PM Imran Khan, foreign funding case, last four years, Pakistan, PTI government
17 جنوری 2021 (12:34) 2021-01-17

نوازشریف کا اقامہ رکھنے کا ’جرم‘ اگر اسے امریکہ کی مطبوعہ بلیک ڈکشنری کے سوا کسی پاکستانی قانون کی رو سے جرم قرار بھی دیا جا سکتا ہے عمران خان کے فارن فنڈنگ کے قضیے کے مقابلے میں بہت ہلکے درجے کا قصور تھا… مگر چونکہ اس ملک کی مقتدر قوتیں اپنی غیرآئینی طاقت کے زور پر اس سے وزارت عظمیٰ کا منصب چھین لینے پر ڈٹ گئی تھیں… اس لیے سپریم کورٹ سے اس کی برطرفی کا فیصلہ حاصل کرنے میں تاخیر نہ ہوئی… حالانکہ اس سے قبل جوڈیشل کمیشن فیصلہ دے چکا تھا کہ 2013 کے انتخابات میں قواعدوضوابط کی معمول کی خلاف ورزیوں کے علاوہ اتنی بڑی دھاندلی نہ ہوئی تھی کہ نتائج کا رخ بدل دیتی… بعدازاں پانامہ کے تحت لگائے گئے الزامات سے بھی کوئی جرم برآمد نہیں ہو پا رہا تھا… مگر نوازشریف کی غیرتابعدار حکومت سے نجات پا لینا اور پاکستان پر ہر قیمت اور ہر طرح کے حالات میں اپنا تسلط برقرار رکھنا غیرجمہوری قوتوں کی ضرورت تھا… اس لیے اقامہ کی آڑ لے کر اسے چلتا کیا گیا… عمران خان کا فارن فنڈنگ کیس گزشتہ چار برس سے محض اس لیے تاخیر کا شکار چلا آ رہا ہے کہ ہماری اور مملکت خداداد کی قسمت کے اصل مالکوں کو اس کا وزیراعظم رہنا ابھی تک منظور ہے یا اس کا کوئی متبادل نہیں مل رہا… لہٰذا اب جو اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ 19 جنوری کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے زبردست عوامی مظاہرہ کر کے پُرزور مطالبہ کریں گے کہ موجودہ وزیراعظم کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات اور بیرون ممالک سے وصول کی جانے والی انتخابی قوانین کی واضح خلاف ورزی کرتی ہوئی رقوم کی بابت جلد فیصلہ صادر کیا جائے تو الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی نے اس سے دو روز قبل مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے نمائندوں کو اپنے حسابات کی جانچ پڑتال کرانے کے لیے طلب کر لیا ہے تاکہ اس کے اور بڑی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان حساب ’برابر‘ رکھا جائے… قوم کو تاثر دیا جائے اگر عمران خان اور اس کی تحریک انصاف غیرممالک سے فنڈز کے حصول اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہیں تو اپوزیشن جماعتیں بھی پیچھے نہیں حالانکہ جب پانامہ کا قضیہ شدت کے ساتھ اٹھا تھا تو اس میں نوازشریف اور اس کے خاندان کے علاوہ 491 امیر ترین پاکستانی کنبوں یا آف شور کمپنیوں کے مالکوں کے نام بھی شامل تھے… تب ان سب کی فائلوں کو اس لیے ٹھپ کر کے رکھ دیا گیا تھا چونکہ نواز ملک کے وزیراعظم ہیں لازم ہے سب سے پہلے ان کا مواخذہ کیا جائے گا اس کے بعد بقایا اور الزامات کی گرداب میں آنے والی پاکستانی کمپنیوں یا کنبوں کی باری آئے گی معاف کسی کوبھی نہیں کیا جائے گا قانون کا سب پر ’برابر‘ اطلاق کیا جائے گا… مگر جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا گیا اور 2017 کی تاریخ شاہد ہے پانامہ سے کچھ نہ برآمد ہوا تو اقامہ جیسے بوگس الزام کی آڑ لے کر ملک کے منتخب وزیراعظم کا کام تو تمام کردیا گیا… چار برس ہونے کو ہیںپانامہ الزامات کی زد میں آنے والی 491 بقیہ کمپنیوں یا خاندانوں کا بال بیکا نہیں ہوا… مگر اب جبکہ ان کے Blue Eyed Boy پر اس سے کہیں سنگین الزامات کے بادل چھائے ہوئے ہیں تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی والوں کو کہا گیا ہے پہلے وہ اپنے معاملات کی صفائی پیش کریں پھر اس کے بارے میں دیکھا جائے گا… یہ ہے ہمارے ملک میں انصاف کا بول بالا ہونے کا منظر… جب ملک کا اصل اقتدار غیرآئینی قوتوں کی دسترس میں ہو گا جمہوریت کا خواہ جتنا مرضی ڈھنڈورا پیٹتے رہیںآخری فیصلہ ان ہی کی جناب 

سے صادر ہوتا رہے گا تو انجام کار یہی کچھ ہو گا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ نااہل اور عوام یا پارلیمنٹ احساس جوابدہی سے عاری لوگ جمہوری دکھاوے کی خاطر مسند اقتدار پر لا کر بٹھائے جائیں گے تاآنکہ بادشاہ سلامت کا دل ان سے بھر آوے اور ان کی جناب میں اس شخص اور جماعت کو مزید رکھنا منظور نہ ہو یا اس سے بڑا تابع مہمل ہاتھ میں آ جاوے جسے عوامی نمائندے کا لباس فاخرہ پہنا کر لوگوں اور دنیا کے سامنے لا کر بٹھا دیا جائے اور اس کے بعض خصائص جمیلہ کا خوب خوب ڈھنڈورا نہ پیٹا جائے جن کا بھانڈہ پھوٹنے میں چاہے دیر نہ لگے… اسے کہتے ہیں مارشل لائی جمہوریت…

1919 میں روولٹ ایکٹ کے خلاف بغاوت ہوئی… تحریک خلافت کے خلاف شروعات ہوئیں… ان تحریکوں نے پورے ہندوستان کے ہندو، مسلم اور سکھ عوام کو اپنی لپیٹ میں لیا… آزادی کے نعرے گونج اٹھے… آئینی حکومتوں کے قیام کے مطالبے زور پکڑ گئے… پنجاب جیسا ہمیشہ سے سیاسی طور پر مؤثر اور سامراجی حکمرانوں کے آخری فیصلوں کی بہترین اور قابل اعتماد آماجگاہ صوبہ بھی ہاتھوں سے جاتا نظر آ رہا تھا… انگریز سرکار کو خاص طور پر اسے سنبھالنے اور قابو میں رکھنے کی فکر لاحق تھی… نہروں کے جال پہلے ہی بچھا دیئے گئے تھے… ریلوے کے نظام نے بھی عام آدمی کی آمدورفت میں سرعت پیدا کر رکھی تھی… اس کی لائنیں اگرچہ پورے ہندوستان میں بچھا دی گئی تھیں لیکن پنجاب والوں پر اس کے خاص طور پر مثبت اثرات پڑے… کیونکہ ان کی اپنی آمدورفت کے ساتھ زرعی اجناس کو دور کی منڈیوں تک پہنچانے اور بہتر داموں پر فروخت کرنے کے دروازے کھل گئے تھے… پہلی جنگ عظیم کے آغاز پر فوجی نوکریوں کے باب وا ہوئے… دوسری جنگ عظیم کے اختتام نے ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسروں کی شکل میں پوری کی پوری رولنگ کلاس پیدا کر دی… جو شکرگزار بھی تھی… اوپر والوں کی تابعداری اور رعایا پر حکومت کرنے کے فن اور زعم سے آشنا ہو چکی تھی… 1947 کے قریب آزادی ہند اور قیام پاکستان کا مرحلہ قریب آیا تو پنجاب کے ہندو مسلمان عوام نے اپنی اپنی جگہ اگرچہ ملک کی آزادی اور مسلمانوں نے علیحدہ و آزاد مملکت وجود میں لانے کے حق میں فیصلے دیئے… انگریز کو رخصت ہونا پڑا… ہندو اکثریت قائداعظمؒ اور آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت میں مسلم عوام کا فیصلہ قبول کرنے پر مجبور ہوئی… پاکستان کا قیام عمل میں آ گیا… مگر پنجاب پر انگریز کے حقیقی جانشینوں کی دسترس بطور قائم رہی… پے درپے مارشل لا لگے… ملک خداداد دولخت ہو گیا… جمہوریت کا صرف نام باقی رہ گیا… باقی سب کچھ ہاتھوں سے لٹ گیا… حتیٰ کہ کشمیر بھی جس کی خاطر تین جنگیں لڑی گئیں… بجٹ کا پیشتر حصہ قربان کیا جاتا رہا… اب پوری طرح دشمن بھارت کی آہنی اور آئینی گرفت میں دب کر رہ گیا ہے… رسمی بیان بازی کرتے رہے جتنی ہو سکے…

مگر یار لوگ اپنے غیرآئینی پنجے میں ڈھیل دینے کو ہرگز تیار نہیں… مارشل لا لگا بے شک نہیں سکتے کیونکہ یہ لفظ اور یہ طرز حکمرانی بدنام ہو کر رہ گئے ہیں… انہوں نے پس پردہ بیٹھ کر اپنا ڈھول بجا کے رہنے کی طرزِ نو ایجاد کر لی ہے… اب جو پنجاب کے عوام کے اندر بھی سیاسی اور آئینی بیداری کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے… انہوں نے اپنا لیڈر خود پیدا کر لیا ہے… پورے ملک کے اندر جمہوریت کے احیاء کا نیا عہد شروع ہوا چاہتا ہے… تو اس سرزمین کا اپنے آپ کو مالک سمجھنے والوں کو نئی فکر لاحق ہے… نئے حالات کا رخ کیونکہ اپنی حکمرانی کی جانب موڑ کر رکھا جائے… یہ ہے وہ کشمکش جو لمحہ موجود کے اندرارض پاکستان پر اپنا غیرنمائندہ تسلط بزور طاقت برقرار رکھنے والوں اور عام ووٹر کے درمیان بپا ہے… ووٹر اپنے فیصلے کا اعلان کرنے بیلٹ بکس پر جاتا ہے تو اسے کمال فن کاری کے ساتھ بدل کر رکھ دیا جاتا ہے… مرضی کا وزیراعظم لا کر بٹھا دیا جاتا ہے… ووٹر یا عام آدمی اس کی نااہلی سے بہت جلد اور سخت بیزار ہو جاتا ہے تو اس کے امنڈتے ہوئے سیاسی شعور اور جذبات کے آگے بند باندھنے کے کئی حیلے ٹھیلے استعمال میں لائے جاتے ہیں… اس دوران میں ملکی معیشت کا جو برا حال ہوا ہے… اچھی خاصی خارجہ پالیسی کا جو کچومر نکال کر رکھ دیا گیا ہے… ایک بھی قابل ذکر مسلمان ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات دوستانہ نہیں رہے… قومی ایئرلائن میں کچھ سکت باقی تھی تو اس کا گلا مروڑ کر رکھ دیا گیا ہے… نام نہاد حکمرانوں کی ساکھ بیرونی دنیا میں ہے نہ اپنے ملک کے اندر… اندرون ملک ہر جگہ خلفشار پایا جاتا ہے… مہنگائی نے عام آدمی کیا کھاتے پیتے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا کر رکھ دی ہیں… لاڈلے وزیراعظم کی امانت و دیانت کی کہانیوں کا پردہ نہ صرف فارن فنڈنگ کیس بلکہ براڈ شیٹ کے نئے سکینڈل سے چاک ہوا جا رہا ہے… عمومی کرپشن میں کمی نہیں آئی اور نااہلی کا جن پوری قوم کے سروں پر کھڑا ہو کر اسے تگنی کا ناچ نچوا رہا ہے مگر وہ جو ہمارے اصل حاکم بنے بیٹھے ہیں ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی کہ مرضی کا فرماں بردار پیدا کرنے اور اسے سامنے لانے اور عوام کی نظروں میں ایک نیا اور جعلی ہیرو پیدا کرنے میں وقت درکار ہے… اس کے لیے شاید کام شروع کردیا گیا ہو مگر اس مرحلے کے قریب آنے تک صبر لیجیے اور انتظار کی گھڑیاں گنتے رہیے…


ای پیپر