بھارتی اداکارہ زائرہ وسیم کشمیریوں کی آواز بن گئیں
17 فروری 2020 (17:19) 2020-02-17

فاطمہ مجاہد بیگ:

زائرہ وسیم بالی ووڈ چھوڑ چکی ہیں۔ فلمی دنیا کو چھوڑنے کا اعلان کرنے والی اداکارہ زائرہ وسیم ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں لیکن اس بار وہ فلموں کی نہیں کشمیر کی بات کر رہی ہیں۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ زائرہ وسیم کافی عرصے کے بعد سوشل میڈیا پر واپس آئی ہیں۔ منگل کو انسٹاگرام پر انہوں نے ایک سفید پھول کی تصویر کے ساتھ کشمیر کے بارے میں ایک لمبی پوسٹ شیئر کی۔

زائرہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ”کشمیر مسلسل تکالیف سے گزر رہا ہے۔ کشمیر امیدوں اور مایوسیوں کے درمیان جھول رہا ہے۔ کشمیر نے امن کا ایک جھوٹا اور پریشان کرنے والا نقاب جیسا پہن رکھا ہے۔ کشمیریوں کی مایوسی اور دکھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور ہم ایک ایسی دنیا میں تکالیف جھیل رہے ہیں جہاں ہماری آزادی پر قدغن لگانا بے حد آسان ہے۔ ہمیں ایسی دنیا میں کیوں رہنا پڑ رہا ہے جہاں ہماری زندگی اور خواہشات کو قابو کیا جا رہا ہے، ہمیں مسلسل احکامات دیے جاتے ہیں اور جھکنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ہماری آوازوں کو خاموش کرنا اتنا آسان کیوں ہے۔ ہماری ذاتی آزادی پر پابندیاں لگانا اتنا آسان کیوں ہے۔ ہمیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی کیوں نہیں ہے۔ ہم ان فیصلوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھا سکتے جو ہماری مرضی کے بغیر لیے گئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے نظریے کے پیچھے جو وجہ ہے اسے جاننے کے بجائے ہمارے نظریے کو ہی بری طرح مسترد کر دیا جاتا ہے اور اس پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ ہماری آواز کو اس قدر دبا دینا اتنا آسان کیوں ہے“۔

زائرہ کی فلمی دنیا میں واپسی کی حقیقت کیا ہے؟

ان کا مزید کہنا ہے ’ہم ایسی سیدھی اور آسان زندگی کیوں نہیں جی سکتے جہاں ہمیں ہر وقت دنیا کو اپنے وجود کی یاد دلانے کے لیے روز لڑنا نہ پڑے۔ کشمیریوں کی زندگی صرف بحران، پابندیوں، روکاوٹوں تک ہی کیوں سمٹ گئی۔ ہمارے دل و دماغ سے چین کیوں چھین لیا گیا۔ ایسے بہت سے سوال ہیں جو ہمیں نا امید اور مایوس کرتے ہیں اور ہمیں ان سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ حکومت ہمارے اندیشوں یا مایوسی کو کم کرنے کے لیے کوشش بھی نہیں کرتی۔انتظامیہ ضد کے راستے پر چل رہی ہے اور من مرضی کے فیصلے کرتی ہے، یہ فیصلے ہمارے وجود کو محدود کرتے ہیں اور ہمیں جنگ سے تباہ شدہ دنیا میں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں‘۔

زائرہ کو فلم دنگل کے لیے نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ ’لیکن آج میں دنیا سے پوچھتی ہوں کہ ہم جس درد اور ظلم سے گذر رہے ہیں اسے آپ نے کیسے تسلیم کر لیا۔ میڈیا آپ کے سامنے کشمیر کی جو تصویر پیش کر رہا ہے اس پر یقین نہ کریں۔ غلط حقائق اور غلط تصاویر پر یقین نہ کریں۔ سوال پوچھیے اور جو دعوے کیے جا رہے ہیں ان پر سوال اٹھائیے۔ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ ہماری آوازیں کب تک کے لیے خاموش کر دی گئی ہیں۔‘

زائرہ نے عامر خان کی فلم دَنگل کے ساتھ بالی وُڈ میں قدم رکھا تھا

زائرہ وسیم کی اس پوسٹ پر تیزی سے ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔ اس مضمون کے لکھے جانے تک انسٹا گرام پر ان کی اس پوسٹ پر اٹھارہ سو کمنٹس آ چکے تھے اور 64 ہزار سے زیادہ لائیک مل چکے تھے۔

زائرہ کی اس پوسٹ پر لوگوں نے ملا جلا ردعمل آ رہا ہے۔ کچھ نے انہیں صبر سے کام لینے کی تلقین کی تو کچھ نے حالات بہتر ہونے کی امید کا اظہار کیا۔

زائرہ کی فلم سیکرٹ سپر سٹار بھی عامر خان کے ساتھ تھی

کچھ لوگوں نے کشمیر کے حوالے سے انڈیا کی مرکزی حکومت کے فیصلوں کو درست قرار دیا تو کچھ نے کشمیری پنڈتوں کے مسائل کا ذکر کیا۔ گزشتہ سال اگست میں انڈیا کی حکومت نے جموں کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی کشمیر میں انٹرنیٹ پر بھی پابندی تھی۔

آج بھی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے کئی علاقوں میں محدود اور کئی میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز شروع نہیں کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں عالمی سطح پر انڈین حکومت کو تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔

زائرہ کی آخری فلم’سکائی از پِنک‘ پرینکا چوپڑہ کے ساتھ تھی۔ زائرہ وسیم نے عامر خان کی فلم دنگل کے ساتھ بالی ووڈ میں قدم رکھا تھا اور ان کی اداکاری کی خوب تعریف ہوئی تھی۔اس کے بعد وہ عامر خان کی ہی فلم سیکرٹ سپر سٹار میں نظر آئی تھیں۔ اس فلم کے بعد زائرہ نے بالی ووڈ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے مذہب اور اللہ کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے اور وہ فلموں میں کام کرتے وقت اپنے مذہب سے بھٹک گئی تھیں۔ اس فیصلے کے بعد زائرہ کو سوشل میڈیا پر کافی ٹرول کیا گیا تھا۔ زائرہ کی آخری فلم پریانکا چوپڑہ اور فرحان اختر کے ساتھ 'سکائی از پِنک ' تھی جو ان کے بالی ووڈ چھوڑنے سے پہلے شوٹ کی گئی تھی۔

٭٭٭


ای پیپر