کھاریاں میں حضرت یوسف ؑ کی اولاد سے اللہ کے نبی مدفن ہیں!
17 فروری 2020 (17:09) 2020-02-17

احمد خلیل جازم:

کھاریاں کے قریب ایک قصبے ”موٹا طاہر“ کے قدیم قبرستان میں بھی ایک 9 گز لمبی قبر موجود ہے، جس پر خوبصورت مزار تعمیر کیا گیا ہے، جس کا گنبد دور سے دکھائی دیتا ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس قبر میں آرام کرتی ہستی کا نام حضرت سلوانامؑ ہے اور آپ اللہ کے نبی ہیں۔ مزار کے باہر جو تختی لگی ہوئی ہے، اس پر صاحب قبر کا نام ”سلوالام“ لکھا ہوا ہے، جو بعض لوگوں کے مطابق غلط ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کچھ کتب میں صاحب قبر کا نام ”سلوانام“ آیا ہے اور وہ حضرت یوسف ؑ کی اولاد میں سے ہیں۔

موضع طاہر کے قدیم قبرستان کے بارے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ یہاں ہند اور خراسان کے درمیان جنگ ہوئی تھی اور یہ جگہ بھی میدان جنگ میں شمار کی جاتی تھی۔ دعوے کے مطابق حضرت سلوانامؑ کی یہیں پر شہادت ہوئی اور آپ ؑکو یہیں اونچے ٹیلے پر دفنا دیا گیا تھا۔ موضع طاہر کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک حصہ ”شیخ طاہر“۔ دوسرا ”مرزا طاہر“۔ اور تیسرا حصہ ”موٹا طاہر“ کہلاتا ہے۔ مذکورہ مزار، موٹا طاہر میں واقع ہے۔ جبکہ شیخ طاہر اور مرزا طاہر نام کے دو بزرگوں کے نام پر یہ حصے الگ پہچانے جاتے ہیں، جن کا آگے ذکر کیا جائے گا۔ کھاریاں جی ٹی روڈ سے ڈنگہ روڈ نکلتا ہے، جس پر پندرہ بیس کلومیٹر سفر کیا جائے تو مختلف دیہات سڑک کے ارد گرد آتے ہیں۔

ان میں موضع طاہر بھی ہے، جسے غلط العام میں مقامی لوگ ”موضع طار“ کہتے ہیں۔ جبکہ اس گاﺅں کا نام مقامی افراد کے دعوے کے مطابق مطہر ہستی کی وجہ سے پڑا ہے۔ طاہر، مطہر سے ہی نکلا ہے، جسے بعد ازاں دیہاتی لوگوں نے طار کہنا شروع کر دیا ہوگا۔ اس قبرستان کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں تمام قبروں کے سرہانے شمال کی جانب ہیں اور حضرت سلوانامؑ کا مزار اور قبر مشرق سے مغرب ہے۔ یعنی آپ کا سر مشرق کی جانب ہے اور پائینتی مغرب کی سمت ہے۔ اس حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ آپ کا مزار بنایا گیا تو قبر کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، یعنی مغرب کی سمت پائینتی ہٹا دی گئی۔ لیکن صبح کے اوقات میں قبر پھر اسی پوزیشن میں پائی جاتی۔ بعد ازاں آپ نے خواب میں تعمیرات کرنے والوں کو حکم دیا کہ ہم جس طرح آرام فرما رہے ہیں قبر کو ویسے ہی رہنے دیا جائے۔ چنانچہ قبر کو اسی طرح رکھا گیا اور مزار تعمیر کر دیا گیا۔ مزار کے بارے میں ایک اہم ترین بات یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ یہاں رات کسی کو بسر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

سوائے ایک بزرگ خاتون، جن کا نام عنایت بی بی تھا، انہوں نے مزار کے پائینتی کی طرف بنائے گئے کمرے میں تیرہ برس تک قیام کیا اور لنگر تقسیم کیا۔ انہیں باقاعدہ یہاں صاحب مزار نے رہنے کی اجازت دی تھی۔ حالیہ خادم مزار آصف کا دعویٰ ہے کہ ”عنایت بی بی ہماری پھوپھی تھیں، جنہوں نے تیرہ برس تک مزار پر قیام کیا اور لنگر تقسیم کیا۔ اس کے علاوہ آپ کسی کو مزار میں رات بسر کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ حتیٰ کہ ہم، جن کے اجداد گزشتہ کئی صدیوں سے مزار کی خدمت پر مامور ہیں، ہمیں بھی رات بھر مزار پر رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک بار اسی علاقے کے ایک شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ مزار کی خدمت کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ اس نے رات قیام کی کوشش کی تو اسے آدھی رات کو کسی نے گردن سے پکڑ کر سڑک پر لا کھڑا کیا“۔

موضع طاہر کے اکثر لوگ ناروے، انگلینڈ اور دیگر یورپی ممالک میں حصول روزگار کیلئے گئے ہوئے ہیں۔ اسی لئے جیسے ہی اس گاﺅں میں داخل ہوں تو بڑے مضبوط اور کئی منزلہ مکانات دیکھ کر بندہ دنگ رہ جاتا ہے۔ یہاں دولت کی ریل پیل ہے۔ قریبی موضع سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ”میں ہر ہفتے دعا کیلئے حاضر ہوتی ہوں۔ ایک پارہ تلاوت کرتی ہوں اور پھر اجازت لے کر جاتی ہوں“۔ اس عورت کے جانے بعد مزار کا جائزہ لیا گیا تو دیکھا کہ 9 گز لمبی قبر کے نیچے سیمنٹ کا ایک پلنگ نما چبوترہ بچھایا گیا ہے۔ ویسے تو دیگر نوگزی یا اس سے بڑی قبریں بھی ایسے ہی پلنگ نما چبوتروںپر ہی بنائی گئی ہیں۔ لیکن اس قبر کی چادر سے پلنگ کے پائے باقاعدہ دکھائی دے ہے تھے۔ اگرچہ وہ پائے چادر سے ڈھکے ہوئے تھے، لیکن باقی پلنگ سے چونکہ اونچے تھے، اس لیے انہیں محسوس کیا جا سکتا تھا۔ سبز چادر چونکہ بہت بڑی اور بھاری تھی، اس لیے اسے اٹھا کر پائے دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ 9 گز لمبی قبر اس طرح تعمیر کی گئی تھی جیسے اونٹ کا کوہان ہوتا ہے۔ نیچے سے موٹی اور اوپر جا کر پتلی کر دی گئی تھی۔ مزار پر سبز اور سرخ رنگ کی چادر بچھائی گئی تھی، جبکہ چھت بہت نیچے تھی، جو زیادہ سے زیادہ دس فٹ اونچائی رکھتی تھی۔ مزار کا بیرونی دروازہ بھی خاصا چھوٹا تھا، جس سے سر جھکا کر اندر داخل ہوا جاتا ہے۔ سرہانے کی جانب مزار کے پیچھے خاصی کھلی جگہ تھی۔ بلکہ ایک کمرے جیسی کھلی جگہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

مزار پر کسی قسم کی لوح موجود نہیں تھی۔ البتہ سرہانے کی جانب قبر کے اوپر ایک سرخ رنگ کی چادر بچھائی گئی تھی، جس پر درود و سلام کندہ تھے۔ سرہانے کی جانب چادر کے اوپر چند روپے رکھے ہوئے تھے، جس سے اندازہ ہوا کہ شاید یہاں پر گلہ موجود نہیں ہے۔ لیکن بعد میں پائینتی کی جانب ایک کونے میں ایک چھوٹا سا سبز رنگ کا گلہ دکھائی دیا، جو تلاش کرنے پر ہی مل سکتا تھا۔ اسی لیے زیارت کیلئے آنے والے عموماً پیسے سرہانے پر ہی رکھ دیتے تھے۔ سرہانے کی طرف پلنگ کی کچھ جگہ خالی تھی۔ اس کے بعد قبر کا سرہانا شروع ہوتا تھا۔

اس خالی جگہ پر قرآن پاک کے سپارے رکھے ہوئے تھے، جو کہ یقیناً آنے والے پڑھ کر رکھ گئے تھے۔ اس کے علاوہ سرہانے کے پیچھے جو کمرہ نما خالی جگہ تھی، وہاں ایک دیوار پر لوہے کی الماری ایستادہ تھی، جس میںکافی تعداد میں قرآن پاک رکھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ دیواروں پر سہرے بھی لٹک رہے تھے، جیسے کہ دولہے بھی یہاں آکر حاضری دیتے رہتے ہوں اور اپنے گلے سے ہار اتار کر یہاں رکھتے ہوں۔ یہ مزار دیگر مزارات سے کچھ لحاظ سے کافی مختلف تھا۔ ایک تو اس کا ڈیزائن دیگر مزارات سے بالکل مختلف تھا اور اس کی چھت بھی بہت نیچے تھی۔ اسی طرح یہاں مزار پر قدرتی روشنی کا خاطر خواہ بندوبست نہ تھا۔ یعنی مزار کی دیواروں میں کوئی کھڑکی یا روشن دان نہیں تھا۔ نہ ہی گنبد سے روشنی آنے کے لیے خاطر خواہ روشن دان بنائے گئے تھے۔ صرف پائینتی کی جانب سے داخل ہونے کیلئے دروازے سے روشنی آرہی تھی یا پھر سرہانے کی طرف ایک دروازہ تھا جس سے اچھی خاصی روشنی آتی تھی۔ اگر دیواروں میں ایک دو کھڑکیاں رکھ دی جاتیں تو شاید یہاں بلب کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ لیکن ایسا نہ جانے کیوں نہیں کیا گیا۔ تقریباً ایک گھنٹہ یہاں قیام کیا، لیکن مزار پر کوئی خادم یا متولی دکھائی نہ دیا۔ بعض لوگ یہاں دعا کی غرض سے آتے رہے۔ ان میںایک شخص غلام حسین بھی آیا۔

اس سے مزارکے خادم کے بارے پوچھا گیا، تو اس نے مزار کے بیرونی دروازے کی مخالف سمت میں ایک چھوٹے سے گیٹ پر لے جاکر قبرستان کی دوسری سمت آبادی کی جانب اشارہ کرکے ایک پیپل کے درخت کے ساتھ والے مکان کے بارے بتایا کہ یہ آصف نامی خادم کا گھر ہے۔ چنانچہ ہم نے قبرستان پار کرکے آصف کے دروازے پر دستک دی تو وہاں ایک خاتون نے بتایا تو وہ تو گھر پر موجود نہیں ہے۔ البتہ اس کی بیوی ابھی نکل کر مزار کی جانب گئی ہے، اس سے آصف کا پوچھیں کہ وہ کہاں ہے۔ اس جانب آتے ہوئے قبرستان میں ہم نے ایک عورت کو مزار کی سمت جاتے دیکھا تھا۔ چنانچہ دوبارہ مزار کی جانب گئے تو وہی عورت مزار کا دروازہ بند کرکے جانے کی تیار کر رہی تھی۔ ہم نے اس سے آصف کی بابت پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ گاﺅں سے باہر ہے۔ آصف کی بیوی سے صاحب مزار کے بارے پوچھا تو اس نے بہت اہم باتیں بیان کیں۔ اس کے علاوہ نو گزی قبروں پر تحقیق کرنے والے ذیشان نے بھی حضرت سلوانام کے بارے میں بعض بہت اہم ترین باتیں بیان کیں۔

٭٭٭


ای پیپر