’ایک عام تاجر بنام وزیراعظم عمران خان‘
17 جولائی 2019 2019-07-17

جناب وزیراعظم ! میں ایک عام دوکاندار ہوں، صبح دُکان کھولتاہوں اور سارا دِن گاہکوں کی راہ تکتا ہوں تاکہ تجارت کی مُبارک سُنت سے اپنے بچوں کی روٹی کما کے لے جا سکوں مگر عجیب بات ہے کہ جب سے آپ حکمران بنے ہیں جی ڈی پی اور گروتھ ریٹ ہی کم نہیں ہوئے بلکہ ہماری گاہکی بھی آدھی سے کم ہو کر رہ گئی ہے۔ شیخ سعدی کی حکایت یاد آتی ہے کہ ایک عادِل حکمران شکار کھیلتا ہوا اپنے ساتھیوں سے بچھڑگیا اور گھوڑا دوڑاتا اپنی ہی سلطنت کے کسی دُور دراز علاقے میں جا پہنچا، اس کے سامنے بڑے بڑے لال اناروں سے بھرا باغ تھا جس کا نگران ایک بوڑھا شخص تھا۔ بوڑھے نے گھڑ سوار مسافر کو تھکا ہارا دیکھا تو آرام کرنے کی دعوت دی، سامنے والے پودے سے ایک انار توڑا، دانے نچوڑے تو ایک انارنے ہی گلاس رس سے بھر ڈالا۔ بادشاہ نے سوچا ، اس باغ کا مالک کتنا زیادہ کماتا ہو گا، باغ قبضے میں لے لیا جائے یا شاہی خزانے کو بھرنے کی خاطر اس پربھاری محصول لگا دیا جائے۔ یہی سوچتے سوچتے گلاس ختم کیا تو بوڑھے شخص نے دوسرا گلاس تیارکرنے کے لئے انار توڑ لیا مگر اس مرتبہ انار سے گلاس ایک تہائی بھی نہ بھرا ، دوسرا انار بھی گلاس نہ بھر سکا اور تیسرا توڑنا پڑا۔ بادشا ہ نے حیرت سے پوچھا ،یہ کیا ماجرا ہے، وہی باغ ہے ، وہی درخت ہے مگربرکت کہاں گئی، یہ رس اتناکم کیوں رہ گیا۔ بوڑھے کے جھریوں بھرے تجربہ کار چہرے پر تشویش ابھری ، دونوں ہاتھ دعائیہ انداز میںا ٹھائے اور بولا، خدا خیر کرے ، لگتا ہے ہمارے بادشاہ کی نیت میں فتور آ گیا ہے۔

جناب وزیراعظم ! ٹیکسوں کے خلاف ہڑتال سے قومی ریفرنڈم ہو گیا مگر ہماری داد رسی کرنے کے بجائے آپ کے سوشل میڈیا پیجز پر ہمیں یوں گالیاں دی جاتی رہیں جیسے ہم کسی دشمن ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔ ٹیکس کے ظالمانہ طریق کار کو درست کرنے کے بجائے ٹرینڈ چلائے جا تے رہے کہ ٹیکس تو دینا پڑے گا جیسے ملک اس سے پہلے ہماری بجائے کسی اور کی کمائی پر چلتا رہا ہے۔ یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے گزشتہ دور میں دو ہزار ارب سالانہ کی ٹیکس کلیکشن کو چار ہزار ارب تک پہنچایا۔ اب بھی ہمارا وطن ہمارے دئیے ہوئے ٹیکسوں پر ہی چل رہا ہے کہ اس کے ہزاروں ارب کے ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ کے لئے آپ حکمران اپنی جیبوں سے کچھ نہیں دیتے بلکہ خیبرپختونخوا کے وزراءاسی، اسی لاکھ کی گاڑیاں امپورٹ کر رہے ہیں، پنجاب والے تنخواہیں بڑھا رہے ہیں، ایوان وزیراعظم میں ایک ارب روپے سالانہ سے زائد ریکارڈ خرچے کی موجیں بھی ہمارے ادا کردہ ٹیکسوں سے ہو رہی ہیں اور چور بھی ہمیں ہی کہا جا رہا ہے۔

جناب وزیراعظم ! ہم سے ٹیکس لینے کے لئے وفاقی حکومت اکیلی نہیں ہے، صوبائی حکومتوں نے بھی اپنی اتھارٹیاں بنا لی ہیں، یہ پنجاب ریونیو اتھارٹی، پنجاب فوڈ اتھارٹی سمیت درجنوں اتھارٹیاں کیا ہیں اور تیسرے بلدیاتی اداروں کے ٹیکس ہیں۔ آپ کاایف بی آر کہتا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن الگ جمع کرواو¿، ٹرن اوور کا ریکارڈ دو اور اس پر ڈیڑھ فیصد ٹیکس الگ دو، نفع و نقصان کے کھاتے الگ بنا کے دو اور جن سے سامان خریدتے ہو ان کو شناختی کارڈ دو اور جن کو بیچتے ہو ان سے شناختی کارڈ لو، بات یہاں تک پہنچ چکی کہ ایک ہزار فٹ رقبے والی دکان کا مالک ایف بی آر کے ریکارڈ میں روزانہ انٹری کرے، اور دوسرے تاجر یہی کام سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ بنیادوں پربھی کریں،کیا آپ ایک عام تاجر کو کیا چارٹرڈ اکاونٹنٹ سمجھتے ہیں۔ ایف بی آر نے ٹیکس کا نظام اتنا پیچیدہ کر دیا ہے کہ دکانداروں سے ریٹرن بھرنے والے وکیل ہی پچیس، پچیس ہزار مانگتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ہم ٹیکس نیٹ میں آجاتے ہیں تو پھر ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اپنی ہی پارٹی کے کارکن تاجروں سے پوچھ لیجئے کہ ایف بی آر کے پاس وسائل اور اہلیت ہی نہیں کہ وہ ہمارے ڈاکومنٹس کی جانچ پڑتال کر سکے، وہاں ہم ’حلال ‘نہیں ہوتے بلکہ ہمارا’ جھٹکا‘ ہوتا ہے۔ ہمیں کاغذات دیکھ کر بتایا جاتا ہے کہ تم نے ٹیکس جمع کروانے میں دو، چار ہزار کی غلطی کر دی ہے اور اب اس پر دو لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، ایک لاکھ جمع کروانے کے بعد ہی تم اپیل میں جا سکو گے۔ کھلی آفر ہوتی ہے کہ دو لاکھ ٹیکس ہے تو پچاس ہزار جمع کرواو¿، پچاس ہزار ہمیں دو اور موج کرو، اگر تاجر کہیں کہ ہم رشوت دینے کے بجائے پورا دو لاکھ ہی جمع کروائیں گے تواس کے نتیجے میں ہمیں پچاس ، پچاس لاکھ کی خواری بھگتنی پڑتی ہے۔ آپ کیا جانیں کہ ایف بی آر کا آڈٹ ’ قائداعظم‘ کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا اور آپ ہمیں اسی ایف بی آر کے شکنجے میں پھنسانا چاہتے ہیں جبکہ ہم کہتے ہیں کہ فکس ٹیکس لگا دیں، ہم جمع کروانے کے لئے تیار ہیں۔

جناب وزیراعظم ! دنیا بھر میں ٹیکس دہندگان کو عزت ملتی ہے مگر ہمارے لئے آپ کے کارکنوں کی گالیاں ہیں ، ایف بی آر کے چھاپے ہیں، جُرمانے اور جیلیں ہیں۔ آپ کے ممی ڈیڈی شتونگڑے تصویریں پوسٹ کرتے ہیں کہ لاہور کی مارکیٹوں سے چند ہزار بھی ٹیکس اکٹھا نہیں ہوتا ، آپ اسی وقت لیسکو کی ویب سائیٹ پر بل ایسٹیمیٹ کیجئے۔ ایک گھر میں استعمال ہونے والی بجلی کے ایک ہزار یونٹس کا ٹیکسوں سمیت مکمل بل 22ہزار 608 روپے بنتا ہے مگر ایک کمرشل میٹر پرہزار یونٹس کا یہی ٹوٹل 27ہزار 850 روپے ہے، یہ فرق پانچ ہزار 242 روپوں کا ہے ، تاجر ہونے کا یہ ٹیکس کم از کم 62 ہزار 904 روپے سالانہ ہے جو باقی تمام ٹیکسوں سے الگ ہے کہ ایک عام چھوٹی سی ائیرکنڈیشنڈ دکان بھی ہزار ، ڈیڑھ ہزار یونٹس خرچ کردیتی ہے۔جناب وزیراعظم ! آپ کہتے ہیں کہ ہر کاروبار کورجسٹرڈ ہونا پڑے گا مگر جان لیجئے کہ کوئی اچھا تاجر نان فائلر نہیں ہوسکتا کہ چیمبر کی رکنیت اس کے بغیر نہیں ملتی، آپ لاہور کے صرف انارکلی بازارکو دیکھئے، اشرف بھٹی صاحب کے مطابق وہاں اٹھارہ ہزار رجسٹرڈ ، فائلر تاجر ہیں۔

جناب وزیراعظم ! انڈیا میں عمومی طور پر تاجروں کی ہڑتال نہیں ہوتی کہ جب حکومت کہتی ہے کہ ایک روپیہ ٹیکس دو، تاجر کہتے ہیں کہ ہم چار آنے دیں گے اور بات چیت میں چھ سے آٹھ آنے پر معاملہ طے ہوجاتا ہے اور جھگڑا نہیں بنایاجاتا، جی ہاں، تمام مہذب معاشروں میں قومی خزانے میں پیسے دینے والوں کو عزت دی جاتی ہے مگر یہاں اک تماشا بنا دیاگیا ہے۔بتائیے ! جب آپ کور کمانڈرز کو میٹنگوں میں لائیں گے اور ٹیکس کی زبردستی وصولی کے بیان دیں گے تو کیا ہماری فوج غیر منصفانہ جبری ٹیکس لینے کے لئے ہم پرٹینک چڑھائے گی، وہ ایسا کبھی نہیں کرے گی کہ خود ڈی ایچ اے کاکاروبار انہی پالیسیوں کی وجہ سے تباہ ہو چکا ۔ کیا ہی بہتر ہو کہ آپ ہمارے لئے رول ماڈل بنیں، جی ہاں، آ پ خود تین سو کنال کے گھر میں رہتے ہیں اور ٹیکس صرف ایک لاکھ چھ ہزار روپے دیتے ہیں۔

جناب وزیراعظم ! کتنے افسوس کی بات ہے کہ بھرپور ہڑتال کے باوجود کسی وزیر، مشیر اور بیوروکریٹ نے ہمارے حقیقی لیڈروں سے رابطہ تک نہیں کیا بلکہ ٹی وی چینلوں پرمذا ق اُڑاتے رہے۔ یاد رکھئے ، تاجر کسی حکومت کا دشمن نہیں ہوتا، اسحق ڈار کی ٹیکس کلیکشن دو ہزار سے چار ہزار ارب پر لے جا نے والا تاجرآپ کے لئے چھ ہزار ارب بھی اکٹھے کر سکتا ہے لیکن خبردار رہیے، آپ کے پاس وہی ٹیم ہے جو مشرف حکومت کو تاجروں کے ہاتھوںبے عزت کر چکی ہے۔ جناب وزیراعظم ! ہم محض پاکستانی نہیں بلکہ ہم ہی اصل پاکستان ہیں، ہمارے بزرگوں کی قبریں بھی یہاں ہیں ،اولادیں اور کاروباربھی۔ مجھے آپ کے اقتصادی مشیروں پر حیرت ہے کہ وہ اپنے رہنماکو اپنی ہی قوم کی توہین کرنے اور اپنی ہی قوم کے ساتھ لڑنے کی راہ دکھارہے ہیں، یہ حماقت اور نادانی ہی نہیں بلکہ ملک دشمنی بھی ہے، بتائیے، بھلا کوئی اپنی ہی قوم سے لڑ کے بھی جیتا ہے؟


ای پیپر