Wise decisions, Bazdar government, CM Punjab, PTI government, PM Imran Khan
17 جنوری 2021 (11:54) 2021-01-17

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ہر گزرتا سال بہت اہم ہے۔ سال 2020 ء آیا اور ایسے نہیں گزر گیا لیکن اس سال کو اس صدی کا سب سے بڑا سال قرار دیا جائے تو بے جا نہیں ہو گا۔ اس سال ہونے والے واقعات کے اثرات دہائیوں تک محسوس کئے جائیں گے اور زیر بحث رہیں گے۔ 2020 بلا شبہ انتظامی، معاشی اور اقتصادی لحاظ سے بہت مشکل سال تھااور اس مشکل وقت میں لیڈر شپ کی طرف سے بروقت اور صحیح فیصلوں سے ہی نکلنا ممکن تھا۔ پنجاب حکومت نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان کی زیر صدارت کورونا وبا کے دوران ایسے بروقت اور مثبت فیصلے کئے جن کے اثرات سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ پوری دنیا میں معیشت روبہ زوال ہے حتیٰ کہ امریکہ، برطانیہ سمیت متعدد ترقی یافتہ یورپی ممالک کورونا کے مضر اقتصادی اثرات سے نہ بچ سکے۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پاکستان بالخصوص پنجاب میں کورونا کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر ممکنہ حد تک قابو پا لیا گیا۔کورونا کی پہلی لہر کے دوران پنجاب میں بروقت اور مؤثر اقدامات کرکے دوسرے صوبوں کیلئے قابل تقلید مثال قائم کی گئی اوراسی دوران چیف منسٹر انصاف امداد پروگرام کے تحت ایک لاکھ 70 افراد کو 125 کروڑ روپے مالی امدادبھی دی گئی۔ہسپتالوں میں وارڈزکا قیام، طبی آلات کی فراہمی، قرنطینہ مراکز، آئسولیشن سنٹرز سمیت تمام ضروری اقدامات کئے گئے اور وزیر اعلیٰ ذاتی طور پر نگرانی کرتے رہے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے خطرے کے باوجود مختلف شہروں میں جا کر کورونا سے بچاؤ اور تدارک کے لئے کئے جانے والے انتظامات کا خود جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کورونا وبا کے دوران خود کو وزارت اعلیٰ کے منصب کے لئے بہترین انتخاب بھی ثابت کر دیا۔ وہ صحیح معنوں میں وسیم اکرم پلس ثابت ہوئے ۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق دور کے زیر تکمیل منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے 13 سوارب روپے درکار ہیں۔ اسی طرح اورنج لائن میٹروٹرین بھی ایسا منصوبہ ہے جسے عوام کی فلاح و بہبود اور ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ صرف اسے مکمل کیا گیا بلکہ کامیابی سے چلایا بھی جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب بھر کے ارکان اسمبلی کو سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل کے عمل میں شریک کر کے ایک نئی روایت قائم کی۔ 2020ء کے دوران وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہمہ وقت متحرک اور مستعد دکھائی دیئے۔ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وزیر اعلیٰ نے بروقت نوٹس لے کر متعلقہ محکمے کو متحرک کیا اورپرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے واقعات کا تدارک کیا گیا۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر افسران کا تقررکردیا گیا اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی عمارت کے ڈیزائن کی منظوری بھی دے دی گئی۔محکمہ صحت میں 25 ہزار ڈاکٹروں، نرسوں او رپیرا میڈیکل سٹاف وغیرہ اور 

پولیس میں 10 ہزار کانسٹیبل کی بھرتی ہوئے۔ 

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر محکمہ صحت کے بجٹ میں 15فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ لاہور کے گنگارام ہسپتال میں 600 بیڈ کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال سمیت ایسے پانچ ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ لاہور میں فیروز پور روڈ پرایل ڈی اے کی 124 کنال اراضی پر ایک ہزار بیڈ کا جنرل ہسپتال بنا رہی ہے۔ جھنگ اورٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کواپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ اسی طرح تحصیل ہیڈ کوارٹر سمندری، ملکوال سمیت دیگر ہسپتالوں کو بھی اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ فورٹ منرواورملکوال میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بنایا جا رہا ہے۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ 10 سالہ ہیلتھ سٹریٹجی متعارف کرائی گئی ہے۔صوبے کے مختلف اضلاع میں 600نئے فیملی ویلفیئر سینٹرز بنائے جا رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ قلیل عرصے میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف سمیت محکمہ صحت میں 30ہزار بھرتیاں کی گئیں۔

فروغ تعلیم پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں سرفہرست ہیں۔ 1227سکولوں کو دستیاب وسائل میں اپ گریڈ کر کے مثال قائم کی گئی۔ 1500 سکولوں میں واش کلب قائم کیے گئے اور 1270واش روم بنائے گئے۔9نئے سپیشل ایجوکیشن سینٹرز،سرگودھا اورڈی جی خان میں سپیشل ایجوکیشن ڈگری کالجزبھی قائم کیے جا رہے ہیں۔صوبہ بھر میں 42نئے ڈگری کالجز قائم کیے جاچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہرضلع میں یونیورسٹی کے قیام کے وژن کیلئے یکسو ہیں۔ لیہ، بھکر، چکوال، میانوالی، مری، تھل ، راولپنڈی، بابا گورونانک سمیت 9نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے منصوبوں پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے۔

پولیس میں 10ہزار کانسٹیبلوں کی بھرتی،تقریباً1200نئی گاڑیوں کی فراہمی،ماڈل تھانوں کا قیام،تھانوں کیلئے اراضی کی فراہمی اورعمارتوں کی تعمیر،پولیس سٹیشنز میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، پولیس ٹریننگ کالج کا قیام ایسے اقدامات ہیں جنہیں کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور میں سیف سٹی اتھارٹی کے انتظام و انصرام نا صرف بہتر بنایا جا رہا ہے بلکہ اس کا دائرہ کار راولپنڈی، ملتان، ڈیرہ غازی خان، قصور سمیت دیگر شہروں تک وسیع کیا جا رہا ہے۔ پنجاب آب پاک اتھارٹی کے تحت اڑھائی ارب روپے کی لاگت سے 820فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کیلئے اڑھائی ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور اسی طرح پہلی مرتبہ کمیونٹی کے تعاون سے سوا لاکھ سے زائد ٹائلٹ اپنی مدد آپ کے تحت بنائے گئے ہیں اور 70ہزار ٹائلٹ حکومتی اشتراک سے تعمیر کیے گئے ہیں۔

پنجاب میں 13 سپیشل اکنامک زونز کا منصوبہ پاکستان تحریک انصاف کا اعزازہے۔علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کاافتتاح ہوچکا ہے۔ قائداعظم بزنس پارک اوردیگر منصوبے بھی تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کررہے ہیں۔پنجاب روزگار سکیم کے تحت چھوٹے تاجروں اور صنعت کاروں کومجموعی طورپر تقریباً36ارب روپے کے قرضے بھی دیئے جارہے ہیں۔ٹیوٹا اس سال معمول سے تقریباً 94 ہزار زیادہ طلبا کو ٹیکنیکل ٹریننگ فراہم کرے گا۔

جلال پورکینال کے منصوبے کی تکمیل سے 1لاکھ60ہزار سے زائداراضی کو آبپاشی کیلئے اضافی پانی میسر ہوگا اور گریٹر تھل کینال چوپارہ برانچ کی تکمیل سے تھل میں 2لاکھ 94ہزار ایکڑ اراضی زیر آب لائی جاسکے گی۔تریموں اورپنجندبیراج کی بحالی کامنصوبہ زیر تکمیل ہے جس سے اگلے 100 سال کے لئے آبپاشی کے لئے پانی کی بحالی یقینی بنائی جاسکے گی۔صوبے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے پوٹھوہار یجن اورکوہ سلیمان کے علاقے میں چھوٹے ڈیم بنائے جارہے ہیں۔ نیا پاکستان منزل آسان پروگرام کے تحت صوبہ بھر میں دیہی علاقوں میں 1200کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر ومرمت کی 174سکیمیں مکمل کی جاچکی ہیں۔ 10بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت8لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی پر86کروڑ سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں۔ صوبے بھر میں سکولوں اور یونیورسٹیوں کی سولرائزیشن کا آغاز کردیاگیا ہے۔

حکومت پنجاب54ایکٹ متعارف کراچکی ہے اور سول لا ایکٹ کے تحت عدالت مخصوص اوقات میں مقدمات کے فیصلے کرے گی۔صوبے میں گڈ گورننس کیلئے مختلف محکموں میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔لاہور میں پہلی مرتبہ ہائی رائز بلڈنگ کی تعمیر اوردیگر تعمیراتی امور میں سہولت کیلئے ایل ڈی اے بلڈنگ اینڈ زونگ ریگولیشن بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ 7 اگست ایک تاریخی دن تھا جب راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔اکتوبر میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کا افتتاح بھی کر دیا گیا، اسی طرح لا ہورکے داخلی راستے ٹھوکر نیاز بیگ پر باب لاہور کا افتتاح بھی کیا گیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے نبی کریمؐ کی شان اقدس کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لئے ہر سال ہفتہ رحمت اللعالمینؐ منانے کا اعلان کیا۔ محکمہ اطلاعات و ثقافت کے زیر اہتمام محافل سماع، خطاطی کی نمائشیں،مجوزہ فن کے نام سے نبی کریمؐ  کے اسمائے مبارک پر مشتمل فن پاروں کا انعقاد کیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت روایات کے برعکس تمام شہروں کی ترقی کے ویڑن پر عمل پیرا ہے۔ وزیر اعلی عثمان بزدار نے مختلف شہروں کے دورے کرکے اربوں روپے کے ترقیاتی پراجیکٹس کا اعلان کیا۔ فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، چکوال، پاکپتن، میلسی، واہوا، تونسہ، راجن پور، لیہ، راولپنڈی سمیت درجنوں شہروں کے لئے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور ان پر کام تیزی سے جاری ہے۔


ای پیپر