ورلڈاکنامک فورم کے دو اہم فیصلے
17 فروری 2020 (17:23) 2020-02-17

چوہدری فرخ شہزاد:

گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی ورلڈ اکنامک فورم کا 50واں سالانہ اجلاس سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 21-24جنوری کو منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم عمران خان نے کی۔ دُنیا بھر سے ہر سال ہزاروں افراد اس میں شرکت کرتے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی کی عالمی سطح پر مشہور شخصیات اس میں حصہ لیتی ہیں۔

اس سال ورلڈاکنامک فورم میں دو اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ زور اس اجلاس میں موسمی تبدیلیوں پر دیا جاتا ہے کہ کس طرح عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کو روکا جائے تاکہ دُنیا کو 8ارب انسانوں کے رہنے کے قابل بنایا جاسکے اور ماحولیاتی آلودگی کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے بچا جاسکے۔ اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2030ءتک یعنی اگلے 10سالوں میں دُنیا میں ایک ٹریلین درخت لگائے جائیں گے۔ ابھی تک اس کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں کہ اس منصوبے کا درختوں کا ہر ملک کا حصہ کتنا ہے البتہ یہ طے ہے کہ جو ملک یا معاشرہ اپنے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے جتنا زیادہ حصہ ڈالے گا اُسے اتنا ہی فائدہ ہو گا۔ اس کی سب سے زیادہ ضرورت افریقہ اور ایشیا میں ہے۔

ڈبلیو ای ایف کا دوسرا اہم ایجنڈا یہ ہے کہ 2030ءتک دُنیا میں بیروزگاری کے خاتمے کے لیے ایک ارب انسانوں کی ملازمت کا انتظام کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے بنیادی خدوخال نہیں دیئے گئے۔ اس وقت بیروزگاری ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے اور آبادی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ روزگا رمیں اُس شرح سے اضافہ نہیں ہورہا جس کی وجہ سے صحت اور تعلیم کے شعبے متاثر ہورہے ہیں اور Skill Development نہیں ہورہی۔ بیروزگاری میں اضافے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ کمپیوٹرائزیشن کی وجہ سے پہلے جہاں 10لوگ کام کرتے تھے اب وہاں ایک ہی ملازم کافی ہوتا ہے گویا کمپیوٹر کی ترقی نے سماجی منظرنامے پر مضر اثرات چھوڑے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری ان چیلنجوں سے کیسے نبردآزما ہوتی ہے۔

یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ اس اجلاس کے موقع پر دوعملی کا بہترین مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اس سال اجلاس میں شرکت کرنے والی شخصیات میں 1500 طیارے وہاں ایسے لینڈ ہوئے ہیں جن میں انفرادی طور پر ایک شخص کی شرکت کیلئے ایک طیارہ چارٹر کیا گیا تھا۔ یہ لوگ اگر کمرشل پروازوں سے جاتے تو ماحولیات میں بھی بہتری ہوتی اور اخراجات میں بچت کر کے ایسا فنڈ قائم ہوسکتا تھا جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے تھے، یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔

ڈیووس میں 4روزہ کانفرنس کے موقع پر وہاں ہوٹلوں میں کمرہ نہیں ملتا، سب سے سستا کمرہ 500 ڈالر یومیہ ہوتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کو ہر سال اس کانفرنس سے اربوں روپے کا منافع ہوتا ہے اور وہاں سیروسیاحت کو فروغ ملتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ جسے دُنیا بھر میں سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے عالمی سطح پر دو متضاد وجوہات کی وجہ سے اپنی شہرت رکھتا ہے، پہلی وجہ یہ ہے کہ اس ملک کا بینکنگ نظام دُنیا بھر کے کرپٹ اور دو نمبر افراد اور اداروں کا ناجائز پیسہ رکھنے کے لیے ایک محفوظ ترین پناہ گاہ ہے۔ یہ ایک ایسا اڈہ ہے جہاں چوری کا مال چھپایا جاتا ہے اور بلیک منی یا کالادھن سفید بنا کر اُسے جائز دولت میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس کی دوسری وجہ شہرت یہ ہے کہ یہاں ہر سال ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس ہوتا ہے جہاں دُنیا بھر سے سربراہان مملکت سیاستدان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سی ای او اور بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ دُنیا بھر میں مسائل کے خاتمے اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنے کے لیے اکٹھے ہوں۔ ان مسائل میں موسمی تبدیلیوں، ماحولیات، غربت کے خاتمے، طرزِحکمرانی کو مثالی بنانے، جنگوں کے خاتمے، کاروبار کے فروغ، سماجی انصاف، عورتوں کے مساوی حقوق اور اس طرح کے دیگر موضوعات پر تقاریر ہوتی ہیں کہ کس طرح دُنیا کو مسائل سے پاک اور رہنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔

ورلڈاکنامک فورم آج سے 50سال پہلے ایک جرمن انجینئر Klaus Schawab نے تشکیل دیا تھا جن کی عمر اس وقت 81برس ہے اور وہ نصف صدی سے اس پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک امریکی اخبار میں اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم کی کارکردگی سے زیادہ خوش نہیں ہیں کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ طاقتور حکومتوں اور سرمایہ کاروں نے اس پر غلبہ حاصل کرلیا ہے اور وہ اس کو اُسی طرح سے نہیں چلا پارہے جیسے انہوں نے سوچا تھا۔ یہ 6روزہ اجلاس کی کارروائی سمجھنے کے لیے یہ سمجھ لیں کہ یہ ٹی 20 میچ کی طرح تیزرفتار ہوتا ہے جہاں مرکزی نقطہ تو دوپہر کے وقت تقاریر کا ہوتا ہے لیکن اس سے پہلے اور اس سے بعد دُنیا بھر سے آئے ہوئے ہر شعبے کی ٹاپ آف دی لائن شخصیات ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتی ہیں۔

سیاسی اور کاروباری لابنگ عروج پر ہوتی ہے جیسا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس سال کے اجلاس کے موقع پر ٹیلی نار کے CEO نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ پاکستان میں 16کروڑ افراد موبائل فون استعمال کرتے ہیں جن میں 4کروڑ کا تعلق ٹیلی نار سے ہے۔ اس طرح وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات ہے جہاں سیاسی معاملات زیربحث آئے لیکن اس کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ دُنیا بھر میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کیا جائے۔ امیر اور غریب میں فرق کو کم کیا جائے تاکہ سماجی انصاف اور مساوات پیدا ہوسکے۔

ایک غیرمساوی معاشرہ جس میں دُنیا بھر کی دولت ایک فیصد طبقے کے ہاتھ آچکی ہے جبکہ 99فیصد طبقہ ان کا غلام بنا ہوا ہے۔ ایسے معاشرے میں مساوات کی بات کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ اس منظرنامے میں تبدیلی اس لیے نہیں آرہی کہ گزشتہ 50سال کے 50اجلاس کے بعد بھی دُنیا جوں کی توں ہے بلکہ غربت میں اضافہ ہوا ہے اور دوسری طرف ارب پتی افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور ان کی انفرادی دولت میں بھی 25فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ معاشرتی طور پر بڑی خطرناک صورتحال ہے کہ ایک طرف دُنیا بھر میں غربت بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری طرف دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔

غربت کے خاتمے کے لیے دُنیا بھر میں کام کرنے والے ایک برطانوی ادارے Oxfam نے ڈبلیو ای ایف کے 50ویں سالانہ اجلاس کی مناسبت سے اپنی اس سال کی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے اعدادوشمار دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس معاشی ناانصافی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے۔ اوکسفیم (Oxfam) کا کہنا ہے کہ اقتصادی انصاف کے حصول کے لیے عالمی سطح پر تحریک چلائے جانے کی ضرورت ہے مگر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ایسی تحریک ممکن نہیں کیونکہ دُنیا ریاستی سرحدوں، سیاسی نظام اور دیگر بنیادوں پر تقسیم ہو چکی ہے جہاں عوام ایک جیسی سوچ رکھتے ہیں مگر حکومتیں انہیں منقسم کرنے میں کامیاب رہتی ہیں اور اس طرح سٹیٹس کو برقرار ہے بلکہ امیروں کے حق میں بہتر ہورہا ہے جبکہ غریب پس رہا ہے۔

Oxfam کی رپورٹ کے مطابق دُنیا میں 2153 افراد ارب پتی ہیں جن کی مجموعی دولت دُنیا کی 4.6 بلین آبادی سے زیادہ ہے گویا آپ 2153 کو دولت کے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دُنیا کی آبادی کا 60% دوسری طرف دیکھیں تو یہ 2153 افراد جن میں ایک بھی عورت نہیں یہ آدمی دُنیا سے بھی زیادہ پر بھاری ہیں۔ یہ 2153 افراد کے بارے میں کہا گیا کہ صرف ایک بحری جہاز کی سواریاں ہیں۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ انڈیا کے بارے میں ہے جس کے مطابق انڈیا کے ایک فیصد ارب پتی مجموعی طور پر وہاں کی 70% آبادی یعنی 95.3کروڑ انسانوں کی مجموعی دولت سے زیادہ امیر ہیں۔ 63انڈین سرمایہ دار انڈیا کے بجٹ سے زیادہ دولت کے مالک ہیں۔

یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ دُنیا بھر میں جہاں یہ کہا جاتا ہے کہ گلوبل اکانومی زوال پذیر ہے، وہاں گزشتہ 10سال میں دُنیا میں ارب پتی افراد کی تعداد دوگنا ہو چکی ہے جن کی سالانہ آمدنی 25% شرح سے بڑھ رہی ہے۔ یہ بڑی ظالمانہ صورتحال ہے کہ ایک طرف غربت بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری طرف بینک بیلنس بڑھ رہا ہے۔ دُنیا میں بدامنی بڑھنے کے پیچھے بھی دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم ایک بنیادی حقیقت ہے۔ دُنیا بھر میں کرپشن، ٹیکس چوری، بیروزگاری، مہنگائی، جرائم اور دیگر غیرصحت مند کارروائیوں کے پیچھے یہی غیرمساوی اور ناانصافی پر مبنی تقسیم دولت کا نظام ہے جس میں امیر امیرتر ہوتا جارہا ہے اور غریب غریب تر ہے۔ دُنیا کا ایک فیصد طبقہ دُنیا کی 80فیصد دولت پر قابض ہے۔

Oxfam کے اعدادوشمار رونگٹے کھڑے کردینے والے ہیں۔ افراد کے درمیان آمدنی میں تفاوت کے ضمن میں کہا جاتا ہے کہ گھروں میں کام کرنے والی ایک ماسی کی ایک سال کی تنخواہ کسی کمپنی میں نوکری کرنے والے سی ای او کی 10منٹ کی تنخواہ کے برابر ہے۔ ان اعدادوشمار کی پراجیکٹس کچھ اس طرح ہے کہ ا گر ایک ماسی 2سال تک اپنی تنخواہ جمع کرے تو اس کی مجموعہ دولت کمپنی کے CEO کی ایک سال کی تنخواہ کے برابر ہو گی۔ یہ ایک ایسی دُنیا کا احوال ہے جس میں 820 ملین انسان بھوک کا شکار ہیں یعنی ان کے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ دُنیا کے 50فیصد افراد کی یومیہ آمدن 5ڈالر روزانہ یعنی 775روپے روزانہ سے بھی کم ہے۔

Oxfam نے اس رپورٹ میں ایک بہت اچھی اور حوصلہ افزاءبات یہ کی ہے کہ اگر تمام ایسے افراد جن کے پاس 32ملین ڈالر سے زیادہ دولت ہے ان سے کہا جائے کہ وہ اپنی دولت کا 0.5فیصد (یعنی 100روپے میں 50پیسے) ویلتھ ٹیکس کی مد میں ادا کرنے پر راضی ہو جائیں تو اگلے دس سال کے اندر دُنیا میں 117 ملین نوکریاں پیدا ہو جائیں گی جبکہ حقیقی تصویر یہ ہے کہ 2018ءمیں 11ملین لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

امریکی صدارتی اُمیدوار ڈیموکریٹک پارٹی لیڈر برنی سینڈر جو اس اجلاس میں شریک ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر وہ امریکہ کے صدر بن گئے تو وہ امراءپر ٹیکس لگائیں گے اور اس رقم سے لوگوں کو روزگار دیا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ تم اس طریقے سے وہ 4ٹریلین ڈالر یعنی 4000ارب اکٹھا کرسکتے ہیں۔ ان کا منشور ہے کہ ”Tax the rich“ یعنی اُمیروں پر ٹیکس لگاﺅ۔

دولت کی دوڑ میں فکرانگیز مرحلہ یہ ہے کہ اس میں عورتیں بہت پیچھے ہیں اور جن کی بنیاد پر ناانصافی عروج پر ہے۔ امیرترین 22افراد کی دولت افریقہ کی تمام خواتین کی آبادی کی آمدن سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ دُنیا بھر کی خواتین روزانہ 12.5 ارب ڈالر کی بلامعاوضہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس طرح ہر سال 10.8 ٹریلین کا کام عورتوں کو ایک پیسہ دیئے بغیر کروایا جارہا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم کے بانی Klaus Schawab نے یہ فورم اچھے مقاصد کے لیے شروع کیا تھا مگر 50سال گزرنے کے باوجود صورتحال جوں کی توں نہیں بلکہ مسائل کی شدت اور ناانصافی میں اضافے کا عمل جاری ہے۔ 1970ءکے عرصے میں جب وہ نوجوان تھا تو اس کے اندر اس وقت کے ماہر معیشت Milton Friedman کی ظالمانہ معاشی نظریات کے خلاف ردعمل کا اظہار تھا کیونکہ ملٹن کہتا تھا کہ کاروبار میں سماجی ذمہ داری یہی ہے کہ اس سے جتنا زیادہ منافع کمایا جاسکتا ہے حاصل کیا جائے۔

Klaus کے نظریہ کو دیکھ کر حکمران، سیاستدان اور سرمایہ کار سب جوق درجوق اس کے گرد جمع ہو گئے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر یہ بہت بڑی منافقت تھی۔ اس کا اصل اندازہ آپ اس سال کے اجلاس سے لگالیں کہ 2000افراد میں 1500 لوگ ایسے ہیں جو چارٹرڈ طیاروں میں تشریف لاتے ہیں یعنی ایک آدمی کے لیے ایک جہاز۔ کیا یہ لوگ غربت کے خاتمے کے لیے ایمانداری سے کام کریں گے۔ تاریخی اور واقعاتی شواہد کی بناءپر اس سوال کا جواب منفی میں ہے۔ یہ فورم بین الاقوامی توجہ کی وجہ سے ایک سٹیٹس سمبل بن چکا ہے جہاں بڑی بڑی کمپنیاں اپنی مشہوری کے لیے اپنے CEO بھیجتی ہیں جو ایک دفعہ شرکت کر لیتا ہے، اس کی CV میں اُسے ایک بین الاقوامی ٹاپ CEO کا لیبل لگ جاتا ہے، یہ منافقت ابھی جاری ہے۔

٭٭٭


ای پیپر