اپوزیشن جماعتوں کا حکومت کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل
17 جون 2019 (21:38) 2019-06-17

اسلام آباد: اپوزیشن میں شامل بڑی جماعتوں نے حکومت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے اور پارلیمنٹ ہاﺅس سے بجٹ منظور نہ کرانے کےلئے تیاریاں تیز کردی ہیں ،سوموار کے روز جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن کے وفد کی رات گئے تک ملاقاتیں جاری رہی، اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے جون کےآخر میں آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ عوام دشمن کو کسی صورت بھی پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہونے دیں گے ،پیپلز پارٹی منتخب حکومت کے خاتمے کی بجائے ان ہاﺅس تبدیلی کی حمایت کرتی ہے ، اپوزیشن رہنماﺅں کو بجٹ سیشن سے دور رکھنے کےلئے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے جارہے ہیں جبکہ جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ بیرونی ایجنڈے کے تحت ملک پر مسلط حکومت کے خاتمے کےلئے جون میں اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا ۔سوموار کے روز پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے اس کی رہائش پر ملاقات کی ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی پی کے شریک چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ آج ملاقات میں اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک اور اے پی سی پر مشاورت ہوئی ہے انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی اور جمیعت علماءاسلام کے نظریات الگ ہیں لیکن تاریخ میں اکھٹے جدوجہد کی ہے انہوں نے کہاکہ آج کٹھ پتلیوں کی حکومت میں ملک کو سیاسی و معاشی طور پر شدید نقصان پہنچ رہا ہے ہم ملکر قوم کو اس نقصان سے بچائیں گے انہوںنے کہاکہ موجودہ بجٹ ایک عالمی ادارے کے حکم پر بنایا گیا ہے اور ہماری پوری کوشش ہوگی کہ عوام دشمن بجٹ پارلیمنٹ سے پاس نہ ہو انہوںنے کہاکہ ہمیں پورا یقین ہے ہم عوام کو اس بجٹ سے بجا سکیں گے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ موجودہ صورحال پر گفتگو ہوئی ہے اور موجوہ معاشی بحران پر بھی گہرائی سے بات ہوئی انہوںنے کہاکہ جے یو ائی اور پیپلزپارٹی کی تاریخ گزری ہے کہ مشکل صورتحال سے ملک کو نکالنے کےلئے ا کھٹے ہوئے ہیں بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور جے یوآئی کے نظریات الگ الگ ہونے کے باوجود اے آر ڈی میں ہم سب اکٹھے تھے اور پرویزمشرف کی حکومت کے خلاف مل کر تحریک چلائی تھی انہوں نے کہاکہ ہمارے سامنے فوری چیلنج آئی ایم ایف بجٹ ہے ہم عوام دشمن بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے انکے مشکور ہیں میں بلاول بھٹو زرداری کی باتوں کی مکمل تائید کرتا ہوں انہوںنے کہاکہ ایک جعلی اور دھاندلی شدہ الیکشن پر ہمارا پہلے دن جو موقف تھا آج بھی وہی ہے ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں جعلی الیکشن ہوئے ہیں انہوںنے کہاکہ حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے غریب آج راشن خریدنے کے قابل نہیں رہا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو کل بجلی اور گیس کے بل بھی نہیں دیئے جاسکیں گے انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف نمائندے نے بجٹ بنا کردیا ہے اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں ہم عام آدمی کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے میدان میں اتر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان کا بجٹ نہیں بلکہ ملک دشمن اور غریب دشمن بجٹ ہے ہمیں معاشی طورپر غیر ملکی اداروں کا غلام بنا دیا گیا ہے انہوںنے کہاکہ اس وقت ملک میں ڈالر 157 پر چلا گیا ہے عام آدمی کہاں جائے پاکستان کی تاریخ میں اتنے قرضے نہیں لیے جتنے اس حکومت نے لیے موجودہ حکومت کا خاتمہ ہی موجودہ صورتحال سے نجات کا ذریعہ ہے انہوںنے کہاکہ جون کے آخری عشرے میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی ہمیںیہ منظور نہیں کہ بیرونی ایجنڈے کے تحت ہم پر ایک پارٹی مسلط کردی جائے ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ مولانا صاحب اور ہمارے موقف میں تھوڑا سا فرق ہے مولانا صاحب کہتے ہیں حکومت جائے، ہم کہتے ہیں پارلیمان اپنی مدت پوری کرے پیپلز پارٹی ہمیشہ سے کہتی آئی ہے کہ نظام چلتا رہے اگران ہاوس تبدیلی ہو تو پارلیمان اپنی مدت پوری کرے گی جس پر مولانا فضل الرحمان: نے کہاکہ فیصلہ وہی ہوگا جو اے پی سی میں طے کیا جائے گا انہوںنے کہاکہ آج صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی ایم ، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے بجٹ میں ووٹ کم کرنے کے لیے پروڈکشن آرڈر نہیں جاری کررہے ہیں انہوںنے کہاکہ دھاندلی زدہ حکومت دھاندلی کرکے بجٹ پاس کرانا چاہتی ہے نوابشاہ، وزیرستان اور لاہور کے منتخب افراد کو بجٹ بحث سے دور رکھا جارہا ہے ہم دھاندلی شدہ بجٹ کو روکنے کی پوری کوشش کریں گے ۔


ای پیپر