ہمارا گاؤں
17 جنوری 2019 2019-01-17

مغرب کی اذان ہوتی اور ہماری دادی لالٹین جلا کر صحن میں کھلنے والے کمرے کے دروازے کی کنڈی سے ٹانگ دیتی۔ لالٹین کی روشنی سے کمرہ بھی روشن ہو جاتا اور صحن بھی جگمگا جاتا۔ گاؤں کی اندھیری راتوں میں دیے کی روشنی بھی نور بکھیر دیتی۔ ہمارے چچا باہر سے آتے اور لالٹین کی بتی اوپر کر دیتے۔ ہمارے دادا کمرے سے آواز دیتے۔ لالٹین کی بتی نیچے کر دیں کمرہ دھویں سے بھر گیا ہے اور ہماری پھوپھو منہ بنا کر کہتی۔ کمرے میں دھواں حقے کی وجہ سے ہوا ہے جس کی باریاں ہمارے چچا اور دادا لے رہے ہوتے۔ یہ سن کر دادا ہمیں آواز دیتے۔ لو بھئی ذرا حقہ تازہ کرکے لانا اور ہاں آگ کے اوپر گڑ کی ڈھیلی رکھنا نہ بھولنا۔ یہ سن کر دادی غصے سے بولتی۔ پوترا، لاہور سے چھٹیاں گزارنے آیا ہے۔ حقہ تازہ کرنے نہیں۔ اتنی دیر میں ہماری پھوپھو ابلے ہوئے سفید چاول کیتلی سے ایک بڑی پرات میں انڈیل دیتی اور پکے ہوئے باسمتی چاولوں کی خوشبو سارے گھر میں پھیل جاتی اور ہماری اشتہا وہ آسمان تک جا پہنچتی۔ مٹی کی ہنڈیا میں پکی چنے کی دال کی مہک سونے پر سہاگے کا کام کرتی۔ گھر کا بنا آم کا اچار اور لسوڑھے ایک الگ ہی سواد دیتے اور لیموں میں نچڑے پیاز مزے کو شہہ بالا کر دیتے۔ جب تک ہم کھانے سے فارغ ہوتے۔ چھت پر چارپائیاں بچھ جاتیں جن پر پڑی سفید چادروں سے رات کی سیاہی شرماتی۔ جب تک ہم چھت پر جاتے وہاں پہلے ہی گاؤں کی لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے ہو چکے ہوتے اور پھر کہانیوں کا دور چلتا۔ جنوں ، بھوتوں ، چڑیلوں اور پریوں کے قصے۔ ہم داستان گو ہوتے اور ہمارے سامعین دم سادھے اندھیرے میں گم ، ایک آواز تھی جو آتی رہتی اور جسے ہم بھی سنتے اور لڑکیاں بالیاں اور لونڈے لپاڈے بھی حظ اٹھاتے۔

دن کا آغاز لسی رڑکنے کی آواز سے ہوتا۔ ہماری پھوپھو دہی سے مکھن بناتی۔ یہ تازہ مکھن ہم چینی ڈال کر کھاتے اور چاٹی کی لسی پیتے اور آم کے اچار کے ساتھ پراٹھے کھاتے اور پھر تولیا اور صابن پکڑ کر باہر نکل جاتے۔ گاؤں کے لڑکے ہمارے ساتھ ہوتے۔ سب سے پہلا کام ضروریات زندگی سے فارغ ہونا ہوتا جس کا پریشر اس بھاری ناشتے کے بعد خاصہ بڑھ چکا ہوتا۔ اب ہم ٹھہرے شہری بابو ، بڑی دیکھ بھال کے بعد کسی درختوں کے جھنڈ میں ایک ویران جگہ تلاش کی جاتی اور جونہی ہم براجمان ہوتے۔ کوئی دیہاتی گلا کھنکھارتا پاس سے گزر جاتا نہ صرف گزرتا بلکہ حال چال بھی پوچھ لیتا۔ ادھر ہمارا منہ جو پہلے ہی لال ہوتا۔ اس رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد لال سوہا ہو جاتا اور دور کھڑے ہمارے کزنز قہقہے لگا رہے ہوتے۔ ٹیوب ویل پر نہانے کا اپنا ہی مزہ ہوتا۔ جب کتنی ہی دیر پانی کی موٹی دھار کے نیچے سر دیے چوبچے میں بیٹھے رھتے اور جب باہر نکلتے تو معلوم ہوتا پانی کے پریشر سے ہمارا کچھا اتر چکا ہے اور دو چار نامعلوم افراد منہ لگا کر پانی پی رہے ہیں اور کن اکھیوں سے لاہوری منڈے کو دیکھ رہے ہیں۔

گاؤں کے شروع میں ایک بہت بڑا بڑ کا درخت تھا۔ اس درخت کی ٹہنیوں سے جڑیں نکل کر واپس زمین میں چلی گئی تھیں جیسے یہ تناور درخت مختلف ہاتھوں اور ٹانگوں پر کھڑا ہو اور درمیان میں کھلے کمرے بن گئے ہوں۔ بڑ کے اس شیش محل میں اس درخت سے بھی بوڑھے بابے بیٹھے رھتے۔ شطرنج کھیلتے۔ بارا ٹینی کھیلتے۔ تاش کھیلتے۔ حقے کی باریاں لگاتے۔ سیاست پر بحث کرتے۔ پرانے اخباروں کی شہہ سرخیاں سنتے۔ گاؤں میں آنے جانے والوں پر نظر رکھتے۔ خواتین کو تاڑتے اور ہمیں ڈانٹتے۔ نظریں نیچی رکھ کر چلتے ہیں۔ یہ جب سے ماسٹر عبدلمجید کا پوترا آیا ہے۔ گاؤں میں اودہم مچا رکھی ہے جبکہ ماسٹر عبدلمجید وہیں بیٹھے بیٹھے حقے کی باری لیتے۔ آدھے گھنٹے کی سوچ و بچار کے بعد شطرنج کی چال چلتے اور کہتے۔ چوہدری غفور میرے پوتے کے متعلق کچھ نہ کہنا۔ اس کے چاچا نے سن لیا تو تیری خیر نہیں اور ہمارا چاچا ، کبڈی کا پلیئر، ہاکی کا پلیئر، کندھے پر بندوق ، دشمن دار، ہم سے بہت پیار کرتا۔ ہمیں لے کر ڈیرے پر چلا جاتا۔ درانتی پکڑاتا اور کہتا، میرا پتر ، جا بھاگ کر کچھ پٹھے تو کاٹ لا۔ ہم پٹھے کاٹ لاتے۔ میرا پتر ، ان پٹھوں کو ذرا ٹوکے پر کتر تو لا۔ ہم ٹوکہ بھی چلا لیتے۔ پھر پٹھوں کی اس پنڈ کو ہمارے سر پر رکھتا۔ جا میرا پتر ، گاؤں چھوڑ آ ، ڈنگر پکھے نے۔ ہمیں پٹھے کاٹنے ، کترنے، سر پر اٹھانے پر اعتراض نہ ہوتا لیکن اعتراض تب ہوتا جب چاچا ایک آدھ کتے کو بھی ہمارے ساتھ روانہ کر دیتا۔ اس کتے کو بھی معلوم ہوتا۔ شہری باو ہے۔ ضرور گرے گا اور ہم کء بار توازن خراب ہونے پر گرتے۔ کبھی ہم نیچے ہوتے اور پٹھوں کی پنڈ ہمارے اوپر گری ہوتی اور کبھی پٹھوں کی پنڈ نیچے ہوتی اور ہم اس کے اوپر گرے ہوتے اور وہ بدتمیز کتا پاس کھڑے ہو کر یوں بھونک رہا ہوتا جیسے کہہ رھا ہو۔ مجھے معلوم تھا۔ یہ شہری باو گرے گا۔ کتے کے ہاتھوں یہ تذلیل ہمیں ہر گز گوارا نہیں تھی۔

مشکل کام تب ہوتا جب کبھی کبھار شوقیہ ہم مونجھی لگانے یعنی چاول کاشت کرنے پر مچل جاتے۔ برسات کا مہینہ ، حبس اور گرمی، کھیتوں میں گوڈے گوڈے پانی۔ کیچڑ اور دلدل ، اور دھرے ہو کر چلنا ہے اور مونجھی لگاتے جانا ہے۔ کچھ دیر میں ہماری بس ہو جانی۔ سب نے ہنسنا ، ہم نے بھی ہنسنا ، اور گاؤں کی راہ لینی۔ گھر کے باہر ایک نہ ایک پھوپھو تندور میں گرم گرم روٹیاں لگاتی مل جانی۔ کھڑے کھڑے ایک دو روٹیاں کھا جانی اور باقی کی چار پانچ پکی ہوئی تازی سبزی کے ساتھ نبیڑ جانی۔ گاؤں کی سادہ زندگی ، سادہ خالص کھانے اور سادہ باتیں، ہمارے بچپن اور لڑکپن کا پیشتر حصہ ہمارے اسی گاؤں میں گزرا۔

وہ صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں


ای پیپر