Source : File Photo

کرپشن: انتخابات 2018ءکا سب سے بڑا ایشو؟
17 جولائی 2018 (16:51) 2018-07-17

چوہدری فرخ شہزاد:


حالیہ انتخابات کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے، ملکی خزانے سے کرپشن کے ذریعے چوری کیا گیا ایک ایک پیسہ ملک کے غریب اور پسے ہوئے طبقوں کے خون سے لتھڑا ہوا ہے کیوں یہ وہ پیسہ ہے جو ملک کے انہی بے آواز طبقوں کے لیے صحت اور تعلیم پر خرچ کرکے ان کی حالت کو بہترکیا جانا تھا، بدقسمتی سے وہ پیسہ چند بڑوں کی جیبوں کی نذر ہوگیا۔ یہ محض اتفاق کی بات نہیں ہے کہ پاکستان میں آئی ایم ایف پروگرام کا آغاز1990ءکی دہائی کے شروع میں ہوا اور یہی وہ دور ہے جب ملک کے سرکاری خزانے میں منظم طریقے سے خُردبُرد کرنے کے عمل کا آغاز ہوا اور تیسرا اتفاق یہ ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں کی طرف سے پانامہ میں آف شورکمپنیاں کھولنے کی تاریخ بھی اُسی دور سے شروع ہوتی ہے۔


یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں میاں نواز شریف1988ءسے1990ءتک پنجاب کے وزیراعلیٰ رہنے کے بعد پہلی دفعہ ملک کے وزیراعظم بنے اور یہ سلسلہ 1993ءتک چلتا رہا۔ جب ان کی پہلی حکومت کو صدر اسحاق خان کی طرف سے کرپشن کے الزامات کے تحت برطرف کردیاگیا۔ اس کے 23 سال بعد یعنی 2016ءمیں بین الاقوامی صحافتی تنظیم کی جانب سے دُنیا بھر میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے جو رپورٹ شائع ہوئی اس میں میاں نواز شریف کا نام سب سے نمایاں تھا۔ اس سکینڈل کے بعدکئی ایک سربراہان مملکت کو ان الزامات کے تحت اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا جن میں آئس لینڈ اور برطانیہ کے وزرائے اعظم شامل ہیں البتہ میاں نواز شریف نے استعفیٰ دینے کی بجائے اپنے آپ کو Defend کرنے کا فیصلہ کیا، اس وقت ان کے پاس یہ چوائس تھی کہ وہ حکومت کو برطرف کرکے نئے انتخابات کا اعلان کر دیتے اور دوبارہ منتخب ہو کر چوتھی دفعہ واپس آجاتے مگر ان کے مشیروں نے انہیں مروا دیا جن میں خواجہ آصف جیسے لوگ تھے جو کہتے تھے کہ میاں صاحب آپ اپوزیشن کی پرواہ نہ کریں، عوام 6 ماہ بعد بھول جائیں گے کہ پانامہ بھی کبھی کوئی ایشو ہوا کرتا تھا مگر یہ ان کی غلط فہمی تھی جس نے میاں صاحب کو نقصان پہنچایا۔ پھر ان کے پاس دوسرا آپشن یہ تھا کہ معاملہ کی تحقیقات کے لیے پارلیمنٹ کو اختیار دے دیا جاتا۔ اس پر پیش رفت ہوئی، ایک مشترکہ کمیٹی بنا دی گئی جو درجن بھر اجلاسوں کے انعقاد کے باوجود کمیٹی کے اختیارات ہی طے نہ کرسکی اور یوں بالآخر معاملہ سپریم کورٹ کے سپرد ہو گیا۔


9/11 کے بعد سے عالمی سطح پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف ایک مضبوط حکمت عملی تشکیل پاچکی ہے جس میں دن بدن سختی کی جا رہی ہے، اس لیے اب یہ ممکن نہیں رہا کہ وسیع پیمانے پرکرپشن سے حاصل ہونے والے پیسے کو ٹھکانے لگایا جا سکے۔ اس کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں کھڑی کی جاچکی ہیں بالخصوص امریکہ کی جانب سے ایسی سرگرمیوں پر کڑی پابندیاں عائد ہیں البتہ میاں نواز شریف پرکرپشن کے الزامات کا تعلق چونکہ9/11 سے پہلے کے دور سے تھا اس لیے امریکہ نے اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی، دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ امریکہ اور بھارت کا جو ساﺅتھ ایشیا میں نیا علاقائی بلاک چائنہ کے خلاف کھڑا کیا گیا ہے اس تناظر میں پاکستان کی اہمیت کے پیش نظر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ نواز شریف انہیں زیادہ موزوں لگتے ہیں کیونکہ نواز شریف بھارت کے ساتھ تعلقات بہترکرنے اور تجارت کرنے کے لیے ہمیشہ تگ ودو میں رہتے ہیں لیکن پاکستان کے قومی حلقوں کے اندر یہ چیز ان کے خلاف جاتی ہے۔ اگر نریندر مودی کی رائے ونڈ آمد یا سجن جندال سے خفیہ ملاقات جیسے واقعات نہ ہوتے تو شاید نواز شریف پانامہ سے بحفاظت بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے۔


جب سے دُنیا ایک گلوبل ویلج میں تبدیلی ہوئی ہے کسی ملک کے لیے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ ان کے ہاں ہونے والے حالات وواقعات سے باقی دُنیا لاتعلق رہے۔ جس طرح پاکستان میں ہونے والے انتخابات پر پوری دُنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں عین اُسی طرح دُنیا کے دیگر حصوں میں رونما ہونے والے واقعات کو پاکستان میں کسی نہ کسی سطح پر نہ صرف دیکھا جارہا ہے بلکہ اس کا موازنہ بھی کیا جارہا ہے۔ اس کی ایک مثال لاطینی امریکہ کے ملک میکسیکو میں ہونے والے انتخابات ہیں جہاں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے Lopez Obraday نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے اورکرپشن اور ناقص طرزِحکمرانی میں بہتری لانے کا عزم کیا ہے۔ تاریخی طور پر دیکھیں تو میکسیکو میں Antonio Sauta Anna نے 1833ءسے 1855ءتک اپنے ملک پر 11دفعہ حکمرانی کی لیکن مو¿رخین کا کہنا ہے کہ جتنا نقصان ملک کو اس نے پہنچایا اس کی مثال مشکل ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بار بار کسی ملک کا صدر یا وزیراعظم منتخب ہونا بذاتِ خود کوئی اچھائی والی بات نہیں ہے بلکہ اگر لیڈر بدعنوان ہے تو وہ جتنی بار منتخب ہوتا چلا جائے گا ملک اتنا ہی اندھیروں میں اُترتا چلا جائے گا۔ میکسیکو کے نو منتخب صدر اس سے قبل دو دفعہ الیکشن ہار چکے ہیں یہ ان کی تیسری کوشش تھی جو بالآخر کامیاب ہوئی۔ ان کے ایجنڈے کا آرٹیکل نمبر ایک ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کچھ اعلانات کیے ہیں جنہیں واشنگٹن پوسٹ نے نمایاں انداز میں شائع کیا ہے۔ پہلا اعلان یہ ہے کہ وہ سرکاری صدارتی محل میں نہیں رہیں گے بلکہ اپنے جس گھر میں مقیم ہیں وہیں سے وہ اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔ دوسرا اعلان یہ ہے کہ وہ بطور صدر اپنی ہی تنخواہ اور مراعات میں کٹوتی کریں گے تاکہ وسائل میں بچت کی جا سکے۔ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ان کا اوّلین مشن ہے۔


ان اعلانات کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں ایسا اولاً تو ہوتا ہی نہیں ہے اور اگر کوئی صدر یا وزیراعظم سرکاری رہائش گاہ کو استعمال میں نہ لانے کا اعلان کرتا ہے تو ایسی مثال موجود ہیں کہ وہ اپنی ذاتی رہائش گاہ پر سرکاری خزانے سے چار دیواری ، سکیورٹی اور دیگر انتظامات پر اتنے پیسے خرچ کر دیتا ہے کہ حساب کتاب سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ یہ اگر سرکاری رہائش گاہ میں رہتے تو زیادہ بچت ہوئی۔ باقی آج تک کسی صدر یا وزیراعظم نے اپنی تنخواہ میں کمی کا اعلان نہیں کیا۔ میکسیکوکے نئے صدر نے اپنے سمیت تمام سابقہ صدورکی پنشن کے خاتمے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ہمارے ہاں کوئی ہے جو یہ سب کرکے دکھائے۔ میکسیکو کے ارکان کابینہ اور ارکان اسمبلی کے سفری اخراجات کے خاتمے کا اعلان اس لیے نہیں کیا گیا کہ انہیں یہ سہولت حاصل ہی نہیں ہے نہ ہی انہیں بیرون ملک مفت علاج کے لےے بھیجا جاتا ہے۔


اسی اثناءمیں ملائیشیا میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتیجے میں مہاتیر محمد برسراقتدار آگئے ہیں اور سبکدوش ہونے والے وزیراعظم نجیب رزاق کوکھربوں روپے کی کرپشن کے الزامات کے بعد حراست میں لیا جاچکا ہے۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ ان پر تین بلین ڈالرکے سرکاری فنڈزکی چوری کا الزام ہے جو پاکستان میں ان کے ہم منصبوں پر لگنے والے الزامات کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ بزرگ سیاستدان مہاتیر محمد جو سیاست سے ریٹائر ہوچکے تھے اور90 سال سے زیادہ عمرکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری کرپشن اور طرزِحکمرانی کو دیکھتے ہوئے انہیں ملائیشیا کی خاطر ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اسی طرح تھائی لینڈکی سابقہ خاتون وزیراعظم شینا وترا آج کل سنگاپور فرار ہوچکی ہیں۔ انہیں اپنے ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کا سامنا ہے جہاں انہیں 10سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔


پاکستان میں 2018ءکے عام انتخابات سے پہلے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے اور ذرائع دولت ظاہر نہ کرنے پر10سال قید کی سزا دی جاچکی ہے۔ قبل ازیں وہ عمر بھر کے لیے کسی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار پائے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ سیاست سے ریٹائر ہونے کی روایت نہیں ہے لہٰذا 70سالہ میاں نواز شریف اب بھی اپنے مستقبل کے سیاسی رول کے لیے فکرمند ہیں۔ مرحوم صدر فاروق لغاری صدارت سے سبکدوشی کے بعد ایم این اے منتخب ہوکر ایک بار پھر اسمبلی میں واپس آگئے تھے۔ اسی طرح سابق صدر پرویز مشرف ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز رہنے کے بعد اب بھی MNA بننے کی تگ ودو میں ہیں۔


میاں نواز شریف کا تین بار وزیراعظم بننے کا تاریخی ریکارڈ اگلی کئی دہائیوں تک ٹوٹنے کا دُور دُور تک امکان نظر نہیں آتا مگر ان کی خواہش ہے کہ وہ چوتھی مرتبہ پھر واپس آجائیں یا پھر انہیں ترکی کے طیب اردوان کی طرح صدر بنا دیا جائے اس شرط پرکہ پھر جملہ اختیارات صدرکو تحویل کر دیئے جائیں مگر اس دفعہ معاملات ذرا ٹیڑھے نظر آرہے ہیں۔ 2000ءمیں مشرف کے ساتھ ان کی ڈیل اور ان کی جیل سے رہائی اور سعودی عرب جلاوطنی کے لیے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا کردار ادا کیا تھا، اس میں امریکی صدر کلنٹن نے انہیں بچانے کے لیے براہ راست مداخلت کی بجائے اپنے دوست سعودی عرب کے توسط سے یہ کام کروا لیا تھا مگر2012ءمیں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد سے پاکستان آرمی کے امریکہ کے ساتھ تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر ہیں اس لیے آرمی چیف محترم جاوید باجوہ کہہ چکے ہیں ہم نے بہت ڈومورکرلیا ہے اب دُنیا کو ڈومورکرنا ہو گا۔


میاں نواز شریف کی حمایت میں بیک چینل ڈپلومیسی جاری ہے جس میں ان کے لیے رعایتی پیکیج کی بات ہو رہی ہے مگر ابھی تک اس کا نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ اصل میں پانامہ سکینڈل نے جو صورت اختیارکی ہے یہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے اندازوں کے برعکس ہے۔ برطانیہ کی حکومت اس معاملے میں عجیب مخمصے کا شکار ہے کہ اس معاملے سے کیسے نپٹا جائے، یہ فیصلہ ان کے لیتے بھی سُبکی کا باعث بنا ہوا ہے کہ ان کی سرزمین منی لانڈرنگ کے پیسے کو چھپانے کے لیے استعمال ہوئی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ صرف ایک مقدمہ نہیں ہے۔ ایشیا اور افریقہ کے درجنوں حکمرانوں اور جرنیلوں نے برطانیہ میں جائیدادیں بنائی ہیں اور یہ سارا پیسہ اپنے ممالک سے ناجائزطور پر وہاں منتقل ہوا ہے۔ اگر پاکستان کی نئی حکومت اس پیسے کی واپسی کے لیے جدوجہد کا آغاز کرتی ہے تو برطانیہ کے لیے اس میں مزاحمت کرنا آسان نہ ہوگا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل جیسے بدعنوانی کے خاتمے کے ادارے نے بھی برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو لکھا ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرے کہ ان کے ملک کو بلیک منی چھپانے کے لیے پارکنگ لاٹ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ورلڈبنک اور اقوام متحدہ کے فراڈ اینڈ کرائم آفس کے باہم اشتراک سے آج سے15سال پہلے ایک پروگرام Stolen Assett Recovery Initiative یعنی مال مسروقہ کی برآمدکا ایک پروگرام شروع کیا گیا تھا جس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے نائیجیریا کی حکومت نے انگلینڈ سے اپنے اربوں ڈالر واپس برآمد کروائے ہیں جو غیرقانونی طور پر نائیجیریا سے برطانیہ منتقل کیے گئے تھے۔ پاکستان کی نئی حکومت اس قانون سے فائدہ اُٹھا سکتی ہے۔


ایک اور اہم ایشو یہ ہے کہ بھارت، امریکہ اور برطانیہ اس وقت پاکستان کی مستقبل کی حکومت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ نواز شریف ان کے لیے زیادہ قابلِ قبول ہیں کیونکہ وہ گزشتہ 35 سال سے پردہ سکرین پر ہیں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لئے چیلنج یا مشکلات کا باعث نہیں ہیں جبکہ دوسری طرف عمران خان بطور ایک نئے کھلاڑی کے سب کی نظر میں سوالیہ نشان کی طرح کھٹکتے ہیں، دوسرا انہیں Manipulate کرنا یا آلہ¿ کار بنانا ان کے بس کی بات نہیں ہے اس لیے عالمی طاقتوں کی ترجیح نواز شریف ہے، دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملات کیسے ڈیل کیے جاتے ہیں۔


حالیہ الیکشن اس لحاظ سے مختلف ہے کیونکہ پہلی دفعہ اس الیکشن میں قومی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نہیں ہیں۔ ایک نواز شریف کے پیچھے ہے جبکہ دوسری عمران خان کو پسندکرتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جیت کس کی ہوتی ہے۔ نواز شریف اور اس کی پارٹی کو شکست دینا اس لیے بھی آسان نہیں کہ موجودہ نسل کی سماجی روایات بڑی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ سزا کے باوجود عوام اس کی حمایت کررہے ہیں اور کھلے عام کہتے ہیں کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے۔ یہ ایک نہایت خطرناک ڈاکٹرائن ہے جو دہشت گردی اور انتہاپسندی سے زیادہ نقصان دہ ہے۔


ای پیپر