ٹیلنٹڈ وزرائے خزانہ پر ایک کالم
17 جون 2020 2020-06-17

بجٹ، کمائی اور اخراجات کے تخمینے کوکہتے ہیں۔ قومی اور صوبائی بجٹ بنتے ، اس پر بحث ہوتے اور اس کی منظوری ہوتے دیکھتے عشرے گزر گئے۔ بجٹ کو قومی اور صوبائی اسمبلیاں منظورکرتی ہیں مگر ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد اس کے اعداد و شمار سے واقف تک نہیں ہوتی۔ میں نے آج تک کسی حکومتی رکن کو بجٹ پر تنقید کرتے اور کسی اپوزیشن رکن کو اس کی تعریف کرتے نہیں دیکھا۔ تعریف اور تنقید دونوں سٹیریو ٹائپ ردعمل ہوتے ہیں یوں سیاسی جماعتوں کے ارکان عوام کو بجٹ پر حقیقی رہنمائی فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ عوام بھی دو دھڑوں میں بٹے ہوتے ہیں اور انہیں بھی محض حمایت یا مخالفت کے لئے پوائنٹس درکار ہوتے ہیں جو اپنی اپنی پسند کے پلیٹ فارموں سے مل جاتے ہیں۔آپ کوخاتون رکن اسمبلی یاد ہیں جنہوںنے گذشتہ بجٹ اجلاس کے موقعے پر فرمایا تھا کہ پٹرول ساٹھ، سترروپے لٹر ہے جبکہ اس وقت پٹرول کی قیمت ایک سو سولہ روپے لٹر تھی، وہ اس وقت حکومتی ترجمان بھی تھیں اور ابھی تازہ تازہ فارغ ہوئی ہیں، اسی سے معاشی اور مالیاتی امور میں ان کی دلچسپی اور اہلیت کا اندازہ لگا لیں۔

مثال لیجئے کہ وفاقی حکومت کا بجٹ ٹیکس فری کہا گیا تو اس پر ڈنکے بجائے گئے مگر حکومتی دھڑے میں سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ ریکارڈ خسارہ کیسے پورا ہو گا، کیا منی بجٹ آئے گا،نوٹ چھاپ کر افراط زر ( یعنی مہنگائی) میں اضافہ کیا جائے گا یا مزید قرض لئے جائیں گے۔ وفاقی بجٹ اس کنگلے کے اشتہار کی طرح ہے جس میں روٹی پر ملازم رکھنے کی آفر دی گئی اور انٹرویو کے لئے آنے والے کو بتایا گیا کہ اس نے داتا صاحب سے اپنی کھا آنی ہے اور میری لے آنی ہے۔یہ درست ہے کہ اس وقت بچت کی ضرورت ہے اور بجٹ سے اسی قسم کی فیلنگ آتی ہے جو کسی نے شیخ صاحب سے پوچھا کہ جب آپ کو گرمی لگتی ہے تو آپ کیا کرتے ہیں، جواب ملا اے سی والے کمرے میں چلے جاتے ہیں،پوچھا گیا کہ جب مزید گرمی لگتی ہے تو کیا کرتے ہیں، بتایا کہ وہ اے سی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، سوال ہواکہ اگر پھر بھی گرمی لگ رہی ہو تو کیا حل ہے، شیخ صاحب نے کہا پھر وہ اے سی آن کر لیتے ہیں۔کسی کو کرونا کا فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہومگر وزرائے خزانہ کو ضرور ہوا ہے کہ انہیں منہ چھپا کے بجٹ پیش کرنے کی سہولت مل گئی ہے۔

پنجاب کا بجٹ، وفاق کے بجٹ کے مقابلے میں بہت بہتر نظر آتا ہے کہ اس میں اشیا پر تو نہیں مگر خدمات پر سیلز ٹیکس کو سولہ سے کم کرکے پانچ فیصد کیا جا رہا ہے۔ اس میں ڈاکٹروں کی فیسیں، ہوٹل اور ٹورازم انڈسٹری ، آئی ٹی اور انٹرٹینمنٹ وغیرہ کے شعبے شامل ہیں۔ حکومت کرونا آنے کے بعد ڈاکٹروں کی فیسوں پر جی ایس ٹی پہلے ہی کم کر چکی ہے جسے اب بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے مگر یہ صرف پندرہ سو روپے کی فیس تک ہے جبکہ کنسلٹنٹس کی فیسیں کئی کئی ہزار روپوں میں پہنچ چکی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام شعبے مارچ کے مہینے سے بند ہیںاور ان سے حکومت کو ٹکے کی آمدن نہیں ہو رہی ۔ عین ممکن ہے کہ جب یہ شعبے کھلیں تو ایک حکمنامے کے ذریعے دی گئی رعائیت میں ترمیم ہوجائے کہ اب تو کچھ بھی ملتا نظر نہیں آ رہا تو معافی دے کر بلے بلے کروا لی گئی ہے۔ یہ ایسی صورتحال ہے جیسی ایک بس میں پیدا ہوئی تھی جس میں وزیر خزانہ اپنے دوست کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ ڈاکووں نے حملہ کر دیا۔ تمام مسافروں سے کہا گیا کہ وہ اپنے زیور، موبائل او رپرس وغیرہ ان کے حوالے کر دیں۔ ایسے میں وزیر خزانہ نے جیب سے دس ہزار روپے نکالے ،دوسرے دوست کو پکڑا کربولے،یہ وہ پیسے ہیں جو میں نے تم سے پانچ برس پہلے ادھار لئے تھے، میرا کھاتہ اب کلئیرہو گیا ہے۔ وزیر خزانہ کتنے عقل مند ہوتے ہیں اسی سے اندازہ لگا لیجئے کہ انہوں نے قصائی سے گوشت خریدا، باہر نکلے تو کتا گوشت کا لفافہ چھین کر بھاگ نکلا۔ وہ بھاگے مگر جب نہ پکڑ سکے تو بولے، یااللہ، اس گوشت کے صدقے کا ثواب دادا مرحوم کی روح کو پہنچا دینا۔

دیکھیں! حکمران کوئی بھی ہو اس نے اپنی جیب سے پیسے خرچ نہیں کرنے بلکہ قومی وسائل کا ہی درست استعمال کرنا ہے یعنی اگر نواز شریف حکومت موٹرویز اور بجلی کے کارخانے بنا کر گئی ہے تو وہ بڑے میاں صاحب کے ذاتی پیسوں سے نہیں بنے اور اگر اسی طرح شہباز شریف نے ہزاروں، لاکھوں طالب علموں کو لیپ ٹاپ دئیے تو وہ بھی اپنی جیب سے نہیں دئیے مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ جب پیسے لگ رہے ہوں تو وہ لگتے ہوئے نظر بھی آنے چاہئیں مگر موجودہ حکومت کے دو برس خرچے تو دکھا رہے ہیں مگربن کیا رہا ہے اس کا کچھ علم نہیں ۔ ہمارامیڈیا کہہ رہا ہے کہ یہ موجودہ حکومت کا دوسرا بجٹ ہے جو سریحا غلط بیانی ہے۔ دو برس پہلے جولائی کے انتخابات کے موقعے پر سابق حکومتوں نے صرف تین ، تین ماہ کے بجٹ دئیے تھے اور موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھال کر پہلا کام ہی اگلے نو ماہ کے لئے اپنی ترجیحات کے مطابق بجٹ کی تیاری کا کیا تھا اگرچہ وہ ترجیحات ابھی تک واضح نہیں ہوسکیں مگر اس کے بعد انہوں نے اگلے برس بجٹ دینے کے بعد ایک مشہورزمانہ منی بجٹ بھی دیا تھا جس میں ٹیکسوں کی شرح کو بڑھایا گیا تھا یعنی مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دوبرسوں میں حکمران چار بجٹ دے چکے ہیں اور ابھی کچھ علم نہیں کہ آگے کیا ہو گاکیونکہ ابھی تک کرونا کا منظرنامہ واضح نہیں ہے۔ آپ کو یہ علم نہیں ہے کہ آپ کی معیشت کب تک لاک ڈاون میں رہے گی۔ عالمی تجارت کب کھلے گی اور کب ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں کی صورت میں ریاست کو آمدن ممکن ہو گی۔ بجٹ اور وزرائے خزانہ کا معاملہ بھی اس لڑکے جیسا ہے جس سے کسی نے پوچھا کہ اگر میں تمہارے بھائی کو ہزار روپے ادھار دوں اور وہ مجھے پانچ سو واپس کر دے تو اس کے ذمے کتنے روپے ہوں گے۔ اس لڑکے نے جواب دیا، ہزا رروپے ہی ہوں گے۔ وہ شخص غصے سے بولا لگتا ہے کہ تم حساب کتاب بارے کچھ نہیں جانتے۔ وہ لڑکا مسکرایااور بولا اور آپ میرے بھائی بارے کچھ نہیں جانتے، آہ، ہم بھی وزرائے خزانہ کی صلاحیتوں کے بارے کچھ نہیں جانتے۔ کہتے ہیں وزیر خزانہ کے ساتھ عوام نام کا بندہ جا رہا تھا کہ وزیر موصوف کو مونگ پھلی کا ایک دانہ گرا ہوا ملا۔ انہوں نے عوام سے دانہ اٹھوایا، صاف کروایا، آدھا خودکھاتے، آدھا عوام کو دیتے ہوئے بولے، ساہڈے نال رہوو گے تے عیش کرو گے۔ عوام نے وزیر خزانہ سے کہا کہ بجٹ میں کچھ ریلیف دے دیں ہم پورا سال آپ کو یاد کریں گے۔ وزیر خزانہ بولے، جاو میں نہیں دیتا، اب تم مجھے زیادہ یاد کروگے۔ وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس کی کہ عوام بہت فضول خرچ ہوگئے ہیں،وہ اربوں روپوں کا ریلیف مانگتے ہیں، صحافیوں نے پوچھا کہ وہ اتنے روپوں کا کیا کرتے ہیں، جواب ملا، ہمیں کیا علم، ہم نے کون سا ان کو دئیے ہیں۔ ہمارے وزرائے خزانہ اس باپ کی طرح ہیں جو بچوں سے کہتے ہیں کہ جو رات کا کھانا نہیں کھائے گا اسے دس روپے ملیں گے ۔ جب بچے دس روپے لے کر سو جاتے ہیں تو صبح کہتے ہیں کہ ناشتہ اسی کو ملے گا جو دس روپے واپس کرے گا۔

ہم ہر دور میں بہترین اور تاریخی بجٹ بنانے والے وزرائے خزانہ کو ایک چیلنج دیتے آ رہے ہیں کہ وہ جہاں اربوں، کھربوں کے بجٹ ایسے بناتے ہیں کہ بغیر کسی ترمیم اور تبدیلی کے ہمیشہ یوں پاس ہوجاتے ہیں کہ فُل سٹاپ اور قومے تک کی غلطی نہیں نکلتی تو وہ پندرہ، سولہ ہزار روپے ماہانہ کمانے والے عام آدمی کے گھر کا بجٹ بھی بنا کے دکھا دیں۔کہتے ہیں کہ ایک وزیر خزانہ نے یہ چیلنج قبول کر لیا اور ایک غریب ملازم کو ایک چادر دے کر کہا کہ اسے اوڑھ کر لیٹ جائے۔ وہ چادر اس کی تنخواہ کی طرح بہت چھوٹی تھی۔ وہ جب سر ڈھانپتا تھا تو پاوں ننگے ہوجاتے تھے اور جب چادر پاوں پر لیتا تھا تو سر تک نہیں آتی تھی۔ وزیر خزانہ نے یہ صورت دیکھی تو مسکرائے۔ ہاتھ میں موٹا ڈنڈا پکڑا اور ملازم سے کہا کہ وہ لیٹ کر چادر سر تک اوڑھ لے ۔ ملازم نے ان کی ہدایات کے مطابق چادر اوڑھی تو پاوں ننگے ہو گئے۔ وزیر خزانہ نے ٹکا کے ایک ڈنڈا اس کے پیروں پر رسید کیا تو ملاز م نے فوری طور پر پیر گھسیٹ کر چادر کے اندر کرلئے ۔ وزیر خزانہ مسکرائے اور بولے، دیکھو میں نے چادر پوری کر دی ہے اور جب دوبارہ پوری نہ ہو تو مجھے بتانا۔


ای پیپر