اچھرے سے گلبرگ تک
17 جولائی 2019 2019-07-17

(درج ذیل کالم چھ برس قبل 17 جولائی 2013ء کو نئی بات میں چھپا تھا… ایک روز قبل زور دار بارش ہوئی اور لاہور آج کل کی مانند جل تھل ہو گیا… نکاسی آب اس وقت بھی اس شہر عظیم کا بڑا مسئلہ تھا ، آج بھی ہے۔ تب میں نے اپنی رہائشی بستی اچھرہ سے لے کر گلبرگ میں دفتر تک پہنچنے کا جو احوال قلمبند کیا… آج 17جولائی 2019 ء کو بھی ساون کی جھڑی نے وہی صورت حال پیدا کر دی ہے… اسی لیے یہ کالم قارئین کی خدمت میں دوبارہ پیش کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے)

میں لاہور کی قدیم آبادی اچھرہ کا رہائشی ہوں۔ یہیں پر 1946ء میں ایک گلی کے پانچ مرلہ مکان میں پیدا ہوا جسے میرے باپ نے وزیر آباد کے موضع خانکی ہیڈورکس سے لاہور آ کر چند برس نوکری کرنے کے بعد 1944ء میں بنایا تھا۔ اور اسی گلی کے تقریباً ایک کنال کو محیط دو منزلہ مکان میں، جسے والد مرحوم نے 1957ء میں تعمیر کیا، میں نے گزشتہ 17 اپریل کو اپنی 67ویں سالگرہ منائی۔ میاں نوازشریف، قاضی حسین احمد مرحوم، مولانا فضل الرحمن، سابق گورنر پنجاب خالد مقبول، سید منور حسن، جناب الطاف حسن قریشی، مجیب الرحمن شامی، عطاء الحق قاسمی، عرفان صدیقی، لیاقت بلوچ، چودھری عبدالرحمن،سجاد میر، نصرت مرزا، سید شاہد ہاشمی، نصیر سلیمی، سلیم منصور خالد، ذوالقرنین، رئوف طاہر، سید اخلاق الرحمن، مولانا عبدالرحمن مدنی ، جامعہ اشرفیہ لاہور کے سابق نائب مہتمم مولانا عبدالرحمن اشرفی مرحوم، صاحبزادہ حبیب الرحمن مرحوم آف عیدگاہ شریف راولپنڈی اور پیر کبیر علی شاہ آف چورہ شریف سمیت کئی سربرآوردہ شخصیات اور محترم دوستوں نے مختلف مواقع پر تنگ گلیوں میں واقع اس غریب خانے پر قدم رنجا ہو کر میری عزت و تکریم میں اضافہ کیا ہے۔ ایک دور وہ تھا جب اچھرہ میں مفکر اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، اپنے وقت کے عظیم خاکسار رہنما اور بیس اور تیس کی دہائیوں میں تہلکہ مچا دینے والی تذکرہ جیسی کتاب کے مصنف علامہ عنایت اللہ خاں المشرقی اور امام التفسیر مولانا امین احسن اصلاحی جیسی علم و فضل کی منتخب ہائے روزگار شخصیات رہتی تھیں۔ بریلوی مسلک کے ممتاز عالم دین اور مناظر مولانا محمد عمر اچھروی نے آدھی سے زیادہ زندگی اسی بستی میں گزاری… کتب بھی یہیں تصنیف کیں ، ہمارے محلہ دار تھے… مجھے ان زعماء کی ہمسائیگی کا شرف حاصل تھا۔ اپنے دور طالبعلمی اور جوانی کے سالوں میں ، میں بارہا ان کی مجالس میں حاضر ہوا۔ پاکستان بننے کے بعد کئی ایک شاعروں، ادیبوں اور آرٹسٹوں نے بھی اچھرہ میں بسیرا کیا۔ اچھرہ کبھی گائوں تھا جو اپنی نواحی بستیوں سمیت شمال میں نہر کے کنارے سے لے کر جنوب میں مزنگ چونگی تک پھیلا ہوا تھا۔ اس کے مغرب میں کھیت لہلہاتے تھے۔ رہٹ چلتے تھے۔ فصلیں اگتی تھیں۔ تازہ سبزیاں پیدا ہوتی تھیں۔ اچھرہ کے نواح میں کسی دور کے اندر ایک جانب سابق وزیراعظم ملک فیروز خاں نون کی کوٹھی تھی تو دوسری جانب بہاولپور ہائوس ۔ تقسیم سے پہلے نواب صاحب کبھی کبھی یہاں آ کر قیام کرتے تھے۔ انگریز محقق Thronton کے مطابق قدیم زمانے کا اصل لاہور اچھرہ تھا۔ معروف ترقی پسند دانشور صفدر میر (Zeno) نے کوئی 30 سال پہلے پاکستان ٹائمز میں لکھا کہ رامائن کا ایک حصہ بھی اچھرہ میں لکھا گیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد موضع اچھرہ کی برکنار نہر دو سے زائد ایکڑ پر محیط جامع اشرفیہ جیسی ملک کی ممتاز دینی درسگاہ وجود میں آئی۔صاف ستھری فضا اور دیہاتی ماحول تھا۔

لیکن اب اچھرے کا شمار نہ صرف لاہور کے وسط میں شہر کی گنجان ترین آبادیوں میں ہوتا ہے بلکہ اس کے پرانے بازار اور کئی گلی محلے پنجاب کی بہت بڑی Consumers' market میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں کپڑے، برتنوں، زیورات اور دیگر اشیائے صرف کی بڑی بڑی دکانیں ہیں۔ انواع و اقسام کا مال دستیاب ہے۔ صرف لاہور نہیں، ساہیوال اور اوکاڑہ سے لے کر گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد تک سے خواتین یہاں پر خریداری کے لئے آتی ہیں۔ کھاتے پیتے گھرانوں سے لے کر نچلے متوسط طبقوں تک کی ضروریات اور ہر معیار کا مال دستیاب ہے۔ نرخ لبرٹی مارکیٹ، ایم ایم عالم روڈ اور انارکلی کے مقابلے میں کم ہیں۔ خوب خریداری ہوتی ہے۔ خوانچہ فروشوں کی الگ بھیڑ ہوتی ہے۔ کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ خواتین موٹے موٹے پرسوں کو ہاتھوں میں لئے بڑی گاڑیوں سے اترتی ہیں اور لدی پھندی واپس جاتی ہیں۔ پارکنگ بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ہم رہائشیوں کے لئے شام کو ان بازاروں سے ہوتے ہوئے گاڑی کو کسی امکانی ٹکرائو سے بحفاظت بچا کر گھر کے دروازے تک پہنچانا کاردارد ہوتا ہے۔

لیکن اچھرہ کا مزاج تمام تر ’’ترقی‘‘ اور رونق کے باوجود آج بھی دیہاتی ہے۔ یہاں پر دو بڑی برادریاں آرائیں اور کمبوہ نسل در نسل سے آباد چلی آ رہی ہیں۔ تنگ و تاریک گلیوں میں واقع ان کے پرانے گھروں میں چلے جایئے تو احساس ہوتا ہے کہ ایک ہی کنبہ اپنی کئی شاخوں سمیت صدیوں سے آباد ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ حسب نسب سے واقف ہیں۔ مل بیٹھتے ہیں تو پرانی داستانیں دہراتے ہیں۔ ان کی خواتین آپس میں اس طرح گھلی ملی رہتی ہیں کہ بیگانگی کا احساس نہیں ہوتا۔ ایک گھر میں کوئی واقعہ ہو جائے تو اردگرد کی بارہ پندرہ گلیوں میں خبر پھیل جاتی ہے۔ شادی بیاہ اور غم و مرگ کی رسوم میں لوگ اس طرح مل کر شریک ہوتے ہیں کہ روایتی وضع دار معاشرت کا منظر ابھر آتا ہے۔ البتہ قومی و صوبائی اسمبلیوں یا مقامی کونسلروں کے انتخابات کا موقع ہو تو ساری تصویر بدل جاتی ہے۔یہاں کی دونوں بڑی برادریوں کی پرانی رقابتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ اپنے اپنے امیدوار کھڑے کئے جاتے ہیں اور سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ ایک برادری کے فرد کا دوسرے کو ووٹ ڈال دینا گناہ کبیرہ سے کم نہیں سمجھا جاتا۔ عورتیں تک اپنے اپنے مکانوں کی چھتوں پر کھڑی ہو کر ایک دوسری کو طعنے دیتی اور اپنی برادری کے امیدواروں کو خواہ اس کا تعلق کسی پارٹی سے ہو کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے دن رات ایک کر دیتی ہیں۔ دونوں برادریوں سے تعلق رکھنے والے کچھ پرانے لوگوں کے لئے تو یہ زندگی موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ انتخابات کے دنوں میں عجب سماں بندھتا ہے۔ اچھرہ کے کئی گھرانے ایسے ہیں جنہوں نے پراپرٹی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کی وجہ سے کروڑوں کمائے۔ ان میں سے کئی ایک کی نئی نسل کے افراد نے ڈیفنس اور دوسری جدید آبادیوں میں بنگلے تعمیر کر لئے ہیں اور پُرتعیش زندگی بسر کرتے ہیں لیکن پرانی وضع کے کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو روپے پیسے کی فراوانی کے باوجود آبائی گھروں سے نکلنا پسند نہیں کرتے۔ انہیں اپنے غریب رشتہ داروں اور زندگی بھر کے دوستوں کے درمیان رہ کر زیست کا زیادہ لطف محسوس ہوتا ہے۔ اس موضع کے قرب و جوار کی جدید آبادیوں مثلاً گلبرگ ، ماڈل ٹائون، گارڈن ٹائون، جوہر ٹائون وغیرہ کے رہائشی ، خاص طور پر مہنگے اور نت نئے لباسوں میں ملبوس نئی وضع قطع کی خواتین اچھرہ میں شاپنگ کی خاطر تو بڑے ذوق و شوق کے ساتھ آتی ہیں لیکن وہ اس بستی کے اندر زندگی کا ایک دن بسر کرنا بھی شان کے خلاف سمجھتی ہیں۔ نئی آبادیوں کے مکین لاہور کے متمول لوگ اپنے نہاں خانہ دماغ کے اندر اچھرہ کو ’’کمی کمینوں‘‘ کی آبادی سمجھ کر یہاں پر رہائش کا تصور بھی نہیں کرتے۔

میں اچھرہ میں واقع روزانہ اپنے گھر سے نکل کر فرائض منصبی ادا کرنے کی خاطر گلبرگII کے آخری حصے میں ’’نئی بات‘‘ کے دفتر آتا ہوں، غروب آفتاب کے بعد واپس چلا جاتا ہوں۔ سوموار 14 جولائی کی صبح گھنٹہ بھر موسلا دھار بارش ہوتی رہی۔ یہ برسات کے دن ہیں۔ ہر طرف جل تھل ہو گیا۔ گلیاں چھوٹی چھوٹی نہروں میں تبدیل ہو گئیں۔ لیکن جس مقام پر میں رہتا ہوں وہاں نکاسی آب کا کوئی ایسا قدیم اور فطری نظام ہے کہ بارش کا پانی زیادہ دیر تک کھڑا نہیں رہتا۔ تعفن بھی جلد دور ہو جاتا ہے۔ لہٰذا سوموار 14 جولائی کی صبح میں دفتر جانے کے لئے گھر سے نکلا تو میری گاڑی کے پہیے اور نچلا حصہ گندے پانی کی آلودگی سے محفوظ رہے۔ ہمارے گھر سے آگے دو گلیوں سے ہوتی ہوئی ایک نیم پختہ سڑک فیروزپور روڈ کو جا ملتی ہے۔ لاہور کی اس پرانی اور مشہور سڑک کی جو شہر کو قصور تک ملاتی ہے شان و شوکت بلکہ جاہ و جلال میں میٹرو بس کے انجینئرنگ کے شاہکار پل کی تعمیر کی وجہ سے اضافہ ہو گیا ہے۔ اس سڑک کو عبور کر کے گاڑی شاہ جمال روڈ پر پہنچی تو ذرا آگے چل کر پانی کا ایک دریا بہتا ہوا نظر آیا۔ بارش کا پانی گردوپیش کی بڑی بڑی کوٹھیوں کے صحنوں میں داخل ہو چکا تھا۔ شاہ جمال روڈ کے کونے پر نواب مظفر علی قزلباش کا وسیع و عریض فارم ہائوس ہے۔ گندا پانی اس کی دیواروں کو بھی چھو رہا تھا۔ آگے گلبرگ کی جانب بڑھے۔ نہر کا پل عبور کیا۔ بائیں جانب سر مراتب علی کی اولادوں کے بارہ اٹھارہ اور خدا جھوٹ نہ بلوائے بیس بیس کنال کے بنگلے ہیں۔ ایک جانب میرا ایف سی کالج ہے جہاںسے میں نے ساٹھ کی دہائی میں بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اسی سڑک پر تھوڑا آگے جائیں تو بائیں جانب گجرات کے چودھری برادران کی ایک دوسری سے متصل محل نما کوٹھیاں ہیں۔ پرلی طرف نگاہ دوڑایئے تو سابق وزیر دفاع چودھری احمد مختار اور ان کے رشتہ داروں کے عالی شان گھر ہیں۔ کہنے کی ضرورت نہیں تمام کے تمام گلبرگ میں جانے پہچانے رئوسا، صنعتکاروں اور نامی گرامی سیاستدانوں کے پُرتعیش گھر ہیں۔ یہاں کئی بڑی کمپنیوں کے دفاتر بھی ہیں۔ یہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ انتہا درجے کے صفائی پسند اور شہریت (civic) کے شعور سے مالامال لوگ ہیں۔

لیکن پرسوں سوموار کی گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹے کی بارش نے ان کے دروازوں کے سامنے متعفن پانی کے جوہڑ بنا رکھے تھے۔ مچھروں کی جنت آباد تھی۔ میری گاڑی بمشکل ان کے گھروں کے سامنے سے تیرتی ہوئی دفتر کی جانب بڑھ رہی تھی۔ شیشے بند کر رکھے تھے تاکہ چھینٹے نہ پڑیں اور بدبو بھی نہ آئے۔ واسا کے عملے کا کوئی فرد نظر نہ آیا۔ شاید اس لئے کہ خادم اعلیٰ ان دنوں زیادہ وقت قومی امور کو نمٹانے کے لئے اسلام آباد یا بیرونی دوروں میں گزارتے ہیں۔ اس لئے واسا والوں کو کسی کا ڈر نہیں۔ لیکن میں اس سوچ میں پڑ گیا کہ لاہور کے خوشحال ترین اور نہایت درجہ اثرورسوخ کے مالک لوگوں کی اس بستی کے رہائشی اگر چاہیں تو آپس میں مل کر بھی بآسانی ایسا انتظام کر سکتے ہیں کہ ان کے گھروں کے سامنے کی سڑکوں پر بدبودار اور بیماریاں پھیلانے والا پانی جمع نہ ہونے پائے۔ ارے یہ لوگ تو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے۔ ان میں بعض کی خواتین شاپنگ کے لئے بھی اچھرہ آنا گوارا نہیں کرتیں۔ ان کی اڑانیں ہر دوسرے تیسرے مہینے دبئی، لندن اور نیویارک تک ہوتی ہیں۔ ان کے آٹھ آٹھ بیڈرومز والے گھر سنٹرلی ایئرکنڈیشنڈ ہیں۔ بڑے بڑے جنریٹر ہیں۔ لوڈشیڈنگ ان کا کچھ نہیں بگاڑتی۔ مگر گھروں کے سامنے کے حصوں کی جہاں سے دن میں کئی بار گزرنا ہوتا ہے صفائی کے لئے حکومتی عملے کے محتاج ہیں۔ یہ تو خود مل کر ایسا بندوبست کرنے کے وسائل اور صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان کے سامنے کی سڑکیں ہفتہ بھر کی مسلسل بارش کے باوجود صاف ستھری اور چمکتی دمکتی نظر آئیں۔ انہیں کیا ہو گیا ہے۔ ان کی civic sense کہاں چلی گئی ہے۔ میں پرسوں سوموار کو کام سے فارغ ہو کر واپس اچھرہ کے بازار سے گزرتا ہوا گھر کی طرف آ رہا تھا تو رمضان اور عید کی شاپنگ کی وجہ سے خریدار مردوں اور خواتین کا ہجوم تھا۔ گلیوں اور بازاروں میں کیچڑ نام کی چیز نہ تھی۔ میرا اچھرہ مجھے بہت اچھا لگا۔ میں نے یہاں پر ساری عمر کاٹی ہے۔ میرے باپ نے 1936ء میں وزیر آباد کے گائوں سے آ کر آخر دم تک عمر کا بہترین حصہ یہیں بسر کیا تھا۔ انہیں اس بستی میں بڑا رسوخ حاصل تھا۔ میرا آج بھی کسی پرانے محلے سے گزر ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی بوڑھا آدمی عینک کے موٹے شیشوں سے جھانک کر پوچھ لیتا ہے ’’منشی ہوراں دا پتّر ایں‘‘ تو میرا خون بڑھ جاتا ہے۔ بچپن اور جوانی کی یادیں لوٹ آتی ہیں۔


ای پیپر