سرکاری ملازمین کی مایوسی آخری حدوں پر
17 جولائی 2020 (21:00) 2020-07-17

یہ بڑی واضح بات ہے کہ آپ جس شعبہ میں بھی کام کرتے ہیں اس کے مسائل کا ادراک آپ کو باہر کے لوگوںسے زیادہ ہوتا ہے۔ آجکل میرا تھوڑا بہت رابطہ صحافت کی دنیا کے لوگوں سے بھی رہتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ان کے مسائل اور ان کے حالات کا صحیح ادراک باہر بیٹھے لوگوں کو بالکل نہیں ہوتا۔ بھلا باہر بیٹھے وزیر اطلاعات کو کیا معلوم ایک اخباری رپورٹر پر کیا گزرتی ہے۔ میں نے سرکاری افسران اور ملازمین کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ان کے مسائل اور ان کی پریشانیاں جیسے میں جانتا ہوں وہ ایک ایسا شخص کیسے جان سکتا ہے جس نے کبھی کسی سرکاری دفتر میں کام ہی نہ کیا ہو۔ میں نے دیکھا ہے کہ موجودہ حکومت کی حکمرانی کے دوران میں سرکاری ملازمین بہت پریشان ہیں ۔آپ کو معلوم ہوگا کہ پچھلے مہینے اس حکومت نے اپنا دوسرا قومی بجٹ دیا ۔ اس میں سرکاری ملازمین کی نہ تو تنخواہیں بڑھائی گئیں اور نہ ہی ریٹائرڈ لوگوں کی پنشن میں اضافہ کیا گیا ،حالانکہ ملک میں روزا فزوں مہنگائی کسی آنکھ سے پوشیدہ نہیں۔ حکومت کے اپنے سٹیٹ بنک نے ملک میں افراط زر کی شرح دس فیصد کے قریب بتائی ہے۔ایک بدھو بھی جان سکتا ہے کہ اس افراط زر کے نتیجہ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں خود بخود کم ہو جاتی ہیں اور ان کی قوت خرید نیچے چلی جاتی ہے۔ یہ تو جو سرکاری ملازمین پر گزری سو گزری ۔ اب تو تحریک انصاف کی حکومت سرکاری ملازمین کی نوکریوں کے پیچھے پڑ گئی ہے۔آپ کے علم میں ہو گا کہ وفاقی حکومت نے اس سال کے ماہ اپریل میں کچھ قوانین جاری کیے ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے گریڈ بائیس سے لے کر گریڈ ایک تک کے بیشمار ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیا جائیگا ۔ان قوانین کے تحت بڑے سکیلز کے افسران کے لیے سکروٹنی بورڈ اور چھوٹے ملازمین کے لیے سکروٹنی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ انہی قوانین کے تحت مختلف محکموں کے سیکریٹریز اپنے محکموں کے ان افسران اور ملازمین کی فہرستیں تیار کریں گے جنہیں نوکری کرتے عرصہ بیس سال ہو چکا ہو گا ۔ پھر ہر افسر یا ملازم کا کیس ان قوانین کے تحت بنائے گئے پیمانوں کی چھلنی میں سے گزار جائیگا۔جس کے گلے میں یہ پھندا فٹ آجائیگا اس کا کیس متعلقہ بورڈ یا متعلقہ اتھارٹی کو بھیجا جائیگا۔ وہ بورڈ یا اتھارٹی اپنی سفارشات کے ساتھ اس آفیسر یا ملازم کا کیس اس کی مجاز اتھارٹی کو بھیجے گی۔ مجاز اتھارٹی کو کیس بھیجتے وقت یہ بھی لکھا جائیگا کہ اس کا کیس کس پیمانہ یا پیما نوں کے تحت برائے ریٹائرمنٹ بھیجا جا رہا ہے۔ اس کی متعلقہ مجاز اتھارٹی اسے شو کاز نوٹس اور ذاتی شنوائی کے بعد نوکری سے فارغ کر دے گی۔ آپ کو یہ پڑھ کر یقین ہی نہیں آئیگا کہ نوکری سے ریٹائر کرنے کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ شخص Unbecoming ہے۔ اس Unbecoming کی وضاحت یہ دی گئی ہے کہ اس شخص کی شخصیت اسکی نوکر ی یا اس نوکری کے گروپ سے میل نہیں کھاتی۔او ظالمو کچھ تو خدا خوفی کرو ۔ کیا آپ کو

اس کی بیس سالہ سروس کے بعد سمجھ آئی ہے کہ یہ شخص اس نوکری یا اس نوکری کے گروپ کے لیے unbecoming ہے۔ اور یہ فیصلہ کن پیرامیٹرز کی بنیادوں پر ہو گا کہ وہ اس نوکری یا نوکری کے گروپ کے لیے Unbecoming ہے۔ جب آپ ان کاموں کے لیے پچاسی سالہ بوڑھے عشرت حسین جیسے لوگوں کو سربراہی دیں گے تو یہی مضحکہ خیز باتیں سامنے آئیں گی۔ سچ پوچھیں میڈیا اور سوشل میڈیا کی اس دنیا میں اچھی اور خوش آئیند بات یہ ہے کہ اب اس دنیا میں آگاہی (awareness ) بہت بڑھ گئی ہے۔آج کی دنیا میں اگر کوئی حکمران اپنے باتھ روم میں گھس کر بھی کسی سے کوئی بات کرتا ہے تو اس کی بات کا گلی میں ریڑھی لگا کر روزمرہ کی چیزیں بیچنے والے کو بھی پتہ چل جاتا ہے۔ اب آپ اسی کیس کو ہی دیکھ لیں ،یعنی سرکاری ملازمین کو ساٹھ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی نوکریوں سے فارغ کرنے کی تجویزکا چپڑاسی سے لیکر وفاقی سیکرٹری تک سب کو معلوم ہے کہ یہ آئی ایم ایف (IMF ) کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس ادارے کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور ان کی پینشنز اس ملک کے خزانے پر سب سے بڑا بوجھ ہیں۔آجکل سرکاری افسران اور ملازمین میں یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ آئی ایم ایف کے اشارے پر حکومت کے اندر ریٹائرمنٹ کی عمر یعنی (Age of superannuation ) کو ساٹھ سال سے کم کر کے پچپن سال کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس کی justification اور فوائد یہ بتائے جا رہے ہیں کہ اسطرح پرانے اور بوسیدہ دماغ لوگوں سے نجات ملے گی اور نوجوان لوگ جو ماڈرن اور نئے علوم کے حامل ہونگے وہ سامنے آئیں گے اور بقول عمران خان ملک کو اوپر اٹھائیں گے۔ علاوہ ازیں سینئر لوگوں کی بھاری تنخواہوں سے بھی چھٹکارا ملے گا۔ حکومتی فیصلہ ساز یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جتنے بھی لوگ اب پچپن سال کی عمروں کو پہنچے ہوئے ہیں ان سب لوگوں نے یہ خواب دیکھ کر نوکریاں جوائن کی تھیں کہ وہ ساٹھ سال کی عمر تک نوکریاں کریں گے۔ان کی اور ان کی فیملیز کی زندگیوں کے تمام پلان اسی ساٹھ سال کی عمر پرریٹائرمنٹ کے مطابق طے ہیں۔کیا عمران خان ان خاندانوں کی زندگیوں کو shatterکرنے پر تل گئے ہیں ۔سچ پوچھیں جس قسم کی ان کی بے حس سی شخصیت ہے ان سے یہ کوئی بعید بھی نہیں ہے۔ کیا خانصاحب کو کسی نے دنیا کے مختلف ممالک میں جاری ریٹائرمنٹ کی عمر کے متعلق کوئی بریفنگ نہیں دی ۔ کیونکہ سنا ہے کہ وہ بریفنگ تو سن لیتے ہیں لیکن پڑھنے والے کام سے اجتناب برتتے ہیں۔ ویسے انھیں یہ ضرور بتانا چاہیے کہ جو دو ممالک ہمارے ملک کے رول ماڈل ہیں یعنی ترکی اور چین ، ان دونوں مما لک میں ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال ہے۔ اسی طرح تمام سارک (Saarc ) ممالک میں بھی ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال ہے سوائے بنگلہ دیش جہاںاٹھاون سال ہے اور انڈونیشیا جہاں انسٹھ سال ہے۔ مجھے یاد ہے پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی پینشنز (pensions) سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کئی تجاویز سا منے آئی تھیں اور پھر یہ پالیسی اپنائی گئی تھی کہ اب تمام تقرریاں کنٹریکٹ (contract ) کی بنیاد وں پر ہونگی۔ سو ان کے دور میں پبلک سروس کمشن تقرریوں کی سفارشات کنٹریکٹ کی بنیادوں پر ہی کرتے تھے۔ لیکن ان کے بعد آنے والی حکومتوں نے اپنا ووٹ بنک بڑھانے کی خاطر ان تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر دیا اور وہ پالیسی اپنی موت آپ مر گئی۔ سچ پوچھیں موجودہ حکومت عجوبہ خلائق کا ایک نمونہ ہے جس کی پالیسیاں دیکھ کر کبھی قہقہے چھوٹتے ہیں تو کبھی دل رونے لگ جاتے ہیں۔ مثلاً ایک پچاسی سالہ شخص کو اس حکومت نے ملک کی سول سروس میں اصلاحات کمیٹی کا سربراہ بنا رکھا ہے اور وہ تجویز کرتا ہے کہ سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ عمر ساٹھ سال سے کم کر کے پچپن کر دی جائے تاکہ بوسیدہ اور تھکے ہوئے ذہنوں سے چھٹکارا حاصل ہو۔ قصہ مختصر،میری اس سلسلے میں مختلف کیڈرز کے افسران سے بات ہوئی ہے ۔ اس ملک کے تقریباً تمام سرکاری سول افسران ہم آواز ہو کر کہہ رہے ہیں کہ ہم پچپن سا لہ ریٹائرمٹ عمر کو بخوشی قبول کرنے کو تیار ہیں اگر وزیراعظم اس پالیسی کا اطلاق ا س ملک کے سیاستدانوں ، ملکی افواج اور قابل احترام عدلیہ پربھی فرما دیں ۔ تاکہ اس ارض پاک میں مساوات نمایاں ہو کر نظر آ جائے۔

نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا


ای پیپر