Source : File Photo

منی لانڈرنگ اسکینڈل: قومی وقار پر ایک اور دھبہ!
17 جولائی 2018 (16:55) 2018-07-17

حافظ طارق عزیز
یہ کیسا ملک بن گیا ہے جہاں ہر شخص لوٹ مار کو ذریعہ معاش بنا کر ملک کو کھوکھلا کرنا چاہتا ہے۔کہیں چوری چکاری، کہیں کمیشن خوری، کہیں بھتہ خوری، کہیںآف شور چوریاں، کہیں قرض معافیاںاور کہیں منی لانڈرنگ کا مکروہ دھندہ .... ابھی پانامہ کیس کے اثرات ختم نہیں ہوئے تھے کہ اُس سے بڑا منی لانڈرنگ کا سکینڈل منظر عام پر آگیا ہے۔ یہ کیس اس وقت منظر عام پر آیا جب شریف خاندان کو پانامہ کیس میں سزا سنائی گئی ہے ۔


ایف آئی اے کی رپورٹس کے مطابق یہ 2014ءکی بات ہے کہ 7 لوگوں کے اکاونٹ نجی بینک میں کھولے گئے۔ اور اگلے دس دنوں میں اُن اکاﺅنٹس سے35 بلین روپے ملک سے باہر ٹرانسفر کیے گئے۔ اور اکاﺅنٹس بند کر دیے گئے۔ سٹیٹ بنک اتنی بڑی ٹرانسفر پر حیران ہوا۔ اورایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا ساتوں لوگ انتہائی غریب ہیں۔ اور بلین تو کیا ہزاروں روپے بھی اکھٹا نہیں کر سکتے۔ ایف آئی اے نے زرداری کے قریبی ساتھ حسین لوائی (ڈایکٹر نجی بنک) کو شامل تفتیش کر لیا۔ اور کھرا زداری اور فریال تالپورتک جانے لگا تو میڈیا رپورٹس کے مطابق انہی دنوں نواز شریف اور زرداری میں ملاقات ہوئی اور ایک اہم حکومتی وزیر جو آج کل (ن) لیگ سے سخت نالاں ہیں، نے تحقیقات روکوا دیں۔ اب جب ایف آئی اے کو سپریم کورٹ کی طرف سے فری ہینڈ ملا ہے تو پھر زرداری اور فریال سمیت 20 سے زائد شخصیات کے خلاف دوبارہ انکوائری شروع کردی گئی ہے ۔ ان سب کو نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں، اسٹیٹ بینک کو سیکنڈل میں ملوث ایک بینک کی7 ارب روپے کی زرضمانت بھی منجمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم عدالت کے تین رکنی بینچ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ جعلی بینک اکاﺅنٹس اور ان کے ذریعے ہونے والی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لئے پانامہ لیکس کیس کی طرز پر جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں مالیاتی ماہرین بھی شامل ہوں۔


جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ہمیں ڈیڑھ کروڑ کا نوٹس ملا ہے اور ڈھول 35 ارب کا بجایا جارہا ہے۔ وہ اپنے اوپر لگائے جانے والے تمام الزامات بھی مسترد کرچکے ہیں اور اس بات کے لئے پُرعزم ہیں کہ پہلے بھی ایسے کیسزکا سامنا کیا، اب بھی کریں گے۔ یہ الیکشن کا موقع ہے، احتساب کا نہیں، احتساب الیکشن سے پہلے یا بعد میں ہونا چاہیے۔ جو بھی ہونے جا رہا ہے جمہوریت کو پٹری سے اترنے نہیں دیں گے، سنوں گا سب کی لیکن کروں گا وہی جو پیپلز پارٹی اور پاکستان کے لیے اہم ہوگا۔ انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ ان کا وکیل ایف آئی اے میں ہوگا۔


قابل غور بات یہ ہے کہ اس وقت جاری احتساب کا عمل صرف انہی کو ناپسند نہیں بلکہ اس کی زد میں آنے والے تمام ”محبان وطن“ کا یہ رد عمل ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس کیس کے حوالے سے پاکستان کو مزید شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، اور جو پاکستان پہلے ہی گرے لسٹ میں شامل ہے اسے یہ لوگ بلیک لسٹ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اور ویسے بھی پانامہ لیکس اور بعض دوسرے کیسز کے بعد اتنی بڑی منی لانڈرنگ کا کیس ہمارے مالیاتی نظام پر ایک اور بدنما داغ ہے جوکچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ یہاں حقیقت میں ”کچھ لوگ“ہی ملک کے اصل مالک ہیں۔ یہی”کچھ لوگ“ ہیں جنہوں نے جنت نظیر ملک کو عوام کے لئے جہنم بنایا ہوا ہے۔ یہی ”کچھ لوگ“ ہیں جنہوں نے جمہوریت کے نام پر ظلم روا رکھا اور جمہوریت کو کبھی جنم ہی نہیں لینے دیا اور لوگوں کو یہ تاثر دینے میں ہمیشہ کامیاب رہے کہ بری سے بری جمہوریت بھی اچھی سے اچھی آمریت سے بہتر ہے۔ یہی ”کچھ لوگ“ ہیں جو سوئس بینکوں میں پڑے اربوں ڈالر پاکستان سے منتقل کرتے رہے ہیں۔ یہی ”کچھ لوگ“ ہیںجو آف شور کمپنیاں بناتے رہے اور ٹیکس چوری کرتے رہے ہیں۔ یہی”کچھ لوگ“ ہیںجو لندن کے پوش ایریا میں عوام کے پیسوں سے فلیٹ خریدتے رہے ہیں۔ یہی ”کچھ لوگ“ ہیںجن کے کاروبار دبئی سے امریکا اور امریکا سے برطانیہ و بھارت تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہی ”کچھ لوگ“ ہیںجو پاکستان کے دوسرے اور تیسرے امیر ترین افراد بن چکے ہیں۔ یہی”کچھ لوگ“ ہیںجو ایان علی جیسی ماڈل گرلز کے ذریعے پیسے بیرون ملک بھجواتے رہے ہیں اور یہی ”کچھ لوگ“ ہیںجو چوہدری اعجاز جیسے کسٹم آفیسر کو قتل کروا دیتے ہیں۔ یہی ”کچھ لوگ“ ہیںجو راﺅ انوار، عزیر بلوچ اور چھوٹوگینگ جیسے لوگوں کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور وقت آنے پر اُن کی درگت بھی بنوا دیتے ہیں۔ بقول شاعر


کردار ہی کی بات ہے وگرنہ عارف
قد میں تو سایہ بھی انسان سے بڑا ہوتا ہے


لیکن یہ فراڈ اب دور تک چلتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہ ضمیروں کی منڈیاں لگائیں، انسانوں کو گھوڑے بنائیں تو ٹھیک ہے۔ یہ سیاسی مافیاز کی طرح اوپریٹ کریں، یہ ٹھیک ہے۔ یہ اسٹیٹ بینک سے لے کر ایک چھوٹے نجی بینک تک کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کریں تو ٹھیک اور اگر ان کو سزا ملے تو یہ لوگ ”ٹھوکنے“ کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ ہر قانون، اصول، قاعدے، ضابطے کی دھجیاں اڑا کر ہر رول”ریلیکس“ کر دیں تو درست ہے۔یہ اداروں کو گھن کی طرح چاٹ جائیں وہ صحیح ہے۔ یہ سرکاری ملازموں کو ذاتی ملازم بنالیں تو حق ہے۔ اپنی سیکورٹی کے نام پر ایک ارب روپے سالانہ خرچ کریں وہ جائز ہے۔ ان کے سرے محل سے پارک لین تک سب کچھ پاکیزہ، عوام کی کچی آبادیاں ناپاک تجاوزات۔ یہ”کچھ لوگ“ اپنے ہی آئین کے ساتھ کھلواڑ کریں تو درست، کوئی ا ور ان کے ننگے چٹے جرائم کے سامنے بند باندھنا چاہے تو وہ باطل۔ یہی وہ”کچھ لوگ“ ہیں جنہوں نے کروڑوں انسانوں کو جاہل اور بدحال بنا کر یرغمال رکھا ہوا ہے اور انہیں دکھا کر قرضے بھی اینٹھتے ہیں۔ یہی وہ ”کچھ لوگ“ ہیں جن کے ”پانامے“ بھی پاک، جن کی جمہوریت بھی پاک، چھانگے مانگے بھی پاک، سوئٹزر لینڈ کے اکاﺅنٹس بھی پاک، ان کے کمیشن ، کک بیکس، ٹھیکے بھی پاک، ان کی منی لانڈرنگ بھی پاک، مڈل ایسٹ کے محلات بھی پاک، ہیں۔ باقی سب ناپاک، صرف یہی”پاکستان“ ہیں۔ یہی وہ ”کچھ لوگ“ہیں کہ دامن نچوڑ دیں تو بہت سے ڈاکٹر عاصم، فواد حسن فواد اور احد چیمے نکلتے ہیں۔


رہی بات زرداری کی تو پیپلز پارٹی و ن لیگ تو پہلے ہی منی لانڈرنگ کے چیمپئن ہیں ۔ اعلیٰ قیادت تو اس میں ملوث ہے ہی ان کے کڑچھے چمچے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے باز نہیں رہتے۔ چند برس قبل سندھ کے سابق وزیر شرجیل میمن سے اربوں روپے برآمد ہوئے۔ یہ خبر بھی پڑھنے کو ملی کہ سندھ کے ساحلی علاقوں سے لانچوں میں روپے بھر کر دوبئی بھیجے جا رہے تھے۔ ایک ماڈل ایان علی لاکھوں ڈالر بیرون ملک لے جاتے ہوئے پکڑی گئی۔ اس معاملے میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے غیر معمولی دلچسپی لی۔ سابق وزیر قانون فاروق نائیک اور سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ ایان علی کے کیل بنے۔

ایان علی کے سہولت کار کے طور پر ایک سابق وفاقی وزیر کا نام لیا جاتا رہا۔ یہ مقدمہ حکمران طبقات کی ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا۔ بعد میں مقدمہ کے تفتیشی کا قتل ہو گیا۔ ایان علی ضمانت پر ہے اور یہ مقدمہ ابھی تک نامعلوم وجوہات کی بنا پر انتہائی سست رفتار سے چلایا جا رہا ہے۔ منی لانڈرنگ کا ایک مشہور معاملہ ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف تھا۔ لندن پولیس نے ایک قانونی معاملے میں جب ایم کیو ایم کے بانی کے مکان پر چھاپہ مارا تو بھاری رقم برآمد ہوئی۔ بتایا گیا کہ یہ رقم غیر قانونی طریقے سے ان کے گھر پہنچی تھی۔ اس معاملے میں کئی سال مقدمہ چلا،6 افراد کو گرفتار کیا گیا، 28 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ ایک سو گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے اور 9 مقامات کی تلاشی لی گئی۔ پاکستان نے سکاٹ لینڈ یارڈ کو اس سلسلے میں ٹھوس ثبوت فراہم کیے۔ 2016ءمیں برطانیہ نے اس مقدمے کو ختم کر دیا۔


بہرکیف آج تک کسی سیاسی جماعت کے سربراہ یا اس کے قریبی شخص کے خلاف ہمارے ادارے تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ سیاسی جماعتوں کو معلوم ہے کہ ان کے اکثر رہنما بیرون ملک رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنے مالیاتی ریکارڈ میں ہیر پھیر کرتے رہتے ہیں۔ بیرون ملک اپنی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے معمول کے بینکنگ طریقہ کارکو استعمال کرنے کے بجائے خفیہ اور غیر قانونی تسلیم کئے جانے والے ذرائع سے قومی دولت بیرون ملک منتقل کرتے ہیں۔ پاکستان کا سیاسی نظام اگر ایسے سیاستدانوں کو مسترد کر دے جن کے کاروبار اور اثاثے دوسرے ملکوں میں ہیں تو یقینی طور پر منی لانڈرنگ کے واقعات میں کمی آسکتی ہے۔ منی لانڈرنگ پوری دنیا میں تسلیم شدہ جرم ہے۔ پاکستان بھی ایسے بین الاقوامی کنونشنوں کا حصے دار ہے جو منی لانڈرنگ کے خلاف مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔


پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں پر مشتمل ادوارِ حکومت میں شائد ہی کوئی دور ایسا گزرا ہو جس میں کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے گزیز برتا گیا ہو۔ ہمارے یہ ” کچھ لوگ“ ملکی خزانے کو ذاتی تجوری اور عوام کو بھیڑ بکریوں سے زیادہ اہمیت نہیںدیتے۔ قومی خزانے کو لوٹنے کے نت نئے طریقوں کی ایجاد میں یکتا یہ لوگ لوٹ مارکرنے کے بعد اس بات کو بالکل بھول جاتے ہیں ’چور‘ کے سو دن کے بعد ایک دن ساد کا بھی ہوتا ہے۔


مسئلہ صرف یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں قانون کی بالادستی کو چیلنج کرنے والے سیاستدان اپنے عمل پر شرمندہ ہونے کی بجائے اسے سیاسی انتقام کا نام دے کر اداروں کو دباﺅ میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج کل احتساب سب کا ہو رہا ہے۔ مشرف کو بھی بچوں سمیت طلب کر لیا گیا ہے۔ متعدد سیاستدانوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ اللہ کرے یہ احتساب کسی ملاوٹ کے بغیر ہو۔ اور ہر کیس کا ایون فیلڈ ریفرنس کی طرز پر فیصلہ بھی آئے۔


ای پیپر