Awami Muslim League, leader, Sheikh Rashid, people, Pakistan, PTI government
17 فروری 2021 (11:33) 2021-02-17

یہ اُس وقت کی با ت ہے جب انسان محض ایک جاندار تھا۔ سوچنے، سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی لا محدود طاقت سے بے خبر تھا، یعنی اشرف المخلوقات کی صلاحیتیں استعمال نہیں کررہا تھا۔ جو شے اس سے زیادہ طاقتور ہوتی وہ اُس سے متاثر ہوکر اُس کے تابع ہو جاتا۔ مثلاً جب آسمان پر بجلی کڑکتی، دریائوں میں پانی چڑھ جاتا یا جنگلوں اور صحرائوں میں سفر کے دوران کوئی بہت بڑا سانپ راستے میں آتا تو انسان اِن سب سے خوفزدہ ہو جاتا اور پناہ حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنا دیوتا مان لیتا۔ یہ جانے بغیر کہ ان چیزوں کی اصلیت کیا ہے؟ انہوں نے یہ طاقت کہاں سے حاصل کی؟ اور اِن کو کیسے قابو کیا جاسکتا ہے؟ پھر آہستہ آہستہ علم ودانش کی ترقی، رہنمائوں کے اخلاص اور میڈیا کی ایجاد نے یہ پردے ہٹا دیئے اور دوسری شے کا مصنوعی رعب ختم ہوتا چلا گیا لیکن دنیا کے بعض خطوں میں یہ شعور آنے کے عمل کی رفتار نہ ہونے کے برابر رہی جن میں سے ایک پاکستان بھی ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں میں ہمارے ہاں علم ودانش کی بے پناہ باتیں ہوئیں، تحریریں لکھی گئیں اور کتابیں چھپوائی گئیں۔ چند ایک کو چھوڑ کر صاحبان علم کا یہ قافلہ سرکاری دربار کی غلام گردشوں میں ہی گھومتا رہا اور اس ریوڑ کے ہررکن کے منہ سے کسی انعام، بڑے عہدے یا اعلیٰ تعلقات حاصل کرنے کی رال مسلسل ٹپکتی رہتی۔ اِسی لیے ان کے لکھے یا بولے گئے الفاظ میں کوئی انقلابی تاثیر نہیں تھی جبکہ تاریخ انسانی پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ دنیا میں لوگوں کی بھلائی کے لیے جتنی تبدیلیاں آئیں سب کی سب تحریر اور کتاب کے ذریعے ہی آئیں لیکن پاکستان میں اُردو بازار کی دکانوں میں تو اضافہ ہوتا چلا گیا مگر لوگوں کی بے چارگی کم نہ ہوئی کیونکہ یہاں 

بادشاہ کے درباری ’’ذوق‘‘ زیادہ اور بے آواز گلی کوچوں میں پھرنے والے ’’غالب‘‘ کم تھے۔ رہنمائوں کا ذکر کریں تو کم و بیش اندر سے سب ہی ایک تھے ۔ اپنی رعایا پر رعب ڈالنے، انہیں ڈرانے، دھمکانے اور مارنے کے لیے گدھے اور بیل شیر کی کھال پہن کر ملک کے اندر جنگل کے بادشاہ اوربیرون ملک بھیگی بلی بن جاتے۔ یوں زیادہ تر دانشور اور قومی رہنما اردگرد خوف وہراس اور رعب کی فضا قائم رکھے، معاشرے کے دیوتا بنے رہے۔ اکیسویں صدی کی آمد ہمارے ملک کے لیے کیا خبر لے کر آئی اس کا پتا بعد میں چلے گا لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہاں کے لوگوں نے اب اپنے آپ کو کچھ کچھ پہچاننا شروع کردیا ہے۔ وہ اب دیوتائوں کے مصنوعی خوف سے نکل کر اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ آج کے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ہونے والے بِگ بینگ نے گدھوں اور بیلوں پر چڑھی شیر کی کھالوں کو اتار پھینکا ہے۔ انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ چھاپہ خانوں میں شائع ہونے والے زیادہ تر صفحات محض نوکریاں اور پلاٹ حاصل کرنے کے لیے تھے۔ سعادت حسن منٹو ؔکے افسانے ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ میں ’’ایشر سنگھ زبردستی اٹھائی گئی مسلمان لڑکی کو ہوس پوری کرنے کے لیے اپنے سامنے لٹاتا ہے لیکن اسے مردہ پاکر چھوڑ دیتا ہے‘‘ جبکہ ہمارے ہاں کے کچھ صاحب تحریر، تجزیہ کار اور خبرنگار چھوٹے چھوٹے لالچ کے لیے ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ بھی نہیں چھوڑتے۔ اس کے علاوہ سیاست دانوں کی آماجگاہوں میں گھومنے پھرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مائیک پرتو لوگوں کے دکھ درد کے لیے اپنے دن رات کا سکون چھوڑنے کو تیار ہوتے ہیں اور عوام کے ووٹوں کو ہی اقتدار تک پہنچنے کی سیڑھی قرار دیتے ہیں لیکن درحقیقت یہ سیاسی دیوتا مخصوص طاقتوں کو حکومت میں آنے کا اصلی ذریعہ سمجھتے ہیں اور انہی کی خوشامد میں لگے رہتے ہیں۔ سبز پرچم کے اس ملک میں پھیلی ہوئی بے چارگی کی زرد آنکھیں کسی سچے لیڈر کو ترس رہی ہیں۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے سیانے جو چاہیں کہیں لیکن لوگوں کے دل اور تاریخ گواہی دیں گے کہ اب پرانے ظالم دیوتائوں کی اصلیت ظاہر ہوگئی ہے۔ اس شعور کی بنیاد پر اب لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ قربانی کا دیوتا وہی ہوگا جو دوسروں کی زندگیوں کے لیے خود قربان ہوگا۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ محبت کا نقلی چہرہ سجانے سے کوئی محبت کا دیوتا نہیں بن سکے گا۔ اُسے سچا پیار دینا پڑے گا۔ یہ کب ہوگا کہ یہاں کے حکمران مخصوص طاقتوں کی خوشامد کی بجائے اپنے لوگوں کی خدمت کرنے پر مجبور ہوں گے؟ موجودہ پاکستانی سارے دیوتائوں کے خوف اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ دریائوں میں شور مچاتے پانی اور بے قابو آگ کو کیسے راہِ راست پر لایا جاسکتا ہے۔ انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ راستے میں آنے والے سانپ کو لاٹھی سے مارا جاسکتا ہے۔ وہ جان گئے ہیں کہ کڑکنے والی بجلی کو انٹینا لگاکر زمین میں دفن کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا خواہ مخوا کسی سے خوف کھانے یارعب میں آنے کی باتیں اب بچوں کی کتابوں میں لکھی ہوئی دیوتائوں کی کہانیاں بن کر رہ گئی ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے عوام کو آنسو گیس کی دھمکیاں دی ہیں۔ انہیں عوام کے حالات کی خبر کون دے گا؟ اسی لیے حفیظ جالندھری نے کیا خوب کہا تھا .


ای پیپر