Second wave, pandemic, world, WHO, US, Pakistan
17 جنوری 2021 (12:24) 2021-01-17

کورونا کی دوسری لہر پوری شدت سے دنیا پر چڑھ دوڑی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ’مرگِ انبوہ جشنے دارد‘ (عام مصیبت میں رنج کم ہوجاتا ہے۔) کا محاورہ کارفرما نظر آرہا ہے۔ صرف ایک کیلی فورنیا (امریکا کی بڑی اور امیر ترین ریاست) کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ہسپتال کی رپورٹ نئی لہر کی شدت کی خبر دیتی ہے۔ مریضوں کی تعداد ہسپتال کی گنجائش سے باہر ہوگئی۔ 82 فیصداضافہ مریضوں میںاور 92 فیصد اموات میں یکایک ہونے لگا۔ اسے کووڈ سونامی کا نام دیا گیا۔ غیرمعمولی بحران کے پیش نظر اضافی فیلڈ ہسپتال فوری کھڑا کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اس کورونا لہر کے لیے ’Surge ‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی تو دھیان فوراً اوباما دور کی معروف ’Surge ‘ کی طرف چلا گیا۔ افغانستان سے نمٹنے کو اوباما نے اپنی افواج کی تعداد میں یکدم اضافے، (بڑی لہر) کا اعلان اسی اصطلاح کے تحت کیا تھا۔ امریکی 36 ہزار فوجیوں اور نیٹو 32 ہزار پر مزید 17 ہزار کی اضافی لہر افغانستان پر غلبہ پانے کو امڈی تھی۔ فروری 2009ء کی اس لہر کے بعد آج دنیا جنوری 2021ء میں جس لہر کی موجوں کے تھپیڑوں کی زد میں ہے، اس کے آگے طبی لاؤلشکر ڈبکیاں کھا رہا ہے۔ 11جنوری تک کا عالمی کورونا خبر دے رہا ہے کہ دنیا بھر میں کل کیس 9 کروڑ 8 لاکھ 31 ہزار 550 ہوچکے۔ کل اموات ایک کروڑ 94 لاکھ 56 ہزار سے زائد ہیں۔ گلوبل چودھری امریکا، وبا میں بھی پہلے نمبر پر فائز ہے۔ یورپ کی حالت غیر ہے وہاں برطانیہ زد میں ہے زیادہ۔ امریکا میں ہسپتالوں و پرائیویٹ مردہ خانوں میں لاشوں کی جگہ نہ ہونے پر اب برفاب ٹرک (فریج والے کنٹینرز) استعمال میں لائے جارہے ہیں، تدفین تک اسٹور کرنے کو۔ بڑی بڑی اجتماعی قبریں کھود کر بیک وقت مردے دفنانے کی نوبت تو پچھلی لہر میں بھی آئی تھی جس کی تصاویر عبرت انگیز تھیں۔ دشت لیلیٰ (افغانستان) میں نومبر 2001ء میں دو ہزار طالبان کو بند کنٹینروں میں ٹھونسا گیا جہاں وہ دم گھٹ کر مرتے گئے اور پھر اجتماعی قبروں میں نیم مردہ، مردہ لے جا ڈالے گئے۔ یہ جنگی جرائم جن پر حقوق انسانی کی بعض تنظیمیں آواز اٹھاتی رہیں مگر پیش رفت ممکن نہ تھی۔ اب الٰہی فیصلے اتر آئے برسر زمین مکافات عمل کو۔ کنٹینرز کے بدلے اب برفاب کنٹینر اور اجتماعی قبور خود انہیں درپیش ہیں۔ ساری فوجیں مظلوم، نہتے افغانوں کے مقابل بھی مغلوب ہوئیں۔ اور یہ بھی ہوا کہ: ’اس کے بعد اس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا۔ ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ بس ایک دھماکا ہوا اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے۔‘ (یٰسین۔28,29 )

یہاں کووڈ دھماکا پوری دنیا میں سوشل میڈیا اور خبروں کی دنیا میں ہوا۔ غیرمرئی، نیم جان وائرس دبے پاؤں موت کی سرسراہٹیں لیے پھرتا اور شمع حیات بجھاکر چل دیتا ہے۔ وہ جو ان سربستہ رازوں کے امین تھے (کورونا کیا ہے کیوں ہے؟) جو آدمؑ تا ایں دم پوری انسانی تاریخ، گزری اقوام، انبیاء کی تعلیمات، واقعات بارے لاریب کتاب کے ذریعے تربیت یافتہ تھے، ان پڑھ بنے بیٹھے رہے۔ مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ، اپنے خورشید پہ پھیلا دیے سائے ہم نے! سائنس منقار زیر پر ہے، مگر ہم خالقِ ومالک سائنس کو بھلائے صرف ایس او پیز ہی کے راگ الاپ رہے ہیں۔ اے لاالہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں، گفتارِ دلبرانہ، کردارِ قاہرانہ۔ مسلمان ڈاکٹر بہت بڑی تعداد میں بالخصوص برطانیہ، امریکا میں طبی خدمات، وبا میں انجام دے رہے یں۔ کاش انہوںنے الہ واحد کی کار فرمائی بھی دنیائے کفر کو باور کروائی ہوتی۔ دنیا اللہ سے بے خبر حالتِ کفر میں قبروں میں اترتی چلی گئی، ہم مرتوں کے منہ میں کلمہ بھی نہ ڈال سکے؟ شہ رگ سے قریب خالق کی پہچان نہ دے سکے۔ انہی کفار سے مرعوب ومغلوب رہے۔ استعماری دور کے یورپی ڈاکٹر علاج کی آڑ میں عیسائیت پھیلاتے رہے انہی سے سبق سیکھا ہوتا! ہمارے تو اپنے ٹیلی فون پر جو ٹیپ چلتی ہے وہ سیکولر، بے خدا ہونے کی انتہا ہے۔ ارشاد یہ ہوتا ہے کہ ’پہلی لہر میں دنیا کروڑوں کی تعداد میں کورونا کا شکار ہوئی اور پاکستانی بچے رہے۔ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ پاکستان نے حفظانِ صحت کے اچھے رویوں کو اختیار کیا!‘ کیا لطیفہ ہے! سب بلاماسک کھانستے چھینکتے، معانقے مصافحے کرتے رہے۔ ایس او پیز پر عملدرآمد والا طبقہ تو عملاً دوچار فیصد ہوگا جنہیں سب نے خبطی ہی سمجھا! مساجد بالخصوص بڑی حد تک بتوکل علی اللہ آباد رہیں اور کورونا چپکا بیٹھا رہا بالخصوص نمازی طبقات کے لیے۔ الا ماشاء اللہ! (بندۂ مومن کے لیے یوں بھی کورونا پیکیج جدا ہے!) سبب کچھ اور ہے جس کو تو خود سمجھتا ہے، کورونا بندۂ مومن کو کھانسنے سے نہیں۔ تفنن برطرف۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ وبا بھاری بھرکم آزمائش ہے۔ ظالموں کے لیے عذاب اور سزا ہے۔ ہر گناہ اپنی آخری انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ سزا اللہ نے لہر در لہر کورونا سونامی کی وہ اتاری ہے کہ پسر نوح کی طرح یہ کہنے والے کہ ’میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں، جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوحؑ نے کہا: آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج (لہر) دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا (ھود۔ 43) بعینہٖ یہی کیفیت کورونا کی ہے جو فرستادہ الٰہی ہے۔ اللہ کے سوا اس سے کوئی بچانے والا نہیں۔ بچشم سر دنیائے کفر بھی دیکھتی اور اقرار کرتی ہے کہ ہم اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس کے بدلتے پینترے ان کے ہوش گم کیے دے رہے ہیں۔ جن کے ذمے راہ دکھانی تھی وہ کہاں ہیں؟ انہیں اسرائیل سے پینگیں بڑھانے سے فرصت نہیں۔ مرکز اسلام سعودی عرب روحانی طور پر حساس ترین حدود پھلانگے چلا جا رہا ہے۔ تبوک میں ’نیوم شہر‘ کی ہوش ربا اور حد شکن تیاریاں ہر صاحب ایمان کو لرزا دینے کو کافی ہیں۔ اللہ کی حدود توڑنے کو آباد کیا جانے والا یہ شہر مقام تبوک پر ہے جس کے لیے سورۃ توبہ پڑھ لینا کافی ہے۔ دوسرا سیاحتی مرکز مدائن صالح میں عذاب رسیدہ بستی مذکور سورۃ الحجر، الشمس (اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری دونوں جگہ) میں اٹھا کھڑا کیا۔ فخریہ قطر سے تعلقات کی بحالی کے لیے ’’العلاء‘‘ نامی مدینہ کے شمال میں یہ مقام قرار پایا۔ جہاں سبھی پڑھے لکھے مسلمان جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرنے سے بھی منع فرمایا۔ یہاں عذاب رسیدہ بستی ہونے کی بنا پر مغفرت طلبی کے ساتھ تیزی سے گزر جانے کا حکم دیا۔ قوم ثمود کا پانی استعمال کرنے سے منع فرمایا کہ ان کے گناہوں کے اثرات آج تک اس میں موجود ہیں۔ اسے ولی عہد نے عالمی سیاحتی مرکز بنا دیا۔ یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ یعنی۔ عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہوسکی، کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے! چو کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی! اور مسلمان اپنی تاریخ اور تاکید نبویؐ بھلائے سبھی منقار زیر پر ہیں کیا عالم فاضل اور کیا عامی۔  اسے ترقی اور سیاحت کے پیرائے میں دیکھا جا رہا ہے۔ فتنۂ دجال اسی کا نام ہے!

امریکا میں جمہوریت کومے کی حالت میں ہے۔ ٹرمپی یلغار جو امریکا کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار پایا، اس پر گلوبل ولیج تھرا اٹھا۔ جمہوریت کا جنازہ ٹرمپ کے حامی جیالے متوالے نکالنے کو کیپٹل ہل واشنگٹن پر چڑھ دوڑے۔ نوم چومسکی تو پہلے ہی جمہوریت کا مرثیہ پڑھ چکے تھے اب ساری مغربی دنیا گویا یتیم ہوگئی۔ مسلم دنیا کے لیے جیسی کھوکھلی، استبدادی جمہوریت آپ نے پسند فرمائی تھی، اس کا اسلام آبادی دھرنے دار ذائقہ خود آپ نے بھی چکھ لیا؟ سیاہ فام غلاموں اور ریڈ انڈینز کے خون اور ہڈیوں پر اٹھائی گئی امریکی جمہوریت اپنے منطقی انجام کو پہنچی۔ اقبال نے کہا تھا:

فرنگیوں کی سیاست ہے دیو بے زنجیر…سو ٹرمپ نے سچ ثابت کر دکھایا اسے۔

دسمبر 1946ء میں سید مودودیؒ نے ایک تقریر (جو بعدازاں ’شہادت حق‘ کے عنوان سے شائع ہوتی رہی) میں مستقبل کی تصویر کشی کی تھی جس میں ٹرمپ نے رنگ بھرے۔ ’اگر آپ اس کی صحیح پیروی کریں اور قول و عمل سے اسلام کی سچی شہادت دیں اور آپ کے اجتماعی کردار میں پورے اسلام کا ٹھیک ٹھیک مظاہرہ ہونے لگے تو آپ دنیا میں سربلند اور آخرت میں سرخرو ہو کر رہیں گے۔ خوف اور حزن، ذلت اور مسکنت، مغلوبی اور محکومی کے یہ سیاہ بادل جو آپ پر چھائے ہوئے ہیں، چند سال کے اندر چھٹ جائیں گے… حتیٰ کہ ایک وقت وہ آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچائو کے لئے پریشان ہو گا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی (جمہوریت) خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لئے لرزہ براندام ہو گی‘۔ ہم نے خود روسیوں کو لینن کا بت گراتے (افغان جہاد کے ثمر کے طور پر!) اور کمیونزم سے تائب ہوتے دیکھا (1989ء)۔ جمہوریت کا بت بھی اب ٹوٹ چلا (2021ء)۔ اس کی جیسی بے حرمتی ٹرمپ کے وفاداروں کے ہاتھوں ہوئی، اس نے مغربی دنیا کو اتھاہ شرمساری اور مایوسی میں دھکیل دیا ہے۔ تقریر کے 74 سال بعد یہ پیشن گوئی پوری ہوئی۔ ایشیا سبز ہے کے مقابل بلند آہنگ ایشیا سرخ ہے کے نعرے 1946ء تا 1980ء گونجتے رہے۔ اور پھر تنہا مغربی جمہوریت کی خدائی کے ڈنکے بجنے لگے۔ آج… اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے، کے مصداق ٹرمپ جمہوریت کا گورکن بن کر کھڑاہو گیا! دنیا انگشت بدنداں ہے۔ سید مودودیؒ کا فرمانا حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا۔ 


ای پیپر