ڈاکٹر انو ر سجاد۔۔اک چراغ اور بجھا۔۔۔!!
17 جون 2019 2019-06-17

ڈاکٹر انور سجاد اس جہان فافی سے رخصت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ انہےں جنت الفردوس مےں جگہ عناےت فرمائے (آمےن)۔ مجھے ڈاکٹر صاحب کی شاگردی کا اعزاز حاصل ہے۔ ےہ وہ زمانہ تھا جب صحافتی حلقوں مےں جامعہ پنجاب کے شعبہ ابلاغےات کا ڈنکا بجا کرتا تھا۔ شعبے کی سربراہی غالبا نئی نئی استاد محترم پروفےسر ڈاکٹر مغےث الدےن شےخ کے سپرد ہوئی تھی۔اےک دن ہمےں پتہ چلا کہ نامور ادےب اور ڈرامہ نوےس ڈاکٹر انور سجاد الےکٹرانک مےڈےا کی جماعت کو اسکرپٹ رائٹنگ پڑھاےا کرےں گے۔ ہم سب بہت خوش تھے ۔ کچھ دن بعد معلوم ہوا کہ ےہ اہتمام صرف شام کی (سےلف سپورٹنگ) کلاس کےلئے ہے۔ ہماری جماعت نے اس فےصلہ پر احتجاج کےا کہ مےرٹ پر داخلہ لےنے والے مارننگ کے طالب علموں کو، ڈاکٹر انور سجاد جےسے استاد سے کےوں محروم رکھا جا رہا ہے؟ہم نے انتظامےہ کو اےک مشترکہ احتجاجی مراسلہ لکھا اور صبح کے وقت اسکرپٹ رائٹنگ کی کلاس پڑھنے سے انکار کر دےا۔ اگلے ہی روز ہمےں لائن حاضر کےا گےا۔ پتہ ےہ چلا کہ صبح کے اوقات مےں ڈاکٹر صاحب اپنے کلےنک پر مصروف ہوا کرتے ہےں اور صرف دوپہر کے بعد دستےاب ہےں۔ انتظامےہ نے تجوےز ےہ دی کہ ہم (اےم ۔اے مارننگ کے) طالب علم، اپنی کلاسوں سے فراغت کے بعد، دو تےن گھنٹے انتظار کرےں۔۔ اور شام کی کلاس مےں اسکرپٹ رائٹنگ پڑھ لےا کرےں۔ ہم سب بخوشی راضی ہو گئے اور ےوں ڈاکٹر انور سجاد سے پڑھنے لگے۔

ڈاکٹر صاحب کے پڑھانے کا نداز نہاےت غےر روائتی تھا۔ وہ ادھر ادھر کی باتےں کرتے، قصے کہانےاں سناتے ، اور اپنے تجربات و مشاہدات بےان کرتے۔ ےہی ان کا لےکچر ہوا کرتا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ و ہ ہمےں ڈرامہ لکھنے کی مشق کرواتے او ر کمرہ جماعت مےںبا آوا ز بلند وہ ڈرامے پڑھواتے بھی۔ برسوں بےت چکے، مگر مجھے اچھی طرح ےاد ہے کہ جب ہم کلاس فےلوز، اےک دوسرے کے تحرےر کردہ ڈراموں، کہانےوں اور مکالموں کا مذاق اڑاتے اور جملے کسا کرتے تھے، ڈاکٹر انور سجاد ان ٹوٹے پھوٹے اسکرپٹس کو تحمل اور توجہ سے سنتے۔ انہےں درست کرواتے اور طالب علموں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے۔ کلاس کے بعد اکثروہ طالب علموں کے جم غفےر کےساتھ شعبہ ابلاغےات کی کےنٹےن کا رخ کرتے، چائے پےتے اور گپ شپ کرتے۔ ڈاکٹر صاحب ہمےں صرف اےک سمسٹر ہی پڑھا سکے۔ اسکے بعد وہ جےو ٹےلی وےژن مےں غالبا اسکرپٹ رائےٹنگ ڈےپارٹمنٹ کے سربراہ مقرر ہوئے اور کراچی چلے گئے۔ تاہم اس کے بعد بھی وہ اپنے شاگردوں کو با آسانی دستےاب ہواکرتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب کے انتقال کی خبر سن کر برسوں پرانا وہ زمانہ آنکھوں کے سامنے گھوم گےا۔ ڈاکٹر صاحب کی موت المےہ سہی، اصل المےہ مگر وہ سلوک ہے جس کا سامنا انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برسوں مےںکےا۔ اتنا بڑا آدمی، اتنا نامور ادےب۔۔۔کےسی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہا۔۔۔ بے بسی، بے کسی اور محتاجی کی زندگی۔ شہرہ آفاق ڈرامے لکھنے والے کو، حکومتی امداد کے لئے چٹھےاں لکھنا پڑےں۔ اپنا دامن پھےلانا پڑا۔ مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ اےسا نہےں ہے کہ ہمارے ہاں ادارے ےا فنڈز موجود نہےں ہےں۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر اطلاعات کی وزارتےں موجود ہےں ۔سابق وزےر اعظم نواز شرےف کے دور مےں قومی تارےخ و ادبی ورثہ کی اےک علےحدہ وفاقی وزارت قائم ہوئی تھی۔ مشےر وزےر اعظم عرفان صدےقی اسکے سربراہ تھے۔صدےقی صاحب کی درخواست پر، وزےر اعظم نواز شرےف نے فنکاروں اور ادےبوں کی فلاح و بہبود کے لئے 50 روڑ روپے کے خطےر فنڈ کا اعلان کےا تھا۔ وہ رقم جاری ہوئی تھی اور غالبا کوئی انڈوومنٹ فنڈ بھی قائم ہو گےا تھا۔اسی طرح وفاقی اور صوبائی سطح پر درجنوں ادارے قائم ہےں، جنہےں ہر سال بھاری بھرکم بجٹ فراہم ہوتا ہے۔ ےہ ادارے" ثقافت" ، "ادب" ، "زبان" ، اور "فن" کی تروےج کے نام پر باقاعدگی سے بڑی بڑی تقرےبات کرتے اور مےلے سجاتے ہےں۔ ان تقرےبات پر لاکھوں روپے خرچ کےے جاتے ہےں۔۔۔ خوب فوٹو سےشن ہوتے ہےں۔۔۔ بسا اوقات دوست نوازےاں اور ذاتی تعلقات کی تروےج بھی۔ لےکن ڈاکٹر انور سجاد کے لئے کوئی ادارہ سامنے نہےں آےا۔ ڈاکٹر صاحب کے دوست بتاتے ہےں کہ اپنے آخری وقت مےں وہ بےشتر اداروں اور ساتھےوں کے روےے سے دکھی رہا کرتے تھے۔

نہاےت افسوس کی بات ےہ ہے کہ ادےبوں، شاعروں، فنکاروں، اور گلوکاروں کے ساتھ برسوں سے ےہی سلوک ہو رہا ہے۔ ہم سنتے ہےں کہ معروف شاعر حبےب جالب بھی غربت اور لاچاری کی زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔ فلمی صنعت کے معروف موسےقار وجاہت عطرے اپنی زندگی کے آخری اےام مےں، لاہور کے اےک ہسپتال مےں حکومتی امداد کے منتظر رہے۔ مگر ان کی شنوائی نہ ہوئی۔ نامور سرائےکی لوک فنکار پٹھانے خان کےساتھ بھی ےہی کچھ ہوا۔اے۔حمےد کی زندگی کے حالات بھی کچھ اچھے نہ تھے۔ ماضی قرےب مےں اداکار جاوےد کوڈو اورپی ٹی وی کے مشہور پروگرام "ففٹی ففٹی" کے معروف اداکار ماجد جہانگےر کی بےماری اور مفلسی سے متعلق خبرےں بھی قومی مےڈےا کی زےنت بنتی رہےں۔ بچوں کے معروف ڈرامہ" عےنک والا جن" کے دو انتہائی مقبول اداکار منا لاہوری (زکوٹا جن) اور نصرت آرائ( بل بتوڑی) انتہائی غربت کی حالت مےں زندگی گزارتے رہے۔چند ماہ پہلے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے مشہور گلوکار بشےر بلوچ جو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سمےت 132 اےوارڈ حاصل کر چکے ہےں، نے مےڈےا کے ذرےعے اپےل کی تھی کہ کوئی شخص ان سے تمام اےوارڈ لے لے اور بدلے مےں صرف دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر دے۔ تاکہ انہےں بھےک نہ ما نگنا پڑے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے ڈرامہ نگار اور انگرےزی زبان کے ماہر لسانےات، مشتاق کاملائی ( جو کسی زمانے مےں جامشورو ےونےورسٹی مےں پڑھاےا کرتے تھے)، دو وقت کی روٹی کے لئے با قاعدہ بھےک مانگتے رہے۔ کچھ ماہ قبل انکی تصو سوشل مےڈےا پر گردش کرتی رہی، جس مےں وہ مٹی مےں لت پت، کسی سڑک کنارے سورہے تھے۔

ےقےنا کچھ خوش قسمت اےسے بھی ہےں جن کو حکومتی امداد مل جاتی ہے۔ مگر سےنکڑوںاےسے ہےں، جو مٹی مےں رل گئے ۔ اور اب بھی خوار ہےں مگر کوئی پرسان حال نہےں۔ ہمارے ہاں ےہ غےر اخلاقی (بلکہ غےر انسانی) روےہ بھی عام ہے کہ کسی حا جت مند کو امدادی چےک دےتے وقت ، تصوےر اور تشہےر کا باقاعدہ اہتمام کےا جاتا ہے۔ےعنی اس کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے۔ کئی بار اےسا ہوا کہ کسی فنکار کو اس کی زندگی مےں تو پوچھا نہےں گےا ۔ مگر مرنے کے بعد اس کے لواحقےن کو چےک تھما کر ےا خراج تحسےن کی محفلےں سجا کر فرض (بلکہ کفارہ) ادا کر دےا گےا۔ اےسے منفی روےوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہےے۔

آخر کےا وجہ ہے کہ بڑے بڑے دعووں کے با وجود آج تک اتنا کچھ بھی نہےں ہو پاےا کہ ہم ان لوگوں کی مناسب خدمت اور دےکھ بھال کر سکےں جو اپنی عمرےں، کسی نہ کسی شعبہ زندگی کے لئے وقف کئے رکھتے ہےں۔ شاعر، ادےب، استاد، ڈرامہ نوےس، فن کار، اور اداکار، معاشرے کی تعلےم و تربےت اور تفرےح و تسکےن کا ذرےعہ ہوتے ہےں۔ مہذب حکومتوں پر لازم آتا ہے کہ وہ اےسے لوگوں کے مسائل کو اپنی ترجےحات کا حصہ بنائےں۔ ہم پڑھتے ہےں کہ بادشاہوں کے دو ر مےں بھی اےسے افراد کی قدرو منزلت ہوتی تھی۔ انہےں انعامات، خلعتوں اور بڑے بڑے عہدوں سے نوازا جاتا تھا۔ آج بھی اہل مغرب، اہل علم و فن کی قدر افزائی مےں ہم سے بہت آگے ہےں۔حکومتےں غرےب اور مقروض ہو کر بھی اپنی آسائشوں مےں کمی نہےں لاتےں( اس بجٹ مےں بھی اےوان صدر اور وزےر اعظم ہاوس کے اخراجات گزشتہ دور حکومت سے زےادہ بڑھ گئے ہےں)۔ لےکن جب اہل قلم اور فن کاروں کی مدد کی بات چلتی ہے تو سو سو بہانے مل جاتے ہےں۔ سابق وزےر اعظم نواز شرےف کے دور مےں اےک قومی سطح کی کمےٹی بنی تھی جس نے ادےبوں ، شاعروں اور فن کاروں کی سرپرستی اور دےکھ بھال کے لئے اےک جامع رپورٹ حکومت کو پےش کی تھی۔ پھر پانامہ ہوا اور سب کچھ درےا برد ہو گےا۔ کاش اس رپورٹ کو نکال کر موجودہ حکومت ہی کوئی مو¿ثر اقدام کرے۔ ڈاکٹر انور سجاد تو اب اےسی باتوں سے بے نےاز ہو گئے ہےں، لےکن اگر کوئی عملی اقدام ہوتا ہے تو ان کی روح ےقےنا آسودہ ہو گی کہ اب کوئی ان جےسا عظےم فرد، ےوں بے چارگی سے رخصت نہےں ہو جائے گا۔


ای پیپر