مطالعے اور کتابوں کی دنیا …!
17 جولائی 2020 (20:58) 2020-07-17

ماضی کے مشہور بیورو کریٹ جناب الطاف گوہر مرحوم کی تصنیف ’’ایوب خان۔۔۔۔۔ فوجی راج کے دس سال‘‘ میں بیان کردہ تفصیلات اور کچھ ذہن کے نہاں خانے میں موجود سُلگتی یادوں اور باتوں کو سامنے رکھ کر وطنِ عزیز کے ماضی کے حالات و واقعات کے بارے میں کافی کچھ لکھا جا چکا ہے۔ درمیان میں ایک خاص تناظر میں ایک دو کالموں میں باطل ، مرتد اور کفر کے حامل اور ختم نبوت کے منکر فتنے مرزائیت اور اس کے جھوٹے پیروکاروں کا بھی ذکر آگیا ۔ یہ بھی ضروری تھا کہ ختم ِ نبوت کا عقیدہ جہاں ہمارے ایمان اور یقین کا لازمی جزو ہے۔ وہاں گزشتہ چودہ ساڑھے چودہ سو سالوں سے اس پر اجماعِ امت بھی چلا آ رہا ہے۔ خیراب محترم الطاف گوہر مرحوم کی تصنیف ’’ایوب خان۔۔۔۔۔ فوجی راج کے دس سال‘‘ میں بیان کردہ مندرجات، حالات و واقعات اور ان کی تفصیلات کو سامنے رکھ کر اور ذہن کے نہاں خانے میں موجود یادوں کو کریدتے ہوئے صدر ایوب خان کے اقتدار کے آخری ایک دو برسوں جنوری 1968 ؁ء تا مارچ 1969 ؁ء کے بعض اہم واقعات کا تذکرہ کر کے اس سلسلے کو مکمل کرتے ہیں۔

ایوب خان کے اقتدار کا یہ دور ایسا ہے جس میں 1968 ؁ء کے اوائل میں ان پر دل کی بیماری کا حملہ ہوا جس کے نتیجے میں ان کی اقتدار پر گرفت ہی کمزور نہیں ہوئی بلکہ ان کی خود اعتمادی میں کمی اور مشرقی پاکستان کے مستقبل اور اس کی علیٰحدگی کے امکانات کے بارے میں ان کی مایوسی اور نااُمیدی میں اضافہ اور غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔ سال 1968 ؁ء میں ایوب خان کے اقتدار کے دس سال پورے ہوئے تو اسے ’’عشرہ ترقی‘‘ کے طور پر منایا گیا۔ صدر ایوب خان کے دور حکومت میں ملک کو صنعتی ، زرعی اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے بلا شبہ بے پناہ کام ہوا۔ عشرہ ترقی مناتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں اور حکومتی اقدامات کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی لیکن عجیب ستم ظریفی کہ عوام میں اس کے مثبت نتائج سامنے آنے کی بجائے منفی ردِ عمل سامنے آیا جس کی وجہ سے بھی ایوب خان کی مایوسی میں اضافہ اور خود اعتمادی میں کمی واقع ہوئی۔ پھر اُسی پر بس نہیں اسی سال کے آخر میں ایوب خان کے خلاف احتجاجی مظاہروں، ہڑتالوں اور پر تشدد ہنگاموں کا ایسا ملک گیر سلسلہ شروع ہوا جو آئے روز پھیلتا گیا۔ نومبر 1968 ؁ء میں پولی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ پشاور روڈ (جھنگی سیداں) ، راولپنڈی میں ایک طالبعلم عبد الحمید جس کا تعلق پنڈی گھیب سے تھا کے طلباء کے ایک احتجاجی جلوس میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے کا المناک واقعہ پیش آیا۔ جس کے نتیجے میں ملک میں طلباء کے احتجاجی مظاہرے روزمرہ کا معمول ہی نہ بن گئے بلکہ ان کے اثرات قومی زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہو کر سامنے آنے لگے۔ جیسے اوپر کہا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں، ہڑتالوں اور پُر تشدد ہنگاموں کا سلسلہ جہاں پورے ملک میں پھیل گیا وہاں حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں ، ان کے قائدین اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں افراد جن میں مذہبی رہنما اور سٹوڈنٹس لیڈر بھی پیش پیش تھے کی طرف سے ایوب خان کے حکومت

سے الگ ہونے اور مستعفی ہونے کے مطالبے میں بھی شدت پیدا ہو گئی۔ اس دوران حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے بعض سیاستدانوں اور حکومت میں شامل بعض بااثر افراد کا ایسا کردار رہا جس کے نتیجے میں ایوب خان کے خلاف احتجاجی تحریک نے ہی زور نہیں پکڑا بلکہ مشرقی پاکستان میں ہنگاموں اور حکومت کے خلاف پر تشدد مظاہروں نے ایسی صورتِ حال اختیار کی کہ وہاں علیحدگی کے جذبات کو ہوا ملی وہاں الگ مملکت بنگلہ دیش کے قیام کی راہ بھی آسان ہوئی۔

جناب الطاف گوہر مرحوم جو 1963 ؁ء سے 1969 ؁ء تک سیکرٹری اطلاعات و نشریات کے طور پر صدر ایوب کان کی حکومت کے اہم عہدیدار اور صدر ایوب خان کے بااعتماد مشیر کی حیثیت رکھتے تھے نے اپنی تصنیف میں اوپر بیان کردہ حالا ت و اقعات کا پورے سیاق و سباق اور پسِ منظر اور پیش منظر کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہاں پوری تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں تاہم اہم حالات و واقعات کے سلسلے کو ایسے آگے لے کر چلا جا سکتا ہے جس سے اس دور کے معروضی حالات اور درپیش صورتِ حال کو سمجھنے اور جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔ جناب الطاف گوہر کے مطابق جنوری 1968 ؁ء میں ’’اگر تلہ سازش کیس‘‘ کا تذکرہ سامنے آیا۔ فوج کے خفیہ ادارے ملٹری انٹیلی جنس کی رپورٹ اور تفتیش کے مطابق مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی کے لئے یہ سازش تیار کی گئی ۔ اس کے نتیجے میں 28 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں عام بنگالی شہریوں ، بحریہ کے افراد، نان کمیشنڈ افسروں کے علاوہ سول سروس کے تین اعلیٰ بنگالی افسر روح القدس، فضل الرحمن اور شمس الرحمن اور ایک نیول افسر لیفٹیننٹ کمانڈر معظم حسین شامل تھے۔ ملٹری انٹیلی جنس کا دعویٰ تھا کہ ان لوگوں نے ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک افسر پی این اوجھا کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی کی سازش کے تانے بانے تیار کئے اور اس کی مزید منصوبہ بندی کے لئے ان میں سے کچھ لوگ بھارتی ریاست تری پورہ (آسام) کے دارالحکومت اگر تلہ بھی گئے ۔ ملٹری انٹیلی جنس کے مطابق عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن جو اس عرصے میں جیل میں بند (نظر بند) تھے کا بھی اگرتلہ سازش کیس میں ایک کردار تھا۔

اگرتلہ سازش کیس کا منطقی انجام کیا ہوا۔ مارچ ، اپریل 1968 ؁ء میں یہ مقدمہ سماعت کے لئے تیار تھا۔ کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان اس کی سماعت خصوصی ٹربیونل کے ذریعے چاہتے تھے لیکن صدر ایوب خان کی رائے تھی کہ غیر فوجی افراد کے مقدمے کی سماعت عام عدالتیں کریں اور فوجی ملزموں کا کورٹ مارشل کیا جائے چنانچہ اسی پر عمل درآمد کا فیصلہ ہوا لیکن آگے چل کر کیا ہوا وہ ایک دل دہلا دینے والے منظر اور ڈرائونے خواب سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔ فروری 1969 ؁ء کے وسط میں جب صدر ایوب خان نے حزب اختلاف کے رہنمائوں جن میں حزب ِ مخالف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد جمہوری مجلس عمل (ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی) میں شامل جماعتوں کے رہنما نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم، چوہدری محمد علی مرحوم، سید ابوالا اعلیٰ مودودی مرحوم، میاں ممتاز دولتانہ مرحوم اور عبدالولی خان مرحوم وغیرہ شامل تھے کے علاوہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو مرحوم ، نیشنل عوامی پارٹی مشرقی پاکستان کے سربراہ مو لانا عبدالحمید بھاشانی ، مشرقی پاکستان کے سابق گورنر جنرل اعظم خان مرحوم اور مشرقی پاکستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس محبوب مرشد وغیرہ شامل تھے کو مذاکرات کی دعوت دی تو اسی دوران ڈھاکہ میں اگرتلہ سازش کیس کے دو قیدیوں نے سماعت کے دوران فرار ہونے کی کوشش کی جن میں سے ایک سارجنٹ ظہور الحق فوجی سپاہیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ اس کی نمازِ جنازہ میں دس لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی ۔ اسی شام کو مشرقی پاکستان کے ایک اہم سیاسی رہنما اور نظام اسلام پارٹی کے سرکردہ لیڈر مولوی فرید احمد مرحوم نے ٹیلی فون پر صدر ایوب سے اگرتلہ سازش کیس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ایوب خان کا جواب تھا ’’ میں ایک جرم کے جواب میں دوسرا جرم کرنے کو تیار نہیں‘‘۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی کی انتہا کہ صدر ایوب خان اور حزب مخالف کے رہنمائوں کے درمیان مذاکرات (گول میز کانفرنس) کا انعقاد ہوا تو اس سے قبل صدر ایوب خان کو اگرتلہ سازش کیس کی واپسی اور شیخ مجیب الرحمن کی کانفرنس میں شرکت کے لئے ان کے خلاف قائم کردہ تمام مقدمات واپس لینے کا اعلان کرنا پڑا۔

میں چاہوں گا کہ جناب الطاف گوہر کی تصنیف ’’ایوب خان۔۔۔۔۔ فوجی راج کے دس سال‘‘کے مندرجات سے استفادہ کرتے ہوئے حزب مخالف کے اہم رہنمائوں (جن کے نام اُوپر آئے ہیں) سے صدر ایوب خان کے مذاکرات (گول میز کانفرنس ) کے نتیجہ خیز نہ ہونے کے باوجود صدر ایوب خان کی طرف سے حزب مخالف کے اہم مطالبے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کو تسلیم کرنے اور صدر ایوب خان کے آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کے اعلان کا حوالہ دے کر بتائوں کہ اس کے باوجود ملک کی امن و امان کی صورتحال میں بہتری کیوں نہ رونما ہوئی ۔ ہنگامے اور مظاہرے کیوں ختم نہ ہوئے اور بالآ خر ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا گیا تو آخر اس کی بڑی وجہ یا وجوہات کیا تھیں۔ میرے خیال میں اور جناب الطاف گوہر کی تصنیف کے مندرجات بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے صدر ایوب خان سے مذاکرات کے بائیکاٹ کے فیصلے اور عوام کو سڑکوں پر آنے کی دعوت دینے کے ساتھ مشرقی پاکستان نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ عبدالحمید بھاشانی کے جلائو اور گھیرائو کے نعرے ایسے فیصلے اور اقدامات تھے جن کی وجہ سے ملک میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر نہ ہو سکی۔ اس کے ساتھ صدر ایوب خان کی حکومت میں شامل ان کے بعض ساتھیوں کی عاقبت نااندیشی ، عوام میں عدم پذیرائی اور آرمی کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان سمیت ائیر فورس اور نیوی کے سربراہان کی مارشل لاء کے نفاذ کے بارے میں خفی اور جلی خواہشات ایسے عوامل تھے جن کی بنا پر صدر ایوب خان کو اقتدار سے الگ ہونے اور 26 مارچ 1969 ؁ء کو ملک میں نئے سرے سے مارشل لاء کے نفاذ کا فیصلہ کرنا پڑا۔ آخر میں ’’ایوب خان۔۔۔۔۔ فوجی راج کے دس سال‘‘سے ایک مختصر اقتباس کا حوالہ دے کر کالم کا اختتام کرتے ہیں۔ جناب الطا ف گوہر لکھتے ہیں:۔

20 مارچ 1969 ء کو رات 8:30 بجے ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا۔ صدر ایوب خان نے اپنی نشست سے اُٹھتے ہوئے کہا ’’مجھے کوئی افسوس نہیں، میں خوش ہوں، میری دعاہے کہ ملک سلامت رہے ۔ لوگ تو پاگل ہو گئے ہیں۔‘‘


ای پیپر