”رئیسانی رئیسانی ہوتا ہے“
17 جولائی 2018 2018-07-17

میرے بلوچستان کے بہادر لوگوں....

اور پھر وہ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا، زندگی میں بہت سی چیزیں، بہت سے واقعات ہمارے نہ چاہنے کے باوجود بھی ہو جایا کرتے ہیں، افتخار عارف بے طرح سے یاد آئے

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

رئیسانی قبیلے کا وہ چراغ، وہ روشنی، وہ آفتاب جسے پاکستان کی محبت نے سرپھرا اور دیوانہ بنا رکھا تھا، دشمنوں نے بلوچستان کی سنگلاخ چٹانوں سے الفت اور مروت کا پھوٹنے والا وہ چشمہ، بیمار ذہنیت اور نفرت کے بارود سے بھری ہوئی جیکٹ سے ہمیشہ کے لیے خشک کر دیا ۔

ویسے تو رئیسانی قبیلے سے عام لوگوں کی شناسائی ”ڈگری، ڈگری ہوتی ہے“ فیم وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کے ذریعے ہوئی تھی لیکن جب سراج رئیسانی کا معاملہ سامنے آیا تو معلوم پڑا کہ ایسا نگینہ آدمی بھی بلوچستان میں موجود تھا۔

یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی

ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی

جب بلوچستان میں پاکستان کا جھنڈا لہرانا، موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا، یہ میرا بھائی اپنی گاڑی پر سبز ہلالی پرچم اس شان سے لہراتا تھا کہ دشمن کے زیر ناف آگ لگ جاتی تھی۔ بلوچستان میں بھارتی ایجنٹ، کالعدم تنظیمیں اور قوم پرستوں کیساتھ ساتھ بین الاقوامی دہشت گرد بھی سرگرم ہیں۔سراج رئیسانی نے دشمن ملک کے نشان کو قدموں سے روندتے ہوئے تصاویر بنوائیں اور پھر سوشل میڈیا پر جاری بھی کر دی۔ قوم پرستوں اور پاکستان مخالف قوتوں کی جانب سے پہلے بھی سراج کی زندگی پر کئی حملے کئے گئے اس نے اپنا کڑیل بیٹا بھی اس دھرتی کے لیے قربان کیا اور ایک لمحہ کے لیے بھی کوئی ملال یا ماتھے پر شکن ڈالے بغیر پاکستان کے لیے ڈٹ کر کھڑا رہا۔

بلوچستان کے حوالے سے عرض کر دوں کہ ایک طویل عرصے سے اس کی وسعت اور بین الاقوامی سرحدوں کے پھیلاﺅ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمنوں نے شورشوں کا بازار گرم کیے رکھا۔ لمبے چوڑے ڈالروں کی حقیقت اور قوم پرستی کے وہم میں مبتلا افراد بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں اور دشمنوں کے لیے خام ایندھن کی صورت وافر دستیاب تھے۔ کسی گھر یا گاڑی پر پاکستان کا پرچم ان بے وطن مفاد پرست لوگوں کے لیے آر پی جی کا رخ موڑنے کے لیے کافی ہوا کرتا ایسے میں سراج نے پاکستان کا پرچم اٹھا کر علیحدگی پسندوں کا پیچھا کرنا شروع کیا اور اپنے بہادر غیور پاکستان پرست بلوچوں کے ساتھ بڑی کامیابیاں حاصل کرنا شروع کیں تو دشمن نے اسے نشانے پر رکھ لیا اور بالآخر وہ ایک ایسے علاقے میں حملہ آور ہوئے جہاں اس کی بالکل امید نہیں تھی۔

درینگڑھ جہاں کھڑے ہو کر اس نے بہادر بلوچوں سے مخاطب ہونا تھا ایک چھوٹا علاقہ تھا جہاں اکثر لوگ ایک دوسرے کو نام اور چہروں سے جانتے تھے اور کسی انجان کا وہاں تک پہنچنا اور کسی دہشت گردی کا مرتکب ہونا ممکنات میں نہ تھا لیکن یہ ہوا کیونکہ دشمن کو ایک بار پھر سہولت کار مل گئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور چاغی، دالبدین کی طرف سے پاکستان میں داخل ہوا چونکہ اب بڑی حد تک یہی راستہ دہشت گرد استعمال کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کا راستہ بند اور قلعہ عبداللہ ، ژوب و قلعہ سیف اللہ کی جانب سے آمد مسدود ہو کر رہ گئی ہے۔

میرا اندازہ یہی ہے کہ ”لشکر گاہ“ اور ”شورراوک“ کی جنگ بڑھتے بڑھتے اب بلوچستان کے اندر تک آ گھسی ہے اور داعش کیخلاف افغانیوں کی جنگ میں دشمن قوتیں برآفروختہ ہو کر اپنا سب کچھ داﺅ پر لگانے پر تلی ہوئی ہیں لیکن وہ کون تھاجو درینگڑھ میں دہشت گرد کے لیے تعارف کا وسیلہ بنا اور بعض اطلاعات کے مطابق رات ٹھہرانے کا بندوبست بھی۔ اطلاع ہے کہ بلوچستان میں الیکشن سے پہلے مزید چار خود کش حملہ آور بھی داخل کئے گئے ہیں جنہوں نے خدانخواستہ بلوچستان کے راستے داخل ہو کر مزید تباہ کاریوں کا باعث بننا ہے۔دو کے راستے تلاش کر لیے گئے ہیں اور باقی دو کی بھی تلاش پوری شدت سے جاری ہے اور امید کی جا رہی ہے اللہ تعالیٰ کی مدد اور مہربانی اور جوانوں کے حوصلے کی بدولت الیکشن کے انعقاد تک باقی دن خیریت سے گزر جائیں گے۔

بلوچستان میں عام طور پر سیاسی لوگوں کی پاکستان کے ساتھ یا پاکستان مخالف وابستگی بہت واضح ہے اور اسی لیے پاکستان سے محبت کرنے والے سیاست دان بطور خاص نشانے پر ہیں اللہ پاک پاکستان اور اس سے محبت کرنے والے ہر شخص کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔آمین

ابھی عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے داﺅد اچکزئی کی زندگی پر ہونے والی کوشش تو ناکام کر دی گئی افسوس کہ سراج رئیسانی کو ہم نے کھو دیا لیکن آشفتہ سروں کا قافلہ ابھی رکا نہیں ہے تھما نہیں ہے، پاکستان کے لیے سر کٹانے اور جان دینے والے بہت ہیں اور یہ انشاءاللہ ہمیشہ رہیں گے۔

شہید سراج رئیسانی نے اپنی جماعت بلوچستان متحدہ محاذ کو جب بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) میں ضم کیا تو اسے ”باپ“ کے بڑے طعنے دیئے گئے تو اس نے کہا کہ طعنے دینے والوں کے اپنے باپ تو سرحد پار ہیں ہمارے تو اسی سرزمین پر قربان ہوئے۔

سراج کے والد، بھائی اور بیٹے کے نام کے ساتھ شہید لگا ہوا تھا تو سراج رئیسانی بھلا کیسے پیچھے رہتا، رئیسانی ، رئیسانی ہوتا ہے!


ای پیپر