سوروٹیاں کھانے والا، حمایت علی شاعر اور تسنیم جعفری …؟؟
17 جولائی 2019 2019-07-17

آج صبح سویرے شہزاد اسلم سپرا کا وٹس ایپ آیا... ایک سمارٹ سا شخص ایک تندور پے بیٹھا دھڑا دھڑ روٹیاں کھائے چلا جا رہا تھا..ساتھ ساتھ اُس کی آواز بھی تھی... ’’ میں جب پیسے کم ہُوں تو پچاس روٹیوں پر اکتفاء کر لیتا ہوں ورنہ ساٹھ ستر روٹیاں نہ کھائوں تو مرنے والا ہو جاتا ہوں ‘‘...

میری ہنسی نکل گئی... دل چاہا.. دیوار میں سر ماروں پھر سوچا کہ ڈاکٹر ( سائنسی بابو... یا سائنسی لکھاری) طارق ریاض سے بات کروں اور پوچھوں کہ کیا وجہ ہے اِس بارے میں سائنس کیا بتاتی ہے کہ ہم جیسی جسمانی ثباہت والا گوجرانوالہ کا یہ شخص ساٹھ ستر روٹیاں ایک ہی وقت میں کھا جاتا ہے جبکہ ہم ایک چپاتی سے ہی گزارہ کر لیتے ہیں ۔پھر سوچا کہ محترمہ تسنیم اختر جعفری کو Disturb کروں ... کہ وہ بھی تو بچوں کے لیئے سائنسی موضوعات پر کتابیں لکھتی ہیں ..؟؟!! اور معروف ادبی ویب سائٹ ادیب نگر کی منتظم بھی ہیں۔ ویسے مجھے بعد میں احساس ہوا کہ یہ مسلئہ سائنسی ادب لکھنے والوں کا نا تھا یہ تو کسی پورا بکرا کھا جانے والے پہلوان یاویٹ لیفٹر کا تھا ۔

ہمارے لڑکپن میںصوفی غلام مصطفی تبسم دوسری طرف مرزا ادیب اور پھر شفیق الرحمان.. اِن تین لکھاریوں کے گرد گھومتی تھی ہماری زندگی...پھر ہمیں پتہ چلا کہ اِک غیر ملکی خاتون نے لکھ ڈالا ’’ ہیری پورٹر‘‘ کا کردار۔ کاش ہمارے پیارے اشتیاق احمد بھی کسی جیری لُوس کی نظر میں آجاتے۔یا انہیں بھی کوئی نارمن وِزڈم پہچان لیتا۔ لیکن ہمارے ہاں تو شکل صورت بھی اچھی ہو تو عام لوگوں کو نہیں بھاتی۔ یہاں صرف ’’ دولت‘‘ مند ہی دولت جیسی سونے کی سیڑھی پر چڑھ کر چاند تک پہنچ جانے کے خواب دیکھ سکتا ہے۔ ہماری سیاست ’’ دولت‘‘ کے گرد.. ہماری سماجی زندگی’’دولت کے گرد.. ہماری رات ہمارا دن بھی دولت کے گرد گھوم رہے ہیں۔

آج محترم جناب حمایت علی شاعر اللہ کو پیارے ہو گئے۔وہ اِس وقت ٹورنٹو میں اپنے فرزند بلند اقبال کے ہاں مقام پزیر تھے۔1925 میں پیدا ہونے والا یہ نامور شاعر چپکے سے دنیا سے رخصت ہو گیا۔ حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نسلوں کی تربیت کی اور اپنا کردار نئی نسل کو سنوارنے میں لگا دیا لیکن ان کو ملکی سطح پر پزیرائی نہ ملی۔ حمایت علی شاعر نے 1965 کی جنگ میں دو نہایت بلندپایا قومی / ملی گانے لکھے جو آج تک زبان ردِ عام ہیں۔

1)) جاگ اُٹھا ہے سارا وطن ساتھیو مجاہدو

(2) اے دشمن دیں تو نے کس قوم کو للکارا

بچوں کے ادب کے حوالے سے بات کا آغاز ہوا تو یاد آیا کہ ہم نصا ب کی کتابوں میں صوفی تبسم کی نظمیں پڑھتے۔اسماعیل میرٹھی اور علا مہ اقبال کا کلام گاتے۔ایسے ہی مرزا ادیب سر سید احمد خان مرزا غالب ہمیں پڑھائے جاتے۔ وہ جو نامور مصنف برٹرینڈ رسل نے کہا ہے کہ دنیا میں بہت سے کام الٹ پلٹ ہو رہے ہیں۔ بڑھتی کے کام کے قابل شخص اقتدار پر قابض ہو جاتا ہے۔ جسے آرٹسٹ ہونا ہوتا ہے اُسے روٹی روزی کی خاطر لو ہار کا کام کرنا پڑ جاتا ہے۔مرزا ادیب نے بچوں کے لیئے عالی شان ادب تخلیق کیا.. لیکن کسی ادارے نے اُن کی وفات کے بعد اُن کے نامور افسانوں کے مجموعے دوبارہ شائع کرنا پسند نہیں کئے حالانکہ تاریخ ادب گواہ ہے کہ مرزا ادیب کے...صحرانوارکے خطوط...صحرانوار کے رومانس، مٹی کا دیا اِس قابل ادب پارے تھے کہ جو بار بار شائع ہونے ضروری تھے۔مرزا ادیب یا ان جیسے سینکڑوں لکھاریوں کا کلام یا تحریریں تو دور کی بات ہمارے ہاں تو علامہ اقبال (قومی شاعر ) کا کلام بھی ہمیں خرید کر پڑھنا پڑتا ہے جو کہ مفت۔ ...Available ہونا چاہیے کہ ہر آنے والی نسل اس کلام سے استفادہ کرے کہ اپنی روایات سے تعلق جوڑے رکھنا قوموں کی ترقی کے لیئے نہایت ضروری ہوتا ہے۔اشتیاق احمد، مظہر کلیم ، اِبن صفی ’’ دیوتا‘‘ کے خالق محی الدین نواب نے لاکھوں قیمتی صفحات لکھے لیکن وہ اُن کے شہہ پارے تصّور نہ ہوئے مزدوری بن گئیں وہ قابل قدر تحریریں اور اُن کو روزگار کے لیئے... یہ سب لکھنا پڑا.. ہیری پورٹر کی خالق نے مخصوص وقت یہ سیریز لکھی دنیا بھر میں شہرت بھی پائی اور دولت بھی... اور پھر کہہ دیا کہ اب میں مزید نہیں لکھوں گی۔دراصل آج بھی لوگ ادبی تحریریں پسند کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں معاملات دوسرے شعبوں کی طرح کتاب اور لکھاری کے حوالے سے مختلف ہیں ۔

ڈاکٹر طارق ریاض جو بچوں کے منفرد لکھاری ہیں جن کے کام سے میرے سمیت ہزاروں پڑھنے والے بچے بھی متاثر ہیں کہ انہوں نے عام سے انداز میں کہانیاں یا مضامین لکھنے سے پرہیز کیا اور وقت کی ضرورت کے تحت سائنسی کہانیاں لکھیں اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر طارق ریاض جنہوں نے پلانٹ تپھالوجی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد پی-ایچ-ڈی بھی کی اردو میں سائنسی ادب کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ایسے ہی ایک دن اردو سائنس بورڈ کے دفتر میں جو سائنسی ادب کی ترویج کے لیئے کوشاں ایک ادارہ ہے جہاں میں نے کچھ سائنسی موضوعات پر بچوں کے لیئے کتابیں دیکھیں تو میرا Interest ہوا تو میں بچوں کے اِس سائنسی ادب سے وابستہ اِک عظیم لکھاری سے متعارف ہوا .. یہ کم گو قسم کے لوگ چپکے سے اپنے تخلیقی کام میں مگن رہتے ہیں اِس لیئے یہ خود کو نمایاں کرنے میں کبھی بھی اِک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش نہیں کرتے۔

میں نے پچاس روٹیاں کھانے والے گوجرانوالہ کے رہائشی کے حوالے سے بات کرنا چاہی تو موصوفہ مسکرا دیں اور آئستہ سے بولیں ...

بھئی... میں تو ایک وقت میں آپ کی طرح ایک ہی چپاتی کھاتی ہوں ... اور ایک صحت مند انسان کی طرح زندگی بھی بسر کر رہی ہوں؟!! اور بچوں کے لیئے سائنسی ادبی کتابیں بھی لکھتی چلی جا رہی ہوں ۔

محترمہ تسنیم اختر جعفری نے ’’ لے سانس بھی آہستہ‘‘ ... ’’ میرے وطن کی یہ بیٹیاں ‘‘ ... ’’ ماحول سے دوستی کیجئے‘‘ ...’’ مریخ سے ایک پیغام‘‘ جیسی کتابیں لکھیں جو بچوں میں خاص طور پر سائنسی ادب سے وابستہ بچوں میں بے حد مقبول ہیں۔اِس وقت بھی محترمہ کی آسکر وائیلڈ کے تراجم اور دوسری بچوں کے لیئے سائنسی موضوعات پر کتابیں رثالت کے مراحل میں ہیں ۔ملک میں جہاں دیگر شعبوں میں انقلابی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیئے وظائف حکومتی سطح پر.. عالمی سطح پر دیئے جاتے ہیں ۔ اردو ادب خاص طور پر بچوں کے ادب کے حوالے سے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی ،موضوعات میں جدّت اور حکومتی سطح پر کتابوں کی اشاعت اور اُن پر بڑے انعامات بھی دیئے جائیں کہ بقول آغا شورش کا شمیری ...

’’ ادیب کا قلم اور عوام کے قدم اِک ساتھ چلتے ہیں ‘‘


ای پیپر