نیت اچھی، خواب اونچے اور یقین پختہ رکھو!
17 جولائی 2020 (20:58) 2020-07-17

حج کی آمد آمد ہے مگر اس بار کرونا وائرس کی وجہ سے لاکھوں لوگ اس سعادت سے محروم ہوگئے ان میں سے کئی لوگ وہ بھی تھے جنہوں نے عمر بھر اس سال کا انتظار کیا لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ خانہ کعبہ کے دیدار کی حسرت تو ہر مسلمان کو ہوتی ہے۔کچھ دل میں لیے چلے جاتے ہیں کچھ کا خواب پورا ہوجاتا ہے۔ کرونا کے وسیع پھیلائو کے خدشے کے پیش نظر صرف سعودی عرب کے مقامی لوگوں کو ہی حج کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن میں یہ سمجھتی ہوں کہ حج سے محروم ہوجانے والے لوگوں کو مایوس نہیں ہوناچاہیے کیونکہ اللہ جب چاہتا ہے وسیلے بنا دیتا ہے۔ انسان تو اس کی ایک کُن کا محتاج ہے اوراگرحج بیت اللہ آپ کا خواب ہے تو یقین رکھیں وہ اسکو ضرور پورا کرے گا اس کے خزانے میں کسی چیز کی کمی نہیں۔

وہ کہتے ہیں نا کہ جھولیاں بھر دی جاتی ہیں اور دینے والا نظر نہیں آتا بس یہ یاد رکھنا کہ ایمان کمزور نہ ہونے پائے!

اگر آپ کو کرامات پر یقین نہیں آتا تو آپ اس واقعے پر روشنی ڈالیں جب ایک مسلمان بیس سال پہلے یہ خواب دیکھتا ہے کہ وہ خانہ کعبہ میں اکیلے طواف کر رہا ہے اور بیس سال بعد اس کو اس خواب کی تعبیر مل جاتی ہے اور وہ واقعی خانہ کعبہ میں اکیلے طواف کرتا ہے سبحان اللہ۔ ایسا کہنا غلط نہیں کہ ہمیں اپنے خواب ہمیشہ اونچے رکھنے چاہییں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ بیس سال پہلے اس خوش قسمت انسان نے حج کے دوران منٰی میں مسجد خیف میں یہ خواب دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ میں اکیلے طواف کر رہا ہے اس نے اس کی تعبیر کے لیے کئی لوگوں سے رابطہ کیا مگر کہیں سے کوئی خاطر خواہ جواب نہ مل سکا۔ اسے کہا گیا کہ مذہبی سکالر سے رابطہ کرے۔ اس دور میں ایک نامور سکالر شیخ محمد الرومی نے اس کا خواب سنا اور اس کی تعبیر یہ بتائی کہ ایک دن وہ اکیلے خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔ انہوں نے اس کو صاف صاف بتا دیا کہ اس وقت خانہ کعبہ میں اس کے ساتھ کوئی دوسرا طواف نہیں کر رہا ہوگا۔

ایسا کیسے ہوسکتا ہے نا ممکن! یہ جگہ تو بادشاہوں کے لیے بھی کبھی مکمل خالی نہیں کی گئی تو کیسے یہ معمولی انسان اکیلا اس کا طواف کرے گا؟ یہ تعبیر سن کر سب حیران تھے اور شش وپنج میں مبتلا ہوگئے۔خواب دیکھنے والا خود بھی سوچ رہا تھا یہ کیسے ممکن ہے کہ حرم میں پورا طواف صرف میرے لیے رک جائے!

اس واقعے کو کئی سال بیت گئے اور کئی مذہبی رہنما اس کی ملی جلی تعبیر دیتے رہے اور آخر پھر کرونا وائرس نے یہ ممکن کر دکھایا اور یہ صورت حال اس کے لیے خانہ کعبہ میں اکیلے طواف کرنے کا سبب بن گئی۔اور پھر اس سال رمضان المبارک میں جب کرونا وائرس کی صورت حال پیچیدہ ہوگئی جس کے بعد سعودی حکومت نے عمرہ زائرین پر مکمل پابندی عائد کردی۔ لیکن یہ مقامی شخص عمرہ ادائیگی کے لیے وہاں موجود تھا پھر اس نے وہاں اکیلے طواف بھی کیا،جس کی تصاویر باقاعدہ سوشل میڈیا پر

وائرل ہوئیں۔ جس میں اس شخص کو اکیلے طواف کرتے دکھایا گیا ہے۔ یہ تصویر اس نیک مسلمان کے شیخ احمد الخدیر نے شئیر کی اور بتایا کہ کس طرح اس کے دوست کا خواب اور الرومی کی بتائی تعبیر سچ ہوئی۔ بے شک زندگی میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ وہ چیزیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے ہمارے سامنے وقوع پذیر ہوجاتی ہیں۔ اس واقعے سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ یہ کس طرح ہمارا ہر خواب کوئی نہ کوئی معنی رکھتا ہے۔

بعض اوقات ہمیں ان کی حقانیت پر شبہ ہونے لگتا ہے اور ہم اس کی تعبیر کو سمجھ نہیں سکتے لیکن پھر اللہ سمجھا دیتا ہے کہ مشکل یا نا ممکن انسان کے لیے ہوسکتا ہے خالق کائنات کے لیے نہیں! معجزوں پر ہر کوئی یقین نہیں کر سکتا۔ لیکن اس شخص کا ایک ایسا خواب پورا ہونا جو بظاہر ناممکن لگ رہا تھا۔ بیس سال بعد اس کو اس کی تعبیر ملنا اس بات کی دلیل ہے کہ خواب ہمیشہ اونچے دیکھیں کیونکہ جس نے پورا کرنا ہے اس کے لیے تو کچھ بھی ناممکن نہیں!

اس سے پہلے دو ہزار انیس میں ایک سو پچیس سالہ سالہ الجزائری خاتون کا 100سالہ خواب پورا ہوا جو سو سال سے خانہ کعبہ کے دیدار کا خواب دیکھ رہی تھی۔ خاتون عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے الجزائر سے مکہ مکرمہ پہنچی تو اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کا اتنا دیرینہ خواب اس قدر آسانی سے کیسے پورا ہوگیا؟ صرھودۃ کے ایک بیٹے نے بتایا کہ عمرہ ویزہ سسٹم میں اندراج 1900سے درج ہے اور اس کی والدہ کا سال پیدائش اس سے پہلے کا تھا۔ اس وجہ سے ہمیں اندراج میں مشکل پیش آئی۔ بہرحال اس گتھی کو سلجھا لیا گیا اور امی کو عمرے کا ویزہ مل ہی گیا۔ مکہ مکرمہ میں ایک فلاحی انجمن قائم ہے جس کا نام ’جمعیۃ الحاج والمعتمر الخیریۃ‘ ہے۔ یہ حجاج اور معتمرین کی خدمت کرنے والی فائونڈیشن ہے۔ اس فائونڈیشن کی انتظامیہ کو جب صرھودۃ کی مکہ آمد کی اطلاع ملی اور ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ وہ 125برس کی ہے اور سو برس سے زیادہ عرصے سے خانہ کعبہ کے دیدار کا خواب دیکھتی رہی ہے تو فائونڈیشن نے انہیں امسال حج پر آنے کی دعوت دے دی۔ حج کے جملہ اخراجات فائونڈیشن ادا کرے گی۔ صرھودۃ کو جب حج کے دعوت نامے کا علم ہوا تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ سچ کہا ہے کہ اللہ جب نوازنا چاہے تو خود ہی راستے آسان ہونے لگتے ہیں۔ خانہ کعبہ میں طواف کرنے والے نیک شخص کی تعبیر کی وجہ بھلے ہی کرونا وائرس ہو لیکن پورا کرنے والا تو اللہ ہے جو ہر چیز پر قادر ہے وہ جوحضرت یوسف علیہ السلام کو اندھیرے کنویں سے بحفاظت نکال سکتا ہے،حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں محفوظ رکھ سکتا ہے، اصحاب کہف کو تین سو سال تک ایک غار میں محفوظ رکھ سکتا ہے۔ مریم علیہ السلام کی کوکھ میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح پھونک سکتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی دہکائی ہوئی آگ سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔سمندر کے بیچ راستے بنا سکتا ہے اپنے پیارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرہ المنتہیٰ پر بلا سکتا ہے تو اس کے لیے تو کچھ بھی مشکل نہیں!بس نیت اچھی ارادے پختہ ایمان پکا ہو تو

تو سب مل جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میری طرف آکر تو دیکھ دنیا تیرے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا۔

آپ کھڑکی بنائیں اورنیت یہ ہو کہ اذان کی آواز آئے روشنی اور ہوا تو آ ہی جائے گی۔ بس آخرت کے امتحان میں کامیابی کی تگ و دو کریں دنیا تو مل ہی جائے گی۔ بے شک فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔


ای پیپر