اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں !
17 فروری 2020 2020-02-17

(بارہویں قسط، گزشتہ سے پیوستہ)

میں اپنے گزشتہ کالم میں عرض کررہا تھا 2018ءکے عام انتخابات میں عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی نے اتنی نشستیں حاصل کرلی تھیں کچھ چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مِل کر حکومت بنا سکتی تھی، .... گزشتہ کالم میں یہ بھی میں بتاچکا ہوں مجھے کینیڈا سے دس اگست کو واپس آنا تھا، پی ٹی آئی کے کچھ ایسے دوست جو خان صاحب کے بہت قریب تھے کے ذریعے پتہ چل رہا تھا 2اگست کو خان صاحب نے لاہور آنا ہے، اُنہوں نے میرے گھر بھی آنا ہے، جو اکثر وہ اسلام آباد سے لاہور آتے، تو آتے رہتے تھے، اُن کی حیثیت ذرا مختلف تھی، وہ وزیراعظم بننے جارہے تھے، لہٰذا مجھے دوستوں کی اِس اطلاع پر یقین نہیں آرہا تھا کہ دو اگست کو وہ میرے گھر آرہے ہیں، میں نے نعیم بھائی (نعیم الحق مرحوم) سے فون پر اِس بارے میں پوچھا، اُنہوں نے فرمایا دواگست کو لاہور آنے کا پروگرام فی الحال طے ہے مگر یہ ابھی طے نہیں ہے وہ آپ کے گھر آئیں گے “ .... اُنہوں نے یہ بھی فرمایا ” وہ آپ کے گھر آئیں نہ آئیں آپ بہرحال فوراً پاکستان واپس آجائیں، کیونکہ آپ جیسے دوستوں کو وزیراعظم کی ٹیم کا اب حصہ بننا چاہیے، اُن کی مددکرنی چاہیے“۔ اگلے روز اُن کا مجھے فون آگیا، فرمانے لگے ”دواگست کو خان صاحب اور ہم سب دوست آپ کے گھر کھانا کھائیں گے، ہم لنچ کریں گے کیونکہ خان صاحب نے اُسی روز واپس اسلام آباد پہنچنا ہے، آپ دو چار دانشور اورکالم نگاروں کو بھی بلا لیں،اُن کا یہ پیغام ملنے کے بعد میرے جن سسرالی عزیزوں نے کینیڈا کے مختلف شہروں میں ہماری دس اگست کو وطن واپسی کے حوالے سے جو کھانے وغیرہ رکھے ہوئے تھے، میں نے سب سے معذرت کی ، فیملی کو کینیڈا میں ہی چھوڑ کر 31جولائی کو میں واپس لاہور پہنچ گیا، اگلے روز میں نے واٹس ایپ پر نعیم بھائی سے پوچھا ” دواگست کو خان صاحب کا لاہور آنے کا، اور میرے گھر آنے کا کیا فائنل ہوا؟ تاکہ میں اُس کے مطابق تیاری کروں، اور قلم کاروں کو مدعوکروں“ .... اُنہوں نے بتایا سکیورٹی کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے لاہور کا پروگرام ملتوی ہوگیا ہے،....4اگست کو مجھے بنی گالہ بلا لیا گیا، .... میں نے خان صاحب کو وہی مشورے دیئے جو کینیڈا سے فون پر میں پہلے ہی اُنہیں دے چکا تھا، میں نے دوبارہ یہ بات زور دے کر کہی ” اتنے کمزور مینڈیٹ کے ساتھ آپ تبدیلی نہیں لاسکیں گے، بلکہ ہوسکتا ہے خود تبدیل ہو جائیں، بہتر ہے فی الحال ایک ”اُمید “ کی صورت میں آپ زندہ رہیں، اقتدار شاید پھر آپ کو مل جائے، اور ہیوی مینڈیٹ کے ساتھ مِل جائے، لوگوں کی اُمید ٹوٹ گئی یہ دُکھ ملک ٹوٹنے سے کم نہیں ہوگا“ ،.... وہ ذرا غصے سے بولے ” تم پاگل ہوگئے ہو ؟ تم دیکھنا سو دنوں میں پاکستان بالکل نیا پاکستان ہوگا، اِس موقع پر حسب روایت بڑے بڑے دعوے اُنہوں نے کیے، .... میں بادل نخواستہ اُن کے جذبوں کو سراہنے پر مجبور ہوگیا، پھر اُنہوں نے فرمایا ”میڈیا کا محاذ اب آپ نے سنبھالنا ہے“۔ میں نے پوچھا ” کس حیثیت میں ؟ وہ بولے ”آپ میرے میڈیا ایڈوائزرہوں گے“ .... میں نے عرض کیا ”آپ جانتے ہیں میں ایک سرکاری کالج میں پڑھاتا ہوں، میڈیا ایڈوائزر ایک سیاسی عہدہ ہے، میں یہ عہدہ کیسے سنبھال سکتا ہوں؟ ۔ پاس بیٹھے نعیم بھائی بولے”آپ فکر نہ کریں اس کا حل نکل آئے گا“.... حل اُنہوں نے یہ پیش کیا ”ہم ڈیپوٹیشن پر آپ کو پنجاب سے مرکزی حکومت میں لے کر آئیں گے اور آپ کو وزیراعظم کا پریس سیکرٹری بنادیں گے جو بلحاظ عہدہ ایڈوائزٹوپرائم منسٹر ہوگا“۔ میں نے ہاتھ باندھ کر خان صاحب سے کہا ” میں آپ کا بہت ممنون ہوں آپ نے مجھے اس قابل سمجھا پر آپ نے چند روز بعد وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانا ہے، آپ کے ساتھ بڑی مضبوطی سے یہ تاثر جُڑا ہوا ہے وزیراعظم بننے کے بعد آپ ہر کام میرٹ پر کریں گے، میرا اِس عہدے کے لیے میرٹ نہیں بنتا“ .... وہ بولے ” یہ مجھے پتہ ہے کس کا میرٹ بنتا ہے کس کا نہیں بنتا، آپ چھوڑیں اِس بات کو “ .... میں نے ایک اور دلیل پیش کی ، میں نے عرض کیا ” میں گزشتہ کتنے ہی برسوں سے عطا الحق قاسمی ، اور عرفان صدیقی صاحب پر اپنے کالموں میں تنقید کرتا رہا ہوں اُنہوں نے جو کچھ شریف برادران کے حق میں لکھا مختلف عہدوں ومراعات کی صورت میں اُس کی اچھی خاصی قیمت وصول کرلی، اب وہی کام میں کس منہ سے کروں گا؟ نعیم بھائی نے کہا

”اچھا آپ اِس پر غور کرلیں “ ۔غور کیا کرنا تھا، مجھے پتہ تھا میں یہ کام کرہی نہیں سکتا تھا، میں زیادہ سے زیادہ دن میں دوکلاسز پڑھا سکتا ہوں یا ہفتے میں دو چار کالم لکھ سکتا ہوں، لہٰذا جو ذمہ داری سچے دل سے سمجھتا ہوں میں نبھا ہی نہیں سکتا وہ اُٹھا کیسے سکتا ہوں؟، لاہور پہنچنے کے بعد حتمی طورپر میں نے نعیم بھائی اور خان صاحب کو اُن کے واٹس ایپ پر معذرت کے مسیجز کردیئے، پھر خان صاحب سے فون پر بات ہوئی۔ میں نے گزارش کی ”میرے ذمے جو کام آپ لگائیں گے، آپ کے ایک دیرینہ مخلص دوست کی حیثیت سے میں اس کے لیے ہرممکن کوشش کروں گا، پر میں باقاعدہ کسی عہدے پر تعینات ہوکر کام نہیں کرسکتا“، اصل میں میرے ” استخارے“ نے بھی مجھے اِس کی اجازت نہیں دی تھی، دو تین مشورے اِس ملاقات میں اور بھی میں نے اُنہیں دیئے، وہ بھی میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں، میں نے اُن سے کہا ” وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے کے بعد آپ نے اپنی زبان پر زرداری اور شریف برادران میں سے کسی کا نام تک نہیں لانا، آپ ان کے کیسز کو اور خود اُن کو اداروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں، ادارے جانیں وہ جانیں آپ نے ہرقسم کی سیاسی مخالفتوں اور غلاظتوں سے بالاتر ہوکر صرف تین شعبوں پر فوکس رکھنا ہے، صرف تین نظام درست کرنے پر توجہ دینی ہے۔ایک نظام تعلیم، دوسرا نظام صحت، اور تیسرا نظام عدل (لاءاینڈ آرڈر) یہ بگڑے ہوئے تین نظام دس فی صد بھی اگلے ایک دو برسوں میں آپ نے درست کردیئے آپ کے اقتدار کو کسی قوت سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا، اور یہ تین شعبے ایسے ہیں جن میں اس ملک کی ”اصل قوت“ مداخلت بھی نہیں کرتی، جن شعبوں میں وہ مداخلت کرتی ہیں، آپ اُن سے کہیں وہ شعبے وہ خود چلالیں، پر مجھے ان تین شعبوں میں کام کرنے دیں، انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں فرمایا ” یہ بڑی زبردست بات ہے، ایسے ہی ہوگا، نظام تعلیم کے حوالے سے اُنہوں نے خاص طورپر یہ فرمایا ” ہم نے اِس پر پہلے سے بڑا کام کیا ہوا ہے، اُنہوں نے کے پی کے کا حوالہ دیا، انہوں نے کہا ”ہم پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم لے کر آئیں گے، اور یہ کام ہم اپنی حکومت کے قیام کے پہلے چند دنوں میں ہی کرلیں گے کیونکہ اس پر ہماری ورکنگ مکمل ہے، جو غریب کا بچہ پڑھے گا وہی امیر کا بچہ پڑھے گا، اس سے ایک ”قوم “ بنے گی“ .... اس موقع پر اُنہوں نے کے پی کے میں اپنی حکومت کے وزیر تعلیم عاطف خان کی بڑی تعریف کی ۔ انہوں نے کہا ”ہم ایسا ہی اہل اور فعال وزیر تعلیم مرکز اور پنجاب میں بھی لے کر آئیں گے، مجھے پتہ ہے یہ ذمہ داری میں نے کس کو دینی ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر