’’پنجاب دی دھی ‘‘ کا کٹھن سفر
17 جولائی 2019 2019-07-17

سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کہتی ہیں کہ وہ اپنے والد کے لئے آخری حد تک جانے کو تیار ہیں۔ اگر ان کا مطلب تمام لیکیریں پھلانگنا ہے اور واقعی انہوں نے لیکیریں پھلانگنا شورع کردی ہیں۔ جیسے کہ انہوں نے جج کی مبینہ ویڈیو دکھائی۔گزشتہ دس روز سے وہ زیادہ ہی سرگرم ہیںکہ صرف مسلم لیگ نواز کا ہی نہیں بلکہ حکومت اور اداروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ چھ جولائی کو مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس میں نواز شریف کو سزا سنانے والے جج سے متعلق ویڈیو لیک کی۔ اس موقعہ پر مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی بھی موجود تھے۔یعنی پوری پارٹی ان کے موقف کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ انتظامیہ سے اجازت نہ ملنے کے باوجودسات جولائی کو انہوں نے منڈی بہائو الدین میں منعقدہ بڑے جلسے میں وزیراعظم عمران خان سے استعفا دینے اور گھرجانے کو کہا۔ آٹھ جولائی کو اعلان کیا کہ اگر نواز شریف کو گھر کا کھانا لینے نہیں دیا جاتا تو وہ جیل کے سامنے بھوک ہڑتال بھی کر سکتی ہیں۔ بارہ جولائی کوہم نیوز ٹی وی چینل پر ان کا انٹریو روک دیا گیا۔ مبینہ ویڈیو لیک کرنے کے بعد احتساب عدالت نے مریم نواز کوایون فیلڈ فلیٹس کیس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ استعمال کرنے کے الزام میں طلب کیا تھا۔ایون فیلڈ فلیٹس کیس ان پر پہلے بھی چلایا گیا تھا۔ اب احتساب عدالت کے جج کو واپس بلالیا گیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس نوٹس کا کیا ہوتا ہے۔

سبھی جانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے جوویڈیو لیک کا کارڈپھینکا ہے وہ بہت ہی جارحانہ کھیل ہے۔ معاملہ عدلیہ کی ساکھ کاہے، ا س سے ہائیکورٹ میں چلنے والی اپیلیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اور ویڈیو زمیں ممکن ہے کہ بعض افراد یا اداروں کو بھی ملوث کیا گیا ہو۔ حکومت نے یہ معاملہ عدلیہ پر چھوڑ دیا تھا۔ جج کی تردید اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو دیئے گئے حلفیہ بیان ناکافی ثابت ہوئے۔ اب ان ویڈیوز کی اصلیت کو سامنے لانے کے لئے سپریم کورٹ تین مختلف آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔ چیف جسٹس نے معاملہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے سے متعلق تجاویز حکومتی رائے معلوم کرنے کے لئے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت کیلئے نوٹس جاری کردیاہے۔ جیسا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے کے تین پہلو ہیں جن میں عدلیہ کا وقار، وڈیو کا سچا یا جھوٹا ہونا اورجج کا کنڈکٹ شامل ہیں۔ کیس کے تمام پہلوئوں کو دیکھنا ہو گا، ہمیں اپنی مداخلت کے آئندہ اثرات بھی مد نظر رکھنا ہونگے، کوئی توہین عدالت کا مرتکب ہوا ہے تو اس کیخلاف کارروائی ہونی چا ہیے، جج کے مس کنڈکٹ کو دیکھنا ہے، عدالت درخواست گزاروں کے وکلاء کی تجاویز سامنے آنے کے بعد اٹارنی جنرل سے رائے طلب کی گئی ہے، جسکے بعد عدالت فیصلہ سنائے گی، اگرچہ معاملہ لیک کی گئی ویڈیو کی اصلیت کو سامنے لانے کا ہے لیکن تاحال مریم نواز کا موقف سننے کے لئے نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے۔

شروع میںمریم نواز کی سیاست میں اہم کھلاڑی کے طور پر موجودگی خود پارٹی کے اندر کئی سے ہضم نہیں ہورہی تھی۔ مریم ایسے موقع پر سیاست میں آئی ہیں جب عمران خان نوجوان نہ ہوتے ہوئے بھی نوجوانوں کی قیادت پر اجارہ داری کادعویٰ کر رہے ہیں۔یہ بات نواز لیگ کی قیادت کو سمجھ میں آرہی ہے۔ اب ان کو تسلیم کیا جانے لگا ہے۔ورنہ اس سے قبل یہ سمجھا اور کہا جارہا تھا کہ وہ بڑے باپ کی مغرور بیٹی ہے۔ چوہدری نثار علی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ مریم کو ثابت کرنا پڑے گا۔ مریم نے خود کو بدلا، محنت کی اور ایک بیانیہ پر کھڑی رہی، جو مسلم لیگ ن کی روایات سے مختلف تھا۔ اب شہباز شریف بھی کہتے ہیں کہ مریم ان کی بھتیجی اور بیٹی ہے اور پارٹی کی نائب صدر، کوئی اختلاف نہیں۔ زرداری بھی کہتے ہیں کہ ہماری بیٹی ہے۔

انہوں نے اپنی شناخت نام کے حوالے سے تبدیل کی ، وہ مریم صفدر سے مریم نواز بن گئی، یہ نام کے ساتھ تبدیلی بھی بہت کچھ بتاتی ہے ۔اب مسلم لیگ نواز کا نیا چہرہ مریم ہی ہیں۔ جس نے والد کے ساتھ کھڑے ہو کر پاناما پیپرز ، عمران خان کی مہم سے جو نقصان پہنچے تھے ان کا ازالہ کیا ، اور پارٹی کو نئی شناخت دینے میں مدد کی۔ بتایا کہ پنجاب اس طرح بھی کرسکتا ہے۔ وہ والد کے لئے کسی بھی حد تک جانے کا کہہ رہی ہیں۔ اب ان کی دلیل ہے کہ ے کہ ویڈیو لیک میں جو واقعات دیئے گئے ہیں ان کے بعد نواز شریف کو سنائی گئی سزا کالعدم ہے۔ جو موقف اور لب و لہجہ اختیار کر کے مریم نے سفر کا ا ٓغاز کیا ہے وہ نہایت ہی کٹھن اور تھکادینے والا سفر ہے۔ اگر وہ اس لائن پر کھڑی رہتی ہے تو نہ صرف خان بلکہ مضبوط اداروں کے لئے بھی درد سر بنے گی۔ بچے بڑے ہو چکے ہیں لہٰذامریم باقی گھریلو ذمہ داریوں سے فارغ ہیں انکے پاس وقت ہے۔

سندھ میں اس بات کو یوں دیکھا جارہا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں اپوزیشن میں اگر تین چیزیں ایک ساتھ ہو جائیں تو اس کو روکنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ مظلوم ہو، دوسرے یہ کہ عورت ہو، تیسری بات کہ جاذب نظر ہو۔ ہمارے دوست اور تجزیہ نگار علی قاضی کا کہنا ہے کہ اگر ان تینوں کے ساتھ اپنے لئے بہادر اور مزاحمتی رہنما جیسا بنا لے تو اسے عوام میں کہیں زیادہ پذیرائی مل جاتی ہے۔ مریم نواز کے پاس ان تمام اجزا کے ساتھ ایک اضافی اور مضبوط نکتہ اور بھی ہے کہ ان کا تعلق پنجاب سے ہے۔ جس طرح سے بینظیر بھٹو کو سندھ کی بیٹی کہا جاتا ہے اسی طرح مریم نواز کو بھی ’’ پنجاب دی دھی ‘‘ کہلانا شروع ہوگی۔چونکہ پنجاب سیاسی بیانیہ پاکستان سطح کا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مریم نواز نے پورے ملک میں ریلیوں کی قیادت کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ تاہم پنجاب خود اس بات کو ’’ دھی ‘‘کے طور پر ہی لے گا۔ مخالفین کا یہ طعنہ کہ مریم کی تمام تر جدوجہد صرف اپنے والد کو رہا کرانے کے لئے ہے۔ عملاً یہ طعنہ مریم کو فائدہ دے گا۔ کیونکہ پاکستان جیسے زرعی سماج میں کوئی خاتون اپنے والد یا شوہر کے لئے میدان میں اترتی ہے تو اس کو بڑا مان ملتا ہے، ایسی خاتون سورمی کہلاتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ریاست کے مشکل راستوں پر مریم اپنا سفر جاری رکھتی ہیں یا تھک جاتی ہیں۔


ای پیپر