’’نظم جدید کی کروٹیں‘‘ جدید تناظر میں
17 فروری 2020 2020-02-17

نام وزیر آغا، ڈاکٹر 18مئی 1922ء کو وزیر کوٹ سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ 1943ء میں ایم اے (اقتصادیات) کا امتحان پاس کیا۔ 1956ء میں اردو ادب میں طنز و مزاح کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1966ء میں اپنا ادبی مجلہ ’’اوراق‘‘ کے نام نکالا۔ وزیر آغا نے شاعری، تنقید اور انشائیہ بہت کچھ لکھا۔ نظم و نثر کی اب تک بیس سے زیادہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ آپ 7 ستمبر 2010ء کو 78 سال کی عمر میں اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ 20 ویں صدی کے وسط میں جن دو گراں قد ر تحریکوں نے ہماری زبان کو دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے شانہ بشانہ کر دیا۔ وہ بلاشبہ مختصر افسانے اور نظم جدید کی تحریکات تھیں۔ زیر نظر تالیف ’’ نظم جدید کی کروٹیں ‘‘وزیر آغا کی ایک تنقیدی تالیف ہے جن کے دیباچے میں صلاح الدین احمد یوں رقمطراز ہیں کہ ’’تالیف زیر نظر ان کاوشوں کی ایک دلچسپ و دلکشا تصویر ہے اور مقام شکر ہے کہ مؤلف نے اس میں کوئی ایسے رنگ نہیں بھرے جن کی شوخی آنکھوں کو تکلیف دے یا جن کا دھیمہ پن نگاہوں پر بار ہو بلکہ اس نے اپنے ہر موضوع کی گہرائی میں غواصی کی ہے اور تہہ میں سے وہی موتی نکالا ہے جو اس کی مرکزی خصوصیت کی جھلک مارتا ہے۔ پھر اسی مرکزی خصوصیت کے قلب سے اپنی تنقیدی قوتوں کو آگے بڑھایا ہے اور ایک نہایت متوازن طریق کار سے اپنی مہم جوئی اور ناظر کے جذبہ یافت کو تسکین دی ہے‘‘۔

نظم جدید کی سمت شعرا کا جھکاؤ صرف نظم کی صنف کو بام عروج تک ہی پہنچانا مقصود نہیں تھا بلکہ اس روایت سے کھلی بغاوت تھی جو انہوں نے غزل، پابند نظم ، مثنوی یا کسی دوسری عروضی صنف میں نظر آتی تھی لہٰذا کچھ شعراء نے بحورو اوزان کی قید و بند کی صعوبتوں سے آزادی کے لیے نظم جدید کی طرف رخ کیا۔ اردو نظم کی آبیاری میں غزل اور عروض سے بغاوت کا یہ تجربہ خاصا کامیاب رہا۔ میرا جی ، ن م راشد ، مجید امجد، پروین شاکر، احمد فراز کے علاوہ علامتی نظم نگاری میں جیلانی کامران نے اہم کردار ادا کیا۔

’’ نظم جدید کی کروٹیں ‘‘ میں وزیر آغا نے گیارہ ان شرائط کا تذکرہ کیا ہے جو اردو نظم کے ارتقائی مراحل سے لے کر زمانہ مرّوج تک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلوب کی جدت، عرصی مسائل کی نشاندہی اور فن کی پختگی کے حوالے یہ دور سنہری دور کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض شعراء کے ہاں ترقی پسندیدیت کا عنصر بھی نمایاں رہا اور وہ اپنی ڈگر پر کامیاب نظر آئے۔ زیر بحث کتاب ’’ نظم جدید کی کروٹیں ‘‘ میں وزیر آغا نے اقبال، ن م راشد، میرا جی، مجید امجد، یوسف ظفر، قیوم نظر، راجا مہدی علی خان، اختر الایمان، ضیاء جالندھری، بلراج کومل اور شہاب جعفری کے صرف غالب پہلوؤں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ جیسے علامہ اقبال کے ہاں فطرت پرستی کے ساتھ ساتھ دیگر سیکڑوں پہلو بھی پائے جاتے ہیں۔ فطرت علامہ اقبال کا ایک جزوی پہلو ہے حالانکہ اقبال کی شاعری حرکت و عمل کی شاعری ہے۔

اسی طرح میرا جی، کیلئے وزیر آغا نے ’’دھرتی پوجا کی ایک مثال‘‘ کا گوشہ منتخب کیا ہے۔ جب کہ میرا جی روس کے شاعر پشکن، فرانس کے فرانساں ویلاں، مغربی شاعر تھامس مور انگلینڈ کے جان فیلڈ ، فرانس کے بادلیر، بنگال کے چنڈی داس ، جرمن کے ہانیے انگلینڈ کے ڈی ایچ لارنس سے متاثر تھے۔ ان کی شاعری میں ان تمام شعراء کے نظریات و خیالات رکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ میرا جی کی شاعری میں نفسیاتی اورجنسی پہلو بھی دیکھا جا سکتے ہیں۔

اس کے بعد ن۔م راشد کو وزیر آغا نے بغاوت کی مثال قرار دیا ہے۔ مگر راشد نے جدید نظم میں بہت ہیئت اور موضوعات کے حوالے سے نئے نئے تجربات کہیے، انہوں نے بنے بنائے سانچوں کو توڑا ۔ انہوں نے تکنیک میں تبدیلیاں پیدا کیں۔ راشد نے اپنی تراکیب فارسی سے لیں ۔ بحر خمیازہ کش عشق ساحر بے نشاں، ہم آغوش زمین، سیاہ پوش دشمن، ملفوف ارزاں، بردہ فروش افرنگ، پردہ شب گیر،حیلہ شب خون، سکوت مرگ،مہیب روح ستاں اور پیام مرگ جوانی جن سے نئے معانی اور فاہم سامنے آتے ہیں یہی راشد کا کمال ہے۔ راشد کے بارے میں وزیر آغا کا یہ نظریہ قدرت سچ ثابت ہوا ہے مگر راشد کی شاعری میں دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ کچھ موضوعاتی پہلو بھی ملتے ہیں۔

ن م راشد کے بارے میںناقدین فن نے بہت سی متضاد آراء دے رکھی ہیں۔ کسی کے نزدیک راشد جنس پرست شاعر ہے، کوئی راشد کو ترقی پسند شاعر کہتا ہے اور وزیر آغا کے نزدیک یہ روایت سے باغی شاعر ہے ۔ اس کے علاوہ راشد کی شاعری میں رموز و علائم، داخلیت اور خارجیت کے عنصر بھی ملتے ہیں۔

وزیر آغا نے مجید امجد کو توازن کی مثال قرار دے کر خود ہی پہلو کی نفی بھی کر دی۔ ڈاکٹر وزیر آغا ان کی انفرادیت کی گواہی دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔

اقبال کے بعد ابھرنے والے شعراء میں مجید امجد وہ واحد شاعر ہے جس نے سوچ، زبان اور لہجے کی حد بندیوں کو توڑ کر اپنی انفرادیت کا بھرپور احساس دلایا ہے۔ جب تک کوئی شاعر اپنی شخصیت کو ماحول اور تہذیب کے قفس سے اپنی روح کو آزادی پنچھی کی طرح اڑان بھرنے کا موقع عطا نہ کرے۔ وہ کبھی عظمت کے اعلیٰ مدراج پر فائز نہیں ہو سکتا‘‘۔

بیسویں صدی کی اردو شاعری میں یہ کام علامہ اقبال نے انجام دیا اور پھر اس کے بعد مجید امجد نے۔

احمد ندیم قاسمی یوں رقمطراز ہیں: ’’دراصل مجید امجد اتنا کچھ کہنا چاہتا تھا اور اتنے اچھوتے انداز میں قاری کے دل و دماغ تک رسائی حاصل کرنا چاہتا تھا کہ کہ اسے مروجہ ہیتیں ادھوری محسوس ہونے لگتی تھیں۔ اگر اسے چند برس اور مل جاتے تو وہ نظم کو یقینا ایک قطعی نئی ہیت سے سرفراز کرتا۔ ایک عقدہ جو میں وا کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ وزیر آغا نے ان شعراء کے فقط غالب پہلوؤں کا ذکر کیا ہے جبکہ ان کے ہاں دیگر پہلو بھی دست بستہ تھے۔ دوسری بات کہ اس کتاب کے آنے والے ایڈیشنوں میں اضافہ کی بھی گنجائش موجود تھی ارد گرد نظم گو شعراء کے ادبی پہلو بھی اجاگر کیے جاسکتے تھے مگر شاید آغا صاحب نے مصلحت پسندی یا کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے آنے والے نظم گو شعرا کی داد رسی مناسب نہ سمجھی ہو۔ یا آغا صاحب کسی واہمے کا شکار ہو گئے ہوں۔ نظم جدید کی کروٹیں تنقید میں ایک اچھا اضافہ ہے مگر ادبی میدان میں شجر ہائے سایہ دار کی حیثیت نہیں رکھتی اور نہ ہی جدید ادبی تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ یہ کتاب دراصل جمالیاتی تنقید کے پہلو کا احاطہ کرتی ہے۔


ای پیپر