گڑھا، رحمان فارس اور یوسفی صاحب !
17 جولائی 2018 2018-07-17

میں نے گزشتہ کالم ملک کے ممتازترین مزاح نگار، مشتاق احمد یوسفی مرحوم کے حوالے سے لکھا تھا جس میں زیادہ ذکر نامور ادیبہ محترمہ بشریٰ رحمان کا ہوگیا۔ میں اصل میں یوسفی صاحب کی روح راضی کرنا چاہتا تھا۔ اب مشکل یہ ہے ملک کے سیاسی حالات یہ تقاضا کررہے ہیں اور کچھ دوستوں کا یہ اصرار بھی ہے یوسفی صاحب کو ایک طرف رکھ کر دوبارہ اُسی گندگی میں ہاتھ ڈالا جائے جو ہمارا مقدر بن چکی ہے، مگر میں فی الحال یہ کرنے کو تیار نہیں۔ البتہ اس حوالے سے ایک بہت ہی خوبصورت شاعر رحمان فارس کا کلام جو اُنہوں نے ”بروز جمعہ“ کے عنوان سے لکھا ہے اور کس ذریعے میرے تک پہنچا ہے میں آپ تک پہنچائے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ میرے نزدیک اس کلام کو پھیلانا ”کارثواب“ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے لکھا تھا ”ہمارے ہاں ”ادبی قحط“ پڑ چکا ہے۔ اب شاید ہی یہاں کوئی قدرت اللہ شہاب ، اشفاق احمد، احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، احمد فراز ، مشتاق احمد یوسفی ، بانو قدسیہ، مختار مسعود ایسے لوگ پیدا ہوں گے“۔....میں جب رحمان فارس کو پڑھتا ہوں میری یہ ”مایوسی“ کچھ کم ہونے لگتی ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے قحط زدہ علاقے میں خوراک کا ٹرک لے کر کوئی پہنچ گیا ہے، رحمان فارس کی شخصیت اور کلام پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے، فی الحال میں آپ کے اور ان کے اُس خوبصورت کلام جوسیاسی گندگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کے درمیان حائل نہیں ہونا چاہتا، البتہ خوبصورت شاعر کی خدمت میں عرض ہے اس خوبصورت کلام کا عنوان ” بروز جمعہ“ مجھے کچھ زیادہ متاثر نہیں کرسکا۔ میرے اتنی اوقات نہیں اس کلام کو کوئی اور عنوان دوں۔ یہ کام رحمان فارس ہی کریں جو فرماتے ہیں !

کہانی ختم ہوگی ؟ یا تماشا ہونے والا ہے؟

کسے معلوم ہے فارس یہاں کیا ہونے والا ہے

پرندے چیونٹیاں اور لوگ ہجرت کرتے جاتے ہیں

ہمارے شہر میں کیا حشر برپا ہونے والا ہے؟

ذخیرہ کرلو آنسو اپنی آنکھوں کے کٹوروں میں

یہاں اب پانی مہنگا خون سستا ہونے والا ہے

تو کیا ہم لوگ پھر سے دھوکہ نامی تیر کھائیں گے؟

تو کیا زخم ندامت اور گہرا ہونے والا ہے؟

ترازو سج چکے ہیں اور بولی لگنے والی ہے

تو کیا پھر سے میرے خوابوں کا سودا ہونے والا ہے؟

تو کیا اب فاختائیں اورہرن پیاسے ہی مر جائیں؟

تو کیا اب جھیل پر سانپوں کا قبضہ ہونے والا ہے؟

کبھی تشویش کہتی ہے اندھیرا اب نہ جائے گا

کبھی اُمیدکہتی ہے اُجالا ہونے والا ہے

اُدھر طے ہے کہ مرگِ ناگہانی لازمی ٹھہری

اِدھر خیر ہے، نہیں بیمار اچھا ہونے والا ہے

وہی کارِ بغاوت جو کہ سینوں میں ہے پوشیدہ

ابھی تک ہونہیں پایا لہٰذا ہونے والا ہے

ریاست کی نہیں یہ آپ کی اپنی ہی میت ہے

ابھی کچھ دیر تو بیٹھیں جنازہ ہونے والا ہے

کہیں شربھاگا پھرتا ہے، کہیں مصروف ہے سازش

تو کیا شیطان کے ہاں پھر سے بچہ ہونے والا ہے؟

جِسے تم نے ہمیشہ رینگتے ہوئے دیکھا میاں فارس

وہ اب اُونچی فضاﺅں کا پرندہ ہونے والا ہے

میں سوچ رہا تھا یوسفی صاحب زندہ ہوتے، وہ رحمان فارس کا یہ کلام پڑھ لیتے ضرور انہیں شاباش کا خط لکھتے، خط کی اپنی اہمیت ہوتی ہے جو اب آہستہ آہستہ کم ہوتی جارہی ہے، مواصلات کے جدید نظام نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔ بہت کچھ چھین بھی لیا ہے۔ ہمارے ادیبوں شاعروں نے ایک دوسرے کو جو خطوط لکھے وہ ہمارے ادب کا باقاعدہ ایک اثاثہ ہیں، ان خطوط پر مشتمل کچھ کتابیں بھی شائع ہوئی ہیں، جن سے ہم ایسے کم تر لکھنے والے بہترین رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں ، یوسفی صاحب نے مجھے دو خط لکھے ،وہ میرے پاس محفوظ ہیں ، ایک بار میری فون پر ان سے بات ہورہی تھی، وہ فرمانے لگے ”میں نے آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں، میں آپ کو خط لکھوں گا“۔....میں ان سے یہ نہیں کہہ سکا کہ

آپ وہ باتیں مجھے فون پر ہی بتادیں، کیونکہ مجھے خط کی اہمیت کا اچھی طرح اندازہ تھا، بلکہ خط کی وجہ سے ہمارے ”ڈاکیوں“ کی بھی اچھی خاصی اہمیت ہوجایا کرتی تھی، کبھی کبھی تو ان کی قسمت بھی کھل جایا کرتی تھی، ....ایک لڑکی کا بوائے فرینڈ روز گارکے لیے دبئی جانے لگا اس نے رو رو کر بُرا حال کرلیا، وہ اس سے کہنے لگی ”میں تمہارے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ لڑکے نے اُسے بہت سمجھایا کہ ”یہ اس کے مستقبل کا معاملہ ہے، اُس کا جانا بہت ضروری ہے“ لڑکی مگر مسلسل روئے جارہی تھی، بڑی مشکل سے وہ اس شرط پر چپ ہوئی، کہ لڑکا دبئی سے روزانہ اُسے خط لکھے گا۔ وہ بے چارہ دوسال تک حسب وعدہ روزانہ دبئی سے اُسے خط لکھتا تھا۔ رات کو کام کاج سے تھکا ہارا واپس آتا اُسے خط لکھنے بیٹھ جاتا۔ دوسال بعد وہ جب واپس پاکستان آیا اسے پتہ چلا اس کی ”محبت“ نہ صرف ڈاکیے کی بیوی بلکہ اس کے ایک عدد بچے کی ماں بن چکی ہے،.... جہاں تک رحمان فارس کے مذکورہ بالا خوبصورت کلام کا تعلق ہے اس کا ایک ایک شعر ان زخموں کی داستان بیان کررہا ہے، جو اس غلیظ نظام نے اس ملک اور اس کے کروڑوں عوام پر لگائے اور لگاتا چلا جارہا ہے، یہ کلام ہمارے سوئے اور بکے ہوئے ضمیروں کو اگر نہیں جھنجھوڑتا تو جان لیجئے بہت جلد ایک ایسے ”گڑھے“ میں ہم گرنے والے ہیں، بلکہ کسی حدتک گر چکے ہیں، جہاں سے ہمیں کوئی نہیں نکال سکتا۔ سوائے اس رب کے جو فرماتا ہے ”اللہ نہیں بدلتا اس قوم کی حالت نہ ہو آپ جسے اپنی حالت کے بدلنے کا خیال“ !


ای پیپر