میرے گھر سے 14 من سونا نہیں نکلا : روبینہ خالد
17 جولائی 2019 (18:48) 2019-07-17

اسلام آباد :چیئر پرسن قائمہ کمیٹی آئی ٹی سینیٹر روبینہ خالد نے شوشل میڈیا پر اپنے بارے میں منفی پروپیگنڈے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بارے میں سوشل میڈیا پر چلایا جا رہا ہے گھر سے چودہ من سونا نکلا ۔

ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ میں اپنا کیس سائبر کراِئم ونگ کے حوالے کرتی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اگر اتنا سونا نکلتا ہے تو کھربوں روپے کی گیم بنتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت ایمنسٹی ہی دے دیتی ٹیکس دیکر کچھ تو مجھے بچ جاتا ۔رحمن ملک نے کہاکہ اس کیس کو کمیٹی پٹینشن کے طور پر لے رہی ہے ،ایف آئی اے سات دن میں معاملے پر رپورٹ دے ۔ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ نے کہاکہ فیس بک کو لکھ دیا ہے ،سات ہفتوں میں رپورٹ ملے گی ۔

روبینہ خالد نے کہاکہ بندہ پاکستان میں ہے آپ فیس بک کو لکھ رہے ہیں ،ملک کے اندر رہ کریہ کام ہو رہا ہے ۔ چیئر ین پی ٹی اے نے کہاکہ فیس بک ہماری بات سن لیتا ہے ٹویٹر بالکل بات نہیں سنتا ۔ انہوںنے کہاکہ فیس بک کے نمائندے پاکستان میں ہیں ٹویٹر کا ملک میں کوئی نمائندہ نہیں ۔ رحمن ملک نے کہاکہ ٹویٹر کو فوری طور پر لکھا جائے کہ پاکستان کیلئے نمائندہ مقرر کریں ورنہ ملک میں سروس بند کر دی جائیگی ۔

سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہاکہ وزارت آئی ٹی اور ذیلی اداروں میں سٹاف کی تعداد 5 ہزار 3 سو 19 ہے انہوں نے کہاکہ کوٹہ کے تحت بلوچستان کی کم از کم 300 پوسٹس ہونی چاہیے تھیں ۔سیکرٹرٹی آئی ٹی نے بتایاکہ وزارت آئی ٹی میں کوٹہ سے زیادہ بلوچستان کی پوسٹ ہیں ،وزارت کے ذیلی اداروں میں کوٹہ لگو نہیں ہوتا ۔ سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہاکہ بلوچستان کے 200 بندے بتائے جا رہے ہیں مگر تمام لوگوں کا ڈومیسائل اصل ہونے کی گارنٹی نہیں ۔ خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ میں نے وزارت کو ہدایت کی ہے کہ کوٹے کا خیال رکھا جائے ۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہاکہ پاکستان سائبر کرائم روکنے کیلئے عالمی معاہدوں کا ممبر بنے ۔ انہوں نے کہاکہ سائبر کرائم روکنے کیلئے دوست ممالک سے مدد لی جائے ۔چیئر مین پی ٹی اے نے بتایاکہ ملک میں جنسی مواد والی 8 لاکھ سے زائد ویب سائٹ کو بلاک کیا گیا ہے ،بچوں کیخلاف جنسی جرائم والی 2 ہزار 4 سو ویب سائٹ بلاک کی گئیں ۔انہوںنے بتایاکہ ڈارک ویب سائٹ کو بلاک کرنا خاصا مشکل ہے ،پاکستان سے کوئی مواد بن کر نیٹ پر اپ لوڈ ہونے کے شواہد نہیں ملے ۔ چیئر مین پی ٹی اے نے بتایاکہ قصور واقعہ کی کیا تفصیلات ہیں اس پر کیا کارروائی کی گئی ۔


ای پیپر