عمران خان کا معتمد علیہ ساتھی نعیم الحق
17 فروری 2020 2020-02-17

کسی بھی جماعت سے گہری وابستگی اور قلبی لگائو رکھنے والے سیاسی کارکن اس جماعت کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں یہی کارکن اپنی جماعت کے منشور پہ عمل کرتے ہوئے جماعت کے پیغام کو نہ صرف گھر گھر پہنچاتے ہیں بلکہ اپنی جماعت کی کامیابی کے لئے شبانہ روز محنت کرتے ہیں اعصاب مضمحل ہوجائیں یا کہیں خستہ اور شکستہ حالات کا سامنا کرنا پڑجائے یہ کارکن عزم صمیم کے ساتھ اپنی پارٹی کی کامیابی کے لئے کوشاں رہتے ہیں ایسے کارکنان کے بغیر کامیابی کے خواب کو خواب ہی سمجھا جائے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نعیم الحق کی سیاسی جدوجہد کے 23 سالوں میں کوئی ایسا لمحہ نہیں آیا ہوگا کہ انہوںنے کبھی کارزار سیاست سے پلٹنا چاہا ہوسیاست میں کسی کے سیاسی نظریات سے تو اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی سیاسی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اپنی جماعت اور اپنے قائد سے بے مثال محبت و عقیدت رکھنے والے نعیم الحق 11 جولائی 1949 کو کراچی میں پیدا ہوئے انگلش لٹریچر میں ما سٹرکیا اور سندھ مسلم لاء کالج سے وکالت کی ڈگری حاصل کی اسی کالج میں ذوولفقارعلی بھٹو بھی دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ نعیم الحق بینکنگ کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔نیویارک، یو این پلازہ میں این بی پی کی شاخ قائم کرنیوالی ٹیم کاحصہ رہے۔1980میں لندن میں بنک کی ملازمت کی بعد

میں ایروایشیا کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر بنے، اس کے بعد انہوں نے میٹروپولیٹن اسٹیل میں چیئرمین کے عہدے پر بھی کام کیا۔لندن میں 80کی دہائی میں ہی انکی ملاقات آج کے وزیر اعظم عمران خان سے ہوئی تو عمران خان نعیم الحق کے گھر جاتے اور انکی اہلیہ نازو کی میزبانی کا خوشگوار احساس پاتے1983میں کرکٹ کھیلتے عمران خان زخمی ہوئے تو نعیم الحق نے انہیں اپنی ایکسرسائز بائک دی 1984میں تحریک استقلال میں شامل ہوئے تو لندن سے کراچی منتقل ہوگئے1988میں تحریک استقلال کے ٹکٹ پر اورنگی ٹاؤن سے الیکشن لڑا 1996 عمران خان کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی، تحریک انصاف کی کور کمیٹی اور انفارمیشن سیکریٹری کا عہدہ بھی ملانعیم الحق پی ٹی آئی کے دس ایسے بنیادی کارکن تھے جنہوں نے حقیقت میں قائد سے وفا کی اور جماعت کو کامیاب کر کے دکھایا 2008 میں اہلیہ کی وفات کے بعد تو نعیم الحق نے پارٹی کے ساتھ دن رات ہی ایک کردیا 25دسمبر 2011 میں کراچی میں ایک بڑا جلسہ کر دکھایا جس کی گونج پاکستان بھر میں سنائی دی اور جسکا جلوہ پورے ملک میں دکھایا گیا ۔

2018 میں کینسر کے مرض کی تشخیص ہوئی جو سیاسی سرگرمیوں کے آڑے نہ آئی مرکزی رہنما کے طور پر انہوں نے اپنے فرائض کو ادا کیا جان لیوا بیماری کے باوجود تن دہی سے پارٹی کے امور انجام دیتے رہے2018 کے انتخابات میں انکا کردار کلیدی رہا الیکشن سے ذرا قبل ہم نے ان سے ایک وڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کی ہمارے کسی بھی سوال کا جواب نہائیت خوشدلی سے دیا سوالات کی بھرمار اور کانفرنس کی طوالت پر اکتائے نہیں نہ ہی بلکہ سوالات پر ہنستے مسکراتے جوابات دیتے رہے واٹس ایپ پر معمولی عرصہ ان سے رابطوں کو استوار رکھا پی ٹی آئی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو میں نے بھی روابط میں احتیاط برتی کہ یہی اپنا شعار بھی ہے لیکن انکی خوش اخلاقی یاد آتی رہی ۔ نعیم الحق وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور مقررہوئے ۔ساتھیوں کی نقطہ چینی کے باوجودپی آئی اے کو خسارے سے بچانے کے لئے کوششیں کی مقتدر حلقوں نے نعیم الحق کے موقف کی تائید کی تحریک انصاف سے انہیں ہدف تنقید بنایا گیا لیکن ماتھے پر بل نہ آیا انہیں اپنا نیک مقصد مطلوب تھا کہ تحریک انصاف اپنے اقتدارمیں کرپشن کی ’ کنڈیالی تھور‘ کے پودوں کو اکھاڑ پھینکا جائے پچھلے ادوار میں پی آئی اے میں سیاسی بھرتیوں کے ناگوں کا پھن کچل دیا جائے تاکہ ماضی دنیا میں اپنا ثانی نہ رکھنے والا یہ منافع بخش ادارہ پھر عزتوں ۔ شہرتوں اور کامیابیوں کی انہی رفعتوںں کو پہنچے پارٹی میں یقینا انکی گراں قدر خدمات کو یاد رکھا جائے گا اور ان کام احترام سے لیا جائے گا نعیم الحق عمران خان کے معتمد علیہ ساتھیوں میں تھے تحریک انصاف کی حکومت کو چاہئے کہ انہیں انکی خدمات پر ستارہ امتیاز دے ۔


ای پیپر