آگاہی کھا گئی مجھ کو …ورنہ میں نے جینا تھا اپنے مرنے تک
17 جولائی 2019 2019-07-17

نئے اور پرانے پاکستان میںاور کوئی فرق ہو یا نہ ہوعوامی آگاہی اور شعور کا فرق ضرور ہے ۔عمران خان نے اپنا کوئی وعدہ پورا کیا یا نہیںوہ ایک الگ بحث ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ انکے وعدوں نے قوم کو اس قابل بنا دیا ہے کہ لوگ اہل اقتدار کے ہر اقدام پر سوال اٹھانے کے قابل ہو گئے ہیں ۔تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو عوام کی جانب سے اظہار رائے کا موجودہ تناسب اور عوامی دباؤ پر یو ٹرن کی مثالیں شازوناظر ہی ملیں گی۔بجلی ، گیس اور بنیادی اشیاضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، ٹیکس کابوجھ اور دن بدن ابترہوتی معاشی صورتحال کا دباؤنچلے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بے یقینی کی صورتحال سے دوچار کیے ہوئے ہے ۔ڈالر کی اونچی اڑان ، افراط زر اور قرضوں کا بوجھ پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کے لئے کوئی انوکھی چیز نہیں ہے ۔پاکستانی قوم کی ایک اچھی اور بیک وقت بری عادت یہ تھی کہ یہ بڑے سے بڑے بحران کو روتے دھوتے گزار لیتی تھی۔یہ قوم 10سے 12گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کے باوجود ڈبل یونٹ کے ریٹ پر یو پی ایس استعمال کرتی رہی ہے ۔یہ قوم ٹھٹھرتی سردی میں بغیر گیس کے گزارا کر تی رہی ہے ۔یہ قوم ڈالر مہنگا ہونے کے باوجود خریدتی رہی ہے ۔یہ قوم مہنگی دال کو سستے گوشت پر فوقیت دیتی رہی ہے۔ یہ قوم ہزاروں کے بل پر سینکڑوں کی ٹپ دیتی رہی ہے ۔یہ قوم کھانا ضائع کرنے کو بھیک میں دینے سے بہتر سمجھتی رہی ہے۔ یہی قوم اپنے منتخب نمائندوں کو ووٹ دینے کے بعد گالیاں دیتی رہی ہے ، پھر آئندہ الیکشنز میںدوبارہ انہی نمائندوں کو ووٹ بھی دیتی رہی ہے اور انکی الیکشن مہم بھی چلاتی رہی ہے ۔مگرآج کے دور کا 70 کی دہائی سے موازنہ کریں تو حالات اس سے بھی کئی گنا زیادہ خراب تھے لیکن پھرآج ایسا کیا ہو گیا کہ ہر طرف افراتفری اور ہنگامہ برپا ہے ؟وزیر اعظم پاکستان عمران خان بھی شائدیہی سوچ کر عوام کو نہ گھبرانے کی تسلی دیتے ہیں کہ لوگ آہستہ آہستہ مہنگائی اورٹیکس سمیت تمام چیزوں کے عادی ہو جائیںگے۔لیکن محترم وزیر اعظم یہ آپ کی بدقسمتی اور آپکی رعایا کی خوش قسمتی ہے کہ آپکا واسطہ اب ایک باشعورقوم سے ہے اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ خان صاحب اس قوم میں اپنے حق کے لئے اٹھ کھڑے ہونے کا شعور آپ نے ہی اجاگر کیا۔خان صاحب کنٹینر پر کھڑے ہو کراہلیان اقتدارسے حسا ب مانگنے کا طریقہ آپ نے ہی سکھایاتھا لیکن فرق یہ ہے کہ آج سامنے آپ خود کھڑے ہیں ۔ریلوے کو حادثہ ہوتا تھا تو آپ ہی کہتے تھے کہ وزیر ریلوے استعفیٰ دیں ۔وزیر اعظم صاحب مہنگائی کا ذمہ داربھی وقت کے وزیر اعظم کوآپ نے ہی ٹھہرایا تھا ۔ کپتان صاحب آپ نے ہی کہا تھا کہ جب ڈالر و پٹرو ل مہنگا اور قرضہ بڑھ رہا ہو تو سمجھ لو وزیر اعظم چور ہے ۔خان صاحب اب آپ چاہے افسوس ہی کیوں نہ کریں لیکن قوم میں شعور جگانے کا سہرا آپ کے ہی سر ہے ۔خان صاحب یہ عوام باشعور ہیں اسی لیے جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو آپ کے پرانے بیان نکال کر سوشل میڈیا پر چسپاں کر دیتے ہیں ۔ یہ عوام باشعور ہیں اسی لئے ریلوے حادثے پر شیخ رشید کے استعفے کا مطالبہ کر تے ہیں۔ عوام کو یہ اعتماد آپ نے ہی دیا ہے کپتان صاحب کہ عوامی طاقت سے اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والے فیصلوں پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے ۔خان صاحب یہ عوام با شعور ہیں اسی لئے شاہی قلعے میں رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب ہوتا ہے تو سکھ دور کی تاریخ نکال کر مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر بحث شروع ہو جاتی ہے ۔یہ عوام باشعور ہیں اسی لئے جب روٹی اور نان مہنگا کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو فیصلے پر عملدرآمد سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر عوامی دباؤبڑھ جاتاہے۔یہ عوام باشعور ہیں اسی لیے جب آپ پروٹوکول کے خلاف بات کرنے کے بعد وزیر اعظم کا منصب سنبھالتے ہی سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کو کفایت شعاری کے احکامات جاری کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔اور خان صاحب یہ عوام باشعور ہیںجو آپ کے اقتدار میں آ نے کے بعد بدترین معاشی صورتحال پر صبر کئے ہوئے ہیں کہ انھیں امید ہے کہ آپ اس ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔وزیر اعظم صاحب ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر آپ کے سیاسی نعرے نہیں تھے یہ لوگ آپ پر اعتبار کر بیٹھے ہیں۔ خان صاحب صحت اور تعلیم کو بین الاقوامی معیار پر لانے کا وعدہ بھی لوگوں نے حقیقت مان لیاتھا ۔خان صاحب یہ شعور ہی ہے کہ آج کے زیادہ تر نوجوان ملک کی بدترین معاشی صورتحال کے باوجود بیرون ملک مزدوری کرنے کو ترجیح نہیں دے رہے بلکہ وہ آپ کی 50لاکھ ملازمتوں کے وعدے کے وفا ہونے کے منتظر ہیں۔خان صاحب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ واقف حا ل نہیں تھے ۔عوام جاننا چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کا تھنک ٹینک 22سال سے کیا سٹریٹیجی تیار کر رہا تھا ؟کیا آپ نے محض مخالف سیاستدانوں سے عوام کا پیسہ نکلوانے کا نعرہ لگاتے ہوئے وقت گزار دیں گے۔ کیا مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پسنے والے عوام زیادہ دیر تک مخالفین کی کرپشن کی داستانیںسنیں گے نہیں خان صاحب یہ کام اداروں کاہے انھیں آزادانہ کاروائیاں ضرور کرنے دیںمگرآپ اپنے وعدے پورے کرنے کی کوئی راہ بھی نکالیں کیونکہ یہ عوام اب باشعور ہے نہ تو یہ اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے حکمرانوں کو دوبارہ موقع دے گی اور نہ ہی ماضی کی طرح سب کچھ خاموشی سے برداشت کرے گی لہذا آپکو قوم کی مشکل آسان کرنا ہو گی ۔آپکو خود کفیل ملک بنانے کا وعدہ پورا کرنا ہوورنہ یہ قوم ماضی کے حکمرانوں کی طرح آپ پر بھی اپنا اعتماد کھو دے گی ۔


ای پیپر