رات باقی ہے
17 فروری 2020 2020-02-17

پچھلے ہفتے ’’یادوں کا سحر اور چلتے لمحے کا قہر و جبر‘‘ کے عنوان سے چھپنے والے کالم کے اور دوستوں کے فون ، میسجز اور ساعتوں کے تذکرے کی کاکٹیل نے ایسا مسرور کیے رکھا کہ ابھی تک میرے روح و قلب یادوں کے سحر کے حصار میں ہیں جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موجدین کا بھلا ہو جنہوں نے ساری دنیا کے لوگوں کو مٹھی میں پکڑے موبائل میں لا بند کیا اس کی بدولت دہائیوں سے جن سے ملاقات نہ ہوئی ان سے رابطے بحال ہوئے یار لوگوں نے خوب رابطہ کیا اس حد تک کہ سہیل انور خان فن لینڈ سے حافظ ضیاء الرحمن ڈار چوہدری فاروق سلیم چہل (منا) پلان بنا کر 4 دن بعد لاہور میں ملنے آ گئے خوب گپ شپ رہی۔ وقت بدلا اور گفتگو کا محور بدل گیا جب ہم اپنی عملی زندگی میں مصروف ہوئے تو باتیں کچھ اور تھیں آج ہمارے اولادیں ان عمروں میں ہیں بچوں کی مصروفیات اور معاملات کے علاوہ تصوف زیر بحث رہے۔ جس کی بنیاد مراقبہ ،خود کلامی اور اپنی ذات سے ملاقات ہے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس اسباق وجود کی ضرورت سے میل نہیں کھاتے یہ روح کی پرورش کا سامان ہے۔

کسی بھی معاشرت میں رہن سہن اس کے سیاق و سباق اور روایات کے مطابق ہی ہو گا لوگوں سے اخلاق و اطوار میں ہمرنگ ہونا اُن کے شہر سے محفوظ رکھتا ہے۔ دانشوروں کی باتیں جو کہ آفاقی سچائی بھی رکھتی ہیں۔

جب دنیا میں عمرانی نظریات نئے نئے متعارف ہوئے سول سوسائٹی کسی دستاویز کی تابع کرنا چاہی حقوق و فرائض کے تعین کی باتیں ہونے لگیں۔ تو ہندوستانی یونانی اور مغربی فلسفیوں نے Conginial Companions کے دفتر کھول لیے جو مختلف معاملات سے آگاہی رکھتے تھے۔ علمی ، فکری اور ہم آہنگی کی تلاش میں لوگ جو فکری ذوق رکھتے تھے ان کے پاس آتے چند پونڈ دیتے اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور اس کے بارے میں ان کے خیالات جانتے اپنی سوچ اور فکری پیاس کی سیرابی کرتے سارا سفر اور مشقت وہ ایک ذہنی ہم آہنگی کی تلاش اور گفتگو سے اپنے من کی بھڑاس نکالتے اور اپنے تحفظات دور کرتے مجھے کبھی علم و آگاہی ، تصوف و شاعری، وطن عزیز کی معاشرت پر رہنمائی لینا ہو تو اکثر مقصود بٹ (روزنامہ جنگ) قبلہ جناب سمیع اللہ ملک صاحب (لندن)، جامع الازہر سے تعلیم یافتہ جناب محمد صادق خان تنولی، آغا سہیل، سہیل احمد قصوری (امریکہ)، مرزا امتیاز بیگ بھولی (وزیر آباد) گلزار بھائی، قبلہ مقبود احمد بٹ سے رابطہ کر کے ان مصروفیات میں سے وقت لیتا ہوں علم و آگاہی کے ایسے فکری زمزمے بہتے ہیں ایک ایک فقرہ اور جملہ روح کی تنہائیوں تک کو چھو جائے مگر شرط یہ ہے۔

بقول جناب محمد صادق کے میاں محمد بخش کا کہا ہوا دھراتے ہیں

خاصاں دی گل عاماں اگے نئیں مناسب کرنی

مٹھی کھیر پکا محمد کتیاں اگے دھرنی

گویا دانشوروں سے کرنے والی بات جاہل ، ضدی اور گنوار کے سامنے کرنی ایسے ہی ہے جیسے میٹھی کھیر پکا کر کتوں کو ڈال دی جائے لہٰذا کسی بھی معاملے کی بات فکری اعتبار سے بالغ اور یقینا ہم آہنگ دوستوں سے کرنا پڑتی ہے ورنہ یہی حالت ہوتی ہے جو آج چل رہی ہے بات بات پر گولی چلنے والا محاورہ ہے۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں ذید کا مخفی ہونا زہد ہے مگر دیکھا گیا ہے کہ جن چوک چوراہوں، رکشوں کے پیچھے کبھی فلمی اداکاروں کی تصویریں تھیں آج ’’علما‘‘نے ہیئر کلر، کلف والی پگڑیوں کے ساتھ تصویریں لگا رکھیں ہیں اور دن رات کا زیادہ وقت سو رہے ہیں پھر (بزرگ درویش) کہلوانے پر بضد ہیںزہد و تقویٰ کے دعویدار ہیں جس کے پرچار کے لیے فلیکس شیٹوں ہی نہیں سوشل میڈیا پر بھی قبضہ ہے خود ہی اندازہ لگا لیں ہمارے ہاں فلم اور علم کا سفر کہاں پہنچ گیا عمل و عبادت کا سفر جس تیزی سے ریاکاری اور کاروباری ماحول کی بدبودار صورت گری کر رہا ہے سوسائٹی کی فکری حالت کیا ہو گی۔ علمی محفلیں تو مفقود ہو گئیں، گفتگو کے سلسلے بھی منقطع ہوئے جن سے معلوم ہوتا کہ ٭ دل آنکھوں کا صحیفہ ہے ٭ جو حق سے ٹکرائے گا حق اسے پچھاڑ دے گا۔ ٭ بات کرو تا کہ پیمانے جاؤ کیونکہ آدمی اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے۔ ٭ لذتوں کے ختم ہونے اور پاداشتوں کے باقی رہنے کو یاد رکھو۔ ٭ جو شخص ذرا سی مصیبت کو بڑی اہمیت دیتا ہے اللہ اسے بڑی مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ٭ فقر کی زینت پاک دامنی ہے اور تونگری کی زینت شکر ہے۔ ٭ سب سے بڑی دولت مندی یہ ہے کہ دوسروں کے ہاتھوں میں جو ہے اس کی آس نہ رکھی جائے۔ ٭ بسا اوقات ایک دفعہ کا کھانا بہت دفعہ کے

کھانوں سے مانع ہو جاتا ہے۔ ٭ دوسرے کے سینہ سے کینہ اور وشر کی جڑ اس طرح کا ٹوکہ خود اپنے سینہ سے اسے نکال پھینکو ۔ ٭ حسد کی کمی بدن کی تندرستی ہے۔ ٭ لالچ ہمیشہ کی غلامی ہے۔ ٭جو آپ کی آ نکھ سے آپ کی ضرورت نہ جان سکے اسے اپنی حاجت بیان کرکے شرمندہ نہ ہوں٭ لوگوں سے ناامیدی آزادی ہے۔ آقا کریم نے فرمایا جس شخص نے اپنا راز چھپایا وہ جلد مراد کو پہنچا۔لہٰذا آج بھی جس کے پاس بھی علم و فکر اور آگاہی کی مشعل رکھنے والے موجود ہیں ان سے رابطے میں رہنا چاہیے دکھوں سے نجات کے لیے ماضی کے دریچے کھول کر حقیقی اور پرانے دوستوں سے رابطہ میں آنا چاہیے۔ مجھے اس کی آفادیت کا پچھلے کالم کے لکھنے کے بعد بے لوث دوستوں کے رابطے سے بہت لطف آیا جبکہ جن لوگوں کے ساتھ عملی زندگی اور سرکاری غلامی میں 29 سال دن کے 10 گھنٹے گزارے زندگی میں ملنے والے جتنے گھاؤ ہیں یہ سب ان راہگیروں سے لگے۔ مجھے یاد ہے جب پہلی بار عمرے کی سعادت نصیب ہوئی تو ایک دفتر ی جو دوستی کے دعویدار تھے نے کہا کہ میرے لیے دعا کیجیے گا میں نے کہا ضرور کروں گا ساتھ ہی میں نے کہا کہ میں اپنے رب سے کہوں گا کہ یا اللہ جو کوئی میرے متعلق جیسا سوچتا یا خیال رکھتا ہے، ارادہ رکھتا ہے آپ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کر دے تو اس طالب دعا نے جس کے چہرے کی ہوائیاں اُڑ گئیں فوراً بولا کہ یہ تو بددعا بھی ہے میں نے کہا کہ تم میرے لیے اچھا سوچ لو اور میرے متعلق نیک ارادہ رکھو میں نے بات آگے بڑھائی کہ یہ حضرت علی ؓ کی دعا ہے وہ کہنے لگا کہ ان کی تو لمبی چوڑی مخالفت بھی تھی میں نے عرض کیا کہ ہم بھی اپنے ہاتھ ملانے والوں میں منافقین اور مخالفین کی تعداد کوئی کم نہیں رکھتے لہٰذا کعبہ کا سہارا لینا پڑے گا۔ یہ ازراہے تفنن بات آ گئی کاروبار اور سیاست و روزگار میں ملنے والے لوگ دوست نہیں ہوتے دراصل مستقبل کے دشمن ہوتے ہیں ۔ بہرحال بات کہاں کہاں نکل گئی ۔ اپنی دھرتی، مذہب اور معاشرت دانشوروں کی دانش کو مشعل راہ اور حقیقی فکری دوستوں اور رہنماؤں سے رہنمائی سے کافی مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ ناسٹیلجیا سے باہر آیا تو احساس ہوا۔ آمریت نہ ہوئی جمہوریت ہوئی ضیاء نہ ہوا عمران ہوا کیا فرق پڑتا ہے۔ قوم، ملک، عوام کی اپنے اپنے دائرے میں حالت ایسے ہی ہے کہ

رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے

کٹ گئی عمر رات باقی ہے


ای پیپر