Source : File Photo

سیاسی جوڑ توڑ کی سیاست....کیا کھویا کیا پایا؟
17 جولائی 2018 (17:02) 2018-07-17

نعیم سلہری:
لیاقت علی خان کا قتل، ایوب خان کا مارشل لا، مشرقی پاکستان کی اعلیحدگی، ضیاءالحق کا مارشل لا اور ذوالفقار علی بھٹوکی پھانسی وطن عزیزکی ابتدائی 32 سالہ تاریخ کے وہ اندوہناک واقعات ہیں جن کا خمیازہ ہم، کسی نہ کسی طرح، آج تک بھگت رہے ہیں۔ 1977ءمیں اقتدار پر قابض ہونے کے بعد ضیاءالحق نے90 دن کے اندر اندر انتخابات کرانے کا وعدہ کیا لیکن وہ اپنے قول سے پھرکر سرخ و سفید کے مالک بن بیٹھے اور پھر خود کو ”جمہوریت پسند“ ثابت کرنے کے لئے 1985ءمیں غیر جماعتی انتخابات کا انعقادکیا۔


1985ءکے غیر جماعتی انتخابات
فروری 1985ءمیں منعقد ہونے والے ان غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں محمد خان جونیجو وزیراعظم بنے جب کہ ضیاءالحق صدارت کے عہدے پر براجمان ہوئے۔ اس الیکشن کے بعد میاں محمد نوازشریف ایک ایسے سیاسی کردار کے طور پر سامنے آئے جس نے آگے جا کر ملک کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرنا تھا۔ انہیں جونیجو حکومت میں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا گیا ۔ قبل ازیں میاں نواز شریف پنجاب کے وزیرخزانہ بھی رہ چکے تھے۔ یہ انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے گئے۔ جنرل ضیاءکے دور حکومت میں انتظامیہ بے لچک تھی، اس لئے تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائدکر دی گئی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کوگرفتارکرکے قید میں ڈال دیا گیا۔ یہ وہ کارکن تھے جو ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریک چلا رہے تھے۔ عوام کی نظر میں ان انتخابات کا مقصد ایک نمائندہ حکومت کے قیام کے برعکس، ضیاءالحق کے اقتدارکو قانونی حیثیت دینا تھا اور یہ خیال اُس وقت درست ثابت ہوگیا جب انتخابات کے بعد اختیارات پارلیمنٹ سے صدر یعنی ضیاءالحق کو منتقل ہوگئے۔ اختیارات کی منتقلی آئین میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے ہوئی جس کو اس سال کی منتخب قومی اسمبلی نے منظورکیا تھا۔ ان انتخابات کے بعد 1986ءمیں محترمہ بینظیر بھٹو وطن واپس آئیں۔ وہ 1984ءمیں جیل سے رہائی پانے کے بعد برطانیہ میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ ملک سے مارشل لا اٹھوائے جانے کے بعد جب اپریل 1986ءمیں بے نظیر وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا یہ بے مثال استقبال ضیاءالحق اوران کی حکومت کے لئے کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں تھا۔


1988ءکا الیکشن
7 اگست، 1988ءمیں ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ وہ اس سے قبل 29 مئی 1988ءکوآئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت اسمبلییاں تحلیل کرکے نومبر 1988ءکو غیر جماعتی انتخابات کرانے کا اعلان کر چکے تھے۔ لیکن موت نے ان کو دوسری بارغیر جماعتی انتخابات کرانے کا موقع نہ دیا۔ ضیاءالحق کی موت کے بعد ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا۔ سینیٹ کے چئیرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جنہوں نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ 16نومبر 1988ءکو نتخابات منعقد ہوئے۔ پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک سیاسی اتحاد تشکیل پایا جس کا نام اسلامی جمہوری اتحاد تھا۔ اس اتحاد میں شامل بڑی جماعتیں مسلم لیگ اور جماعت اسلامی تھیں۔ یاد رہے کہ اس کے قبل 1977ءکے انتخابات کے وقت بھی پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے لئے ”پی این اے“ ، پاکستان قومی اتحاد بنایا گیا تھا جس میں 9 جماعتیں شامل تھیں، لیکن یہ اتحاد بھی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا اور پیپلزپارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی، گوکہ بعد میں ان انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکارکردیا گیا۔ 1988ءکے الیکشن میں بھی اتحاد پیپلزپارٹی کا مقابلہ نہ کر سکا اور پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔ اس نے قومی اسمبلی کی 204 نشستوں میں سے 93 نشستیں حاصل کیں اوردوسری چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے ایک مخلوط حکومت قائم کی۔ یوں بے نظیر بھٹو نے 2 دسمبر1988ءکو 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ 1988ءمیں میاں محمد نواز شریف ایک بار پھر پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے۔


1990ءکے انتخابات
بے نظیرکو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بد عنوانی اور لاقانونیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے برطرف کردیا۔ 4 اکتوبر 1990ءکے انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی بے نظیر نے ملک گیر جلسے منعقد کرنے شروع کر دیے۔ میاں نواز شریف نے بھی انتخابی مہم کے تحت عوامی جلسے شروع کر دیے۔ سیاسی اتحادوں کا مقابلہ کرنے والی پاکستان پیپلزپارٹی اس بار خود ایک اتحاد کا حصہ تھی۔ یہ اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک الائنس، پی ڈی اے تھا۔ پیپلز پارٹی نے پاکستان جمہوری اتحادکے جھنڈے تلے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس اتحاد میں اصغرخان کی تحریک استقلال ، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور پاکستان مسلم لیگ کا ملک قاسم گروپ شامل تھا۔ جب پی ڈی اے کے مد مقابل بھی ایک اتحاد ہی تھا، یعنی اسلامی جمہوری اتحاد۔ الیکشن میں آئی جے آئی نے قومی اسمبلی میں 105نشستیں جیتیں جب کہ پی ڈی اے صرف 44 نشستیں حاصل کر سکا۔ ان اانتخابات کے بعد میاں نواز شریف پنجاب سے مرکز تک پہنچ گئے۔ وہ پہلی بار پاکستان کے وزیراعظم بنے۔ اس الیکشن میں پی ڈی اے کو ہرانے کے لئے دولت کا بے دریغ استعمال کیاگیا۔ نواز شریف کی حکومت اس وقت ختم کر دی گئی جب صدر غلام اسحاق خان اور نواز شریف کے درمیان اختلافات انتہا کو پہنچ گئے۔ صدر غلام اسحاق خان نے 1993ءکو نواز شریف کوگھر بھیج دیا۔ صدر پاکستان کی طرف سے حکومت ختم کرنے کا یہ تیسرا واقعہ تھا۔ 1988ءمیں صدر ضیاءالحق نے 58 ٹو بی کا استعمال کیا۔ اور بعد میں 1990ءاور 1993ءمیںصدر غلام اسحاق خان نے منتخب جمہوری حکومتوں کی بساط لپیٹی۔ نواز شریف کی حکومت ختم کرنے کے بعد غلام اسحاق خان نے خود بھی استعفیٰ دے دیا اوراس وقت کے سینیٹ کے چیئرمین وسیم سجاد نے بحیثیت صدر اور معین قریشی نے بطور قائم مقام وزیراعظم عہدہ سنبھالا۔


1993ءکے انتخابات
اکتوبر 1993ءمیں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں مقابلہ کافی سخت رہا۔ ان انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی قومی اسمبلی کی مجموعی 207 میں سے 89 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی جبکہ حریف جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز بھی 73 نشستوں پرکامیاب رہی۔ اگرچہ پی پی پی زیادہ نشستوں پرکامیاب رہی تاہم اسے ملنے والے کل ووٹوں کی تعداد پاکستان مسلم لیگ کو ملنے والے ووٹوں سے کم رہی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحادی حکومت قائم کی اور بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان ہوگئیں۔ ان انتخابات میں نواز شریف اوران کے حامیوں نے پاکستان مسلم لیگ، نوازگروپ کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا۔ یہی جماعت بعد میں پی ایم ایل این کے نام سے مشہور ہوئی اور ابھی تک ملکی سیاست کی بڑی قوت کے طور پر جانی جاتی ہے۔ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) نے بےنظیر حکومت میں حزب مخالف کاکردار سنبھال لیا۔ فاروق احمد خان لغاری ملک کے صدر منتخب ہوئے، انہیں اس لئے صدر بنایا گیا کہ وہ بینظیر بھٹوکے بھروسے کے آدمی تھے لیکن انہوں نے ہی آگے جاکر بینظیر حکومت کو چلتا کیا۔ ابتدا میں برطرفی کی وجہ پیپلز پارٹی کی صدر اور ان کے خاوند آصف علی زرداری پر بد عنوانی کے الزامات تھے۔ سندھ میں ہنگامہ آرائی، سپریم کورٹ سے مسلسل اختلافات اور بےنظیر کے بھائی مرتضیٰ بھٹوکا کراچی میں پولیس مقابلے میں قتل نے ان حالات کے دوران جلتی پر تیل کا کام کیا۔


1997ءکے انتخابات
بےنظیر حکومت کی برطرفی کے بعد صدر نے 6 فروری، 1997ءکو انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین انتخابی جنگ شروع ہوگئی۔ سابقہ حکومت کی نااہلی کے بعد، انتخابی مہم کا زیادہ تر زور بد عنوانی کے خاتمے، مستحکم اقتصادی حالت کی کوششوں اور نسلی تعصب ختم کرنے پر تھا۔


انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی میں 135نشستیں حاصل کیں جبکہ پیپلز پارٹی بمشکل 18نشستیں حاصل کر پائی، متحدہ قومی موومنٹ نے 12 اور عوامی نیشنل پارٹی نے 9 نشستیں حاصل کیں۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنی حکومت قائم کی اور پیپلزپارٹی کی شکست کے کچھ ماہ بعد بینظیر نے ملک چھوڑ دیا اور خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی۔ نواز شریف کی 1997ءکی فتح مختصر مدت کے لیے تھی، جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں فوج نے حکومت کا خاتمہ کردیا۔ یہ شب خون میاں محمد نواز شریف اور ان کے منتخب کردہ آرمی چیف کے درمیان مہینوں سے پروان چڑھنے والے اختلافات کا نتیجہ تھا۔ حالانکہ جنرل پرویز مشرف کو فوج کی سنیارٹی لسٹ کے لحاظ سے میرٹ کی خلاف ورزی کے بعد آرمی چیف بنایاگیا تھا۔ اسی دور حکومت میں نواز شریف نے ایٹمی دھماکہ کیا جبکہ کارگل کا سانحہ بھی اسی دور میں پیش آیا۔ یہ واقعہ بھی جنرل پرویز مشرف اور میاں نواز شریف کے درمیان اختلافات کا باعث بنا۔ میاں نواز شریف کا مو¿قف تھا کہ کارگل کی کارروائی شروع کرنے سے قبل انہیں آگاہ نہیں کیا گیا تھا جبکہ آرمی چیف کا مو¿قف تھاکہ سب کچھ وزیراعظم کو پیشگی اطلاع دینے کے بعد کیا گیا تھا۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد میاں نواز شریف کے اس دورحکومت میں موٹر ویز تعمیر ہوئے۔ اور اس دور میں سرمایہ کاری بھی ہوئی۔ دسمبر 2000ءمیں سعودی عرب اورکچھ دیگر ممالک کی مداخلت سے میاں نواز شریف اور پرویز مشرف کے درمیاں ڈیل ہوئی اور میاں نواز شریف کو سعودی عرب جانے کی اجازت دے دی گئی۔
پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے تقریباً 2 سال بعد 2001ءمیں امریکہ میں 9\11کا حادثہ پیش آیا۔ جنرل مشرف نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی شرطیں تسلیم کرکے پاکستان کو افغانستان میں ہونے والی جنگ میں جھونک دیا جس کا خمیازہ قوم اب تک بھگت رہی ہے۔
2002ءکے انتخابات
جنرل مشرف نے 10 اکتوبر 2002ءکو انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ سیاسی جماعتیں جو ایک مدت سے اس وقت کا انتظارکر رہی تھیں میدان میں آگئیں۔ پرویز مشرف نے اپنے اقتدارکو دوام بخشنے کے لئے مسلم لیگ(ن) کے چوہدری برادران کو ساتھ ملاکر نئی سایسی جماعت کی تشکیل میں مدد دی جو مسلم لیگ قائداعظم کے نام سے الیکشن میں اتری۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم لیگ (ق) نے 118نشستیں اور پیپلز پارٹی نے 81 نشستیں حاصل کیں۔ متحدہ مجلس عمل نے 60 جب کہ مسلم لیگ (ن) صرف 19 نشستیں حاصل کر پائی۔ ان انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ نے 17اور پاکستان تحریک انصاف نے فقط ایک نشست حاصل کی۔ مسلم لیگ (ق) نے متحدہ مجلس عمل کو اپنا سب سے اہم حلیف بنا لیا۔ چنانچہ مرکز میں مسلم لیگ (ق)کی قیادت میں حکومت بنائی گئی، جس کے حقیقی قائد جنرل مشرف خود تھے۔ اس دورکے اہم واقعات میں اکبر بگٹی کا قتل، لال مسجد آپریشن، بینظیرکا قتل اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی برطرفی اہم ہیں۔ نومبر 2007ءمیں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور قومی میڈیا پی پابندی عائد کرنے جیسے اقدامات بھی اس دور حکومت میں پیش آئے۔
حالات ایسے ہوگئے کہ موجودہ ریٹائرڈ جنرل کو، اس وقت چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا، ساتھ ہی 8 جنوری 2008ءکو انتخابات کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ جوکہ آخر کار اس سال 18 فروری کو ہوئے۔ انتخابات کے کچھ ماہ بعد پرویز مشرف صدارت سے مستعفی ہوگئے اور خود ساختہ جلا وطنی اختیارکرکے لندن چلے گئے۔


2008ءکے انتخابات
ان انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی نے دکھی دل مگر ایک نئے جذبے کے ساتھ حصہ لیا۔ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد الیکشن میں پیپلزپارٹی کو ہمدردی کا ووٹ ملا اور اس نے 122 نشستیں حاصل کیں، مسلم لیگ نواز (ن) نے 92 اور 25 نشستیں متحدہ قومی موومنٹ نے حاصل کیں جب کہ عوامی نیشنل پارٹی کے حصے میں 13نشستیں آئیں۔ پیپلز پارٹی نے مرکز میں دوسری جماعتوں، خاص طور سے مسلم لیگ (ن) کے اشتراک سے حکومت بنائی۔گوکہ یہ اتحاد زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا، لیکن متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کئی سال تک پیپلزپارٹی کے ساتھ رہی جبکہ مسلم لیگ (ق) بہت بعد میں حکومت کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوئی۔ اس کے علاوہ یہ کہ مشرف کے استعفے کے بعد زرداری کو ملک کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دو وزیر اعظم آئے، یوسف رضا گیلانی جن کو عدالت کی توہین پر نا اہل قرار دے دیا گیا تھا، دوسرے راجہ پرویز اشرف جن کوگیلانی کی برطرفی کے بعد وزیر اعظم منتخب کیاگیا۔ ملکی تاریخ میں یہ منتخب حکومت تھی جس نے اپنی معیاد پوری کی اور اس دوران کسی قسم کی فوجی مداخلت نہیں ہوئی۔


2013 ءکے انتخابات
جب گیارہ مئی 2013ءانتخابات کی تاریخ مقرر ہوئی تو وقت اس وقت ملک میں بدامنی، دہشگردی اور لوڈشیڈنگ عروج پر تھی۔ ان حالات میں انتخابی مہم چلانا کسی بڑے، سنجیدہ اور جان لیوا چیلنج سے کم نہیں تھا۔ ان حالات میں انتخابات میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی جیسی بڑی جماعتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 2013ءکے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کر نے میں کامیاب رہی۔ مسلم لیگ (ن) نے 126نشستیں حاصل کیں،آزاد امیدواروں اور اقلیتی اور خواتین کی مخصوص سیٹیں ملا کر مرکز میں حکومت قائم کر لی۔ ان انتخابات کا ایک مثبت پہلو پاکستان تحریک انصاف کا ابھرکر سامنے آنا تھا جو اس بار ایک بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی۔ ان انتخابات کے بعد مرکز اور صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، کے پی کے میں پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی، سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی اور بلوچستان میں بھی مسلم لیگ (ن) نے دیگر سیاسی جماعتوں سے مل کر اتحادی حکومت بنائی تھی۔ اگرچہ پاکستان تحریک انصاف پہلی مرتبہ اتنی بڑی سطح پرکامیاب ہوئی لیکن اس کی سیاست کا منفی پہلو یہ رہا کہ کہ اس نے اسمبلی سے زیادہ احتجاجی سیاست کو اپنا مرکز بنائے رکھا۔


مسلم لیگ(ن) کو اس دور حکومت میں جہاں دہشگردی، لوڈشیڈنگ اور بد امنی کا سامنا تھا وہاں دھرنوں اور احتجاج سے نبردآزما ہونا پڑا۔ انتخابات میں دھندلی کو لے کر پاکستان تحریک انصاف نے آسمان سر پر اٹھائے رکھا۔ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کی وجہ سے ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں مصروف رہی۔ اس سے بڑھ کرکرپشن کے الزامات اورکیسز نے بھی سر اُٹھایا گوکہ پاکستان کی سیاست میں کرپشن کے الزامات اورکیسز سے شائد ہی کوئی حکومت بچ سکی ہے لیکن اس بار پانامہ کیس ملکی سیاست کا رخ کی بدل کر رکھ دیا۔ جس کی وجہ سے نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا۔ ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں انہیں، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر) صفدر کو نااہلی کے ساتھ ساتھ قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ ان تلخ حقائق سے ہٹ کر دیکھا جائے تو لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا خاتمہ اورگوادر و سی پیک جیسے منصوبوں پر سرعت سے کام مسلم لیگ (ن) کے وہ کریڈٹ ہیں جن سے صرف نظر فکری بددیانتی کے علاوہ کچھ نہیں۔


2018ءکے انتخابات
اب جب کہ عام انتخابات 2018ءکے انعقاد میں چند دن ہی باقی رہ گئے۔ تمام سیاسی جماعتیں انتخابی مہم میں زورشور سے مصروف ہیں۔ ان انتخابات سے قبل ملکی سیاست میں ایک بھونچال دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی نااہلی اور سزا کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ جنوبی پنجاب میں اس کے کئی اہم رہنما ” جنوبی پنجاب صوبہ محاذ“ کے پلیٹ فارم کے تحت اس سے الگ ہوکر پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد کر چکے ہیں۔ اس اپ سیٹ کی وجہ سے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔ اس کے علاوہ ن لیگ کے کچھ اور رہنما بھی اس سے نالاں ہیں بلکہ چوہدری نثار علی خان جیسے سینئر رہنما تو ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کو انتخابی نشان جیب دیا گیا ہے، یہ نشان صرف چوہدری نثار کا ہی نہیں بلکہ کچھ دیگر آزاد امیدواروں کا بھی ہے جس سے یہ گمان ابھرتا ہے کہ شائد جیپ کے نشان پر الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کو اکٹھا کرکے پیپلزپارٹی پیڑیاٹ طرز کا کوئی گروپ سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھی سیاسی حوالے سے مسلم لیگ(ن) کے لئے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں ہوگی۔ پنجاب کے بعد اگربلوچستان کی بات کی جائے تو وہاں بھی بلوچستان عوامی پارٹی ”باپ“کی شکل میں ن لیگ کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ ان سب سے بڑھ کر ایم ایم اے کا دوبارہ فعال ہوکر الیکشن میں حصہ لینا بھی آئندہ انتخابات میں کسی اہم اپ سیٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر بات کریں سندھ کی تو وہاں ایم کیوایم تقسیم کا شکار ہوئی تو اس بات کی قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ اس کا فائدہ پاکستان پیپلزپارٹی کو ملے گا۔ لیکن سندھ میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا بننا اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا اس بات کا غماز ہے کہ سندھ میں ایم کیوایم کی تقسیم پی ٹی آئی کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔تادم تحریر زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر بات کی جائے تو فی الحال ملک کی سیاسی فضا پاکستان تحریک انصاف کے حق میں نظر آرہی ہے۔

یہی جماعت سب سے زیادہ فعال ہوکر انتخابی مہم چلا رہی ہے جب کہ دوسری جماعتوں میں وہ جذبہ نظر نہیں آرہا جس کا مظاہرہ انتخابات کے اتنا قریب آکر ماضی میں کیا جاتا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عیدِ قرباں سے پہلے ملکی تاریخ کے ان اہم ترین انتخابات میں کون کس کو پچھاڑتا ہے۔ نعرے تمام بڑی بڑی جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی طرف سے خوب لگائے جا رہے ہیں، اب کو رسوا ہوگا اورکون سرخرو ٹھہرے گا اس کا پتا تو 25 جولائی ہی کو چلے گا۔ ووٹر کافی حد تک باشعور ہوچکا ہے، وہ کیا فیصلہ کرتا ہے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ان تمام حالات اور ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات ضرور ذہن میں آتی ہے کہ کیا ہمارے سیاستدان ماضی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھیں گے یا پھر ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے کے خلاف مشکلات پیدا کر کے مظلومیت کے نوحے پڑھتے رہیں گے؟ کرپشن کا بازار گرم رکھیں گے؟ اور کیاذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے رہیں گے ؟کیا احتساب کے ذریعے کرپشن سے پاک معاشرے کے قیام کے لئے جاری ہونے والا عمل جاری رہے گا یا پھر ایک بار پھر مصلحتوں کی نذر ہوجائے گا۔


ای پیپر