ٹچ موبائل ....اورڈپریشن
17 جولائی 2019 2019-07-17

مخالف سیاسی جماعتوں کے دورہنما ٹی وی ٹاک شو میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف تھے۔ اینکر بھی اپنی چھیڑی ہوئی اس ”مرغ نما“ لڑائی سے لطف اندوز ہورہا تھا، دونوں سیاسی پارٹیوں کے رہنما ایک دوسرے کو قائل کرنے کی ناکام کوشش کررہے تھے، بحث آگے بڑھی تو دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات لگانے شروع کردیئے ایک پارٹی کا نمائندہ بولا:”مجھے معلوم ہے تم کس کے اشارے پر ناچتے ہو؟“

دوسرا اچانک مشتعل ہوکر بولا!”احمق آدمی! سیاسی بحث میں میری نئی بیگم کو کیوں گھسیٹ رہے ہو۔؟“

درج بالا لطیف مثال سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری ذہنی سطح کس مقام پر آگئی ہے۔ ”ویڈیو لیکس“ کا بازار گرم ہے۔ طرح طرح کے ویڈیو کلپس سے سوشل میڈیا کا دھندہ چمک رہا ہے۔ پہلے ایک ریڈیو ٹی وی اور چنداخبار ہوتے تھے، خبروں کو پر نہیں لگے تھے۔ اگلی صبح ہی خبر طلوع ہوا کرتی تھی، اس وقت ترقی نے ہرانسان کو ”چلتا پھرتا“ صحافی بنادیا ہے۔ یہی نہیں ” ٹچ موبائل “ استعمال کرنے والوں میں سے بہت سوں نے اپنے ویب چینل یا یوٹیوب چینل بنالیے ہیں، سوہم تعلیم یافتہ ہیں یا نہیں، کیمرہ ہروقت آن رکھتے ہیں، اور ضروری بلکہ غیرضروری تصاویر اور ویڈیو بنانے میں ذرا دیر نہیں لگاتے، بعض نوجوانوں نے تو ویڈیو ایڈٹ کرنے کی مہارت بھی حاصل کرلی ہے اور وہ زندگی کے ہرپہلو کوکیمرے کی آنکھ سے دور تک پہنچانے کاکام کررہے ہیں۔ پرانے کلپس نئی خبر کے تناظر میں چلانے کا رحجان بھی بہت زیادہ ہے۔ بچوں اور کچے ذہن کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ایسے موبائل ”بندر کے ہاتھ ماچس“ والی بات ہے اگلے روز یہ بندر والا کلپ بھی نظروں سے گزرا چند غیرملکی افریقی فوجی بندروں کو چھیڑ رہے تھے، فوجیوں کے پاس، بندوقیں بھی تھیں۔ ایک سپاہی بندوق سے بندر کی طرف نشانہ باندھنے کی اداکاری کررہا تھا کہ دوسرے نے بندر کے طرف اپنی بندوق اچھال دی بس بندر نے بندوق سیدھی فوجیوں کی طرف کرلی ....اندازہ لگائیں کیا ہوا ہوگا۔ نئی نسل کیا عمررسیدہ لوگ بھی ”ٹک ٹاک“ پر اپنے فنکارانہ جوہر دکھاتے نظر آتے ہیں۔ آپ گھر ہی میں نگاہ ڈال لیجئے ، ایک کمرے میں تین لوگ موجود ہیں تو تینوں کی نگاہیں اپنے موبائل پر چپکی ہوں گی۔ کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی ہوگی اور کمرے کے مکین اپنے اپنے موبائل پر ”محو“ ہوں گے۔ گھر سے باہر نکل کر دیکھ لیں۔ بس ، ویگن ، فیکٹری ، کالج یونیورسٹی کسی بھی جگہ چلے جائیں فارغ کوئی نہیں ہوگا۔ ہرکوئی موبائل پر مصروف ۔اب تو محافل میں بھی لوگ اسے نہیں چھوڑتے۔ جس طرح یہ ٹی وی چینلز ہروقت ریٹنگ کے لیے بے قرار دکھائی دیتے ہیں، سوشل میڈیا پر ”وائرل“ کا بخار بھی پھیلا ہوا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ کبھی کبھی ”بے خبری“ بھی نعمت کے درجے پر ہوتی ہے۔ ہم ہرپل نئی سے نئی جستجوکے خیال میں نجانے کہاں نکل آتے ہیں۔ یہ جو لوگوں میں ڈپریشن بڑھ رہا ہے خاص طورپر نوجوان نسل میں چڑچڑاپن، جھنجلاہٹ غصہ اور حسد بہت زیادہ بڑھتا جارہا ہے برداشت کم ہوتی جاتی ہے۔ اس کی وجوہات میں خوراک اور دیگر عوامل کے علاوہ ایک وجہ موبائل کا بہت استعمال بھی ہے۔ ہم چوبیس گھنٹوں میں خود پر نظر ڈال لیں۔ رات گئے تک ہم ”اپ ڈیٹ“ رہنے کے لیے موبائل سے دور نہیں ہوسکتے۔ جس سے ہماری صحت متاثر ہورہی ہے اعصابی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ لوگ تھکے تھکے، بیزار اور قدر بے حس دکھائی دینے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا میں دنیا آپ کی ہتھیلی پر آجاتی ہے۔ اس سے بھی نت نئی ”خواہشات“ نے ہمارا جینا دوبھر کردیا ہے۔ جب لالچ اور حرص پیدا ہوتی ہے تو اس کا کوئی کنارا نہیں ہوتا۔ انسان اپنے حقیقی مقام سے نیچے آجاتا ہے، اخلاقیات، زندگی کے حقائق سب کچھ اس کی نظروں میں کوئی معنی نہیں رکھتے، دولت اور زندگی کا تعیش بیکراں انسان کو بالآخر ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں۔ انہی راستوں پر ویڈیو لیکس بھی آتے ہیں۔ ججز، جرنیل، جرنلسٹ ہی نہیں اب ہرشخص کو اپنی زبان کو ”لگام“ میں رکھ کر زندگی گزارنی ہوگی۔ محتاط زندگی کا سفر شروع ہواچاہتا ہے۔ بات کرتے، لکھتے ہر آن آپ کو اپنی آواز خود بھی سننی ہوگی اپنے آپ کو ذہن کی موبائل سکرین پر دیکھنا ہوگا کہ آپ کیا کررہے ہیں وقار انسانیت کے منافی عمل تو نہیں کررہے۔ ؟؟

ہمارے دین نے تو ہمیں بتایا کہ آپ کے اعمال پر اللہ کی نظر ہے ہمارے کاندھوں کے دائیں بائیں کراماً کاتبین (فرشتے) ایک ایک سانس کا حساب رکھتے ہیں۔ گویا ہمیں کسی کیمرے کی ضرورت نہیں۔

اللہ ہرجگہ حاضر ناظر ہے اس سے کچھ چھپانہیں۔ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے تو ہمیں کچھ تو ”حیا“ آنی چاہیے۔ دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے، کسی کی دل آزاری کرتے ہوئے، حرام کھاتے ہوئے، ہمارے ایک ایک عمل کی ویڈیو بن رہی ہے، ہوش کے ناخن لیں۔ آپ لوہے کے بنے ہوئے نہیں ہیں آخر تو لوہے کو بھی زنگ لگ جاتا ہے۔ انسان تو پانی کا بلبلہ ہے:

کی دم دابھروسا یار دم آوے نہ آوے


ای پیپر