ن لیگ اور حکومت کا شکوہ اور جوابِ شکوہ
17 جولائی 2019 2019-07-17

پاکستان کی سیاست کے بارے میں پیش گوئی کرنا بہت مشکل کام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹیاں اور حکومتیں کسی نظریہ یا منشور پر نہیں بلکہ شخصی خواہشات کے مطابق چلائی جاتی ہیں اس لیے یہ انداز ہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ خواہش کب کہاں کس موڑ پر بدل جائے۔ آج کل ہماری سیاست میں u-turn سکہ رائج الوقت بنا ہوا ہے ہماری قومی سیاسی شاہراہوں پر آپ کو u کے علاوہ w اور x کی شکل کی موومنٹ بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ u ٹرن عام آدمی کو سمجھ آ جاتا ہے مگر سیاست کے w اورx کو سمجھنا کسی کے بس کی بات نہیں۔

اسی طرح باقی دنیا میں صحافت یا کالم نگاری کے لیے Right person for the right job کے اصول کے مطابق معیشت کی بات ہو تو اس پر لکھنے والا متعلقہ بیک گرائونڈ کا حامل ہوتا ہے اسی طرح سیاست سماج خارجہ تعلقات، منی لانڈرنگ، بے روز گاری ٹیکس ، بچپن کی شادی الغرض ہر موضوع کے ماہرین ہوتے ہیں لیکن ہماری سیاست اور صحافت ساری کی ساری Issue Based ہے جب کوئی نیا موضوع راتوں رات پھوٹ پڑتا ہے تو ملک کے چوٹی کے صحافیوں کے لیے واجب ہو جاتا ہے کہ وہ اس پر لکھیں خواہ وہ اس پرگرفت رکھنے ہیں یا نہیں یہ بالکل ایک طرحی مشاعرے والی صورت حال ہے۔ جس میں سب اپنا اپنا قافیہ ردیف پیش کرتے ہیں۔

گزشتہ دنوں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو لیک نے عدلیہ کے وقار کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں وہ موضوع ابھی نقطہ عروج پر تھا کہ برطانیہ کے اخبار ڈیلی میل کے پاکستان میں correspondent ڈیوڈ روز کی ایک رپورت شائع ہوئی جس میں سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ان کے خاندان کی منی لانڈرنگ کی کہانی پوری تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی جس نے دنیا میں پاکستان کی ساکھ کو خاصا مجروح کیا اور قومی سیاست میں جاری تنائو میں کہیں زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اگر مختلف نقاط کو باہم ملایا جائے تو لگتا ہے کہ جج ویڈیو لیک اور ڈیلی میل سٹوری کو شکوہ اور جواب شکوہ کہا جا سکتا ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ ن لیگ نے ویڈیو لیک کر کے احتساب عدلیہ اور حکومت کی ساکھ کو جو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اس کے جواب میں حکومت نے اخبار کے ذریعے ایسی سٹوری لانچ کروا دی جسے اینٹ کا جواب پتھر کہا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ Who fired the first shot? کہ پہلی گولی کس نے چلائی۔ مریم نواز کی طرف سے پریس کانفرنس میں Edit کی ہوئی جو ویڈیو چلائی گئی ن لیگ کا خیال یہ تھا کہ اس سے پورے ملک میں کہرام مچ جائے گا اور عدالتوں کو نواز شریف کی جیل کے دروازے کھولنا پڑیں گے مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ عدالت نے بڑی تحمل کے ساتھ متنازعہ جج کو عہدے سے ہٹا کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جس میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا اور 99 فیصد چانسز یہ ہیں کہ مذکورہ جج اپنے عہدے پر بحال نہیں ہوں گے اور عدلیہ و احتساب کی Face Saving ہو جائے گی لیکن اس کوشش میں پاکستان مسلم لیگ ن اس حد تک آگے نکل گئی کہ ان کی سیاسی اخلاقیات کا معیار منظر عام پر آ گیا کہ یہ پارٹی کس طرح ججوں کی تعیناتی کرتی رہی ہے اور پھر ان کی کمزوریوں کو Document کر کے کس کس طرح سے انہیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے لیے انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے یہ بہت ہی سنگین نوعیت کا فعل ہے جسے سیاسی پارٹی استعمال کرے گی تو اس کی ساکھ کو نقصان ہو گا ن لیگ آج تک جسٹس قیوم ملک کی ویڈیو لیک کے آسیب سے باہر نہیں نکل سکی۔ اگر اس سارے سکینڈل کو بطور کل دیکھا جاے تو اس طرح کی سودے بازی جہاں ایک جج کے لیے شرمناک ہے وہاں یہ ملک کی بڑی سیاسی پارٹی کے کریکٹر کے اوپر انمٹ دھبہ ہے اور عین ممکن ہے کہ ن لیگ کی سینئر قیادت خصوصاً پریس کانفرنس کرنے والے ن لیگی اس سکینڈل کا لقمہ بن جائیں آئین اور قانون عدالتی عمل کے ذریعے اپنا راستہ طے کرے گا تو چیزیں واضح ہوتی جائیں گی۔

اقتدار کی تاش کے پتوں کے اس کھیل میں جہاں ن لیگ کا Trump card یا رنگ کا پتہ بازی نہیں پلٹ سکا وہاں ن لیگ کے لیے بُری خبر ہو کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر بجلی بن کر گری ہے وہ ڈیلی میل کی وہ خبر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کس طرح شہباز شریف اور ان کے خاندان کے افراد پاکستان سے سرکاری کھاتوں کی رقومات غبن کر کے پیسہ ڈیوڈ روز کے بقول (Sacks ) یعنی بوریوں میں بھر کر انہیں پہنچایا جاتا تھا ۔ رپورٹر کے مطابق شہباز فیملی کا ایک کارندہ برمنگھم میں بظاہر ایک Nondescript یا معمولی نوعیت کا کرنسی ایکسچینج چلاتا تھا اور جو پاکستان شہری بیرون ملک سے اپنی ترسیلات وطن بھیجنا چاہتے تھے ان سے پیسے وصول کر کے ان کے عوض پاکستان میں موجود کرپشن منی ان کے لواحقین کو کیش یا بینک ٹرانسفر دیدی جاتی تھی اس طرح جو پیسہ برمنگھم کے مننی چینجز کے کائونٹر سے اکھٹا ہوتا تھا اسے قانون کی نظر میں آئے بغیر شہباز شریف کے اہل خانہ اور داماد کے کھاتوں میں وائٹ منی کی شکل میں بھیج دیا جاتا تھا یہ ایک بہت ہی ہائی لیول Syndicate تھا جسے پکڑنا انگلینڈ والوں کے لیے نا ممکن تھا۔ پاکستان میں اس پیسے سے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں جائیدادیں خریدی جاتی تھیں۔ یہ 54 ملین پائونڈ یا 20 ارب روپے کا سکینڈل ہے جو کہ ہوشربا اعداد و شمار ہیں۔

ڈیوڈ روز نے یہ نہیں کہا کہ یہ ساری کی ساری رقم زلزلہ کی بحالی کے لیے بھیجی گئی برطانوی سرکاری ادارے DFID کے فنڈز سے خوردبرد کی گئی ہے بلکہ اس نے صرف اتنا کہا تھا کہ مذکورہ رقم کا کچھ حصہ برطانوی شہریوں کے ٹیکس کی رقم کا تھا جو DFID نے زلزلہ میں سکولوں اور اسپتالوں کو تعمیر کے لیے دیا تھا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ زلزلہ بحالی کے لیے قائم ادارہ ERRA کے ایک ڈائریکٹر نوید اکرم نے مذکورہ ادارے کے اکائونٹ سے 6 کروڑ روپے شہباز شریف کے داماد علی عمران کے اکائونٹ میں ٹرانسفر کیے جس کی رسید نیب کے پاس موجود ہے یہی وہ ثبوت ہے جس کے بارے میں ڈیوڈ روز کا دعویٰ ہے کہ اس نے ریکارڈ دیکھا ہے ۔ نیب کے پاس مذکورہ ٹرانزیکشنز کے ریکارڈ کے علاوہ ان جائیدادوں کی تفصیلات بھی ہیں جو اس پیسے سے خریدی گئی اور جنہیں اب حکومت ضبط کرنا چاہتی ہے۔بغور مطالعہ کیا جائے تو ڈیلی میل کی اس سٹوری میں DFID اور ERRA کا ذکر ضمناً کیا گیا ہے اصل الزامات کی سنگینی بتاتی ہے کہ اگر DFID اس میں کلیئر بھی ہو جاتی ہے تو بھی منی لانڈرنگ نیٹ ورک کو Deny کرنا بہت مشکل ہے ۔ ڈیوڈ روز خود چونکہ برطانوی شہری تھا اور خبر برطانوی اخبار میں چھپ رہی تھی لہٰذا DFID کا ذکر کر کے اس نے سٹوری کو محض ایک British Touch دیا ہے ۔ اصل الزامات کہیں زیادہ وزنی ہیں۔ DFID کی طرف سے تروید اگلے ہی دن آ گئی تھی کیونکہ برطانیہ کی کمزور تنکوں پر قائم حکومت Brexit کی وجہ سے بحران کا شکار ہے جہاں دو وزرائے اعظم کو گھر جانا پڑا ہے ۔ یہ تردید اگر برطانوی ہائی کمشنر یا وزارت خارجہ کی طرف سے آتی تو زیادہ معتبر ہوتی۔ بہر حال اس کیس کے آفٹر شاکس برطانوی حکومت کے لیے اور برطانوی عدالتی نظام کے لیے بھی دبائو کا باعث بنیں گے کیونکہ آنے والے وقت میں ملزمان علی عمران سلمان شہباز وغیرہ کی Extradition یا پاکستان کو حوالگی کا معاملہ برطانوی عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ہو گا اور یہ فیصلہ کیس کے میرٹ کی بجائے سیاسی بنیاد پر ہو گا ۔

میاں نواز شریف کی فیملی پاکستان کی قومی سیاست سے پہلے ہی آئوٹ ہو چکی ہے اور شہباز شریف اور ان کی فیملی کو اب اسی صورت حال کا سامنا ہے شریف خاندان کا سیاسی مستقبل کافی حد تک مخدوش ہو چکا ہے جس کی بنیادی وجہ مریم نواز کی ضدی اور اکھڑ سیاست ہے اگر ڈان لیکس سے لے کر اب تک کے حالات کا جائزہ لیں تو ن لیگ کی ساری مشکلات اور جنگی سیاست کے پیچھے مریم نواز نظر آتی ہیں تجزیہ نگار تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر وہ Involve نہ ہوتیں تو میاں نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم ہوتے۔

حکومت اس وقت معاشی پالیسیوں اور غیر معقول فیصلوں کی وجہ سے اپنی ساکھ بری طرح کھوتی جارہی ہے اس ماحول میں احتساب اور بد عنوانی اور منی لانڈرنگ واحد ایشو ہے جو عمران خان حکومت کو سہارا دیئے ہوئے ہے کیونکہ نواز شریف اور زرداری کے ادوار کی وجہ سے لوگ انہیں اپنے مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور وہ سب انہیں پابندِ سلاسل دیکھتے ہیں تو انہیں احتساب کا وعدہ پورا ہوتا نظر آ تاہے۔ اگر عمران خان اپنے دورۂ امریکہ میں صدر ٹرمپ سے کوئی ریلیف لینے میں کامیاب ہو گئے تو وہ اپنی ٹرم پوری کرنے کی پوزیشن میں آ جائیں گے جس کا سب سے زیادہ نقصان ن لیگ کو ہو گا ۔ جس طرح PPP اتنی بڑی سیاسی قوت کے بعد سکڑ چکی ہے یہی عمل ن لیگ کی سیاست کو انجام کی طرف دھکیل رہا ہے۔


ای پیپر