کی طرح معلوم ہوتے ہیں، سنیہ شیر کے سینے جیسا دکھائی پڑتا ہے، پر گدھ کے پر کی مانند ہوتے ہیں، ٹانگیں شتر مرغ کی ٹانگوں کے جیسی لمبی لمبی ہوتی ہیں، رانوں میں اونٹ کی رانوں کاعکس دکھتاہے، پیٹ بچھو کے پیٹ کی بناوٹ کی طرح ہوتا ہے، اور دم سانپ کی دم کی طرح لگ تی ہے، ٹڈی کا لعاب پھل، پھول، سبزیوں، اور پودھوں کیلئے بڑا خطرناک ہو تا ہے، جہاں لگ جاتا ہے اس چیز کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر