اپوزیشن صرف عوام
17 جولائی 2019 2019-07-17

سارا قصہ ایک سوشل میڈیا پر ڈالی گئی پوسٹ سے شروع ہوا۔ جو رات گیے لکھے گئے اس بے ترتیب کالم پر جا کر منتج ہوا۔ لکھنے کو بہت کچھ ہے۔ لیکن کئی ہفتوں سے طبیعت قدرے خراب ہے۔ وہ چستی اور بشاشت عنقا ہے جو یکسوئی کیلئے درکار ہے۔ بس یوں سمجھ لیجئے بس قلم گھسیٹنے کی مشق ہے جو جاری و ساری ہے۔ استاد محترم زاہد رفیق کا خوف ہے جو قلم اٹھانے پر اکساتا ہے۔ مہربانی ہے ان کی جو عارضی تعطل اور بے ترتیب وقفے معاف کر دیتے ہیں۔ ویسے بھی حکم حاکم ہے کہ صرف مثبت خبریں دینی ہیں۔ ڈیڈ لائن تو چھ مہینے کی تھی۔ جو قیاس ہے گزر چکی ہوگی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حاکم مجاز نے خود ہی اس مدت میں توسیع کر لی ہو۔ گویا ایکسٹینشن عطا کردی ہو۔ ویسے آجکل بھاری دبیز پردوں کے پیچھے اشرافیہ کے گول کمروں میں توسیع کا بہت چرچا ہے۔ شنید ہے کہ فیصلہ تو ہوچکا۔ بس اعلان باقی ہے۔ جس سے قبل ہم عامیوں کی ذہن سازی بہت ضروری ہے۔ تاکہ ہم سب کو اس "فیض مسلسل " کے تسلسل کی متوقع برکات سے روزشناس کرایا جاسکے۔ ان فتوحات کے متعلق پیشگی آگاہ کیا جائے جو صاحب توسیع کے دم قدم سے پکے پھل کی طرح قوم کی جھولی میں آگریں گی۔ بات سے بات نکلے تو کہاں کی کہاں پہنچ جاتی ہے۔،بات چلی تھی اس پوسٹ کی جو یہ خاکسار ہاتھوں میں کھجلی کے باعث کر بیٹھا۔ مقصد کوئی دانشوری بگھارنا ہر گز نہ تھا۔ نہ ہی عوام سے اظہار یک جہتی کرنا تھا۔ مزدوری پیشہ کو کیا لگے عوام سے۔ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔ بس یوں سمجھئے کہ ذرا چند منٹوں کیلئے اظہار رائے کی آزادی کی سہولت سے استفادہ کو دل چاہا۔ ہاے یہ دل نادان۔ آزادی کی بھی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے۔ شاید کسی زمانے میں لیبیا اور عراق کے عوام بھی ایسی قیمت ادا کرتے ہوں گے۔ سنا ہے ان ملکوں میں دیواروں کے بھی کان ہوتے تھے۔ آج عراق بھی وہیں ہے اور لیبیا میں کوئی جغرافیائی تبدیلی نہیں آئی۔وہاں سب کچھ ہے لیکن کچھ بھی نہیں۔ بس بارود کی بو ہے۔ اظہار پر تالے لگانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ غلطی خاکسار نے یہ کی کہ روٹی اور نان کی قیمت میں اضافے کے متعلق ایک پوسٹ ڈال دیا۔ میرے ایسے غریب کو اطلاع ملے کہ روٹی اور نان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے تو ہاتھ پاؤں تو پھولنے ہی تھے۔ ستر سالہ میں روٹی چھ روہے تک پہنچی۔ اب اچانک اس کی قیمت میں پندرہ روپے تک اضافہ کی خبر سنی تو آہ و بکا کیوں نہ کرتا۔ اپنے اور بچوں کیلئے روٹی خود کماتا ہوں۔ جن کی ادائیگی کوئی اور کر جاتا ہے ان کو کیا پرواہ۔بس وہ پوست وال پر وارد ہوئی تو قوم یوتھ نے یلغار کردی۔ ان فدائین کی گولہ باری کی کبھی پرواہ نہیں کی۔یہ جنونی ہمدردی کے لائق ہیں۔ لیکن وہ لاہور کے ایک سی کلاس چیتھڑے کے صفحہ سات کا دانشور۔ ضرور آج کل کسی صاحب اقتدار کے سوشل میڈیا نیٹ ورک میں جز وقتی ملازمت مل گئی ہوگی۔ وفاداری کے تقاضے تو کئی اور بھی ہیں۔ بہر حال ان سوشل میڈیائی رضاکاروں سے درخواست ہے کہ ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ باغبانی اور پھولوں کی افرائش سے وقت نکال کر اخبار پڑھا کریں۔ کبھی ٹی وی دیکھا کریں۔ انترنیٹ پر ہماری دگرگوں اقتصادی صورتحال پر تجزیوں سے صفحوں کے صفحے بھرے ہوئے ہیں۔ اس کیلئے بھی وقت نہیں تو لاہور کے ایک نجی ٹی وی چینل کی بریکنگ نیوز کی ہی تردید کر ادیں۔ جس میں دعوی کیا گیا ہے قبرستان اب صرف دن کو کھلیں گے اور رات کو بند رہیں گے۔اگر کسی نے مرنا ہے تو صبح کا انتظار کرے یا پھر تدفین کیلئے ویٹنگ لسٹ میں نام لکھوائے۔ مختلف کیٹیگری کے مردوں کی تدفین کے ریٹ الگ ہوں گے۔ اس سے بھی فرصت نہیں تو بارش کے بعد کے لاہور کے متعلق ایک خوبصورت فیچر لکھے۔ جس میں لاہور کو وینس ڈیکلیئر کردیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ اوور ٹائم کے بھی پیسے مل جائیں۔ خبریں تو بہت ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سات ہزار اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کی وجہ سے سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں نوّے روپے اضافہ ہو گیا ہے۔ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ بتاتی ہے کہ آٹا گھی ، دالیں چاول سمیٹ پندرہ اشیا مزید مہنگی ہوگئی ہیں۔ ایک ہفتہ میں مہنگائی کی شرح میں پندرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔روز مرہ استعمال کی اشیا گزشتہ سال کے مقابلے میں اکانوے فیصد مہنگی ہوئی ہیں۔ اس کو بھی چھوڑیں سٹیٹ بنک کی تیار کردہ سہ ماہی کی رپورٹ ابھی کل جاری ہوئی ہے۔ جس کے چیئرمین بین الاقوامی لاڈلے اور حکومت انصاف کے چہیتے ہیں۔ یہ رپورٹ کہتی ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ٹیکس وصولیاں جامد ہوچکیں ترقی میں کمی آئی ہے۔ سرمایہ کاری میں کمی ، شرح نمو کی رفتار سست۔ میرے ایسے سوشل میڈیا کی دنیا میں نواراد کو گالیاں دیں۔ لفافہ کہیں۔ سیاسی لیڈر وں کو جیل ڈالیں۔ حقائق کی دنیا سوشل میڈیا سے مختلف ہے۔ کارخانے بند ہورہے ہیں۔ عوام عسرت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کچھ بس میں ہے تو کر گزریں۔ ورنہ یاد رکھیں آپ کی اصل اپوزیشن سیاسی جماعتیں نہیں عوام ہیں۔ جن کا موڈ بد ل رہا ہے۔


ای پیپر