موسم بہار:تحقیقات جاری اور چھوڑوں گانہیںکے ساز
17 فروری 2020 2020-02-17

موسم نے انگڑائی لی ہے۔سردی کی شدت میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔سورج کی تمازت میں اضافہ ہواہے۔ بہار کی آمد ہے۔ہر طرف سبزہ ہے۔پھول کھلے ہوئے ہیں،جس کی خوشبو سے فضا معطر ہے۔شہروں کی نسبت دیہاتوں کا منظر زیادہ دلکش اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والا ہے۔ہر طرف کھلے ہوئے پھول آنکھوں کو ٹھنڈک، دلوں کو خوش اور دماغ کوفرحت دیتی ہے۔گزشتہ دو عشروں سے پاکستان کے ماحول اور فضا پر بھی آسیب کا سایہ تھا۔ہر طرف بارود کی بد بو تھی۔ہرطرف بکھرے ہوئے لاشے تھے۔آہیں اور سسکیاں تھیں۔پورے ملک میں دہشت کا عالم یہ تھا کہ جو بھی گھر سے باہر نکلتا ان کی واپسی کے لئے دعائیں کی جاتی تھی۔بازار،سڑکیں،تعلیمی ادارے،کھیل کے میدان، سیاحتی مقامات ،مسجد ،مندر،گرجا کوئی بھی جگہ محفوظ نہ تھی۔ بہار کی آمد نے گویا خوش خبری دی ہے کہ پاکستان میں دوبارہ کھیلوں کے میدان آباد ہونے والے ہیں۔سری لنکا کرکٹ ٹیم کا دورہ ،ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کی آمد اور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے آنے سے امید ہو چلی ہے کہ اب یہاں بہار ہی بہار ہو گی۔ لاہور میںروایتی کھیل کبڈی کے مقابلوں کا انعقاد اس بات کی نوید ہے کہ اب تمام کھیلوں کے میدان آباد ہونے والے ہیں۔حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جوش اور ولولے کو ماند پڑنے نہ دیں۔تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کو کھیل کے میدانوں کو آباد کرنے پر بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے اس لئے کہ بہار نے خوش خبری دی ہے کہ اب یہاں آہوں اور سسکیوں کی دلخراش چیخیں نہیں ہو نگی بلکہ خوشی کے نعرے اور مستی کی آوازیں ہو نگی۔پاکستان سپرلیگ کے مقابلوں کا میلہ چند دن بعد ملک ہی میں سجے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوشش ہونی چاہئے کہ جو کوئی بھی ان مقابلوں کوکرکٹ کے میدان میں براہ راست دیکھنے کا خواہش مند ہے ان کو سکیورٹی یا دوسرے بہانوں سے روکنے کی کوشش نہ کریں۔ جو بھی آنا چاہتا ہے ان کو آنے دیا جائے۔اس لئے کہ ان مقابلوں کی کامیابی کا تمام تر درومدار میدان میں موجود شائقین کی تعداد پر منحصر ہے۔اگر پاکستان کرکٹ بورڈ اس مرتبہ ان مقابلوں کی کامیاب انعقاد میں کامیاب ہو گیا تو یوں سمجھ لیں کہ پھر بہار ہی بہار ہو گی اور خزاں کے بادل جو گزشتہ دوعشروں سے ملک کے کھیلوں کے میدانوں پر قابض ہے ان کے قبضے کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے گا۔

ترکی کے صدر طیب اردوان کا دورہ اسلام آباد بھی موجودہ تنائو کے ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔مجلس شوریٰ سے خطاب کے دوران پاکستان سے جس محبت کا اظہار انھوں نے کیا وہ بھی قابل تعریف

ہے۔ان کا کہنا کہ پاکستان کا دکھ ہمار دکھ، پاکستان کی خوشی ہماری خوشی یقینا عشق ومحبت کی ایک لازوال مثال ہے۔مسئلہ کشمیر پر جس دوٹوک انداز میں انھوں نے اسلام آباد کا ساتھ دیا وہ بھی سچی دوستی کا مظہر ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالر تک لے جانے اور 13 مختلف شعبوں میں تعائوں کے معاہدوں پر دستخط اس بات کی عکاس ہے کہ ترکی پاکستان کو معاشی دلدل سے نکالنے میں مدد کرنے میں سنجیدہ ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس کی اسلام آباد آمد بھی موجودہ صورت حال میں نہایت ہی اہم ہے۔پڑوس میں افغانستان میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان معاہدہ آخری مراحل میں ہے۔ ایرا ن ، سعودی عرب اور امریکا کے درمیان موجودہ تنائو نے بھی خطے میں غیر یقینی کی صورت حال میں اضافہ کیا ہے ۔اسلام آباد اور دہلی کے درمیان گزشتہ ایک سال سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اس تنائو میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ایسی صورت حال میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورہ پاکستان کسی بڑی مہم کا ہی حصہ ہو سکتا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات کے بعد کشمیر پر سہولت کاری کا بیان اس بات کی عکاس ہے کہ اقوام عالم کو بھی خدشہ ہے کہ یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔

حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان کشیدگی بھی تقریبا ختم ہو چکی ہے۔جو لوگ مارچ میں دمادم مست قلندر کی پیشں گوئیاں کر رہے تھے لگ ایسے رہا ہے کہ ان کی خواہشیں پوری ہونے والی نہیں۔اتحادی جماعتوں کے ساتھ صلح ہوجانے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان نے ماحول میں دوبارہ ارتعاش پیدا کر دیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان پر آئین کی دفعہ چھ کے مطابق مقدمہ بننا چاہئے لیکن اس طرح کے بیانات صرف سیاسی ماحول کو گرمانے کے لئے ہوتے ہیں۔آٹا اور چینی بحران میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کوتاہی تسلیم کر لی ہے۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر قوم کو امید دلائی ہے کہ تحقیقات ہو رہی ہے،جس نے بھی پیسہ بنایا ہے چھوڑوں گا نہیں،لیکن اس سے قبل بھی وزیر اعظم عمران خان لاتعداد لوگوں کو چھوڑوں گا نہیں کی دھمکی دے چکے ہیں ،پھر بھی ان کو چھوڑ دیا ہے۔یوں سمجھ لیں کہ یہ بھی اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنے کا ایک حربہ ہے۔ باقی جس نے کمانا تھا انھوں نے کمالیا۔ تحقیقات جاری رہی گی ۔ممکن ہے مکمل بھی ہوجائے ،لیکن سزا کسی کو نہیں ملے گی۔

اگر ہم مجموعی طور پر ملکی حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو رہا ہے کہ تلخیاں ختم ہو رہی ہے۔سیاسی ماحول میں تنائو کی جو کیفیت تھی وہ ختم ہو رہی ہے۔اس میں شک نہیں کہ حکومت اور اتحادیوں کے درمیان آنکھ مچھولی وقفے وقفے سے جاری رہی گی،لیکن معاملات اس مقام تک ہرگز نہیں جائیں گے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کا سبب بنیں۔اب تو ایسے معلوم ہو رہا ہے کہ تخت لاہور پر عثمان بزدار کی گرفت بھی مضبوط ہو گئی ہے اور ان کے اقتدار کو بھی کوئی خطر ہ نہیں۔وزیر اعلی خیبر پختون خوا محمود خان نے بھی پشاور میں پنجے مضبوط کر لئے ہیں۔حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان لہو گرم رکھنے کے لئے ایوانوں کے اندر کبھی نہ کبھی شدید جھڑپیں ہونگی۔ احتساب کے ادارے بھی وقتافوقتا اپنی وجود کا احساس دلاتے رہیں گی ،لیکن ضمانتوں کا موسم بہار ایک مرتبہ پھر شروع ہونے والا ہے ۔سب باری باری جیلوں سے باہر آکر اقتدار کے ایوانوں میں گرجتے اور برستے ہونگے ۔کئی ایسے بھی ہیں کہ جو ملک سے باہر چلے جائیں گے۔اس لئے کہ موسم بدل رہا ہے۔ بہار میں خزاں کی باتیں اور خزاں کے کام اچھے نہیں لگتے۔ہاں تحقیقات جاری رہے گی،ملوث لوگوں کو سزا دیں گے، چھوڑیں گے کسی کو نہیں کے ساز حسب معمول بجتے ہی رہیں گے،اس لئے کہ قوم کے کانوں کو اس طرح کے نعرے اور ساز اچھے لگتے ہیں۔


ای پیپر