سربرینیکا کے بعد رخائن اور کشمیر میں جاری نسل کشی
17 جولائی 2020 (20:59) 2020-07-17

1995کے ماہ جولائی کی گیارہ تاریخ کو سرب فوجیوں نے بوسنیا ہرزیگووینا کے قصبے سربرینیکا پر قبضہ کر لیاقبضے کے بعد قابض افواج نے منظم اندازمیں ایسی قتل وغارت کی جس کے دوران صرف دس دنوں میں آٹھ ہزارسے زائد مسلمان مارے گئے وحشیانہ قتل وغارت کاالمناک پہلو یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی طرف سے امن قائم کرنے کے لیے تعینات فوجی رکاوٹ بننے کی بجائے غیرجانبدار رہے حالانکہ اِس علاقے کو پناہ گاہ کا درجہ مل چکا تھا دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ میں یہ اجتماعی قتل کی بدترین کاروائی ہے جس میں مارے جانے والے مقتولین کی شناخت کاپچیس برس بعدبھی سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ قتل کرنے کے بعدگڑھے کھودکر مقتولوں کو مٹی میں دبا دیا گیا اور پھر ثبوت مٹانے کے لیے بلڈوزر چلا کر انسانی باقیات بکھیر دی گئیں لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کو تلاش کرنے میں سرگرداں ہیں انسانی باقیات اور دیگر اشیا پہچان کر قبرستانوں میں تدفین کی جارہی ہے نسل کشی کا شکار مسلمان تھے اسی لیے عالمی اِدارے کاروائی کی بابت مخمصے کا شکار رہے یہ تاخیر قاتلوں کو شہ دینے کے مترادف تھی جس کی بنا پر حملہ آور فوج نے بے دریغ انسانی خون بہایا اور خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی بعد میں اقوامِ متحدہ کے اُس وقت کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے سربرینیکا سانحہ کو اقوامِ متحدہ کی تاریخ کا بھیانک خواب قراردیا۔

نوے کی دہائی میں یوگوسلاویہ ٹوٹنے کے بعد جب بوسنیا ہرزگووینا نے 1992میں ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں اپنی آزادی کا علان کیا تو سرب آبادی نے ریفرنڈم نتائج تسلیم نہ کیے جس سے طویل مسلح تنازعے نے جنم لیا سرب حکومت کی آشیر باد سے بوسنیائی سرب فوجوں نے آزادی کا اعلان کرنے کی پاداش میں نئے ملک پر چڑھائی کردی اور سربرینیکا پر قبضہ کر لیا ایک بار بوسنیائی فوج نے یہ شہر واگزار کر الیا لیکن حملہ آور اور دفاعی فوج میں جھڑپیں ہوتی رہیں یوں شہر محاصرے میں چلا گیاسنہ1995 چھ جولائی کو دوبارہ حملہ آورفوج نے شدید حملے کے دوران شہرپر قبضہ کر لیا سرب فوج کے جنرل ملادچ نے اپنی فوج کو محکوم شہریوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ اقوامِ متحدہ کے بنائے گئے پناہ گزین کیمپ کی طرف جاتے مسلمان مہاجرین کو گاڑیوں سے اتار کر شروع میں قتل کیا جاتا رہا اور پھر گولیاں بچانے کے لیے پھانسی دینے کا سلسلہ شروع کردیا والدین کی نظروں کے سامنے بچے اور بچوں کے سامنے والدین کابے دریغ خون بہایا گیا حیران کن امریہ ہے کہ نیٹو اور اقوامِ متحدہ کے دستوں نے رکاوٹ ڈالنے سے اجتناب کیا اور غیرجانبدار رہے تہذیب وتمدن کے دعویدار یورپ کے وسط میں انسانی خون بہانے کی کُھلی چھٹی اسلام سے مخاصمت لگتی ہے جب مرنے والے مسلمان ہوں توکسی کو انسانی حقوق کا خیال نہیں رہتا ۔ جانوروںتک کے حقوق کاشورمچانے

والے بھی مسلمانوں کو مرتا دیکھ کر چُپ سادھ لیتے ہیںیورپ سے سلامتی کونسل کے دونوںمستقل ممبران برطانیہ اور فرانس انسانی المیہ روکنے سے گریزاں رہے ہیگ میںعالمی عدالتِ انصاف نے2017میںنسل کشی کا سرب جنرل ملادچ کو مرتکب ٹھہرایا مگر تب تک بوسنیاتاراج ہو چکا تھا اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرنے والے غیر مسلم ہوتے تو کیا پھر بھی عالمی اِدارے سُستی کاایسا مظاہرہ کرتے یا تاخیر سے کام لیتے؟

میانمار کی ریاست رخائن معدنی وسائل سے مالامال ہے یہ زرعی اعتبار سے بھی خوشحال علاقہ ہے لیکن ایک بدقسمتی ہے وہ ہے مسلمانوں کی اکثریت ،مقامی لوگ وسائل پر تصرف چاہتے ہیں آزادی نہیںریاستی فیصلوں میں خودمختاری چاہتے ہیں جس کی پاداش میں مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے یہاں منظم اندازمیں انسانی نسل کشی جاری ہے روہنگیامہاجرین اِتنے بدقسمت ہیں کہ کئی ہفتوں تک سمندرمیں بے یارومددبھوک سے مرتے رہے لیکن عالمی ضمیر سویا رہا جب روزانہ بھوک کے ہاتھوں مرنے کی خبریں ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے لگیں تو خاصی تاخیر سے ملائشیا نے مہاجرین کو داخلے کی اجازت دی جس کے بعد بنگلہ دیش سمیت کچھ اور ممالک نے مہاجرین کو قبول کرنے کا اعلان کیا اب رخائن کے روہنگیا مہاجرین ملائشیا،بنگلہ دیش ،بھارت ،انڈونیشیا وغیرہ میں بکھرے دنیا کی بے حسی پر ماتم کر رہے ہیں بھارت نے تو انھیں زبردستی ملک سے نکالنے کا اعلان کر دیا ہے بنگلہ دیش جہاں سات لاکھ کے قریب پناہ گزین ہیں اُنھیںصحت وتعلیم کی سہولتیں میسر نہیں پھر بھی حسینہ واجد مہاجروں کو جلد سے جلد میانمار دھکیلنے کو بے قرارہے جب کہ میانمار میں حالات یہ ہیں کہ رخائن میں انٹرنیٹ بند ہے جس کی بنا پر دنیا مقامی آبادی کے حالات سے بے خبر ہے ابھی گزشتہ دنوں ہی دنیا کو پتہ چلا کہ برمی فوج رخائن میں مسلم آبادی کاصفایا کرنے کے لیے فضائی بمباری میں مصروف ہے یہ ایسے ملک میں ہورہا ہے جس کی حکمران نوبل انعام یافتہ خاتون ہے جودنیا میں امن کی بات کرتی ہے لیکن اپنے ملک میں فوج کو قتل وغارت سے بازرکھنے پر آمادہ وتیارنہیں دنیا بھی ایسے خاموش ہے جیسا سب کچھ ٹھیک ہے یہ مذہبی تعصب نہیں تو کیا ہے؟ اقوامِ متحدہ کو مسلمانوں کے مارے جانے پر نیند آجاتی ہے اور انسانی المیے کو روکنے کے لیے اقدامات پر تساہل کا شکار ہوجاتی ہے۔

کشمیر میں جاری ظلم وبربریت سے کون واقف نہیں یہاں روز انسانی حقوق کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں 1947سے لیکر آج تک کشمیریوں کو سُکھ کا سانس لینے کا موقع نہیں ملا حالانکہ اُن کی اِتنی آرزو ہے کہ مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کرایا جائے یادرہے کہ بھارت خود مسلہ کشمیر یو این اومیں لیکر گیا تھا مگر ہنوز یہ اِدارہ کشمیر کے بارے اپنی منظورشدہ قراردادوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا بھارت کی دیدہ دلیری دیکھیئے اُس نے طے شدہ متنازعہ علاقے کی گزشتہ برس پانچ اگست سے خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشمیرکو ضم کر لیا ہے مگر عالمی قوتیں خاموش ہیں مقبوضہ کشمیرکے اسی لاکھ افرادقید کی صورت میں زندگی بسر کر رہے ہیں نوے ہزارسے زائد کشمیری حق لینے کے لیے جانیں قربان کر چکے ہیں لیکن کسی عالمی طاقت کو بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کی مذمت کی توفیق نہیں ہوئی کبھی کسی کشمیری کو گاڑی کے آگے باندھ کر تذلیل کی جاتی ہے کبھی ننھے سے نواسے کے سامنے دن یہاڑے نانا مار دیا جاتا ہے قاتل کیے پر پشیمان ہونے کی بجائے ڈھٹائی سے مسکراتا اور تصویریں بنا تا ہے لیکن کسی کوانسانی حقوق یاد نہیںآئے یواین او مبصرین کی موجودگی میں روزانہ ایل او سی پر فائرنگ ہوتی ہے جس سے بے گناہ آبادی ماری جا رہی ہے جبکہ بھارت نے گولہ باری کے لیے ہتھیار گنجان آبادی میںنصب کر رکھے ہیں تاکہ پاکستان جواب دے تو کشمیری ہی مارے جائیں سفاکی و سنگدلی پر سبھی چُپ ہیں کیونکہ اسی لاکھ قیدی اورمارے جانے والے نوے ہزارکشمیری مسلمان ہیںاور مسلمانوں کی جب نسل کشی ہورہی ہو تو فیصلہ کرنا تو ایک طرف کسی کو مزمت کرنا بھی یاد نہیں رہتا مگر اقوامِ متحدہ اگرظلم وبربریت کے باوجود نیند سے بیدار نہیں ہوتی اور فیصلے کرتے ہوئے مزہب کو پیشِ نظر رکھتی ہے تو اِس اِدارہ کی رتی برابر وقعت نہیں رہے گی ۔


ای پیپر