میرے مولا بلالے مدینے مجھے۔۔۔
17 جنوری 2019 2019-01-17

دوستو،بچپن میں کسی قوال کی ایک قوالی بہت مشہور ہوئی، قوال کا نام یاد نہیں آرہالیکن قوالی کے بول اب تک یاد ہیں کہ۔۔ میرے مولا بلالے مدینے مجھے۔۔۔یہ قوالی جب بھی سنتے تھے تو بے اختیار دل کرتا تھا کہ بس کسی طرح مدینے اڑ کر پہنچ جائیں اور گنبدخضرا کی حاضری ہوجائے،روضہ رسول صل اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوجائے، ان جالیوں کو چوم کر آنکھوں سے اشک بہنے لگ جائیں شاید اسی سے بخشش کا کچھ سامان ہوجائے۔۔لیکن ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہرخواہش پہ دم نکلے۔۔ مدینے جانے کی خواہش اور تڑپ اب بھی ہے، دعا کیجئے اللہ پاک اسباب بنادے، آمین۔۔

مکے اور مدینے جانے کی خواہش تو ہر مسلمان کے دل میں پلتی ہے،سب کا دل چاہتا ہے کہ وہ مرنے سے پہلے پہلے مکہ اور مدینہ کی حاضری دے لے، لاکھوں لوگ یہ حسرت لے کر دنیا سے ہی چلے جاتے ہیں، بزرگ کہتے ہیں جس کا بلاوا آتا ہے وہی مکہ اور مدینہ ہوکر آتا ہے، ہمارا ماننا ہے کہ ایسا نہیں ہے، کیوں کہ اللہ پاک کبھی بھی جانبداری نہیں برت سکتے، تمام مسلمان تو کیا تمام انسان ان کی نظروں میں ایک برابر ہیں، اسی لئے اسے ہم رب المسلمین نہیں بلکہ رب العالمین کہتے ہیں، سورۃ فاتحہ جس کے بغیر کوئی نماز، نماز نہیں ہوتی، اس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خود کو رب العالمین ہی کہا ہے ورنہ وہ خود کو رب المسلمین بھی کہہ سکتا تھا، اس لئے ہمارا پکا عقیدہ ہے کہ مکہ ، مدینہ کی حاضری کا کسی طور ’’ بلاوے‘‘ سے کوئی تعلق نہیں، ہاں جس کے کے دل میں جتنی تڑپ، جتنی کسک اور جتنی زیادہ آرزو یا خواہش ہوگی ، اللہ پاک اس کے لئے اتنی جلدی اسباب بھی بنادیتا ہے، ورنہ آپ کی زبان پہ تو ہردم مکہ ، مدینہ جانے کی خواہش کا اظہار ہو لیکن دل میں ہوکہ ابھی کچھ دنیاوی کام مزید باقی ہیں، رشتہ داریاں ہیں، کاروبار ہیں، بچوں کی تعلیم ان کی شادیاں ہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔ تو بس پھر آپ کی زندگی انہی کام میں الجھ کر رہ جاتی ہے اور یہاں تک کہ فرشتہ اجل آن موجود ہوتا ہے اور کہتا ہے چل تیرا بلاوا تو اب آیا ہے، اور یہ بلاوا مکہ ، مدینہ کا نہیں بلکہ رب کے حضور حاضری کا ہوتا ہے جہاں سے پھر کوئی واپس نہیں آسکتا۔۔

کہتے ہیں کہ جہاں آپ کو جانا ہو وہاں کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ہونا چاہیئے، اب ہم اتنے راسخ العقیدہ ٹائپ مسلمان تو نہیں کہ آپ کو مکہ اور مدینہ جانے سے متعلق آداب گنوانا شروع کردیں، یاوہاں کی لوکیشن اور نقشوں پر بحث بازی کریں۔۔ ہاں آپ کو اس ملک کے متعلق کچھ ایسی باتیں ضرور شیئر کریں گے جہاں یہ دونوں مقدس شہر پائے جاتے ہیں ، جی ہاں سعودی عرب سے متعلق آپ لوگ طرح طرح کی کہانیاں اور باتیں آئے روز پڑھتے اور سنتے ہی رہتے ہوں گے، لیکن ہماری کوشش ہوگی کہ آپ سے کچھ وہ باتیں کریں جو شاید آپ نے کبھی نہ پڑھی ہوں۔۔ سعودی عرب میں پانی مہنگا اور تیل سستا ہے۔۔ کہتے ہیں کہ یہاں کے راستوں کی معلومات مردوں سے زیادہ عورتوں کو ہے اور یہاں پر مکمل خریداری عورتیں ہی کرتی ہیں مگر پردے میں رہ کر۔۔سعودی عرب کی ٹوٹل آبادی چار کروڑ سے کچھ زائد ہے لیکن یہاں کاروں کی تعداد نوکروڑ سے زائد ہے۔۔ بتایاجاتا ہے کہ مکہ شہر کا کوڑا شہرسے ستر کلومیٹر دورپہاڑیوں میں دبایاجاتاہے۔۔ یہاں کا زم زم پورے سال اور پوری دنیا میں جاتا ہے اور یہاں بھی پورے مکہ اور پورے سعودی میں استعمال ہوتا ہے اور آج تک کبھی کم نہیں ہوا۔۔ صرف مکہ میں ایک دن میں 3 لاکھ مرغ کی کھپت ہوتی ہے۔۔ مکہ کے اندر کبھی باہمی جھگڑا نہیں ہوتا، سعودی عرب میں تقریبا 30 لاکھ بھارتی 18 لاکھ پاکستانی 16 لاکھ بنگلہ دیشی 4 لاکھ مصری 1 لاکھ یمنی اور 3 ملین دیگر ممالک کے لوگ کام کرتے ہیں، سوچنے والی بات یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ یہاں سے کتنے لوگوں کے گھر چلا رہا ہے۔۔ صرف مکہ میں 70 لاکھ AC استعمال ہوتے ہیں۔۔ یہاں کھجور کے سوا کوئی فصل نہیں نکلتی پھر بھی دنیا کی ہر چیز پھل سبزی وغیرہ ملتی ہے اور بے موسم یہاں پر بکتی بھی ہے۔۔ مکہ میں 200 اقسام کی کھجور بکتی ہے اور ایک ایسی کھجور بھی ہے جس میں ہڈی یا ہڑکِل ہی نہیں۔۔ مکہ کے اندر کوئی بھی چیز لوکل یا ڈپلیکیٹ نہیں بکتی یہاں تک کے دوائی بھی۔۔ پورے سعودی عرب میں کوئی دریا یا تالاب نہیں ہے پھر بھی یہاں پانی کی کوئی کمی نہیں۔۔ مکہ میں کوئی پاور لائن باہر نہیں تمام زمین کے اندر ہی ہے۔۔ پورے مکہ میں کوئی نالہ یا نالی نہیں ہے۔۔ دنیا کا بہترین کپڑا یہاں بکتا ہے جبکہ بنتا نہیں۔۔ یہاں کی حکومت ہر پڑھنے والے بچے کو 600 سے 800 ریال ماہانہ وظیفہ دیتی ہے۔۔ یہاں دھوکا نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔۔ یہاں ترقیاتی کام کے لیے جو پیسہ حکومت سے ملتا ہے وہ پورے کا پورا خرچ کیا جاتا ہے۔ یہاں سرسوں کے تیل کی کوئی اوقات نہیں اور نہ ہی اس کی طلب ہے بلکہ یہاں سورج مکھی اور مکئی کے ساتھ ساتھ زیتون کے تیل کی بہت مانگ ہے۔۔مکہ اور مدینہ میں اذان ہوتے ہی بازار ویران ہوجاتے ہیں اور دکاندار اپنی دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز کے لئے مسجد چل پڑتے ہیں، یہاں ایک سرکاری محکمہ ’’نہی عن المنکر‘‘ بھی ہے جو بے نمازیوں کو پہلے وارننگ دیتے ہیں اور اگر وہ کوئی خارجی ( یعنی غیر سعودی )ہوتو اسے فوری ڈی پورٹ کردیاجاتا ہے۔۔

ابراج البیت ٹاور‘سعودی عرب مکہ مکرمہ میں واقع عمارت دنیا کی تیسری بلند ترین عمار ت ہے اور اس کی لمبائی 1971فٹ ہے۔۔سعودی عرب میں پندرہ سال سے کم عمر لڑکا یا لڑکی اگر نکاح کرنا چاہیں گے تو ان کا نکاح سعودی عدالت پڑھائے گی کیونکہ سعودی شوریٰ نے مملکت میں پندرہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔۔اگر آپ سعودی عرب میں ہیں تو اپنے کیمرے کا استعمال انتہائی احتیاط سے کریں کیونکہ سرکاری عمارات، فوجی تنصیبات یہاں تک کہ محلوں کی تصاویر لینا غیر قانونی ہے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے سے جان نہیں بچے گی بلکہ گرفتاری اور جیل کی ہوا بھی کھانا پڑسکتی ہے۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ میرے مولا بلالے مدینے مجھے۔۔سب بولو، آمین،ثمہ آمین۔۔


ای پیپر