جب ایک صحابیؓ کا چہرہ دیکھ کر پورےکا پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا
17 جولائی 2019 (17:13) 2019-07-17

حضرت سعدبن معاذؓ

آپؓ نے مختلف غزوات میں بے مثال عزیمت وشجاعت کا مظاہر ہ کیا

حافظ محمد عمر

حضرت سعد بن معاذ ؓ قبیلہ اشہل کے سردار اور معزز صحابیؓ تھے۔ آپؓ کا نام سعد، ابو عمر وکنیت اور سید الاوس لقب ہے۔آپؓ کا سلسلہ نسب یوں ہے: سعد بن معاذ بن نعمان بن امرو¿ القیس بن زید بن عبد الاشہل بن حشم بن حارث بن خزرج بن بنت (عمرو) بن مالک بن اوس۔ آپؓ کی والدہ کا نام کبشہ بنت رافع تھا۔ قبیلہ اشہل ، قبائل اوس میں شریف ترین قبیلہ تھا اور سیادت عامہ اس میں وراثت چلی آتی تھی۔ والد نے ایام جاہلیت ہی میں وفات پائی۔ والدہ موجود تھیں، ہجرت سے قبل ایمان لائیں اور حضرت سعد ؓکے انتقال کے بعد بہت دنوں تک زندہ رہیں۔

قبول اسلام

سیدنا سعد بن معاذ ؓایمان لانے سے پہلے سیدنا مصعب ؓ کو مدینہ منورہ میں اسلام کی دعوت دینے سے باز رکھنے کے لیے ان کے پاس گئے۔ سیدنا اسعد بن زرارہ ؓ نے سیدنا مُصعب ؓ سے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ تمہارے پاس ایک ایسا سردار آ رہا ہے، جس کے پیچھے اس کی پوری قوم ہے۔ اگر اس نے تمہاری بات مان لی تو پھر ان میں سے کوئی بھی نہ پچھڑے گا۔ سیدنا مصعب ؓ نے سعد بن معاذ ؓ سے کہا: کیوں نہ آپ تشریف رکھیں اور سنیں۔ اگر کوئی بات پسند آگئی تو قبول کر لیں اور اگر پسند نہ آئی تو ہم آپ کی ناپسندیدہ بات کو آپ سے دور ہی رکھیں گے۔ سیدنا سعد ؓ نے کہا: انصاف کی بات کہتے ہو، اس کے بعد اپنا نیزہ گاڑ کر بیٹھ گئے۔ سیدنا مصعب ؓ نے ان پر اسلام پیش کیا اور قرآن کی تلاوت کی۔ ان کا بیان ہے کہ ہمیں سیدنا سعد ؓ کے بولنے سے پہلے ہی ان کے چہرے کی چمک دمک سے ان کے اسلام کا پتہ لگ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے زبان کھولی اور فرمایا: تم لوگ اسلام لاتے ہو تو کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ غسل کر لیں، پھر حق کی شہادت دیں، پھر دور کعت نماز پڑھیں۔ سیدنا سعد ؓ نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد اپنا نیزہ اٹھایا اور اپنی قوم کی محفل میں تشریف لائے۔ لوگوں نے دیکھتے ہی کہا: ہم واللہ! کہہ رہے ہیں کہ سعد (رضی اللہ عنہ) جو چہرہ لے کر گئے تھے اس کے بجائے دوسرا ہی چہرہ لے کر پلٹے ہیں۔ پھر جب سیدنا سعد ؓ اہل مجلس کے پاس آکر رکے تو بولے: اے بنی عبد الاشہل! تم لو گ اپنے اندر میرا معاملہ کیسا جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ ہمارے سردار ہیں۔ سب سے اچھی سوجھ بوجھ کے مالک ہیں اور ہمارے سب سے بابرکت پاسبان ہیں۔ انہوں نے کہا: اچھا تو سنو! اب تمہارے مردوں اور عورتوں سے میری بات چیت حرام ہے جب تک کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لاو¿۔ آپؓ کی اس بات کا یہ اثر ہواکہ شام ہوتے ہوتے اس قبیلے کا کوئی بھی مرد اور کوئی بھی عورت ایسی نہ بچی جو مسلمان نہ ہو گئی ہو۔ صرف ایک آدمی جس کا نا م ا±صیرم تھا اس کا اسلام جنگِ احد تک مو¿خر ہوا۔

سیدنا سعد بن معاذ ؓ مختصر سی اسلامی زندگی کے اوراق پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات بخوبی عیاں نظر آتی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ ؓ کو جب جب موقع ملا، آپؓ نے بے مثال عزیمت وشجاعت کا مظاہر ہ کیا۔ بالخصوص غزوہ بدر اور غزوہ بنی قریظہ دو ایسے مواقع ہیں جب آپؓ کی فہم و فراست اور اولو العزمی حد درجہ کمال کو پہنچی نظر آتی ہے۔

سعد بن معاذؓ اور غزوہ بدر

میدان بدر میں رسول اللہ نے ایک اعلیٰ فوجی مجلس شوریٰ میں درپیش صورتحال کی سنگینی کا تذکرہ فرماتے ہوئے کمانڈروں اور عام فوجیوں سے تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پہلے سیدناابوبکر ؓ ، پھر عمر بن الخطاب ؓ اور پھر مقداد بن عمرو ؓ نے پُرعزیمت کلام کیا۔ تاہم یہ تینوں کمانڈر مہاجرین میں سے تھے جن کی تعداد لشکر میں کم تھی۔ جبکہ رسول اللہ کی خواہش تھی کہ انصار کی رائے معلوم کریں کہ وہ لشکر میں اکثریت میں تھے اور معرکے کا اصل بوجھ انہی کے شانوں پر پڑنے والا تھا۔ یہ بات سیدنا سعد بن معاذ ؓ جو کہ انصار کے کمانڈر اور علمبردار تھے، بھانپ گئے۔ چنانچہ انہوں نے عرض کی: بخدا ایسا معلوم ہوتا ہے اے اللہ کے رسول کہ آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپ نے اثبات میں جواب دیا۔ جس پر سیدنا سعد بن معاذ ؓ یوں گویا ہوئے: ”ہم تو آپ پر ایمان لائے ہیں۔ آپ کی تصدیق کی ہے۔ اور یہ گواہی دی ہے کہ آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں سب برحق ہے اور اس پر ہم نے آپ کو اپنی سمع و اطاعت کا عہد و میثاق دیا ہے۔ چنانچہ اے اللہ کے رسول ! آپ کا جو ارادہ ہے اس کے لئے پیش قدمی فرمائیے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپ ہمیں ساتھ لے کر اس سمندر میں بھی کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی آپ کے ساتھ کود پڑیں گے۔ ہمارا ایک بھی آدمی پیچھے نہ رہے گا۔ ہمیں قطعاً کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ آپ کل ہمارے ساتھ دشمن سے ٹکرا جائیں۔ ہم جنگ میں پامرد اور لڑنے میں جواں مرد ہیں۔ اور ممکن ہے اللہ آپ کو ہمارا وہ جوہر دکھلائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ پس آپ ہمیں ہمراہ لے کر چلیں۔ اللہ برکت دے“۔ سیدنا سعد بن معاذ ؓ کی یہ بات سن کر رسول اللہ بہت خوش ہوئے۔

غزوہ احزاب

غزوہ احزاب میں سیدنا سعد بن معاذ ؓ کو ایک تیر لگا جس سے ان کے بازو کی بڑی رگ کٹ گئی۔ انہیں حبان بن عرقہ نامی ایک قریشی مشرک کا تیر لگا تھا۔ سیدنا سعدؓ نے (زخمی ہونے کے بعد) دُعا کی کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ جس قوم نے تیرے رسول کی تکذیب کی اور انہیں نکال باہر کیا ان سے تیری راہ میں جہاد کرنا مجھے جس قدر محبوب ہے، اتنا کسی اور قوم سے نہیں۔ اے اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ اب تو نے ہماری اور ان کی جنگ کو آخری مرحلے تک پہنچا دیا ہے۔ پس اگر قریش کی جنگ کچھ باقی رہ گئی ہو تو مجھے ان کے لیے باقی رکھ کہ میں ان سے تیری راہ میں جہاد کروں اور اگر تو نے لڑائی ختم کر دی ہے تو اسی زخم کو جاری کرکے اسے میری موت کا سبب بنا دے۔ ان کی اس دُعا کا آخری ٹکڑا یہ تھا کہ (لیکن) مجھے موت نہ دے یہاں تک کہ بنو قریظہ کے معاملے میں میری آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہو جائے (بحوالہ: رحیق المختوم)

غزوہ بنو قریظہ

جس روز رسول اللہ خندق سے واپس تشریف لائے اسی روز ظہر کے وقت جبکہ آپ سیدہ ا±مِ سلمہ ؓ کے مکان میں غسل فرما رہے تھے جبریل ؑ تشریف لائے۔ اور فرمایا: کیا آپ نے ہتھیار رکھ دیئے حالانکہ ابھی فرشتوں نے ہتھیار نہیں رکھے۔ اور میں بھی قوم کا تعاقب کر کے بس واپس چلا آرہا ہوں۔ اٹھئے! اور اپنے رفقاءکو لے کر بنو قریظہ کا رخ کیجیے۔ میں آگے آگے جا رہا ہوں۔ ان کے قلعوں میں زلزلہ برپا کروں گا، اور ان کے دلوں میں رعب ودہشت ڈالوں گا۔ یہ کہہ کر حضرت جبریل ؑ فرشتوں کے جلو میں روانہ ہو گئے۔ ادھر رسول اللہ نے ایک صحابی ؓ سے منادی کروائی کہ جو شخص سمع وطاعت پر قائم ہے وہ عصر کی نماز بنو قریظہ ہی میں پڑھے۔ اس کے بعد مدینے کا انتظام حضرت ابن ام مکتوم ؓکو سونپا۔ اور حضرت علیؓ کو جنگ کا پھریرا دے کر آگے روانہ فرما دیا۔ وہ بنو قریظہ کے قلعوں کے قریب پہنچے اور اسلامی لشکر نے ان کا محاصرہ کر لیا جب محاصرہ سخت ہو گیا تو یہود نے رسول اللہ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ابولبابہ ؓکو ہمارے پاس بھیج دیں۔ ہم ان سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں۔ ابولبابہ ؓ ان کے حلیف تھے۔ اور ان کے باغات اور آل اولاد بھی اسی علاقے میں تھے۔ جب ابولبابہ ؓ وہاں پہنچے تو مرد حضرات انہیں دیکھ کر ان کی طرف دوڑ پڑے۔ اور عورتوں اور بچے ان کے سامنے دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ اس کیفیت کو دیکھ کر سیدنا ابولبابہ ؓ پررقت طاری ہوگئی۔ یہود نے کہا: ابولبابہ ؓ! کیا آپ ؓ مناسب سمجھتے ہیں کہ ہم محمد کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! لیکن ساتھ ہی ہاتھ سے حلق کی طرف اشارہ بھی کر دیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ذبح کر دیئے جاو¿ گے، لیکن انہیں فوراً احساس ہوا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت ہے۔ چنانچہ وہ رسول اللہ کے پاس واپس آنے کے بجائے سیدھے مسجد نبوی پہنچے۔ اور اپنے آپ کو مسجد کے ایک کھمبے سے باندھ لیا۔ اور قسم کھائی کہ اب انہیں رسول اللہ ہی اپنے دست مبارک سے کھولیں گے۔ اور وہ آئندہ بنو قریظہ کی سرزمین میں کبھی داخل نہ ہوں گے۔ ادھر رسول اللہ محسوس کر رہے تھے کہ ان کی واپسی میں دیر ہو رہی ہے.... ابو لبابہ ؓکے اشارے کے باوجود بنو قریظہ نے یہی طے کیا کہ رسول اللہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ اور وہ جو فیصلہ مناسب سمجھیں کریں حالانکہ بنو قریظہ ایک طویل عرصے تک محاصرہ برداشت کر سکتے تھے کیونکہ ایک طرف ان کے پاس وافر مقدارمیں سامان خوردو نوش تھا، پانی کے چشمے اور کنوئیں تھے۔ مضبوط اور محفوظ قلعے تھے۔ اور دوسری طرف مسلمان کھلے میدان میں خون منجمد کر دینے والے جاڑے اور بھ±وک کی سختیاں سہہ رہے تھے۔ اور آغازِ جنگِ خندق کے بھی پہلے سے مسلسل جنگی مصروفیات کے سبب تکان سے چور چور تھے، لیکن جنگ بنی قریظہ درحقیقت ایک اعصابی جنگ تھی۔ اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا تھا۔ اور ان کے حوصلے ٹوٹتے جارہے تھے۔ پھر حوصلوں کی یہ شکستگی اس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب سیدنا علی بن ابی طالب ؓ اور سیدنا زبیر بن عوام ؓ نے پیش قدمی فرمائی۔ اور سیدنا علی ؓ نے گرج کر یہ اعلان کیا کہ ایمان کے فوجیو! اللہ کی قسم! اب میں بھی یا تو وہی چکھوں گا جو حمزہ ؓ نے چکھا یاان کا قلعہ فتح کر کے رہوں گا۔ چنانچہ سیدنا علی ؓ کا یہ عزم سن کر بنو قریظہ نے جلدی سے اپنے آپ کو رسول اللہ کے حوالے کر دیا کہ آپ جو فیصلہ مناسب سمجھیں کریں۔ رسول اللہ نے حکم دیا کہ مردوں کو باندھ دیا جائے۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ انصاری ؓ کے زیر نگرانی ان سب کے ہاتھ باندھ دیئے گئے۔ اور عورتوں اور بچوں کو مَردوں سے الگ کر دیا گیا۔ قبیلہ اوس کے لوگ رسول اللہ سے عرض پرداز ہوئے کہ آپ نے بنو قینقاع کے ساتھ جو سلوک فرمایا تھا وہ آپ کو یاد ہی ہے بنو قینقاع ہمارے بھائی خَزرج کے حلیف تھے اور یہ لوگ ہمارے حلیف ہیں۔ لہٰذا ان پر احسان فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: کیا آپ لوگ اس پر راضی نہیں کہ ان کے متعلق آپ ہی کا ایک آدمی فیصلہ کرے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تو یہ معاملہ سعد بن معاذ ؓکے حوالے ہے۔ اَوس کے لوگوں نے کہا: ہم اس پر راضی ہیں۔ اس کے بعد آپ نے سیدنا سعد بن معاذ ؓ کو بلا بھیجا۔ وہ مدینہ میں تھے، لشکر کے ہمراہ تشریف نہیں لائے تھے، کیونکہ جنگِ خندق کے دوران ہاتھ کی رگ کٹنے کے سبب زخمی تھے۔ انہیں ایک گدھے پر سوار کر کے رسول اللہ کی خدمت میں لایاگیا۔ جب قریب پہنچے تو ان کے قبیلے کے لوگوں نے انہیں دونوں جانب سے گھیر لیا۔ اور کہنے لگے: سعد! اپنے حلیفوں کے بارے میں اچھائی اور احسان سے کام لیجئے گا ... رسول اللہ نے آپ ؓکو اسی لیے حَکم بنایا ہے کہ آپ ؓ ان سے حسن سلوک کریں۔ مگر وہ چپ چاپ تھے کوئی جواب نہ دے رہے تھے۔ جب لوگوں نے گزارش کی بھر مار کردی تو بولے: اب وقت آگیا ہے کہ سعد کو اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی پروا نہ ہو۔ یہ سن کر بعض لوگ اسی وقت مدینہ آگئے اور قیدیوں کی موت کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد جب سیدنا سعدؓ نبی کریم کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا: اپنے سردار کی جانب اٹھ کر بڑھو۔ (لوگوں نے بڑھ کر) جب انہیں اتار لیا تو کہا: اے سعد! یہ لوگ آپ کے فیصلے پر اترے ہیں۔ سیدنا سعد ؓنے کہا : کیا میرا فیصلہ ان پر نافذ ہوگا ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں ! انہوں نے کہا مسلمانوں پر بھی لوگوں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے پھر کہا: اور جو یہاں ہیں ان پر بھی، ان کا اشارہ رسول اللہ کی فرودگاہ کی طرف تھا۔ مگر اجلال وتعظیم کے سبب چہرہ دوسری طرف کر رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں! مجھ پر بھی۔ سیدنا سعد ؓنے کہا: تو ان کے متعلق میرا فیصلہ یہ ہے کہ مردوں کو قتل کر دیا جائے، عورتوں اور بچوں کو قید ی بنا لیا جائے۔ اور اموال تقسیم کر دیے جائیں۔ رسول اللہ نے فرمایا: تم نے ان کے بارے میں وہی فیصلہ کیا ہے جو سات آسمانوں کے اوپر سے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔(بحوالہ: رحیق المختوم)

وفات

غزوہ احزاب میں سیدنا سعد بن معاذ ؓ کو ایک تیر لگا جس سے آپؓ کے بازو کی بڑی رگ کٹ گئی۔ آپؓ کو حبان بن عرقہ نامی ایک قریشی مشرک کا تیر لگا تھا۔ سیدنا سعدؓ نے (زخمی ہونے کے بعد ) دُعا کی کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ جس قوم نے تیرے رسول کی تکذیب کی اور انہیں نکال باہر کیا ان سے تیری راہ میں جہاد کرنا مجھے جس قدر محبوب ہے اتنا کسی اور قوم سے نہیں۔ اے اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ اب تو نے ہماری اور ان کی جنگ کو آخری مرحلے تک پہنچا دیا ہے۔ پس اگر قریش کی جنگ کچھ باقی رہ گئی ہو تو مجھے ان کے لیے باقی رکھ کہ میں ان سے تیری راہ میں جہاد کروں اور اگر تو نے لڑائی ختم کر دی ہے تو اسی زخم کو جاری کر کے اسے میری موت کا سبب بنا دے۔ ان کی اس دُعا کا آخری ٹکڑا یہ تھا کہ (لیکن) مجھے موت نہ دے یہاں تک کہ بنو قریظہ کے معاملے میں میری آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہو جائے۔ (بحوالہ: رحیق المختوم)۔ صحیح بخاری ہی میں ہے: ”سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم سے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ سعد بن معاذ ؓ کی موت پر عرش ہل گیا۔“ امام ترمذی ؒ نے سیدنا انس ؓ سے ایک حدیث روایت کی ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے کہ جب سیدنا سعد بن معاذ ؓ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین نے کہا: ان کا جنازہ کس قدر ہلکا ہے؟ رسول اللہ نے فرمایا اسے فرشتے اٹھائے ہوئے تھے۔ (ترمذی)

٭٭٭


ای پیپر