سینیٹ الیکشن، تحریک انصاف کے سندھ میں اتحادی جماعتوں سے معاملات طے پا گئے
سورس:   فائل فوٹو
17 فروری 2021 (19:53) 2021-02-17

اسلام آباد: سینیٹ الیکشن کیلئے پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں۔ سینیٹ الیکشن میں سندھ کی نشستوں پر2 امیدوار پی ٹی آئی، 2 ایم کیو ایم اور ایک امیدوار جی ڈی اے کا ہو گا۔

ذرائع کاکہنا ہےکہ وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ الیکشن کے لیے اتحادی جماعتوں سے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اگر سینیٹ الیکشن میں جس جماعت کی نشستیں بنتی ہیں اتنی ہی ملنی چاہئیں اور کوئی جماعت تناسب سے ہٹ کر سیٹیں جیت لے تو سسٹم تباہ ہو جائے گا۔ 

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ عدالت میں پیش ہوئے اور الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے تیار جواب جمع کروایا ہے کہ سینیٹ الیکشن پر آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوتا ہے جبکہ آرٹیکل 218 کے تحت شفاف الیکشن کرانا ذمہ داری ہے اور آرٹیکل 218 کی تشریح سے 226 کو ڈی فیوز نہیں کیا جا سکتا ہے اور آرٹیکل 226 کی سیکریسی کو محدود نہیں کیا جا سکتا ہے۔ 

الیکشن کمین کے وکیل نے کہا کہ ووٹوں کو خفیہ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہمیشہ خفیہ ہی رہیں گے اور کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جا سکتے۔ 

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہ سکتا اور قیامت تک ووٹ خفیہ رہنا آئین میں ہے نہ عدالتی فیصلوں میں اور متناسب نمائندگی کا کیا مطلب ہے۔ سیاسی جماعت کی سینیٹ میں نشستیں صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کے مطابق ہونی چاہئیں اور قومی اسمبلی کی ووٹنگ میں آزادانہ ووٹ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، سینیٹ انتخابات کے لیے قانون میں آزادانہ ووٹنگ کا لفظ شامل نہیں، الیکشن کمیشن متناسب نمائندگی کو کیسے یقینی بنائے گا، جس جماعت کی سینیٹ میں جتنی نشستیں بنتی ہیں اتنی ملنی چاہئیں، کسی جماعت کو کم نشستیں ملیں تو ذمہ دار الیکشن کمیشن ہوگا، صوبائی اسمبلی کے تناسب سے سینیٹ سیٹیں نہ ملیں تو یہ الیکشن کمیشن کی ناکامی ہوگی، ووٹ فروخت کرنے سے متناسب نمائندگی کے اصول کی دھجیاں اڑیں گی، کوئی جماعت تناسب سے ہٹ کر سیٹیں جیت لے تو سسٹم تباہ ہو جائے گا۔

 بشکریہ (نیو نیوز)


ای پیپر